نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

ہماری سازشِ پیہم میں دم نہیں ہوئے تو


ہماری سازشِ پیہم میں دم نہیں ہوئے تو
جو "تورے” ہیں وہی "مورے بلم” نہیں ہوئے تو

معاشی طور پہ اول مقام پر ہیں وہی
معاشرت میں جو نمبر دہم نہیں ہوئے تو

ضعیف چشم ہے کیدو کا چشم دید گواہ
"ہمارے ہونے کا دہوکہ ہے، ہم نہیں ہوئے تو؟”

کریں گے کارِ کرپشن ہم اور کس کے لئے
ہمارے بخت میں خود کش شکم نہیں ہوئے تو

تم اُن کو خبری تو کہتے ہو نیوز چینل کے
پٹاخے اُن کے حسابوں میں بم نہیں ہوئے تو؟

سواد آنا نہیں عورتوں کو شاپنگ کا
بہائے اشیا اگر بیش و کم نہیں ہوئے تو

چلے گی کس طرح نقادِ نکتہ چیں کی دکاں
رقم نہ ملنے پہ مضموں رقم نہیں ہوئے تو

ہماری آگہی سے کرتے ہیں فلرٹ مگر
یہ ٹی وی ذات کے ہی جامِ جم نہیں ہوئے تو

بجا کہ ہم پہ بہت ملتفت ہے موٹو ارم
ہمارے خواب ہی بہرِ ارم نہیں ہوئے تو

مدتوں بعد تجھ کو دیکھا تھا

مدتوں بعد تجھ کو دیکھا تھا
دل تھا اور دھڑکنوں کا بھنگڑا تھا

کیوں ٹرمپ سے بنے ہیں ابا تیرے
اک تجھے تاڑنے تو آیا تھا

اپنے اپنے تھے سب کے جائے دماغ
تیرا گوڈا تھا میرا گٹا تھا

ہو پنامہ کا فیصلہ جیسے
اُس نے مکھڑے کو یوں چھپایا تھا.

اُف وہ طرزِ تکلمِ بیگم
گویا اسٹارٹ ہوتا رکشا تھا

اپنے جیسے رقیب تھے میرے
اللہ دتہ تھا خیر دینا تھا

المیہ ہے یہی سیاست کا
جو بھی لیڈر ملا وہ لوٹا تھا

گھومتے تھے وہ گاڑیوں میں سدا
اور میرا نصیب ٹھینگا تھا

نہ تھی زوجہ کہ سودا منگواتی
جانے سودا کو کیسا سودا تھا

اب تو بھینسیں بھی کہتی ہیں۔۔۔۔ سوری
کبھی کٹا بھی چویا جاتا تھا

فیصلہ کر دیا تھا پرکھوں نے
کون ماموں تھا کون ابا تھا

آپ لندنا کے بھی رہے کالے
میں تو ایتھوپیا کا گورا تھا

وقوعہ لُٹنے کا اک صاحبِ جمال سے ہے


وقوعہ لُٹنے کا اک صاحبِ جمال سے ہے
مگر گلہ مجھے سارے ہی خانیوال سے ہے

ہر ایرے غیرے کی مس کال سے نہ دل دھڑکا
یہ سرخوشی تو کسی خاص مس کی کال سے ہے

وہ اپنی ذات کے لیچڑ پنے کو بھی دیکھے
گلہ گزار جو ہر آئینے کے بال سے ہے

پڑوس سے جو مرے گھر میں کود آیا تھا
مآلِ لنچ اُس مرغِ باکمال سے ہے

پرابلم تو تجرد میں بھی رہے ہیں بہت
مگر خراب سوا زوجہ کے وبال سے ہے

یہ تیری والی کا مجھ پر دھیان فرمانا
مرے عروج سے ہے یا ترے زوال سے ہے

نجانے پھینکا تھا کس میم نے یہ لنڈے میں
لنگوٹ میرا خدا جانے کس کی شال سے ہے

تمھارے کوچے میں جتنی بھی ہاؤ ہو ہے صنم!
تمھارے ابے کی بے وجہ قیل و قال سے ہے

وہ ہم سے ملتے ہیں ہر آئے دن سکائپ پر
طمانیت اُنہیں اس طور کے وصال سے ہے

گدھوں سے فیض نہیں پایا ہوٹلنگ پر بھی
کہ ربط میرے بجٹ کا تو ساگ و دال سے ہے

ہوا کرے یہیں تقدیر کا لکھا کندہ
کہ سب کا واسطہ اب فیس بک کی وال سے ہے

غضب غضب کہ زمانے میں شیر کہلایا
گدھے کا دھوکہ مجھے جس کی چال ڈھال سے ہے

فدا سو جاں سے ہوں مس پنکی کی اداؤں پر
نہ سوہنی سے ہے مطلب نہ ماہیوال سے ہے

نہ ہونے دیتا کبھی مجھ کو اپنا کینڈیڈیٹ
جگہ یہ خالی رقیبوں کے انتقال سے ہے

عبث توقع مجھے پچھلے برسوں سے تھی ظفر
"بہت اُمید مجھے آنے والے سال سے ہے”

