نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

سر کیوں اُٹھائے ظلم کہ تسطیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

سر کیوں اُٹھائے ظلم کہ تسطیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)
غیرت نے جو لکھی ہے وہ تحریر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

لحہ بہ لمحہ وقت کے ہاتھوں میں اک دیا
حلقہ بہ حلقہ ایک ہی زنجیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

کیسے عدوِ دین کی بر آئے آرزو
دینِ مبیں کے ہاتھ میں شمشیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

ہر دور کے یزید پہ جس کا ہے دبدبہ
تا بہ ابد وہ نعرہء تکبیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

تاریخ کے منڈیر کی قندیل کربلا
گویا ہر اک زمانے کی تنویر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

جو مقصدِ حیات دیا ہے قران نے
اُس مقصدِ حیات کی تفسیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

حق چھا گیا جہاں میں ہمیشہ کے واسطے
بے نام ہے یزید، جہانگیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

بخشی ہیں سربلندیاں نانا کے دین کو
انسانیت کا تمغہء توقیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

Advertisements

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا
کب سے ہے فریزر میں جمایا ہوا بکرا

کیوں سینگوں پہ رکھا ہے مجھے بیچ سڑک پر
کیا جانئیے کس بات پہ ’’اوکھا‘‘ ہوا بکرا

آجائے گا قربانی کے بھی کام یقیناً
سیلفی کے لئے خاص خریدا ہوا بکرا

دیدار کو آیا ہے یا دیدار کرانے
پنکی کے لئے پنک سا رنگاہوا بکرا

لیڈر بھی مقلد نہیں یوں ’’میں میں ازم‘‘ کا
قربانی کے دن بھی کہاں چُپکا ہوا بکرا

کیا جانئیے کس کس کے مقدر میں لکھا ہے
تکوں میں کبابوں میں بکھیرا ہوا بکرا

قربانی محلے میں تو دی ہوتی ہے سب نے
مل سکتا ہے واپس بھی یوں بانٹا ہوا بکرا

اب مالی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ اس سے
لے سکتے ہیں کاغذ پہ بنایا ہوا بکرا

ڈھو پائے گا مجھ کو، میرے اعمال کو کیسے
واقف نہیں جنت کو سدھارا ہوا بکرا

کانگو وائرس

سیاستدانوں کو بھگتا رہی ہے
ہماری قوم چچڑ باز ٹھہری
یہ کانگو وائرس کیا بیچتا ہے

اک داغِ ہجر یوں دلِ مضطر میں پڑ گیا

اک داغِ ہجر یوں دلِ مضطر میں پڑ گیا
جیسے کوئی شگاف سمندر میں پڑ گیا

دیکھا ہے کس نظر سے کہ دھندلا گیا ہوں میں
کیسا یہ قفل اُس کے کھلے در میں پڑ گیا

جب بھی مری مہارتیں ناوک فگن ہوئیں
دیکھا ہد ف تو میرے ہی پیکر میں پڑ گیا

اک آگہی تھی جس نے مجھے سونے نہیں دیا
اک درد تھا جو دل کے شناور میں پڑ گیا

کام آ سکا نہ میری اُڑانوں کا بانکپن
یونہی میں خودبخود کسی منظر میں پڑ گیا

کس لمس کے گلاب نے یوں گدگدا دیا
اِک دھڑکنوں کا سلسلہ پتھر میں پڑ گیا

اک خواب تھا جو نیندیں اُڑا لے گیا ظفر
اک لمحہ تھا جو عرصہء محشر میں پڑ گیا

ایک شعر

خواب سچے میرے ہو کر نہیں دیتے ہیں ہنوز
صبح کے وقت بھی دیکھا ہے اُسے خوابوں میں

ایک شعر

ہم نے لیڈر بنا دیا ہے اُسے
جو ذرا آدمی بھی کم کم ہے

ہُن میں کی کراں

شاعری کہہ رہی تھی مجھ سے ظفر
شعر میں کچھ نیا ہی فرمائیں

اور بیوی کی آ رہی تھی صدا
جا کے دودھ اور دہی تو لے آئیں