نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

پئے سخن شہِ ہر دو جہاں سے نسبت ہے


پئے سخن شہِ ہر دو جہاں سے نسبت ہے
مرے بیاں کو بھی حُسنِ بیاں سے نسبت ہے

میں آ گیا رہِ ِ سرکار کے افادے میں
اگرچہ مجھ کو بھی عہدِ ذیاں سے نسبت ہے

میں اُمتی بھی ہوں اُس کا جو ہے حبیبِ خدا
زمیں کا ذرّہ ہوں اورآسماں سے نسبت ہے

مسافرت نہیں ٹھہرے ہوئے زمانوں کی
کہ اُن کے عشق کو آبِ رواں سے نسبت ہے

متاعِ جاں تو ہے ناموسِ دین کا صدقہ
میں ایک تیر ہوں مجھ کو کماں سے نسبت ہے

کوئی بھی خوفِ سرِ ظلمتِ بسیط نہیں
کہ مجھ کو منزلِ روشن نشاں سے نسبت ہے

میں جب سے آیا ہوں اُس کے بتائے رستے پر
مرے سفر کو کسی کہکشاں سے نسبت ہے

رقیب ہیرو کی طرح تری نظر میں رہا


رقیب ہیرو کی طرح تری نظر میں رہا
مرا نصیب ہمیشہ اگر مگر میں رہا

وہاں وہاں میری شامت بھی اُڑ کے پہنچی ہے
جہاں جہاں میں پدھارا، جدھر جدھر میں رہا

پناما میں ترا بزنس، فلیٹ لندن میں
مگر نجات دھندہ کہیں قطر میں رہا

رہے ہیں زوجہءاوّل سے ناکوں ناک مگر
اِک اور عقد کا سودا ہمیشہ سر میں رہا

یہی ہے آج کے شوہر کا نامہء اعمال
خدا کے ڈر میں نہیں بیوی کے اثر میں رہا

چلا تو میری ہی تشریف پر لگا مُڑ کر
اِک ایسا تیر مرے ترکشِ ہنر میں رہا

کسی غریب کا جینا بھی کوئی جینا ہے
تمام عمر کوئی رکشے کے سفر میں رہا

یہ دور صدق و دیانت کا دورہے ہی نہیں
سمجھ نہ پایا کبھی بھی، نرا ڈفر میں رہا

کسی کے پیار کا جب تجزیہ کیا گیا ہے
ظفر عجیب سا مرچیلا پن شکر میں رہا

ظاہر ہے جس کسی پر حُسنِ خیال تیرا

ظاہر ہے جس کسی پر حُسنِ خیال تیرا
کرتا ہے تذکرہ کیا ہو کرنہال تیرا

ارض و سماء میں چمکے عکسِ وصال تیرا
ہرسو دھنک بکھیرے رنگِ جمال تیرا

دنیا کا کوئی گوشہ تجھ سے کہاں مبرا
دھرتی بھی تیرے تابع، جل میں بھی جال تیرا

تیری ثنا سے یارب خاموشیاں بھی گونجیں
مصروفِ حمد ہے ہر شیریں مقال تیرا

ادراک عظمتوں کا کب ہو سکا کسی پر
کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا

