نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

یہ حسن والوں کے میلے یہ پارسائی میاں


یہ حسن والوں کے میلے یہ پارسائی میاں
ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں ہاتھا پائی میاں

کبھی بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکا
دکھائی دیتی ہے اوروں میں ہر بُرائی میاں

زنانہ وار کئے جا رہا ہے ظلم و ستم
ہمارے دل پہ کوئی کرتا ہے کڑھائی میاں

یہ وقت نے ہمیں کس دوڑ پر لگایا ہے
اڑنگی دینے لگا میرا اپنا بھائی میاں

کبھی کبھی کوئی لیڈر کرپٹ ہوتا تھا
مرض یہ بن گیا اب کے تو اک وبائی میاں

یہ جون ایلیا سے بن کے رہ گئے ہو کیوں؟
تمھارے شہر میں کیا قحط ہے غذائی میاں

خرابِ عشق کے پلے پڑے نہ عقل کی بات
اگرچہ ٹانٹ پہ اکثر چپت لگائی میاں

ہمارے کام کی ہو تو یقین کیوں نہ کریں
ہزار چھوڑی گئی ہو کوئی ہوائی میاں

جس عشق نے میاں مجنوں کو کر دیا ہے امر
اُسی پہ ہم نے کمائی ہے جگ ہنسائی میاں

کچھ اس ادا سے طلب کی ہے فیس ظالم نے
وہ ڈاکٹر مجھے لگنے لگا قصائی میاں

کنکٹ ہوں تو ملاقات ہو ہی جاتی ہے
ہمارا عشق ہے تھوڑا سا وائی فائی میاں

فقط ہے نعروں کا حصہ یہ خود انحصاری
ازل سے ہاتھوں میں ہے کاسہءگدائی میاں

ہے نہ ظلمتِ شب کی بھی کاروائی میاں

رہے نہ ظلمتِ شب کی بھی کاروائی میاں
جلیں چراغ دلوں میں جو مصطفائی میاں

اُسی کے ذکر کو وردِ زبان رکھتا ہوں
یہ روزگار ہے میرا یہی کمائی میاں

یہ میرا دل تو ہمکتا ہے بچے کی مانند
وہ کون ہیں جنہیں اُس در کی ہے رسائی میاں

مجھے بھی خواب اُڑا لے چلیں مدینے کو
فضا ہمیشہ وہی سب کو راس آئی میاں

خدا کے رستے پہ اُس نے سکھایا ہے چلنا
اُسی نے سب کے دلوں میں یہ لو لگائی میاں

ہماری منزلِ عرفان اُس کا صدقہ ہو
ہمیں تو چاہیئے بس اُس کی رہنمائی میاں

یہ میری جاں بھی نچھاور اُسی کی حرمت پر
خدا نے جس کے لئے بزمِ جاں سجائی میاں

وہی ہے خامہ وہی عاجزیء فن ہے ظفر
وہی ہوں میں وہی اظہارِ تنگنائی میاں

ادائے محبوبیت

وہ تھا محبوبِ تواُس میں اندازِ محبوبیت تھے بہت
اُس کی ہر اک ادا حسبِ منشائے ربِ قوی ہو گئی


کام جو بھی کیا سربسر حکمِ ربی کی تفسیر تھا
بات جو بھی کہی، معتبر ہو گئی، سرمدی ہو گئی

ذکرِ سرکار سے روح میں اِک عجب تازگی ہو گئی

ذکرِ سرکار سے روح میں اِک عجب تازگی ہو گئی
نعت لکھنے لگا تو عبادت مری شاعری ہو گئی

اُن کے اسمِ مبارک کی برکت سے مجھ میں سکوں گھل گیا
وقت کی شورشیں دب گئیں روح میں آشتی ہو گئی

تذکرہ اُن کا آیا تو نوکِ قلم گل فشاں ہو گیا
ہر رگِ لفظ میں موجزن اک نئی زندگی ہو گئی

اُن کی نسبت ہے کیسے عجب رنگ مجھ کو لگائے ہوئے
اُن کی مدحت کی کاوش میںصیقل مری آگہی ہو گئی

اُن کی افکار نے ایسی شفافیت سے مجھے بھر دیا
عمر بھر کے لئے آئینوں سے مری دوستی ہو گئی

