نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

ایک شعر

چار دیواری میں شورشیں ہیں بہت
اب بدن کا مکاں چھوڑنا چاہئیے

Advertisements

مرا فون تو اُٹھاؤ!

یوں نہ خود میں چپ سی بھر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!
جو گلہ ہےمجھ سے کر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

جو غبار سا ہے دل میں وہ نکالنا ہی بہتر
بھلے مجھ پہ تم بپھر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

مجھے اپنا حال کہہ دو کہ کروں میں غم غلط کچھ!
مرے درد کی خبر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یوں الگ تھلگ رہو گی تو بڑھے گی اور الجھن
نہ لہو میں یوں بھنور لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

مری زندگی سے چاہتی ہو اگر اُڑان بھرنا
میرے سارے بال و پر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یہ حقیقتوں کے دلدل کہیں کھا نہ جائیں تم کو
مرے خواب سے گزر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یہ جو دھوپ ہجر کی ہے، ہمیں رکھ نہ دے جلا کر
کوئی سایۂ شجر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

میں بچھا کے آ رہا ہوں سرِ رہگذار یہ دل
تم اِسی پہ پاؤں دھر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یونہی ریشمی سے جیون پہ سمے کا بار کیوں ہو
مرا رنگِ بارور لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

یہ جو بھیگی بھیگی رُت ہے، مری ذات کا ہے ساون
سو نوائے چشمِ تر لو، مرا فون تو اُٹھاؤ!

ایک شعر

فیس بُک کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ بھٹکانے کا ٹھیکہ تھا بہم شیطان کو

تجھ پہ مرنے کا ارادہ تو نہیں

تجھ پہ مرنے کا ارادہ تو نہیں
اس حماقت کا اعادہ تو نہیں

سیدھے رستے پر چلوں میں کس طرح
یہ کسی منزل کا جادہ تو نہیں

میری باتوں پر یقیں کیونکر نہیں
یہ کسی لیڈر کا وعدہ تو نہیں

کس طرح چٹا ہو میرا کاں بھلا
میں سیاسی خانوادہ تو نہیں

ایک ہی سوراخ سے ڈسوائے گا
اب کوئی اِتنا بھی سادہ تو نہیں

صورتِ شلوار پہنوں گا میں پینٹ
میرے پرکھوں کا لبادہ تو نہیں

کھائیے نانِ جویں بھی دیکھ کر
اس میں مٹی کا برادہ تو نہیں

لے اُڑی ہے جس کو کلمونہی کوئی
اب وہ ماسی تیرا شادا تو نہیں

اب تو مکھن ہے لگانے کے لئے
نوش کرنے میں افادہ تو نہیں

یہ ظفر زادہ ہے یا خود ہے ظفر
ہجر میں گھل گھل کے آدھا تو نہیں

لے کے چلے تھے رند کہاں سے شامِ وعدہ

لے کے چلے تھے رند کہاں سے شامِ وعدہ
جس میخانے میں پیمانہ ہے نہ بادہ

اُس کا ملنا ناممکن ہے جانتا ہوں میں
باندھ لیا ہے پھر بھی اک ناکام ارادہ

تیرے کوچے نے گنجلا رکھا ہے کب سے
اپنے آپ سے ملنے کا ہر ایک ارادہ

تیری یادیں میرا جیون چاٹ رہی ہیں
جیسے برف نے پہنا ہو شعلوں کا لبادہ

اب بھی پرانے شہر کے رہنے والے اکثر
تنگ مکانوں میں رہتے ہیں، دل ہے کشادہ

ہر رستے نے دلدل کا بہروپ بھرا ہے
پھر بھی میں ہر نئی مسافت کا دلدادہ

دنیا پر ہی ڈالتے ہیں تنقیدی نظریں
کس نے دیکھا بہرِ دنیا اپنا افادہ

ظلمت نے طوفان اُٹھا رکھا ہے اس پر
یہ ننھی سی شمع کیوں ہے دور افتادہ

میں اپنے دیوان کو دیکھ کے ہنس دیتا ہوں
لوگ پڑھیں گے لے کر یہ اوراقِ سادہ

جب ایسی گرانی ہو تو کس طور گزارا

جب ایسی گرانی ہو تو کس طور گزارا
ہم جیسے غریبوں کا تو no more گزارا

اب سینگ کہیں اپنے سما پائیں تو جائیں
پنڈی میں چلے گاڑی نہ لاہور گزارا

گھسنے کی اجازت کہاں دیتا تھا ستمگر
سو نینوں کی کھڑکی سے دلِ چور گزارا

سنتا رہا بھاشن تیرے ابے سے میں گھنٹوں
اک دن تیرے کوچے میں بہت بور گزارا

کچھ ایسے مباحث بھی شبِ وصل رہے ہیں
جو وقت گزارا ہے بصد غور گزارا

جیون ہے یا بیگم ہے، نباہے نہیں نبھتی
کرنا ہے مگر تا بہ لبِ گور گزارا

سالے ہیں کہ ہر گام پہ دیتے ہیں اڑنگی
ہونا نہیں ایسوں سے مرا اور گزارا

اب کیسے ترے شہر کے لوگوں کو بتائیں
ہم بہرِ وصال آئے تھے یا ٹور گزارا

کیدو بھی تھا کھیڑے بھی تھے بیچارے کے درپے
رانجھے نے زمانہ بڑا پُر شور گزارا

ہم تھک چکے ہیں محفل میں آہ کرتے کرتے

ہم تھک چکے ہیں محفل میں آہ کرتے کرتے
اور اَک چکے ہیں اس پر سب واہ کرتے کرتے

وہ دنیا کی نظر میں بجو سے بن گئے ہیں
قول و عمل کو اپنے رُوباہ کرتے کرتے

ہم سے چھپی نہیں ہے اُن کی ستم ظریفی
پھر دے نہ دیں اڑنگی ہمراہ کرتے کرتے

ہم قرض کا تقاضہ کر کر کے تھک چکے ہیں
پر وہ تھکے نہ وعدہ ہر ماہ کرتے کرتے

کیا یاد آ گئے ہیں اپنے گزشتہ وعدے
کیوں چُپ سے ہو رہے ہیں واللہ کرتے کرتے

فریاد کرتے لیڈر سے پوچھئے تو آخر
کتنا گرے گا خود کو ذی جاہ کرتے کرتے؟

وہ اپنی شفقتوں میں تہ کر کے لے گئے ہیں
میری مشقتوں کو تنخواہ کرتے کرتے

ابلیس مبتلا ہے احساسِ کمتری میں
انسانِ عصرِ نو کو گمراہ کرتے کرتے

وہ دل ہے ایک پتھر، سر پھوڑنے سے حاصل
ہم راہ نہ بدل لیں اب راہ کرتے کرتے

جامِ وصال غیروں کے نام ہو گئے ہیں
چائے پہ رہ گئے ہیں ہم چاہ کرتے کرتے

یادیں پئے زیارت ہر رات آن دھمکیں
مرحوم الفتوں کو درگاہ کرتے کرتے

وہ واک کر رہی تھی اور تاڑتا تھا فدوی
اُس نے نظر اُٹھائی ناگاہ کرتے کرتے

اب نیوز چینلوں کا کچھ اور مشغلہ ہے
مرغے لڑا رہے ہیں آگاہ کرتے کرتے