نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

ہر اِک بات پرکیوں غلط ہو تلفظ

ہر اِک بات پرکیوں غلط ہو تلفظ
ادا کر ہی لیتے ہیں رو دھو تلفظ

جہاں پھول جائے مری اُردو کا دم
وہاں آپ ہی دے اُٹھے لو تلفظ
۔۔ق۔۔
کوئی جیسا بولے اُسے بولنے دو
یونہی ہر حلق پر نہ لادو تلفظ

مگر اِس قدر گڑبڑی بھی نہیں ہو
کہ ابلاغ کو کر دے ویٹو تلفظ
۔۔۔۔
وہ تڑکے لگاتے تو ہیں بھاری بھاری
نہیں آتے الفاظ کے گو تلفظ

کرو نہ زباں اس قدر لیڈرانہ
ہنسا دے سرِبزم سب کو تلفظ

بنانے چلے ہیں جو محبوب اُن کو
نہیں جانتے نام کے وہ تلفظ

وہ عالم میں عالم بھی کہلا رہے ہیں
”عِلَم“ کرتے ہیں علم کا جو تلفظ

ظفر کوئی کس معنی کی گچی پکڑے
جہاں لفظ ہو ایک اور سو تلفظ

Advertisements

پت جھڑ کی رُتوں میں بھی مرے دل کو ہرا دیکھ

پت جھڑ کی رُتوں میں بھی مرے دل کو ہرا دیکھ
اُمید کو ہر شاخِ تمنا پہ کھلا دیکھ

ہریالی کا وجدان نکال اپنی زمیں سے
یہ کس نے کہا بہرِ نمو کوئی گھٹا دیکھ

توفیق ہو جینے کی تو جی لیتے ہیں یوں بھی
ویران سرائے کا کوئی تنہا دیا دیکھ

اُن کے وہی تیور، وہی زہراب نوائی
دل کا وہی اصرار کہ ناموسِ وفا دیکھ

ہر شے کی حقیقت کو سمجھنا ہے ضروری
جو تجھ کو نظر آتا ہے تو اُس سے سوا دیکھ

آفاق کی وسعت کو سمجھ، حجرے بنا مت!
منظر کے جھروکوں سے کوئی اور فضا دیکھ

مسنون ہے صدیوں کے خلا پر بھی تفکر
لیکن جو تری ذات میں ہے وہ بھی خلا دیکھ

بے رنگ زمانے میں دھنک جاگ اُٹھی ہے
بے نام خموشی میں مرا رنگِ صدا دیکھ

وہ مری ہے بھی اور نہیں بھی ہے

وہ مری ہے بھی اور نہیں بھی ہے
گڑبڑی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

سب سمجھتے ہیں دنیا اُن کی ہے
کلمونہی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

ملک و ملت کے جوڑوں میں بیٹھا
مولوی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

سب فدائے کمالِ میک اپ ہیں
دلکشی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

اب تو لیڈر سبھی مداری ہیں
ڈگڈگی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

شیخ صاحب کی بات کرتے ہو
آدمی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

ٹانکِ قرض پر معیشت ہے
بہتری ہے بھی اور نہیں بھی ہے

جائزہ لے لیا ہے ہائے تا بائے
عاشقی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

سام چچا تمام دنیا کا
چوہدری ہے بھی اور نہیں بھی ہے

کانی آنکھوں سے دیکھتا ہے کوئی
بیخودی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

گھر جوائی کا حال مت پوچھیں
زندگی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

کوئی جاناں میں میرا منڈلانا
گمرہی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

بس حسینوں سے لُٹتا آیا ہوں
سادگی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

