نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: 2019

کونوں کھدوں کے ہیں غازی لال بیگ
بسکہ دہلاتے ہیں یونہی لال بیگ

جب نظر آئے، مچا دیں تھرتھلی
شے ہے کچھ القائدہ سی لال بیگ

دندناتا پھرتا ہے سرمایہ دار
دب گئے ہیں اشتراکی لال بیگ

آپ ہیرو بن گئے کس زعم میں
آپ کو سمجھی تھی پنکی لال بیگ

کیا ہلاتے ہیں ’’پئے survival‘‘
جب نہیں رکھتے ہیں دُم بھی لال بیگ

کیوں ڈرے بیوی کہ جب شوہر نہیں
چھپکلی، چوہا یا کوئی لال بیگ

میری ہمسائی ہے تتلی کی طرح
اور ہمسایہ گھمنڈی لال بیگ

بیر بہٹی کب ہے وہ صورت سے بھی
بسکہ ہے سیرت میں کافی لال بیگ

دیکھئے فتنہ بپا اِس دہر میں
کب تلک ہیں ٹرمپ، مودی، لال بیگ

مونچھ اِن کی ہر جگہ ہے سر بلند
بیگ صاحب ہیں سماجی لال بیگ

Advertisements

سب حکمران دیکھے شکاری الگ الگ
سب نے ہی دی عوام کو خواری الگ الگ

اِس ملک میں سیاسی تماشہ ہے ایک سا
یوں کہنے کو ہیں سارے مداری الگ الگ

دلہا دلہن گو ایک ہی تھانے میں بند تھے
لیکن شبِ وصال گزاری الگ الگ

جمہوریت کے میلے میں آئے تو ساتھ تھے
ہر پارٹی نے کھولی پٹاری الگ الگ

بھتے کے ٹھیکیدار ہوں یا ٹیکس والے ہوں
دیتے ہیں سیٹھ جی کو سپاری الگ الگ

وہ جو پجیرو پر ہیں تو ٹانگوں پہ ہم بھی ہیں
سب کو ملی ہوئی ہے سواری الگ الگ

اب چار بیویوں سے بھی کیا فیض شیخ کو
سب کی طبیعتیں ہیں اچاری الگ الگ

لیڈر ہیں اور اور، عوام اور اورہیں
سو لازمی ہے مردم شماری الگ الگ

۔۔ ق ۔۔
حسب لفافہ زورِ بیاں ، کاوشِ دلیل
ہر تبصرے کی گوٹا کناری الگ الگ

سب چینلوں کا رنگِ تعصب جدا جدا
ہر نیوز کی فسانہ نگاری الگ الگ
۔۔۔۔۔

کوشش ہے پوری پوری کہ انجام ایک ہو
اسٹوری ہے ہماری تمھاری الگ الگ


چاہتا ہے اگر سلامت ٹانگ
یونہی ہربات میں اڑا مت ٹانگ

ہیروئن کی وجہ سے رش تھا بہت
فلم میں تھی فقط قیامت ٹانگ

تھامتی ہے منوں ٹنوں کے بدن
ہرکولیس کی ہے اِک علامت ٹانگ

اُن کو جب سوجھتی ہے خرمستی
میری کر دیتی ہے حجامت ٹانگ

جھک رہے تھے کئی کشیدہ سر
کر رہی تھی کہیں امامت ٹانگ

بات ہو جاتی ہے زبان سے بھی
بے حجابانہ یوں چلا مت ٹانگ

کاش کہہ دے کوئی حکومت سے
سب کی تشریف پر جما مت ٹانگ

موٹے موٹے ستون ہیں اُس کے
اور میری نری ندامت ٹانگ

اُڑ کے سینے پہ لگ رہی تھی ظفر
بن گئی تھی مری تو شامت ٹانگ


حکمراں ہم کو ہمیشہ ہی ملے اوٹ پٹانگ
جیسے اطوار سدا اپنے رہے اوٹ پٹانگ

پنکی بن کر میں بہت سوں سے ملا ہوں یارو!
فیس بک کے سبھی عشاق لگے اوٹ پٹانگ

بیویاں بھی اُنہیں ملتی ہیں سدا اول جلول
جو میاں ہوتے ہیں خود اچھے بھلے اوٹ پٹانگ

کوئی تدبیر کی خوبی نہ تگ و دو کا ہنر
گویا قسمت سے رہے سب کو گلے اوٹ پٹانگ