تو مزل تو صمد خداوندا


تو مزل تو صمد خداوندا
تو قوی تو احد خداوندا

ذات تیری ہے لم یلد،بے شک
بالیقیں لم یولد خداوندا

تو ہی پیش از ازل مرے آقا
تو ہی بعد از ابد خداوندا

خام میں اتنے ارتقاء پر بھی
تو مکمل خرد خداوندا

تو ہی میری حقیقتوں کا شناس
خود سے میں نابلد خداوندا

سب کو کشکول بھر کے دیتا ہے
از مہد تا لحد خداوندا

بھر دے اپنی رضا کے پھولوں سے
زندگی کی سبد خداوندا

بڑھ گئے دشمنانِ دیں کے بہت
آج قد و عدد خداوندا

لشکرِ ابرہہ ہوا درپے
ابابیلِ مدد خداوندا

حیات کچھ نہیں جو اُن کے ہم نہیں ہوئے تو


حیات کچھ نہیں جو اُن کے ہم نہیں ہوئے تو
سفر عبث ہیں جو سوئے حرم نہیں ہوئے تو

زمانے اپنی ہی نظروں سے گرتے جائیں گے
اگر بلند نبی کے علم نہیں ہوئے تو

یقین کر لو کہ ہم تم بھٹک گئے ہیں کہیں
دیارِ پاک کی جانب قدم نہیں ہوئے تو

وہی نکالیں تو نکلیں گے بحرِ عصیاں سے
وجودیت کے خسارے عدم نہیں ہوئے تو

عمل کا کوئی دیا حشر میں نہ لو دے گا
ہمارے ساتھ جو خیر الامم نہیں ہوئے تو

حوالہ اُن کا میسر ہے تو کسے پرواہ
نگاہِ دہر میں ہم محترم نہیں ہوئے تو

عمل نے جامہءسنت درست پہنا نہیں
اگر فقیری میں رنگِ حشم نہیں ہوئے تو

دکانِ وقت سے کیا سرخوشی خریدیں گے
کرم کے سکے ہی ہم کو بہم نہیں ہوئے تو

ہم اُن کو نعت کی مسجد میں کیسے آنے دیں
جو شعر خونِ جگر سے رقم نہیں ہوئے تو

اگر متاثرِ افواہِ بم نہیں ہوئے تو؟


اگر متاثرِ افواہِ بم نہیں ہوئے تو؟
رقیب کوچہءجاناں میں کم نہیں ہوئے تو؟

وہ یونیورسٹی میں کیا آم لینے آئے ہیں
جو حسن و عشق میں قول و قسم نہیں ہوئے تو

خدا ہی جانے کرے گی وہ کس کا خانہ خراب
نصیب سے ہمیں اُس کے خصم نہیں ہوئے تو

ہمارے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے خدا حافظ
جو ویلڈر کہیں ہم کو بہم نہیں ہوئے تو

تمام سسروں میں تقسیم کس طرح ہوں گے
دلوں کے ولولے دو اک ڈرم نہیں ہوئے تو

تمام خلقِ خدا کو قرار آئے گا
ہمیں فساد کی جڑ ہیں، جو ہم نہیں ہئے تو

مہیا ہو گا کہاں شغلِ سرپھٹول ہمیں
گُروِ دیر یا شیخِ حرم نہیں ہوئے تو

رہی نہ تیل کی فوں فاں تو تم بھی دیکھو گے
عرب کے لوگ بھی سوئے عجم نہیں ہوئے تو

میں اُن کے واسطے کیا کیٹ واک کرتا پھروں
وہ ہم سفر ہی اگر ہم قدم نہیں ہوئے تو

بڑھیں گے بال جو شاعر بنے ترے عاشق
کٹیں گی قلمیں جو اہلِ قلم نہیں ہوئے تو

رہیں گے سب کی نگاہوں میں پھنے خان ظفر
اگر پھسل کے کہیں پر ”دھڑم“ نہیں ہوئے تو

عدل

کیا بُرا ہے اگر کرپٹ بھی ہیں
جو ہیں تگڑے اُنہیں کی چاندی ہے

یہ پنامہ کے فیصلے سے کھلا
عدل تو اک ٹرک کی بتی ہے