نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: 2019

ذکر ہم جیسے کج راؤں پر آیا ہے اپسراؤں کی باتیں بتاتے ہوئے
آپ کا تذکرہ بھی کیا جائے گا پارساؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جانے وہ کیوں گرجنے برسنے لگے شا نتی کی کہانی کے اِک موڑ پر
جانے ہم بھی کیوں خاموش سے ہو گئے بے نواؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جو ہتھیلی کے نقشے کو تبدیل کر کے فلک بوس ٹاور کھڑے کر گیا
اُس کے لہجے میں حسرت سی کیوں آ گئی اپنے گاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ جو اُن کی حفاظت کے ہتھیار ہیں، اب اُنہیں کی ہلاکت کو تیار ہیں
لوگ خود ہی جراثیم بننے لگے ہیں وباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا کہیں کس ہوا میں رہے تب تلک، نہ زمیں زیرِ پا تھی نہ سر پر فلک
اپنی دھرتی کا قصہ سناتے ہوئے یا خلاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ وہ رشتوں کی بیلیں ہیں جن سے سداہم نے دیکھا ہے روحوں کو سرسبز سا
جوئے خوں سب کی آنکھوں سے جاری ہوا اپنی ماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

برش سارے ہی رنگوں میں پھیرا ہے تو اپنی تصویر کو دی صداقت کی لو
ذکر ڈستی ہوئی دھوپ کا بھی کیا ٹھنڈی چھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

سامنے کیسا منظر روانی کا تھا، ریت پر وہم کیوں ہم کو پانی کا تھا
رہزنوں کا خیال آ گیا کس طرح رہنماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

ساربانوں کے سب قافلے جا چکے،گزرے ادوار کو راستے جا چکے
ہم بھی رخشِ زماں پر ہیں محوِ سفر اِن کتھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا خبر داستاں کے کسی موڑ پرچھیڑ دے درد کا ساز کون آن کر
دھر لیا کرتے ہیں ہاتھ دل پر ظفرؔ دلرباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے


جھٹپٹے میں ہی اذاں دینے لگے خوابِ سحر
آخرش آ ہی گئے اِن کو بھی آدابِ سحر

رات دروازے سے اندر نہیں آ پائے گی
میری آنکھیں مرا دل منبر و محرابِ سحر

مارتا پھرتا ہے شب خوں بڑی بے خوفی سے
لشکرِ ظلمتِ شب میں کوئی مہتابِ سحر

جب بھی مایوسی کے موسم نے چمن کو جکڑا
مسکرا دیتا ہے کوئی گلِ شادابِ سحر

نور افشانی رہی شب کے شہیدوں سے بھی
صرف سورج ہی نہیں گوہرِ نایابِ سحر

سانپ لپٹا نہیں اس پیڑ سے مایوسی کا
مضمحل ہوتے نہیں ہیں کبھی اعصابِ سحر

جادوئے خامشیء شب میں کہاں آتے ہیں
گیت بُنتے ہی چلے جاتے ہیں مضرابِ سحر

تب بھی ڈالی نہ سپر معرکہ آراء دل نے
باز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ہر اک بابِ سحر

اب کے خود اپنے لہو سے ہی بجھی تشنہ لبی
کب ملی میکدہء وقت سے مے نابِ سحر



اچھوں کا بھی بھلا کب بے دید سوچتے ہیں
یہ جب بھی سوچتے ہیں تنقید سوچتے ہیں

ہو نہ وصال کی شب گو وینٹ گون تب تک
ہم عرضِ دل کی جب تک تمہید سوچتے ہیں

یہ لیڈرانِ قومی کا بن چکا وتیرہ
دے کر بیاں پھر اُس کی تردید سوچتے ہیں

تفہیمِ عشقِ شیخاں، کچھ ہے تو بس یہی ہے
ظالم ہمیشہ بہرِ تولید سوچتے ہیں

وہ ہیں کہ ہر قدم پر دیتے پھریں اڑنگی
ہم ہیں کہ پھر وفا کی تجدید سوچتے ہیں

اس واسطے ہم اُن کو بجو سے لگ رہے ہیں
ہر شے کو ہی بہ رنگِ تجرید سوچتے ہیں

کہتا تھا کون کس کو جمہوریت کا دشمن
کرتا ہے کون کس کی تائید، سوچتے ہیں

کیا ہم میں اور رقیبوں میں فرق کچھ نہیں ہے
کیوں ٹاس کر رہی ہے ناہید، سوچتے ہیں

اُس کا تو کیس تھا کچھ تھانہ کچہری والا
کیوں قیس کی کریں ہم تقلید، سوچتے ہیں


تیرے میرے درمیاں وابستگی کا اک سوال
اُٹھ رہا ہے تو کروں کیا دلبری کا اک سوال

بن نہیں پایا فراتِ عصر سے کوئی جواب
ریت پر لکھا ہوا تھا تشنگی کا اک سوال

منظروں پر راستے چپکا کے اکثر جابجا
مجھ کو بھٹکاتا رہا ہے آگہی کا اک سوال

وہ تو اپنے غم کا بھی پرچہ تھمانے لگ گئے
مجھ سے حل ہوتا نہیں ہے زندگی کا اک سوال

کیوں عبث کرتا ہوں جادہ ناشناساؤں سے میں
سیدھے رستے پر کسی کی کمرہی کا اک سوال

خود کو تج کر میں نے سب کی آرزؤیں پوری کیں
اور جب میں نے کیا اپنی خوشی کا اک سوال

کب سے ہے قلب و نظر میں تیرگی کا زنگ سا
کتنی صدیوں سے ہے میرا روشنی کا اک سوال

کوئی سنتا ہی نہیں ہے سر پٹختی التجا
شور کب سے کر رہا ہے خامشی کا اک سوال

یوں تو وہ جا بھی چکا لیکن درودیوار پر
کر گیا چسپاں نگاہِ آخری کا اک سوال

بھید سارے کھل گئے تھے دیکھتے ہی دیکھتے
اُن کی آنکھوں سے کیا تھا بیخودی کا اک سوال