مر گیا مرغا پڑوسی کا سو دعوت کینسل
عذر کیا تونے تراشا ہے ابے اوٹ پٹانگ

تیری قسمت تیری فطرت کو سمجھتی ہو گی
یار ڈھونڈا ہے تبھی تیرے لئے اوٹ پٹانگ

زور و زر والوں کے سینے ہوئے چوڑے کیا کیا
فیصلے کورٹ میں جب ہونے لگے اوٹ پٹانگ

باس کو دل سے سمجھتے رہے دفتر والے
یہ الگ بات، کبھی کہہ نہ سکے اوٹ پٹانگ

ساری دنیا میں جو کترینہ بنی پھرتی ہے
روئے آئینہ تو خود کو بھی دِکھے اوٹ پٹانگ

اپنی تہمد بھی حکومت سے سنبھالی نہ گئی
یوں تو کرنے کو بہت دعوے کئے اوٹ پٹانگ

ہم سے سرزد یہ ’’ ردیفانہ حماقت‘‘ جو ہوئی
اِسی باعث تو سبھی شعر لکھے اوٹ پٹانگ


یوں چکاچوند کریں گے تیری زیبائی کے رنگ
آئینہ ڈھونڈتا رہ جائے گا بینائی کے رنگ

ظلمتوں میں نہ کبھی جذب ہوئی فکرِ رسا
شب کی راہوں میں نظر آئے سحر پائی کے رنگ

چھوت جیسی ہے یہ افسردہ مزاجی میری
آ گئے ہیں درو دیوار پہ تنہائی کے رنگ

اُن پہ بھی جان لٹا بیٹھے ہیں ہم دیوانے
جن زمینوں نے دئے ہم کو فقط کائی کے رنگ

میں نے اس سے بھی کہا نہ کبھی افسانۂ غم
چاند نے دیکھے تو ہیں میری شکیبائی کے رنگ

کر دیا وقت نے احساس پہ کیسا جادو
اجنبی ہو گئے سارے ہی شناسائی کے رنگ

ہم کہ منزل کی سہولت کے تمنائی تھے
آسماں بانٹ رہاہے نئی پہنائی کے رنگ

گویا ہم سب کومصور نے ادھورا رکھا
کسی تصویر میں دیکھے نہیں یکتائی کے رنگ

کس قدر سچا ہے ہر بار مکر کر بھی وہ
کس قدر جھوٹے ہیں یارو! میری سچائی کے رنگ


ہر اک زماں پہ شانِ نظامت کے دستخط
ہم آپ کیا ہیں اُس کی حقیقت کے دستخط

سُن لیتا ہے وہ میری کہی ان کہی سبھی
چاہتا نہیں کسی کی شہادت کے دستخط

ستر شفیق مائوں سے بڑھ کر شفیق وہ
سارے جہان پر ہیں محبت کے دستخط

آزاد ہے وہ ہر اک زمان و مکان سے
سب ساعتوں پہ اُس کی رفاقت کے دستخط

ہر کائنات پر ہیں نئے جستجو کے باب
اور ہر افق پہ تازہ اشارت کے دستخط

ماتھے کے سب نقوش اُسی کی گواہیاں
ہر اک سرِ خمیدہ اطاعت کے دستخط

وہ آپ ڈھونڈ لیتا ہے فائل حیات کی
ہر لمحہ ہیں تلاش میں رحمت کے دستخط

ہر آئینے پہ کھل گیا بابِ قبولیت
ہر اک دعا پہ دیکھے بشارت کے دستخط


معرکۂ حیات ہے درپیش
دمبدم کوئی گھات ہے درپیش

میرے آنسو تو خشک ہو بھی چکے
اب غمِ شاملات ہے درپیش

سانس کی آنچ آ رہی تھی مگر
دوریٔ شش جہات ہے درپیش

بجھنے دیتا نہیں ہے یہ احساس
ہر نفی کو ثبات ہے درپیش

ساری دنیا سے میں نمٹ لوں گا
پر جو یہ اپنی ذات ہے درپیش

چاند اس ڈر سے کیا نہیں نکلے
اُس کو اک لمبی رات ہے درپیش

خود کو پانے کا مرحلہ ہے یہی
وسعتِ کائنات ہے درپیش

اعتبار اب کسی قدم کا نہیں
عالمِ ممکنات ہے درپیش

مضمحل ہو گیا سرورِ فتح
اپنے دشمن کی مات ہے درپیش