نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

دل بھاگ بھری پر ریجھا ہے

دل بھاگ بھری پر ریجھا ہے
یہ بھوت پری پر ریجھا ہے

خود دیکھا نہیں منہ مدت سے
اور شیشہ گری پر ریجھا ہے

درکار کُڑی ہر منڈے کو
ہر کھوٹی کھری پر ریجھا ہے

ملتان سی فطرت ہے اُس کی
جو کوہِ مری پر ریجھا ہے

بھاتی نہیں مرغی گھر کی اُسے
غیروں کی curry پر ریجھا ہے

جنجال بنے گی بعد از عقد
جس عشوہ گری پر ریجھا ہے

جب دری کی بھی اوقات نہیں
کیوں بارہ دری پر ریجھا ہے

سبزہ ہے کہ کائی کیا جانے
بس ہری ہری پر ریجھا ہے

اک خادم کنگلی قوم کا ہے
طرہء زری پر ریجھا ہے

سامانِ ظرافت بھی تھا مگر
شاعر تو worry پر ریجھا ہے

Advertisements

پھر سے گھر آن بسا روتا ہوا نووارد

پھر سے گھر آن بسا روتا ہوا نووارد
سالِ نو کا کوئی ماڈل ہے نیا نووارد

سینئر کی بڑی عزت ہے نگھر گھٹ کے ہاں
ہر کوئی بیٹھا ہوا اور کھڑا نووارد

یہ اُسی حُسنِ مجسم کا ہے ابّا، پیارے
پوچھتا پھرتا ہے تو جس کا پتہ نووارد!

آخرِ کار وہیں سے ترا ہونا ہے گزر
تونے کھودا تھا جہاں ایک گڑھا نووارد

کوئی نقشہ ترا تبدیل بھی کر سکتا ہے
بیل پہ رکھا ہوا یہ ہاتھ ہٹا نووارد

سگِ لیلیٰ بھی ہے لیلیٰ کی محبت میں شریک
دلبری اِن سے بھی لازم ہے ذرانووارد!

میں نہیں ہوتا تو پھر پوچھتا بھی پھرتا ہے
میرے ہونے پہ بھی ہوتا ہے خفا نووارد

تیرے دل میںنہ جگہ مل سکی برسوں میں بھی
تیری محفل میں رہا ہوں میں سدا نووارد

یہ تکلف کا جو پردہ ہے، ہٹا بھی دیجے
کب تلک آپ نے رہنا ہے بھلا نووارد

کبھی کبھی تو بہت آتا ہے مدینہ یاد

کبھی کبھی تو بہت آتا ہے مدینہ یاد
نفس نفس میں بپا ہونے لگتا ہے میلاد

درودِ پاک سدا سے ہے نغمہ دھڑکن کا
کہاں رہا ہے کبھی عشق منتِ اعداد

وہ ساعتیں جو ترے ذکر کے نمو میں ہیں
اُنہیں سے عمر کے ویرانے ہو گئے آباد

صراطِ اسوۂ حسنہ ہے کہکشاں کی طرح
گریز پائی نے کر دی ہے خاک ہی برباد

کیا وہی ہے جو قران میں ہے لکھا ہوا
کہا وہی ہے جو مولائے کل کا ہے ارشاد

ترے پیام سے تزئینِ گلشنِ ہستی
ترے جمال سے فصلِ بہار کی بنیاد

لکھی ہے تونے ہی تاریخِ اوجِ انسانی
شبِ معراج سبھی مہر و مہ رہے اِشہاد

ترا ہی نور رہے گا ازل سے تا بہ ابد
کوئی چراغِ نبوت نہیں ہے تیرے بعد

مدد مدد کہ ترے نام لیوا ہیں معتوب
سرینگر ہو کہ روہنگیا ہو یا بغداد

سر کیوں اُٹھائے ظلم کہ تسطیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

سر کیوں اُٹھائے ظلم کہ تسطیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)
غیرت نے جو لکھی ہے وہ تحریر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

لحہ بہ لمحہ وقت کے ہاتھوں میں اک دیا
حلقہ بہ حلقہ ایک ہی زنجیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

کیسے عدوِ دین کی بر آئے آرزو
دینِ مبیں کے ہاتھ میں شمشیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

ہر دور کے یزید پہ جس کا ہے دبدبہ
تا بہ ابد وہ نعرہء تکبیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

تاریخ کے منڈیر کی قندیل کربلا
گویا ہر اک زمانے کی تنویر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

جو مقصدِ حیات دیا ہے قران نے
اُس مقصدِ حیات کی تفسیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

حق چھا گیا جہاں میں ہمیشہ کے واسطے
بے نام ہے یزید، جہانگیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

بخشی ہیں سربلندیاں نانا کے دین کو
انسانیت کا تمغہء توقیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا
کب سے ہے فریزر میں جمایا ہوا بکرا

کیوں سینگوں پہ رکھا ہے مجھے بیچ سڑک پر
کیا جانئیے کس بات پہ ’’اوکھا‘‘ ہوا بکرا

آجائے گا قربانی کے بھی کام یقیناً
سیلفی کے لئے خاص خریدا ہوا بکرا

دیدار کو آیا ہے یا دیدار کرانے
پنکی کے لئے پنک سا رنگاہوا بکرا

لیڈر بھی مقلد نہیں یوں ’’میں میں ازم‘‘ کا
قربانی کے دن بھی کہاں چُپکا ہوا بکرا

کیا جانئیے کس کس کے مقدر میں لکھا ہے
تکوں میں کبابوں میں بکھیرا ہوا بکرا

قربانی محلے میں تو دی ہوتی ہے سب نے
مل سکتا ہے واپس بھی یوں بانٹا ہوا بکرا

اب مالی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ اس سے
لے سکتے ہیں کاغذ پہ بنایا ہوا بکرا

ڈھو پائے گا مجھ کو، میرے اعمال کو کیسے
واقف نہیں جنت کو سدھارا ہوا بکرا

کانگو وائرس

سیاستدانوں کو بھگتا رہی ہے
ہماری قوم چچڑ باز ٹھہری
یہ کانگو وائرس کیا بیچتا ہے

اک داغِ ہجر یوں دلِ مضطر میں پڑ گیا

اک داغِ ہجر یوں دلِ مضطر میں پڑ گیا
جیسے کوئی شگاف سمندر میں پڑ گیا

دیکھا ہے کس نظر سے کہ دھندلا گیا ہوں میں
کیسا یہ قفل اُس کے کھلے در میں پڑ گیا

جب بھی مری مہارتیں ناوک فگن ہوئیں
دیکھا ہد ف تو میرے ہی پیکر میں پڑ گیا

اک آگہی تھی جس نے مجھے سونے نہیں دیا
اک درد تھا جو دل کے شناور میں پڑ گیا

کام آ سکا نہ میری اُڑانوں کا بانکپن
یونہی میں خودبخود کسی منظر میں پڑ گیا

کس لمس کے گلاب نے یوں گدگدا دیا
اِک دھڑکنوں کا سلسلہ پتھر میں پڑ گیا

اک خواب تھا جو نیندیں اُڑا لے گیا ظفر
اک لمحہ تھا جو عرصہء محشر میں پڑ گیا