ظلمتِ عصر میں اسوہ ء پاک کا ہاتھ تھاما ظفر
راستے آپ آواز دینے لگے،، روشنی ہو گئی

کشمیر

چل دیا ہے منزلوں کو قافلہ کشمیر کا
رہرﺅں سے بھر گیا ہے راستہ کشمیر کا

یہ گزرتے پل نہیں تاریخ کے صفحات ہیں
خوں سے لکھا جا رہا ہے واقعہ کشمیر کا

ظلم کے لاوے سے جو بھرتے ہی جاتے ہیں اِسے
ایک دن جا لے گا اُن کو دائرہ کشمیر کا

بچہ بچہ ہے لہو کی موج میں آیا ہوا
ساری وادی میں بپا ہے معرکہ کشمیر کا

اب بساطِ دہر پر ہر چال خود اپنی چلیں
اپنے جذبوں سے بنالیں زائچہ کشمیر کا

کوئی بھی چشمہ کسی کہسار سے رکتا نہیں
اپنی سرمستی میں ہے ہر زمزمہ کشمیر کا

کور چشمی ہے زمانے کی وگرنہ دوستو!
مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے مسئلہ کشمیر کا

کاش کھل جائیں سبھی رستے دلوں کے درمیاں
سبز نقشے میں ڈھلے جغرافیہ کشمیر کا

یہ جہاں کے چوہدری تو اندھے بہرے ہیں ظفر
اہلیانِ دل اُٹھا لیں تعزیہ کشمیر کا

قیس چلبلائی ۔ ایک چلبلا ناول

یادش بخیر،غالباً اُس وقت میری عمر یہی کوئی بارہ برس تھی، میرے ایک دوست ضیا معین نے مجھے ایک رسالہ تھمایا اور پڑھنے کی پُر زور سفارش کی۔ اُس رسالے کا نام ’’ماہنامہ قہقہہ‘‘ تھا۔یہ رسالہ اُردو طنز و مزاح کا عظیم مرقع تھا اور یہ پہلا موقع تھا جب مجھ پر منکشف ہوا کہ پاکستان میں اُردو طنز و مزاح کا ایک مکمل رسالہ بھی کہیں شائع ہوتا ہے۔  اُس دن کے بعد میں ہر ماہ اپنے جیب خرچ سے یہ رسالہ خریدا کرتا تھا۔ بعد میں یہ رسالہ مختلف ناموں کی پٹڑی پر چلتا ہوا ’’تیس روزہ چاند‘‘ کے نام سے طلوع ہوا اور اِسی نام کے ساتھ پھر غروب بھی ہوا۔

’’تیس روزہ  چاند‘‘ میں مجھے بہت سے ایسے اہلِ قلم نے متاثر کیا جو مسلسل کئی برسوں تک پوری تندہی سے لکھتے رہے اور اِن میں بعض لکھنے والوں نے اِتنا اچھا مزاح تخلیق کیا کہ آج بھی چاند کے گزشتہ شمارے کھولتا ہوں تو جیسے کھو سا جاتا ہوں۔اِنہیں میں ایک نام سید ارشاد العصر جعفری کا بھی ہے۔

ارشاد صاحب نے چاند میں خاصی چاند ماری کی۔کم از کم مجھے ہر ماہ جن اصحاب کی تحریروں کا انتظار ہوتا تھا اُن میں  اِن کا نام بھی شامل تھا۔ اِنہوں نے چاند میں خاصے معرکے کی چیزیں لکھی ہیں۔ قیس چلبلائی اس کی ایک جھلک ہے۔ جیسا کہ کتاب کے آخر میں ارشاد صاحب نے ایک نوٹ میں واضح طور پر اس امر کی نشاندھی کی ہے کہ:

’’ 1990سے 1994 تک ہم میٹرک اور ایف اے کے سٹوڈنٹ تھے اسی زمانے میں ہم پاکستان بھر کے دیگر رسائل کے ساتھ ساتھ مزاحیہ ماہنامے ’’ چاند‘‘ میں بھی ذوق و شوق سے لکھتے تھے۔یہ ناول انہی چھوٹی چھوٹی تحریروں کو ربط دے کر تیار کیا گیا ہے۔‘‘

