نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

حسرتِ سایہ میں جنگل کو تکے جاتا ہوں

حسرتِ سایہ میں جنگل کو تکے جاتا ہوں
دھوپ ہے اورمیں آنچل کو تکے جاتا ہوں

ایسی شکنیں میرے ایقان میں کب آئیں گی
تیری پیشانی کے گنجل کو تکے جاتا ہوں

دور جاتی ہوتی گاڑی کا دھواں ہے اور میں
سرخ ہوتے ہوئے سگنل کو تکے جاتا ہوں

اپنے پہلو میں چبھی جاتی ہیں پتھر کی سلیں
اور ترے پہلو کے مخمل کو تکے جاتا ہوں

جب کسی ریت کی صورت ہے مری مٹھی میں
کیوں گزرتے ہوئے ہر پل کو تکے جاتا ہوں

یہ زمانہ بھی یونہی دیکھتا ہو گا مجھ کو
جس طرح میں کسی پاگل کو تکے جاتا ہوں

رونقِ شہر کا اِک میں ہی تماشائی ہوں
اپنے اطراف کے دلدل کو تکے جاتا ہوں

پھر مقدر میں لکھی ہے کوئی نا اُمیدی
پھر کسی آس میں گوگل کو تکے جاتا ہوں

بھری برسات کی بوچھاڑ ہے اور میں پیاسا
اِس چھلکتی ہوئی چھاگل کو تکے جاتا ہوں

Advertisements

وقت گو بادل سا ہے

وقت گو بادل سا ہے
دل سلگتے تھل سا ہے

اِس پہ بھی پیاسا ہوں میں
آسماں چھاگل سا ہے

موت ہے رُوئے حیات
درمیاں ململ سا ہے

رونقِ دنیا بجا!
دل مگر بوجھل سا ہے

ذیست ہے شب کا سفر
ہر سمے جنگل سا ہے

وہ تو صدیوں بعد بھی
ایک گزرے پل سا ہے

کس کو سمجھاتا ہے تو
عشق تو پاگل سا ہے

دیکھ کربھی نہ رُکا
راستہ دلدل سا ہے

داغِ رسوائی ظفر
عشق کاطغرل سا ہے

تو مرے سانول سا ہے

تو مرے سانول سا ہے
عقل سے پیدل سا ہے

کس قدر اسمارٹ ہے
ہوبہو بوتل سا ہے

جانور ہے یار بھی
اک ذرا سوشل سا ہے

تو اگر ہے سرپھرا
اگلا بھی پاگل سا ہے

منہ چڑاتا ہے مرا
آئینہ چنچل سا ہے

ناک بہتی ہے تری
اور سخن چرچل سا ہے

جب تلاشِ حسن ہو
دیدہء گوگل سا ہے

کیسے بچ پائے کوئی
حسن تو چنگل سا ہے

کچھ ہدایت نہ ملی
آج بھی وہ کل سا ہے

اب بھی شامت ہے وہی
بدھ بھی کچھ منگل سا ہے

تربیت فارن کی ہے
جاب میں لوکل سا ہے

پھنس گئی مکھی کوئی
میک اپ دلدل سا ہے

اِس دوا کا ذائقہ
زوجۂ اول سا ہے

ازدواجیقصہ بھی
ٹاک شو دنگل سا ہے

اب تو ہر لیڈر ظفر
سربسر کھٹمل سا ہے

گردھند (سموگ)

تجھ سے ملنے کو آیا تھا میں
پر دکھائی دیا ہی نہیں
ایسی گردھند تھی ہر طرف
کچھ سجھائی دیا ہی نہیں

اب تو زیرو ہے حدِ نظر
تاکنا جھانکنا ہے عبث
چھوڑئیے ذعمِ دیدہ وری
خود کو بھی دیکھنا ہے عبث

دیکھ لو! ہر سڑک بن گئی
غافلوں کے لئے سیخ بھی
چرچراہٹ بریکوں کی ہے
اور گونجی ہے اک چیخ بھی

کس کی گردن ہے کس کی چھری
تجھ کو تھوڑا سا اندازہ ہے؟
علتیں ہیں بھرے پیٹوں کی
اور غریبوں پہ خمیازہ ہے

مجھ سے کیا پوچھتی ہے ارے!
دین کس کی ہے گردھند بھی
تیرے آباء کے کھلیان ہیں
تیرے ابے کی ہے فیکٹری

یہی مخزن خرابی کے ہیں
قہر میں زندگی جن سے ہے
زہر سارا ہے اِن کا دیا
ساری آلودگی اِن سے ہے

