نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

تجھ بن یہ دنیائے دلآویز کیا کرتا

تجھ بن یہ دنیائے دلآویز کیا کرتا
دفتر میں کیا جاتا، کرسی میز کیا کرتا

جیون کی املاک کا قبضہ ملا نہیں ہے
عمر کی لمبی چوڑی دستاویز کیا کرتا

جگہ جگہ پر آوازیں تھیں بچھی ہوئی
جادو نگری تھی، قدموں کو تیز کیا کرتا

نعرہء یاہو تو سخت ضروری تھا
سب کی خاموشی تھی معنی خیز ،کیا کرتا

کن کن جتنوں لایا زیست میں ٹھہراﺅ
پھر اُس نام سے دھڑکن کو مہمیز کیا کرتا

ساری دھوپ اور چھاﺅں پہ اپنی نظریں تھیں
آنکھیں دے کر موسم کو زرخیز کیا کرتا

سب رشتوں کے اپنے اپنے رنگ و بو
ایک ہی عکس سے آئینہ لبریز کیا کرتا

تیری یادوں کا آسیب سا طاری تھا
غزلیں نہ کہتا تو پھر شب خیز کیا کرتا

اس واسطے تو حسن کو مجھ سے گریز ہے

اس واسطے تو حسن کو مجھ سے گریز ہے
میں ماٹھا ماٹھا ہوں اور سمے تیز تیز ہے

یہ عشق کیا ہے؟ عقد ہی دو احمقوں میں ہے
اور یہ ”جمالِ میک اَپ“، تمھارا جہیز ہے

ہو آتے ہیں اِک اور ہی عالم سے خان جی
نسوارکیا ہے ؟اِن کے لئے اِک ناویز ہے

رہتا ہوں تیرے ُروئے کتابی کی تاڑ میں
جس طرح” ایزی لوڈ“ کا تجھ کو کریز ہے

مہنگی ٹرانسپورٹ میں کیسے سفر کرے
بس اِس لئے وہ کم نما ہے، کم آمیز ہے

وہ جن کے ٹوٹکوں میں ہے سو سالہ تجربہ
سِن دیکھئے جو اُن کا ، سراسرِ نوخیز ہے

اُن کے خطوں سے ان کی مہک آیا کرتی تھی
اُن کی”ای میل“ ویسی کہاں عطر بیز ہے

ویسے ہی تم اُٹھائے ہو سیل فون ہاتھ میں
جیسے تمہارے بے بی کے ہاتھوں میں” لیز “ہے

تیرے بھلے کو تلخ نوا ہے کوئی ظفر
شوگر ہے تجھ کو، میٹھےسے لازم پرہیز ہے

ہم ہیں حسنِ اشتہاء انگیز کے دونوں طرف

ہم ہیں حسنِ اشتہاء انگیز کے دونوں طرف
جیسے پیاسے کھیت ہوں کاریز کے دونوں طرف

ہائے کیوں دونوں کسی بھی بات پر ٹھہرے نہیں
دیر تک بیٹھے رہے ہیں میز کے دونوں طرف

وقت کے گرداب میں احساس ہو پاتا نہیں
عقبیٰ ہے دنیائے فتنہ خیز کے دونوں طرف

رنگ کیسے بھر سکے گا اِتنی اُمیدوں میں وہ
وعدوں کا اِک ڈھیر ہے رنگریز کے دونوں طرف

کتنی ترجیحات کی روندی ہوئی لاشیں ملیں
عشق کے ہنگامِ دلآویز کے دونوں طرف

ہم کسی کو دیکھ کر بنتے بگڑتے تھے مگر
آنکھیں ہی آنکھیں تھیں چاکِ تیزکے دونوں طرف

دی گئی ہے کھاد سب کھیتوں کو سیم و تھور کی
آگہی ہے خطہء زرخیز کے دونوں طرف

وحشتِ یلغار میں بالکل پتہ چلتا نہیں
بھوک ہے رقصاں رنِ خونریز کے دونوں طرف

زندگی کا پرچہ ہم سے حل نہ ہو پایا ظفر
کچھ سوال ایسے رہے ہیں” نیز“ کے دونوں طرف

وفورِ ہجر میں اس بات کی دہائی نہ تھی

وفورِ ہجر میں اس بات کی دہائی نہ تھی
پڑا تھا پالہ مگر پاس وہ رضائی نہ تھی

محبتوں میں فسادات یوں نہ ہو پائے
ہمارا پھپھا نہیں تھا، تمہاری تائی نہ تھی

وہ پارلر سے بھی ہو آئی تھی مگر اب کے
مرے حواسوں پہ بجلی گرانے پائی نہ تھی

وہ پشتو بول رہا تھا، میں سر ہلاتا کیا!
"وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی”

وہ کس طرح تیرے نخرے اُٹھانے آیا تھا
اُسے کیا ذعم تھا، اوپر کی جب کمائی نہ تھی

میں کیا بتاؤں کہ شوہر تھا خوار کاہے کو
گدھا تو خوب تھا پر فطرتِ گدائی نہ تھی

عجب "لگائی بجھائی” میں تھا یدِ طولیٰ
لگائی خوب تھی لیکن کبھی بجھائی نہ تھی

ہمارا عشق بھی "کورونا” ہی ہوا گویا
مرض تھا ایسا کہ جس کی کوئی دوائی نہ تھی

ذرا سی دیر کو خوش فہمیوں میں رہ لیتے
ظفر ہوائی وہ دشمن نے بھی اُڑائی نہ تھی

اُس شوخ سے اب جائے مفر کچھ بھی نہیں ہے

اُس شوخ سے اب جائے مفر کچھ بھی نہیں ہے
ہے ایسا "اگر "جس کا "مگر” کچھ بھی نہیں ہے

انصاف ہمیشہ سے ہی بتی ہے ٹرک کی
جز جھوٹ وکالت کا ثمر کچھ بھی نہیں ہے

دکھلاتے پھریں خاک چراہگاہیں گدھوں کو
ہم خود بھی اُدھر ہیں کہ جدھر کچھ بھی نہیں ہے

سسرال میں پھر چودہ طبق ہو گئے روشن
"اِن لاز” میں جو ہے وہ "مدر” کچھ بھی نہیں ہے

اپنے تو محلات ہی مرلوں میں بنے ہیں
صاحب کا کنالوں میں ہے گھر (کچھ بھی نہیں ہے)

زردار سے تہمد بھی سنبھالا نہیں جاتا
کنگلوں کو مگر خوف و خطر کچھ بھی نہیں ہے

اس واسطے ہم حسن کے میلے سے ہیں محروم
رنگوانے کو بالوں کا کلر کچھ بھی نہیں ہے

ہر شاعرِ بے مایہ کو خوش فہمی میں دیکھا
میں سب سے ہوں بِگ، مجھ سے بِگر کچھ بھی نہیں ہے

وہ آپ کبھی تین نہ تیرہ میں رہے ہیں
اور اُن کو گماں ہے کہ ظفر کچھ بھی نہیں ہے