  اگر چہ ارشاد صاحب نے ’’قیس چلبلائی ‘‘ کی تجسیم میں بہت سی ایسی تحریروں کا مسالا گوندھ گوندھ کر ملایا ہے جو مختلف اوقات میں لکھی گئی ہیں اور جن کا ماحول بھی ایک دوسرے سے قطعاً مختلف تھا لیکن اُنہوں نے اِس مہارت سے اِن تمام مختلف تحریروں کو ایک لڑی میں پرویا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس ہار کے پروئے جانے والے موتی مختلف رنگوں کے حامل ہیں۔ مختلف ادوار میں لکھے گئے واقعات پر کسی ایک کردار کا کمبل ڈالنا ارشاد صاحب کا ہی کام ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہلکھے جانے والے واقعات قیس چلبلائی کے کردار سے مبرا ہو کر لکھے گئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بھی ارشاد العصر جعفری کا ایک منفرد کارنامہ ہے جو اُن کی ہم جہتی شخصیت کا ایک اور دریافت کردہ رنگ ہے۔

اُردو ادب میں  ایک مکمل مزاحیہ ناول کا لکھا جانا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہت سے مزاحیہ ناول لکھے جا چکے ہیں۔ اُردو طنز و مزاح کے لئے ’’اودھ پنچ‘‘ کا دور ایک سنہرا دور ہے۔ اس دور میں ادوھ پنچ کے لکھنے والوں نے بہت سے ایسے طویل ناول لکھے ہیں جو اودھ پنچ میں قسط وار شائع ہوئے ہیں اور پھر بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ منشی سجاد حسین کا ناول ’’تمیز الذین‘‘ تو ریختہ ڈاٹ کام پر بھی موجود ہے۔بعدازاں بھی بہت سے ایسے شگفتہ بیان ناول نگار گزرے ہیں جنہیں بلا مبالغہ طنز و مزاح پر مبنی ناول نگار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں شوکت تھانوی کا ذکر نہ کیا جائے تو موضوع کے ساتھ سراسر ناانصافی ہو گی۔ شوکت تھانوی نے اسی (۸۰) کے قریب ناول تخلیق کئے ہیں جو بظاہر رومانوی تھے لیکن شوکت تھانوی کے شگفتہ اور برجستہ اندازِ بیان نے اِن ناولوں کو طنز و مزاح کی ایک  ایسی طرز تغویض کی تھی جو اسے بلامبالغہفکاہیہ ناول کے درجے پر فائز کرتا ہے۔شوکت تھانوی کا یہی شگفتہ اندازِ بیان اور برجستگی ہے جس کی بناء پر اُنہیں اُردو ادب کا ’’پی جی ووڈ ہاؤس‘‘ کہیں تو بیجا نہ ہو گا۔اسی طرح ابنِ صفی (اسرار احمد، طغرل بوغا) کا ناول ’’تزک دو پیازی‘‘ بھی ایک خاصے کی چیز ہے۔ابنِ صفی کے سری ادبی رجحانات کے برعکس یہ ناول مکمل طور پر فکاہیہ ہے ۔ اس ناول میں ابنِ صفی صاحب کے فکاہی جوہر کھل کر سامنے آئے ہیں ۔

موجودہ دور میں گلِ نوخیز اختر کے ناول’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ کو فخریہ طور پرفکاہی ناول کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ارشاد العصر جعفری کا ناول ’’قیس چلبلائی‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اِن دونوں ناولوں کے مصنفین میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق مرحوم ’’چاند‘‘ سے رہا ہے۔

’’قیس چلبلائی‘‘کا نام ہی  اپنے آپ پر ایک طنز ہے۔ قیس چلبلائی کا کردار نام کا تو قیس ہے اور آپ کو قیس کا احوال معلوم ہے کہ بی بی لیلیٰ کے عشق میں دیوانہ ہو گیا تھا، اور کوئی اور حُسن اُسے متاثر نہیں کر سکا تھا، جبکہ قیس چلبلائی صاحب ایک مکمل فلرٹ کردار ہے جس کا نظریۂ عشق اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے کہ:

تُو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ظالم کا بچہ تمام ناول کے دوران محبوباؤں کو یوں بدلتا رہا ہے جیسے شیر خوار بچہ سارا دن پوتڑے بدلتا رہتا ہے۔یہ آج کل کے عشاق پر ایک بھرپور طنزبھی ہے۔ آجکل کے عاشق اگرچہ  دعویٰ تو اس امر کا کر رہے ہوتے ہیں کہ اُنہیں’’لوریا (LOVERIA)‘‘ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، لیکن اُن کی نظریں ہمہ اوقات اس چکر میں کلی کلی منڈلاتی پھرتی ہیں کہ:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہیہ ناول بہت سی خودمختار کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ناول کی ساری کہانیاں قیس چلبلائی  کے کردار کے گرد بھنگڑا ڈالتی نظر آتی ہیں۔قیس صاحب ہمہ اوقات راجہ ِاندربنے بیٹھے نظر آتے ہیں اور لڑکیاں موصوف کے گرد یوں امڈی پڑتی ہیں جیسے پتنگیں بجلی کی تاروں میں پھنسی نظر آتی ہیں لیکن انجامِ کار قیس صاحب کی محبت کا ہما ’’آفرین ‘‘ کے سر پر ہی بیٹھتا ہے۔ باقی سب لڑکیاں تو جیسے منزل نہیں بلکہ ’’راہگذر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مصنف نے مختلف النوع کہانیوں کو اس خوبی سے ناول کی وحدت دی ہے کہ وہ ایک مکمل ناول لگتا ہے۔

’’قیس چلبلائی‘‘ کا آغاز ہی اس انداز سے کیا گیا ہے کہ ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ در آتی ہے:

’’آج دل نے ایک نئی فرمائش کر دی۔

 ’’قیس صاحب۔ گالیاں تو سنیں‘‘

دل کی اس فرمائش پر ہم نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں کہ کوئی ایسی ہستی نظر آئے تو دل کی فرمائش پوری کی جائے لیکن ابھی اردگرد کوئی بھی ایسی ہستی موجود نہیں تھی۔

ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارے دل کی اس فرمائش پر آپ کے ماتھے پر سلوٹیں ابھر آئی ہیں اور شاید آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ دل کی یہ کیسی فرمائش ہے۔ تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ ہمارا دل ہے۔ یعنی قیس چلبلائی ۔ ایم ایس سی۔ سڑکیات۔ ڈی ایس سی۔ آواریات۔ یونیورسٹی آف عشقیات۔ یہ دل کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کی فرمائش کر سکتا ہے۔‘‘

بقول شاعر:

چاول کا ایک دانہ دیگوں کی مخبری ہی

ارشاد العصرجعفری کا یہی چُلبلاپن پورے ناول میں پھلجڑیاں چھوڑتا نظر آتا ہے۔

یہ ناول خالصاً تفریحی نقطہ نظر سے لکھا گیا ہے اور اسے اسی انداز میں لیا جانا چاہیئے، یہ میرا نقطۂ نظر ہے تاہم وہ اصحابِ دور اندیش و علم و فن جن کیآنکھوں میں قدرت نے ایکسٹرا لینز کی بصیرت فٹ کی ہوئی ہے اور جو بوسے میں بھی فلسفہ تلاش کر لیتے ہیں، انہیں اس ناول میں نصیحت و سبق حاصل ہو تو فدوی کچھ کہنے سے عاجز ہے۔

اِس ناول کا ماحول بھی ہمارے معاشرے کے عمومی رویے کے برعکس ہے۔ مصنف نے اس ناول میں تذکرہ کرنے کے لئے معاشرے کی اُن چیدہ چیدہ خصوصیات کا احاطہ کیا ہے جو مزاح نگاروں کا پسندیدہ موضوع رہی ہیں تاہم حقیقی معاشرے کی مکمل تصویر کا احاطہ نہیں کرتی۔ ناول کی تمام بیویاں شہ زور، تمام شوہر فرمانبردار اور مظلوم، تمام لڑکیاں مکار اور دھوکے باز اور تمام لڑکے دل پھینک اورٹھرکی ہیں۔ اس رویے کو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر ایسا ہوتا تو پنجاب اسمبلی سے ہمارے ملک کی مراعات یافتہ مخصوص کلاس کی نمائندہ خواتین ’’حقوقِ نسواں ایکٹ‘‘ کے نام پر ایسا قانون منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو جاتیں اور وہ بھی اس انداز سے کہ سیاست کے شیر بھی اُن کے پیچھے اپنی اپنی دُمیں ہلاتے پھریں۔اس ایکٹ کا انجام تا دمِ تحریر دو تین طلاقوں پر منتج ہوا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس ناول کو تفریحی نقطۂ نظر سے پڑھا جانا چاہیئے اور اسی انداز میں لیا جانا چاہیئے۔