ہر کُڑی پر گمانِ سوکن ہے
دوسری ہے بھی اور نہیں بھی ہے

جس میں کھسانا پن بھی شامل ہو
وہ ہنسی ہے بھی اور نہیں بھی ہے

کسی شاعر کی دل پشوری میں
شاعری ہے بھی اور نہیں بھی ہے

حلوے مانڈے ہیں اپنے اپنے ظفر
لیڈری ہے بھی اور نہیں بھی ہے

اُن کو منظور میری بھلائی تو ہے

اُن کو منظور میری بھلائی تو ہے
لات تشریف پر اک جمائی تو ہے

سیر چشمی جسے دیکھ لینے سے ہو
اِس قدر کوئی مکھن ملائی تو ہے

ڈاکوؤں کو ہو احساسِ کم مائیگی
اب سیاست میں ایسی کمائی تو ہے

ملک کو ملت کو اندھا سمجھتے ہوئے
کچھ شریفوں نے "انۤی” مچائی تو ہے

نئے عشاق کی تربیت کے لئے
قیس بابا تو ہے، لیلیٰ مائی تو ہے

گفتگو کا سلیقہ نہیں، نہ سہی
سوٹ تو اُس نے پہنا ہے، ٹائی تو ہے

ہاتھ ماچس جوانی کی کیا آ گئی
آگ اُس نے گلی میں لگائی تو ہے

کس نے کٹ پتلیوں کا تماشہ کیا
ایک مخلوق ویسے ہوائی تو ہے

معائنہ یوں کیا کہ یقیں ہو چلا
ڈاکٹر ہو نہ ہو وہ قصائی تو ہے

بجلی کم کم ہی دی ہے مگر دے کے بل
بجلی والوں نے بجلی گرائی تو ہے

ملکوں ملکوں یونہی ٹور کرتے نہیں
حکمرانوں میں ذوقِ گدائی تو ہے

چاہے آ جائے سونے کا بن کر کوئی
سب کو معلوم ہے گھر جوائی تو ہے

گالیوں کی توقع بھی رکھو ظفر
اُن کو تنقید زوروں کی آئی تو ہے

سنگ دل

سنگ دل
آن مل

دردِ دل
مستقل

بے رُخی
کردے کل

تیری جا
ہو نہ فِل

دہر میں
کس کو چل

تو بھی کیا؟
میں بھی نل

مکھی ہے
یا ہے تل

مار دیں
اب تو بل

سب اُڑے
تو بھی ہل

یہاں رہتا نہیں ہے حسن میں حسنِ خطاب اکثر

یہاں رہتا نہیں ہے حسن میں حسنِ خطاب اکثر
فدائی کو ملا ٹھینگے کی صورت بھی جواب اکثر

یوں دن ناکام لیڈر گنتے رہتے ہیں حکومت کے
کمیٹی والی ماسی جیسے رکھتی ہے حساب اکثر

ہمارا دل چرانے والا ہی پردہ نشیں کب ہے
کہ ڈاکو بھی نظر آتے تو ہیں زیرِ نقاب اکثر

سدا ایسے فلاحی کام جان و دل سے کرتا ہے
صحافی کو ملے جس سے لفافے کا ثواب اکثر

بہت چاہتا ہے جی اوروں کو گچی سے پکڑنے کا
مگر اچھا نہیں لگتا ہے اپنا احتساب اکثر

جو گھر والی کو ماں یاد آئے ہم کو نانی یاد آئے
ہمارا بخت بن جاتا ہے سسرالی عذاب اکثر

کبھی جو حسنِ کافر دعوتِ نظارہ دیتا ہے
بزرگوں کی بھی نظروں میں اُبلتا ہے شباب اکثر

ہمارے طالبانِ علم کی نالج کے کیا کہنے!
کراچی میں بہا دیتے ہیں دریائے چناب اکثر

مخالف پارٹی کے ساتھ مل کر خوار ہوتا ہے
خرد کی جب نہیں سنتا دلِ خانہ خراب اکثر

دہر میں نیک شعاروں کی تمنا کی ہے

دہر میں نیک شعاروں کی تمنا کی ہے
ہم کو لگتا ہے خساروں کی تمنا کی ہے
 
ہاتھ کیوں شامتِ اعمال نے تھامے ہوئے ہیں
ہم نے مضبوط سہاروں کی تمنا کی ہے
 
دنیا ہے گول سو چکرائے ہوئے پھرتے ہیں
دائرہ ہے سو مداروں کی تمنا کی ہے
 
قوم نے دھوبی بنایا تو اچھنبا کیسا
نیب نے سارے اداروں کی تمنا کی ہے
 
دلدلِ عقد میں پھنسوایا تھا جس نے ہم کو
ہم نے اُس کے بھی چھوہاروں کی تمنا کی ہے
 
تیرا عاشق تیرے انگنائی سے ہو آیا ہے
ایک بچے نے غبارے کی تمنا کی ہے
 
جین کا سوٹ ترے جسم کا حصہ ٹھہرا
تجھ سے بے فیض غراروں کی تمنا کی ہے
 
باس رشوت کے تو قائل ہی نہیں ہیں مطلق
کنٹریکٹر سے سگاروں کی تمنا کی ہے
 
ووٹ یونہی تو نہیں پول کئے ہیں جا کر
ہم گدھوں نے بھی کمہاروں کی تمنا کی ہے
 
قرعہء فال ہے کس نام پہ "اپنا گھر” کا
سب مریضوں نے اناروں کی تمنا کی ہے
 
ناسپاسی کے ہی ٹھینگے پہ دھرا ہے ہم نے
اور غیروں نے ہماروں کی تمنا کی ہے
 
وقت پڑنے پہ جو پکڑائی نہیں دیتا ہے
آج اُس نے بھی ادھاروں کی تمنا کی ہے
 
یہ الگ بات کہ دو سو میں ہوا ہے سودا
خان صاحب نے ہزاروں کی تمنا کی ہے
 
ہم کو چنگ چی کے سوا کچھ بھی میسر نہ ہوا
ہم نے جیون میں تو کاروں کی تمنا کی ہے
 
ہم تو سمجھے تھے کہ ہسبینڈ کی ویکینسی ہے
اُس نے سائنس کے کنواروں کی تمنا کی ہے
 
ایسی ٹولی ہے حسیناؤں کی، اللہ اللہ!
ہم نے بیساختہ ساروں کی تمنا کی ہے
 
حسن بھی فون کے بیلنس پہ اُتر آیا ہے
اس نے کب چاند ستاروں کی تمنا کی ہے
 
حسن و دلداری و دانش و سلیقہ مندی
ایک ہی زوجہ میں چاروں کی تمنا کی ہے
 
کارخانہ سا لگائے ہوئے ہیں مولانا
طفل در طفل قطاروں کی تمنا کی ہے
 
بہرِ انصاف میں دوپہر سے فاقے سے ہوں
ایک دعوت نے ڈکاروں کی تمنا کی ہے
 
اُس نے الفت کو معمہ جو بنایا تو ظفر
ہم نے دو چار اشاروں کی تمنا کی ہے