جو بھی کرم ہے تیرا سو ہے عدیم یارب
جو بھی ہے فیض ہم پر سو بے مثال تیرا

کیسا زمانہ آیا ہم نے جہاں میں پایا
ہر ایک نام لیوا غم سے نڈھال تیرا

کشمیر و حلب پھر سے خوں میں نہا رہے ہیں
گلگوں سا ہو چکا ہے نجم و ہلال تیرا

ہم آزمائشوں کے قابل نہیں ہیں ہرگز
اب رحم چاہتے ہیں اے ذوالجلال تیرا

لہرا کے ایک ٹھمکا لگایا تھا اور بس

لہرا کے ایک ٹھمکا لگایا تھا اور بس
اُس نے تعارف اپنا کرایا تھا اور بس

بیوی سے پوچھئے کبھی شوہر کی حیثیت
اک جانور تھا جس کو سدھایا تھا اور بس

منہ دھو کے یونہی غلطی سے باہر نکل پڑے
محفل سے عاشقوں کا صفایا تھا اور بس

اپنی حماقتوں کی خبر مدتوں چلی
اہلِ انظر سے سینگ لڑایا تھا اور بس

جب بھی محبتوں کا کیا ہم نے تجزیہ
اِن کو تجاوذات ہی پایا تھا اور بس

کاہے کو میرا گڈا بناتا ہے ظالما!
میں نے تو آئینہ ہی دکھایا تھا اور بس

یوں بھی جواب ترکی بہ ترکی دیا مجھے
مجھ کو مرا ہی شعر سُنایا تھا اور بس

کچھ بھی تو لیڈروں نے الیکشن میں نہ کیا
ہم کو شریکِ جرم بنایا تھا اور بس

میں داڑھ لے کے پاس کسی کے نہیں گیا
جو آ گیا تھا اس کو چبایا تھا اور بس

اُس شوخ سے وصال کو اِتنا بہت نہ تھا
کھیسے میں میٹرو کا کرایہ تھا اور بس

ویسے اُنہیں پسند تو فیض و فراز تھے
پر تائی کے نصیب میں تایا تھا اور بس

بیگم کو لگ گئے تھے کمانڈو کے دست و پے
پنکی کا نام ہونٹوں پہ آیا تھا اور بس

میں کتنی دیر سے تھا کولمبس بنا ہوا
اخبار تھی، خبر کا بقایا تھا اور بس

اب کیا کہیں کہ بٹوہ ہمارا کدھر گیا
اک یار نے گلے سے لگایا تھا اور بس

جب بھوت چودھراہٹ کا اُن پر سوار تھا
ہم نے بھی کیانی بن کر دکھایا تھا ا ور بس

ہر کام کو میں صورتِ بیکاری کروں گا


ہر کام کو میں صورتِ بیکاری کروں گا
نوکر ہوں تو پھر شغل بھی سرکاری کروں گا

رکھوں گا ترقی کی طرف پہلا قدم میں
جس روز طبیعت کو میں درباری کروں گا

رنگوں کا تفاوت بھی قیانے سے ہے ظاہر
رنگین طبیعت ہوں ،سیہ کاری کروں گا

اس وہم سے باہر نہیں نکلے کبھی سسرے
میں جب بھی کروں گا کوئی فنکاری کروں گا

دوں گا میں اڑنگی بھی اُنہیں داﺅ لگا کر
پھر جا کے بڑے پیار سے غمخواری کروں گا

ہمسائے نہ سمجھے مجھے ماں جائے تو یارو!
شب بارہ بجے میں بھی گلوکاری کروں گا

دل بیوی کے دبکے سے دہل جائے گا تب بھی
کرنے کو تو مونچھوں کو بھی تلواری کروں گا

کیوں درجہء اوّل کا ملے پھرکوئی لیڈر
جب چار سو بیسوں کی طرفداری کروں گا

کر لوں نہ تجرد میں ہی کیوں اس کی پریکٹس
جب شادی رچا کر بھی میں گھرداری کروں گا

جب حُسن بنائے گا توبن جاﺅں گا الو
یہ تیرا گماں ہے کہ سمجھداری کروں گا

کچھ اور تو آتا نہیں فدوی کو جہاں میں
سب کی طرح پاﺅں ہی کوئی بھاری کروں گا

یادوں سے نمٹنے کی یوں تیاری کروں گا


یادوں سے نمٹنے کی یوں تیاری کروں گا
میں اُس کو بھلانے کی اداکاری کروں گا

کچھ بن نہ پڑے گا جو محبت کے سفر میں
دوراہے سے رستے کی خریداری کروں گا

تم اس کا بنا لینا بڑے شوق سے اینڈھن
ہے کام مرا سو میں شجر کاری کروں گا

جب چوٹ لگاﺅں گا کسی یاد کی دل کو
امید ہے خود اپنی بھی غمخواری کروں گا

تم آج جہاں سوختہ تن، تشنہ دہن ہو
اک نہر اسی دشت سے میں جاری کروں گا

یہ دل ہے کسی اور کا مقبوضہ علاقہ
کرنے کو تو دعویِٰ عملداری کروں گا

منزل پہ پہنچ کر بھی سکوں مل نہ سکے گا
اک اگلی مسافت کی میں تیاری کروں گا

آواز نہ بھر پایا اگر جامِ نوا میں
میں سوزِ خموشی میں عزاداری کروں گا

وہ بات کھلے عام جو کرنے کی نہیں ہے
محفل میں جب آئے گی مری باری، کروں گا

مکالمہ اور جوابی مکالمہ

(مکالمہ اور اس کے جواب میں ایک دل ہی دل میں جوابی مکالمہ)

اِس نے کہا وعدہ کرو ”دلداری کروں گی“
اُس نے کہا یہ کاوشِ بیکاری کروں گی

اِس نے کہا سردار قبیلے کا ہے فدوی
اُس نے کہا گھر پر تو میں سرداری کروں گی

اِس نے کہا گھر داری ہے ہر گھر کی ضرورت
اُس نے کہا سکھلانے کی تیاری کروں گی

اِس نے کہا ماں اپنی سمجھنا میری ماں کو
اُس نے کہا میں اس کی اداکاری کروں گی

اِس نے کہا بہنیں ہیں مجھے جان سے پیاری
اُس نے کہا اللہ کو بھی میں پیاری کروں گی

اِس نے کہا اک پیار کی دنیا ہے مرا گھر
اُس نے کہا بس بس یہیں بمباری کروں گی

اِس نے کہا دل پھینک کہا جاتا ہے مجھ کو
اُس نے کہاپھر خود کو میں تاتاری کروں گی

اِس نے کہا یاروں پہ فدا رہتا ہے یہ دل
اُس نے کہا میں دور یہ بیماری کروں گی

اِس نے کہا کہ شوقِ سخن گوئی ہے مجھ کو
اُس نے کہا پھر میں بھی گلوکاری کروں گی