نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں

کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں جو جینے کا سبب ہیں

مل جائیں گی خوشیاں بھی یونہی تم کو کسی دن
کیا غم ہے مقدر میں اگر رنج و تعب ہیں

کیا خاک علم لے کے سحر کا کوئی نکلے
جو دن کے مسافر تھے سرِ خیمہ شب ہیں

کچھ شہر کے آداب موافق نہیں اب کے
کچھ آپ کے دیوانے بھی زنجیر طلب ہیں

تب بھی مری ہر سانس ترے نام لکھی تھی
اب کے بھی شب و روز پہ یادوں کے نقب ہیں

یہ دیکھ کے بھی صبر مجھے آتا نہیں ہے
جو میرے نہیں ہو سکے اپنے بھی وہ کب ہیں

کس دور میں ہم اہلِ جنوں پیدا ہوئے ہیں
انداز ہیں جینے کے نہ مرنے کے ہی ڈھب ہیں

چپ چاپ سبھی قتل ہوئے جاتے ہیں کیانی
کچھ دیکھتی آنکھیں ہیں نہ کچھ بولتے لب ہیں

لب پہ پھر مسکرا رہی ہے نعت

لب پہ پھر مسکرا رہی ہے نعت
دل کو طیبہ بنا رہی ہے نعت

نور ہی نور ہر طرف پھیلا
کیف میں سب کو لا رہی ہے نعت

پڑھنے والے پہ وجد طاری ہے
سننے والے پہ چھا رہی ہے نعت

اسمِ خیر الانام ہے لب پر
خوشبوؤں میں بسا رہی ہے نعت

ذکر کے اک عجب حصار میں ہوں
دور تک جگمگا رہی ہے نعت

ذیست بزمِ درود لگتی ہے
رنگ کیسا جما رہی ہے نعت

رات تادیر رُک سکے گی کیا
مجھ میں سورج جگا رہی ہے نعت

سلسلہ یہ وہیں سے جاری ہوا
کاوشِ کبریا رہی ہے نعت

میں بھٹکتا دیارِ عشق میں کیوں
مجھ کو رستہ دکھا رہی ہے نعت

استطاعت کہاں ہے لکھنے کی
خود کو لکھواتی جا رہی ہے نعت

روحِ بیمار کھِل اُٹھے گی ظفر
اک نویدِ شفا رہی ہے نعت

بیویوں کی سواری

بیویوں کو سواری کی خاطر
شوہروں کے حواس بھاتے ہیں

ایک کتبہ

یہاں جو دفن ہیں
وہ انتہائی سادہ انساں تھے
دیانتدار افسر تھے
چنانچہ رائے عامہ میں پھٹیچر تھے
کبھی سرزد ہوا ان سے
نہ کچھ ترچھا، نہ کچھ آڑھا
کرپشن کر کے دعویٰ پارسائی کا نہیں جھاڑا
نہ جے آئی ٹی بنی ان پر
نہ وہ پیشی کی رسوائی سے گزرے
اور نکلے سرخرو ہو کر
یونہی بیکار ساری عمر کاٹی ہے
اسی عالم میں حضرت نے فنا کی خاک چاٹی ہے
خدای مغفرت کرنا

پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ


پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ
سسروں کو دے کے آ گئے گردن کا ناپ آپ

لاعلم تھے کہ آپ کے جاناں کا عقد ہے
ٹھمکا لگا کے ڈھول کی سنتے تھے تھاپ آپ

آوارگی اُنہیں کی محبت کی ہے عطا
لگنے لگے ہیں جن کو بہت روڈ چھاپ آپ

ٹپکا رہے تھے رال وہ جس کے شباب پر
موصوف اُس حسینہ کے لگتے تھے باپ آپ

اک دوسرے کو کچا چبانے کی گھات ہے
اور میڈیا کی ٹاک پہ جاری ہے آپ آپ

ماہِ صیـام تو ہے پئے تزکیہ ء نفس
اور لے گئے سمیٹ کے ساری ہی شاپ آپ

لیتے ہیں کیوں جماہیاں منہ پھاڑ پھاڑ کر
جب آنے والے دور کی سنتے ہیں چاپ آپ

چلتی نہیں یہاں پر منسٹر کی پرچیاں
جیون کے امتحان میں کیا ہوں گے ٹاپ آپ

بسم اللہ کہ جناب کا کھاتہ ہے بِل ابھی
حج کر کے دھو تو آئے ہیں جیون کے پاپ آپ

چمنی اگر خدا نے غزل کی ہے دی ہوئی
کچھ تو نکال دیجئے اندر کی بھاپ آپ

کردار سارے ڈان بنے پھرتے ہیں ظفر
جمہوریت کی فلم کو سمجھیں فلاپ آپ

اب سخن میں نہیں آتی ہے حسینوں کی تڑپ


اب سخن میں نہیں آتی ہے حسینوں کی تڑپ
اُن کے روزے سے لپٹ جاتی ہے سوچوں کی تڑپ

اُن کے در سے کہاں مایوس گیا کوئی سمے
روشنی لے کے گئی کتنے زمانوں کی تڑپ

دستِ امید نہیں ہٹتا کبھی کاندھوں سے
بارور ہو گی کبھی اُن کے گدائوں کی تڑپ

کھنچتی جاتی ہے اُسی مرکزِ رحمت کی طرف
قابلِ دید ہے بھٹکے ہوئے لوگوں کی تڑپ

اُسی جلوے کی تمنائی مری آنکھیں ہیں
وہی آنکھوں کے دریچے میں ہے خوابوں کی تڑپ

اِن کو درکار ہے بطحا کی ہوائے دلجو!
ایک آتش سی لئے ہے میری سانسوں کی تڑپ

اُن کا پیغام صبا لاتی رہے گی ہر پل
جب تلک طالعِ گلشن میں ہے پھولوں کی تڑپ

میری گفتار میں ہے ذکرِ مدینہ کیا کیا
میرے کردار میں ہے کتنے فسانوں کی تڑپ

گنبدِ سبز سدا سامنے رہتا ہے ظفر
ہونے دیتی نہیں اوجھل اسے نظروں کی تڑپ

امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ

امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ
جن کے گھر روز ہی ہوتی ہے جھڑپ

یوں مرے دل میں کوئی آن گھسا
جیسے ڈڈو کہیں پانی میں غڑپ

سخت انگلش میں مجھے ڈانٹتے ہیں
کہنے لگتے ہیں شٹ اپ کو بھی شڑپ

اِتنے میٹھے بھی نہ بنئے صاحب
لوگ کر لیتے ہیں یکبار ہڑپ

قوم آ جائے ولیمے میں تو پھر
غیر ممکن ہے کرے شُوں نہ شڑپ

قافیہ تنگ ہے خاصا ورنہ
دل میں تھی اور بھی لکھنے کی تڑپ