ارشاد العصر جعفری نے اس ناول کی اُٹھان اس خوبصورتی سے رکھی ہے کہ دیکھا چاہیئے۔ واقعات کی رنگین بیانی کے ساتھ ساتھ مکالمات میں برجستگی اور بیساختہ پن اسے نہایت دلچسپ بنائے رکھتا ہے اور یہ اندازِ تحریر اول تا آخر برقراررکھا گیا ہے۔ذرا ناول کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

’’اچھا جناب۔ اب مجھے اجازت دیں‘‘…… ہمارا نام رجسٹر پر درج ہونے کے بعد ابا نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں۔ قیس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی۔ جس قدر چاہیں اس کی پھٹنی لگائیں‘‘…… انہوں نے کہا۔

’’ابا جی۔ گوشت کس کے حصے میں جائے گا‘‘…… ہم نے  نہایت معصومیت سے پوچھا، انہوں نے ہمیں گھور کر دیکھا۔

’’خاموش۔ نالائق گدھا‘‘…… ابا نے ہمیں ڈانٹ دیا۔ دراصل ابھی چند دن پہلے گھر میں بکرا ذبح ہوا تھا تو ابا جی نے ہڈیاں محلے میں تقسیم کر دی تھیں۔ گوشت گھر میں رکھ لیا تھا اور کھال ایک ہزار میں بیچ دی تھی۔

’’ابا جی۔ استاد صاحب سے ہماری کھال کے پیسے تو لیتے جائیں‘‘…… ابا جانے لگے تو ہم نے پیچھے سے انہیں آواز دی۔ ابا رکے، انہوں نے مڑ کر ہمیں ایسی نظروں سے دیکھا کہ ہم فوراً ہی سہم گئے اور ہم نے گردن جھکا لی۔‘‘

’’قیس چلبلائی‘‘طنز و ظرافت کا حسین مرقع ہے۔ اس میں بیساختہ مسکراہٹ بکھرنے والی سچوئیشن بھی ہے اور مکالمات کی بیساختگی اور لطافت بھی۔ قیس چلبلائی کا یہ اقتباس اسی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔

’’قیس۔ تم کتنے بہادر ہو؟‘‘…… نائلہ نے پوچھا۔

’’بہت‘‘…… ہم نے اکڑ کر کہا۔

’’ویری گڈ۔ پھر کام بن گیا۔ میں نے جن قابو کرنے کا ایک آسان طریقہ حاصل کیا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ انسان بہادر اور ذہین ہو۔ مجھے یقین ہے کہ تم جن قابو کر لو گے‘‘…… نائلہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

’’معاف کرنا۔ اگر جن قابو کرنا ہے تو پھر میں بہادر نہیں ہوں بلکہ مجھ جیسا بزدل پورے ملک میں نہیں ہو گا‘‘…… ہم نے منہ بنا کر کہا۔

’’قیس ڈئیر۔ تم بزدل نہیں ہو۔ ایک دم بہادر ہو۔ بھلا ایک بہادر بیوی کا شوہر بزدل کیسے ہو سکتا ہے‘‘۔۔۔ نائلہ نے کہا۔

’’میں آج تک تمہیں قابو نہیں کر سکا جن کیسے قابو کر سکتا ہوں‘‘…… ہم نے بدستور منہ بناتے

ہوئے کہا۔

’’بیوی کو قابو کرنا مشکل ہے۔ لیکن جن قابو کرنا بہت آسان ہے۔ تم جن قابو کرلوگے۔ ہاں‘‘…… اس نے کہا۔‘‘

یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک فکاہی تخلیق کار ہو اور طنز کی چٹکیاں نہ بھرے۔ معاشرے کی غیر ہمواری کی نشاندھی کرنا ہر فکاہی ادیب و شاعر کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہنسی ہنسی میں کوئی ایسی بات کہہ جانا جس سے معاشرے کی ناہموار کی طرف اشارہ بھی ہو جائے اور تلخ بیانی کا ارتکاب بھی نہ ہو، ایک اچھے مزاح نگار کی امتیازی خصوصیت ہوتی ہے۔ ارشاد العصر میں یہ وصف بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ باتوں ہی باتوں میں طنز کی ایسے ایسے نشتر چھبو جاتے ہیں کہ دیکھا چاہیئے۔

کافی کا کپ

اِک بالٹی نما کپ بیٹھے تھے لے کے حضرت
پوچھا گیا یہ اُن سے صاحب یہ کیا حماقت
بولے کہ ڈاکٹر نے
باندھا ہوا ہے اب کے
دن میں بس ایک ہی کپ کافی کی ہے اجازت