مقتدر لمبی تانے ہیں کیوں؟
ذمہ داری اُٹھائے کوئی
کوئی تو کھینچے حدِ جنوں!
ان سے بھی جا کے پوچھے کوئی

تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے

تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے
جیسے ہیں سبھی ویسا لعیں ہے کہ نہیں ہے

بولے جو خواتین سے تو شہد بہادے
ہم تم سے کوئی خندہ جبیں ہے کہ نہیں ہے

چہرے سے تو لگتا ہے گزارے کے وہ لائق
ہر نخرہ مگر عرش نشیں ہے کہ نہیں ہے

گھوڑی ہے جو بوڑھی تو ہوکیوں سرخ لگامی
لیکن تیری بڑبھس بھی چنیں ہے کہ نہیں ہے

آیا جو کبھی شامتِ اعمال کی زد میں
بتلانا کوئی تیرے قریں ہے کہ نہیں ہے

آخر کو وہی ہڈی بنا تیرے گلے کی
کہتے تھے جسے ”کچھ بھی نہیں“،ہے کہ نہیں ہے

اچھا نہیں ایڑھی کو بہت اونچا اُٹھانا
کھسکی ہوئی قدموں کی زمیں ہے کہ نہیں ہے

آلینے دو بھتنی کو ذرا بیوٹی کلینک
پھر پوچھوں گا وہ تم سے حسیں ہے کہ نہیں ہے

ہر چند کہ ٹھینگے پہ ہی رکھا گیا اب تک
درخواست مری تم سے سوویں ہے کہ نہیں ہے؟

کہلاتا ہے لیڈر تو بہت خادمِ ملت
ملت ہی مگر ”کمی کمیں“ ہے کہ نہیں ہے

کیوں عشق کی شہ پا کے خدا بنتا ہے ہر بُت
وہ دشمنِ جاں، دشمنِ دیں ہے کہ نہیں ہے؟

ساری دنیا سے ذہیں ہے ناں وہ

ساری دنیا سے ذہیں ہے ناں وہ
ہو نہ ہو اپنے تئیں ہے ناں وہ

اُس میں کیڑے تھے دیانت کے بہت
جس جگہ کل تھا وہیں ہے ناں وہ

چوراچورا نہیں بننا تو بتا
آئینے! زہرہ جبیں ہے ناں وہ

یار فطرت کا نہیں بے دیدا
ہم چناں ہیں تو چنیں ہے ناں وہ

کل چڑھاتا تھا جسے بانس پہ تو
آج بھی عرش نشیں ہے ناں وہ

اُس کو بھی پہلی محبت بولا
سوچ کر بول،سوویں ہے ناں وہ

بوزنہ کہتے ہیں کہنے والے
تیرے نزدیک حسیں ہے ناں وہ

کیڑے پڑتے ہیں بہت میٹھے میں
کچھ زیادہ ہی قریں ہے ناں وہ

اُس کے کرتوت نہ دیکھیں صاحب
نام کا ویسیمبیں ہے ناں وہ

شیر کہتے ہیں وہ لیڈر کو ظفرؔ
گویا انساں تو نہیں ہے ناں وہ

جب ترا ہو کے نہیں رہ سکتا

جب ترا ہو کے نہیں رہ سکتا
کاش میں اپنے قریں رہ سکتا

پھوٹ پڑنی تھی وہیں قوسِ قزح
تم جہاں ملتے، وہیں رہ سکتا

ویسے پرواز کا موسم تو نہ تھا
پر فشاں اپنے تئیں رہ سکتا

خاک ہے خاک نشینوں کا جہاں
کس طرح عرش نشیں رہ سکتا

آدمی اپنی ہوسناکی سے
بچ نکلتا تو حسیں رہ سکتا

سرخروزیست سے کیا ہونا تھا
ایک لمحے کا امیں رہ سکتا

کاش مجبوری سمجھ کر تیری
میں بھی تھوڑا سا کہیں رہ سکتا

بھول جانے کا گماں ٹھیک نہیں
کچھ تو خود پر بھی یقیں رہ سکتا

آسمانوں سے اُتر آیا تھا
بسکہ در خاک ِ زمیں رہ سکتا

دل کی پرواز کہاں ٹھہری ہے
میں یہاں تھا تو یہیں رہ سکتا

جاں سے جانا ہی مرا بنتا تھا
ہر مکاں میں نہ مکیں رہ سکتا

دل یوں بے چہرہ نہ ہوتا جو ظفر
ہجر کا رنگِ حزیں رہ سکتا