رہ گیا ہوں پھنس کے یوں سسرال اِس تعطیل میں
جیسے ملزم آ گیا ہو نیب کی تحویل میں

تکتا تھا یوں جیسے نثری نظم منہ پر ماری ہو
مدعا اُس سے بیاں جب بھی کیا تفصیل میں

کچھ نہ کچھ تو ہو گیا ہے ربطِ باہم کو صنم!
آپ گرگٹ بن گئے یا ہو گیا تبدیل میں

ہر کرپٹ نسواربن کر داڑھ کے نیچے پھنسا
آرہے ہیں خان صاحب ڈیل میں نہ ڈھیل میں

لیڈرانِ قوم کی توندیں وسیع ہیں اس لئے
سارا پاکستان ڈالیں عمرو کی زنبیل میں

کیا کہیں یارو اب ایسے الو کے پٹھے کو ہم
’’الو‘‘ کو’’ ابو‘‘ پڑھا ہے جس نے کچھ تعجیل میں

عشق دنیا میں سدا خوار و زبوں رہتا ہے کیوں؟
کیدو کا کیا کام ہیر ورانجھا کی تمثیل میں

بات کر کے دیکھتے اپنے فدائی سے کبھی
خود کو دے دیتا اڑنگی حکم کی تعمیل میں

کرتا ہے پہلو تہی اس سے شریف انسان بھی
جب’’ شرافت‘‘ کا افادہ ہو ذرا تقلیل میں

لے اُڑے شاگرد اب کےمنصبِ استاد بھی
لیڈروں کا ہاتھ ہے شیطان کی تعزیل میں

آپ ہی اپنی اداؤں پر نظر ڈالیں ظفرؔ
یونہی منہا کب ہوئے ہیں زیست کی تعدیل میں


بنا دے بھیجے کی لسی، زنانی ہو تو ایسی ہو
ہماری کھوپڑی مثلِ مدھانی ہو تو ایسی ہو

دکھا کر ایک میزائل کہا ہے ہم نے زوجہ سے
زباں جیسی اگر تم میں روانی ہو تو ایسی ہو

بہ رُوئے حسن بے سہرہ، قبولا جائے سہ بارہ
بدن پرہر چھڑے کے شیروانی ہو تو ایسی ہو

وفا کی رہگزاروں میں اڑنگی باز ہیں سارے
کسی پر دوستوں کی مہربانی ہو تو ایسی ہو

سلوکِ زوجۂ اوّل سے بھی عبرت نہیں پکڑی
مسلسل آرزوئے عقدِ ثانی ہو تو ایسی ہو

لو اس ہفتے کو بھی سسرالیوں کے نام ہے سنڈے
مقدر میں بلائے ناگہانی ہو تو ایسی ہو

سگانِ خوباں دہلائیں، مگر ہم سر کے بل جائیں
سرِ کوئے نگاراں آنی جانی ہو تو ایسی ہو

جو بچہ دیکھے پکچر میں اُسی پر ریجھ کر بولے
ہمارے پیار کی کوئی نشانی ہو تو ایسی ہو

تری بیوٹی سے میک اپ کی تہیں کھرچے، تجھے سمجھے
ترے بھرے میں نہ آئے، جوانی ہو تو ایسی ہو

جھکی رہتی ہیں گھر میں مونچھیں ہیبت خان لالہ کی
کہ اونچا بولنے نہ دے پٹھانی ہو تو ایسی ہو

پئے آتش نشانی فائٹرز کو کال جا پہنچے
سرِ بزمِ سخن شعلہ بیانی ہو تو ایسی ہو


میرا جیون ہے خود میری کہانی سے بھی آگے کا
فسانہ ہوں حیاتِ جاودانی سے بھی آگے کا

زمیں کی قید سے اب تک رہائی مل نہیں پائی
سفر رکھا ہے سقفِ آسمانی سے بھی آگے کا

نہ جانے کیا ہوا کہ پھرکوئی بسنے نہیں پایا
یہ دل ہے اک مکاں تیری نشانی سے بھی آگے کا

کسی کی موت بھی متروک کر سکتی نہیں اِس کو
محبت سلسلہ ہے زندگانی سے بھی آگے کا

خموشی کی زباں کا ترجمہ بھی ہو رہا ہوتا
اگر ابلاغ ہوتا ترجمانی سے بھی آگے کا

بہت سے قرض ہیں اندوہِ انسانی کے بھی تم پر
کبھی سوچا کرو سوزِ نہانی سے بھی آگے کا

تمھاری کال آ تی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں
نشہ رہتا ہے شامِ ارغوانی سے بھی آگے کا

پروں میں باندھ رکھی ہے مسافت خود کو پانے کی
ارادہ ہے فلک کی میہمانی سے بھی آگے کا

ظفرؔ حدِ نظر تک کی بصارت کا فسوں توڑو
تمھیں تو سوچنا ہے لامکانی سے بھی آگے کا