نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

ایک کتبہ

یہاں جو دفن ہیں
وہ انتہائی سادہ انساں تھے
دیانتدار افسر تھے
چنانچہ رائے عامہ میں پھٹیچر تھے
کبھی سرزد ہوا ان سے
نہ کچھ ترچھا، نہ کچھ آڑھا
کرپشن کر کے دعویٰ پارسائی کا نہیں جھاڑا
نہ جے آئی ٹی بنی ان پر
نہ وہ پیشی کی رسوائی سے گزرے
اور نکلے سرخرو ہو کر
یونہی بیکار ساری عمر کاٹی ہے
اسی عالم میں حضرت نے فنا کی خاک چاٹی ہے
خدای مغفرت کرنا

پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ


پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ
سسروں کو دے کے آ گئے گردن کا ناپ آپ

لاعلم تھے کہ آپ کے جاناں کا عقد ہے
ٹھمکا لگا کے ڈھول کی سنتے تھے تھاپ آپ

آوارگی اُنہیں کی محبت کی ہے عطا
لگنے لگے ہیں جن کو بہت روڈ چھاپ آپ

ٹپکا رہے تھے رال وہ جس کے شباب پر
موصوف اُس حسینہ کے لگتے تھے باپ آپ

اک دوسرے کو کچا چبانے کی گھات ہے
اور میڈیا کی ٹاک پہ جاری ہے آپ آپ

ماہِ صیـام تو ہے پئے تزکیہ ء نفس
اور لے گئے سمیٹ کے ساری ہی شاپ آپ

لیتے ہیں کیوں جماہیاں منہ پھاڑ پھاڑ کر
جب آنے والے دور کی سنتے ہیں چاپ آپ

چلتی نہیں یہاں پر منسٹر کی پرچیاں
جیون کے امتحان میں کیا ہوں گے ٹاپ آپ

بسم اللہ کہ جناب کا کھاتہ ہے بِل ابھی
حج کر کے دھو تو آئے ہیں جیون کے پاپ آپ

چمنی اگر خدا نے غزل کی ہے دی ہوئی
کچھ تو نکال دیجئے اندر کی بھاپ آپ

کردار سارے ڈان بنے پھرتے ہیں ظفر
جمہوریت کی فلم کو سمجھیں فلاپ آپ

اب سخن میں نہیں آتی ہے حسینوں کی تڑپ


اب سخن میں نہیں آتی ہے حسینوں کی تڑپ
اُن کے روزے سے لپٹ جاتی ہے سوچوں کی تڑپ

اُن کے در سے کہاں مایوس گیا کوئی سمے
روشنی لے کے گئی کتنے زمانوں کی تڑپ

دستِ امید نہیں ہٹتا کبھی کاندھوں سے
بارور ہو گی کبھی اُن کے گدائوں کی تڑپ

کھنچتی جاتی ہے اُسی مرکزِ رحمت کی طرف
قابلِ دید ہے بھٹکے ہوئے لوگوں کی تڑپ

اُسی جلوے کی تمنائی مری آنکھیں ہیں
وہی آنکھوں کے دریچے میں ہے خوابوں کی تڑپ

اِن کو درکار ہے بطحا کی ہوائے دلجو!
ایک آتش سی لئے ہے میری سانسوں کی تڑپ

اُن کا پیغام صبا لاتی رہے گی ہر پل
جب تلک طالعِ گلشن میں ہے پھولوں کی تڑپ

میری گفتار میں ہے ذکرِ مدینہ کیا کیا
میرے کردار میں ہے کتنے فسانوں کی تڑپ

گنبدِ سبز سدا سامنے رہتا ہے ظفر
ہونے دیتی نہیں اوجھل اسے نظروں کی تڑپ

امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ

امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ
جن کے گھر روز ہی ہوتی ہے جھڑپ

