نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

جسے کہتا ہوں جانِ من یقیناً

جسے کہتا ہوں جانِ من یقیناً
وہی پھنسوائے گی گردن یقیناً

بتاتا ہے ترا طرزِ خطابت
بسوں میں بیچا ہے منجن یقیناً

جو "کپڑے مع میاں” دھوتی ہے اکثر
ہر اک بیوی ہے وہ دھوبن یقیناً

وہ جس کو ساس کہتا ہے زمانہ
اُسی کا نام ہے الجھن یقیناً

یہ جو ہے نقشِ پا ماتھے پہ تیرے
یہی ہے عشق کا ٹوکن یقیناً

ہمارے سارے لیڈر اللہ اللہ
کبوتر ہیں نرے لوٹن یقیناً

نصیبِ دشمناں بریانیاں ہیں
مرے حصے میں ہے کھرچن یقیناً

بلم کے شوقِ مکہ بازی سے ہے
یہ دائیں آنکھ کی سوجن یقیناً

مری بیوی کو بھی لگتی تو ہو گی
مری یہ شاعری سوتن یقیناً

دل کہیں لگتا نہیں طیبہ پلٹ

دل کہیں لگتا نہیں طیبہ پلٹ
راس اپنی موڑ، پھر رستہ پلٹ

بندگی پر گردِ دنیا کیوں پڑے
اپنا اندر صاف کر ، سایہ پلٹ

گمرہی کے رستوں سے کر مفر
پھر مدینے کی طرف پہیہ پلٹ

جس میں تیرے نقش دھندلانے لگیں
آئینہ گر کو وہ آئینہ پلٹ

دور تونے رہ لیا خود سے بہت
دیر مت کر، جانبِ کعبہ پلٹ!

عمر ہے اب ریزگاری کی طرح
وقت ہے کچھ سوچ، کر توبہ ، پلٹ!

بس خمارِ عشقِ احمد ہے بہت
کیا کرے گا لے کے پیمانہ، پلٹ!

ساتھ میں اذنِ حضوری چاہیئے
یونہی مل جاتا نہیں ویزہ، پلٹ!

اِتنی بے مایہ نہیں ہے زندگی
راکھ میں خفتہ ہے انگارہ، پلٹً!

زندگانی کا قرینہ سیکھ لے
پھر سے سوئے اسوۂ حسنہ پلٹ

روشنی کا راستہ روکا نہ کر
دل کا روزن کھول دے، پردہ پلٹ

کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں

کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں جو جینے کا سبب ہیں

مل جائیں گی خوشیاں بھی یونہی تم کو کسی دن
کیا غم ہے مقدر میں اگر رنج و تعب ہیں

کیا خاک علم لے کے سحر کا کوئی نکلے
جو دن کے مسافر تھے سرِ خیمہ شب ہیں

کچھ شہر کے آداب موافق نہیں اب کے
کچھ آپ کے دیوانے بھی زنجیر طلب ہیں

تب بھی مری ہر سانس ترے نام لکھی تھی
اب کے بھی شب و روز پہ یادوں کے نقب ہیں

یہ دیکھ کے بھی صبر مجھے آتا نہیں ہے
جو میرے نہیں ہو سکے اپنے بھی وہ کب ہیں

کس دور میں ہم اہلِ جنوں پیدا ہوئے ہیں
انداز ہیں جینے کے نہ مرنے کے ہی ڈھب ہیں

چپ چاپ سبھی قتل ہوئے جاتے ہیں کیانی
کچھ دیکھتی آنکھیں ہیں نہ کچھ بولتے لب ہیں

لب پہ پھر مسکرا رہی ہے نعت

لب پہ پھر مسکرا رہی ہے نعت
دل کو طیبہ بنا رہی ہے نعت

نور ہی نور ہر طرف پھیلا
کیف میں سب کو لا رہی ہے نعت

پڑھنے والے پہ وجد طاری ہے
سننے والے پہ چھا رہی ہے نعت

اسمِ خیر الانام ہے لب پر
خوشبوؤں میں بسا رہی ہے نعت

ذکر کے اک عجب حصار میں ہوں
دور تک جگمگا رہی ہے نعت

ذیست بزمِ درود لگتی ہے
رنگ کیسا جما رہی ہے نعت

رات تادیر رُک سکے گی کیا
مجھ میں سورج جگا رہی ہے نعت

سلسلہ یہ وہیں سے جاری ہوا
کاوشِ کبریا رہی ہے نعت

میں بھٹکتا دیارِ عشق میں کیوں
مجھ کو رستہ دکھا رہی ہے نعت

استطاعت کہاں ہے لکھنے کی
خود کو لکھواتی جا رہی ہے نعت

روحِ بیمار کھِل اُٹھے گی ظفر
اک نویدِ شفا رہی ہے نعت

بیویوں کی سواری

بیویوں کو سواری کی خاطر
شوہروں کے حواس بھاتے ہیں

ایک کتبہ

یہاں جو دفن ہیں
وہ انتہائی سادہ انساں تھے
دیانتدار افسر تھے
چنانچہ رائے عامہ میں پھٹیچر تھے
کبھی سرزد ہوا ان سے
نہ کچھ ترچھا، نہ کچھ آڑھا
کرپشن کر کے دعویٰ پارسائی کا نہیں جھاڑا
نہ جے آئی ٹی بنی ان پر
نہ وہ پیشی کی رسوائی سے گزرے
اور نکلے سرخرو ہو کر
یونہی بیکار ساری عمر کاٹی ہے
اسی عالم میں حضرت نے فنا کی خاک چاٹی ہے
خدای مغفرت کرنا

پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ


پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ
سسروں کو دے کے آ گئے گردن کا ناپ آپ

لاعلم تھے کہ آپ کے جاناں کا عقد ہے
ٹھمکا لگا کے ڈھول کی سنتے تھے تھاپ آپ

آوارگی اُنہیں کی محبت کی ہے عطا
لگنے لگے ہیں جن کو بہت روڈ چھاپ آپ

ٹپکا رہے تھے رال وہ جس کے شباب پر
موصوف اُس حسینہ کے لگتے تھے باپ آپ

اک دوسرے کو کچا چبانے کی گھات ہے
اور میڈیا کی ٹاک پہ جاری ہے آپ آپ

ماہِ صیـام تو ہے پئے تزکیہ ء نفس
اور لے گئے سمیٹ کے ساری ہی شاپ آپ

لیتے ہیں کیوں جماہیاں منہ پھاڑ پھاڑ کر
جب آنے والے دور کی سنتے ہیں چاپ آپ

چلتی نہیں یہاں پر منسٹر کی پرچیاں
جیون کے امتحان میں کیا ہوں گے ٹاپ آپ

بسم اللہ کہ جناب کا کھاتہ ہے بِل ابھی
حج کر کے دھو تو آئے ہیں جیون کے پاپ آپ

چمنی اگر خدا نے غزل کی ہے دی ہوئی
کچھ تو نکال دیجئے اندر کی بھاپ آپ

کردار سارے ڈان بنے پھرتے ہیں ظفر
جمہوریت کی فلم کو سمجھیں فلاپ آپ