یوں مرے دل میں کوئی آن گھسا
جیسے ڈڈو کہیں پانی میں غڑپ

سخت انگلش میں مجھے ڈانٹتے ہیں
کہنے لگتے ہیں شٹ اپ کو بھی شڑپ

اِتنے میٹھے بھی نہ بنئے صاحب
لوگ کر لیتے ہیں یکبار ہڑپ

قوم آ جائے ولیمے میں تو پھر
غیر ممکن ہے کرے شُوں نہ شڑپ

قافیہ تنگ ہے خاصا ورنہ
دل میں تھی اور بھی لکھنے کی تڑپ

درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے

درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے
کوئی آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جاتا ہے

خامشی پہنی تھی اوروں سے زیادہ میں نے
دیکھنے والوں کا کیوں مجھ پہ ہی شک جاتا ہے

دل کے آوازے کو زنجیر بھی پہنا دیکھی
یہ مگر صورتِ پازیب چھنک جاتا ہے

کبھی رہنے نہیں دیتا ہے تہی دست مجھے
جو بھی آتا ہے کوئی دے کے کسک جاتا ہے

بددعا سی ہے مسافر کو کسی کی شائد
پاس آ جاتی ہے منزل تو بھٹک جاتا ہے

جب کبھی دل میں تری یاد کی لو جاگتی ہے
میرے اندر کوئی بچہ سا ہمک جاتا ہے

کالے کوسوں کے مسافر کو سکوں خاک ملے
اپنی جانب بھی تو چلتے ہوئے تھک جاتا ہے

تشنگی روح کی بجھتے نہیں دیکھی ہے کبھی
ویسے جانے کو تو لب جام تلک جاتا ہے

اِس کو پاتال میں گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ زمیں زاد جہاں تابہ فلک جاتا ہے

اگر ہے نعتِ نبی کی خواہش تو روشنائی یہ معتبر ہے

 

اگر ہے نعتِ نبی کی خواہش تو روشنائی یہ معتبر ہے
اِسی سے موزوں بنے گی کاوش یہ خونِ دل ہے یہ چشمِ تر ہے

وہ ساعتوں کے صدف کہ جن سے ملے ہیں اُن کی ثنا کے گوہر
یہ اِتنے برسوں کی زندگی بس اُنہیں کے صدقے میں بارور ہے

اُنہیں کے ذکرِ مزکّی سے ہو گئی ہے سرشارزندگانی
زمانے کی دھوپ میں ہمارے لئے یہی سایہء شجر ہے

مجھے یقیں ہے کہ خارزاروں میں بھی گلِ تر ہے میرا طالع
نبی کی ذاتِ حمید و طیب مطافِ فکر و نظر اگر ہے

یہ نعت گوئی کا کیف گویا اُڑا کے لے جائے مجھ کو بطحا
یہ میری کرسی، یہ میری لکھنے کی میز جیسے کہیں اُدھر ہے

کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا

کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا
کیوں اُڑنچھو ہے بھلا لے کے بیعانہ دل کا

مشورہ عقل کا مانا نہیں یہ جان کے بھی
احمقانہ ہے ہمیشہ سے قیانہ دل کا

دیکھتے دیکھتے ہو جاتی ہے ہر نیوز بریک
راز چھپتا ہے کہاں کوئی زنانہ دل کا

سب گرفتارِ وفا ہو کے یہیں آتے ہیں
حُسن والوں کو کھلا رہتا ہے تھانہ دل کا

اُن کو کانا تو کہا جا نہیں سکتا ہرگز
میچ کر آنکھ جو لیتے ہیں نشانہ دل کا

چاند چہرے پہ دوپٹے کا ہے ڈھاٹا، دیکھو
کوئی آیا ہے چرانے کو خزانہ دل کا

کیوں تری یاد دسمبر میں رلاتی ہے مجھے
اِتنا آساں نہیں جاڑے میں نہانا دل کا

سرجری صبر سے روزانہ میں کرواتا ہوں
لوگ فالودہ بنا تے ہیں روزانہ دل کا

ساتھ میں چاہیئے دولت کی بھی میٹھی چٹنی
ہے تو مرغوب اُنہیں کھنڈ مکھانہ دل کا

تیرے ہونٹوں پہ وہی ”دُور دفع“ کے فقرے
تیری آنکھوں پہ وہی شعر سُنانا دل کا