نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Author Archives: naveedzafarkiani

اُس شوخ سے اب جائے مفر کچھ بھی نہیں ہے
ہے ایسا "اگر "جس کا "مگر” کچھ بھی نہیں ہے

انصاف ہمیشہ سے ہی بتی ہے ٹرک کی
جز جھوٹ وکالت کا ثمر کچھ بھی نہیں ہے

دکھلاتے پھریں خاک چراہگاہیں گدھوں کو
ہم خود بھی اُدھر ہیں کہ جدھر کچھ بھی نہیں ہے

سسرال میں پھر چودہ طبق ہو گئے روشن
"اِن لاز” میں جو ہے وہ "مدر” کچھ بھی نہیں ہے

اپنے تو محلات ہی مرلوں میں بنے ہیں
صاحب کا کنالوں میں ہے گھر (کچھ بھی نہیں ہے)

زردار سے تہمد بھی سنبھالا نہیں جاتا
کنگلوں کو مگر خوف و خطر کچھ بھی نہیں ہے

اس واسطے ہم حسن کے میلے سے ہیں محروم
رنگوانے کو بالوں کا کلر کچھ بھی نہیں ہے

ہر شاعرِ بے مایہ کو خوش فہمی میں دیکھا
میں سب سے ہوں بِگ، مجھ سے بِگر کچھ بھی نہیں ہے

وہ آپ کبھی تین نہ تیرہ میں رہے ہیں
اور اُن کو گماں ہے کہ ظفر کچھ بھی نہیں ہے


بند اب تو عشق کا سارا ہی کھابا ہو گیا
تو بھی بے بے ہو گئی اور میں بھی بابا ہو گیا

چن لیا ہم نے انہیں سارا جہاں رہنے دیا
زندگی بھر کوسنا حقِ جنابہ ہو گیا

ٹاک شو پر اس قدر بے پر کی ہانکی آن کے
ایک مشتِ خاک سے پیدا دوآبہ ہو گیا

ایسی آوازیں سنیں نزدیک سے جاتے ہوئے
گویا کالج نہ ہوا مرغوں کا ڈھابا ہو گیا

مجنوں بابا (یکے از آباء) کی جب کی پیروی
میں بھی رسوا ہو گیا اور بے حسابہ ہو گیا

اِس قدر کب کارِ ناشائستہ ہے سچ بولنا
کس لئے دشمن مرا خانہ خرابہ ہو گیا!

ووٹ جس کو دے دیا اس کی ضمانت بھی گئی
کارِ نیکان ہو گیا پر بے ثوابہ ہو گیا

ازدواجی زندگی میں سرخرو ہم نہ ہوئے
پائے زوجہ عمر بھر جس جس نے دابا, ہو گیا

بے محابہ کود بیٹھے عشق کی آتش میں ہم
آپ کی نظروں سے بھی جب شابا شابا ہو گیا

جب خلا بازی نہیں آئی تو میں شاعر ظفر
آسمانوں سے ملانے کو قلابہ ہو گیا


درد اُٹھتا ہے تو اُٹھتا ہی چلا جاتا ہے
ہاتھ سینے پہ دھرا ہے تو دھرا رہتا ہے
ایک لمحہ مرے سینے میں گڑا جاتا ہے
درد اُٹھتا ہے تو اُٹھتا ہی چلا جاتا ہے
تیرا بسمل تیری دنیا سے جدا جاتا ہے
دل تری یاد کی گرمی سے بھرا رہتا ہے
درد اُٹھتا ہے تو اُٹھتا ہی چلا جاتا ہے
ہاتھ سینے پہ دھرا ہے تو دھرا رہتا ہے


وہ سنگ کیوں ہوا گداز خود بھی جانتا نہیں
چھڑا ہوا ہے کیسے ساز خود بھی جانتا نہیں

اگرچہ مدتوں سے روز و شب کی ٹکٹکی پہ ہوں
مگر حیات کا جواز خود بھی جانتا نہیں

زمین کے کٹاؤ کی طرح نگل نگل گیا
یہ غم ہے کیسے دل نواز خود بھی جانتا نہیں
ش
ہیدِ ناز پر فسردہ ہو گیا ہے آپ بھی
تو کیا وہ حسنِ بے نیاز خود بھی جانتا نہیں

میں کیا کہوں کہ پہنچ پایا کتنی صدیاں پھاند کر
میں کیا کروں کہ در ہے باز، خود بھی جانتا نہیں

شجر بچھائے جا رہا ہے عاجزی سے ٹہنیاں
پرندے پڑھتے ہیں نماز خود بھی جانتا نہیں

کہاں کہاں سے کر دیا ہے وقت نے حذف مجھے
کہاں کہاں ہے ارتکاز خود بھی جانتا نہیں

محبتوں کا جو ہنر ہے اُس میں کیسا نقص ہے
وہ اجنبی سا اعتزاز خود بھی جانتا نہیں

پرو دیا ہے شعر شعر اُس کی بات بات کو
کھلے گا یوں سبھی پہ راز، خود بھی جانتا نہیں


ابھی دِن ڈھلا ہے، ابھی شام کے سائے گہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے
ابھی تک فضاؤں میں بکھری ہوئی ہے دھنک آرزو کی، اُفق تا اُفق
ابھی سب کو مبہوت کرتے ہوئے رنگوں والی کئی تتلیاں اُڑتی ہیں
چمن در چمن جادو کرتی ہوئی خوشبوؤں کی کئی ٹولیاں پھرتی ہیں
ابھی تک ہے دامانِ آفاق روشن، ابھی تک یہاں پھوٹتی ہے شفق
ابھی تک نہیں جستجو ماندہ پا، بارِ سر کو اُٹھائے ہوئے ہے عُنق
ابھی خواب زندہ ہیں اور سارے ہی زندہ لوگوں کی آنکھوں میں بیدار ہیں
قدم اُٹھ رہے ہیں،ابھی قافلے والے ٹھہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے
۔۔۔۔
ابھی راستے زندگی کی توانا صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں، سنو!
ابھی تو تمنا غبارِ رہِ شوق میں کھو نہیں پائی ہے، میری جاں!!
کسی پردۂ چشم پر جمنے پایا نہیں ہے سلگتے سمے کا دھواں
اندھیروں کے اژدر نے نگلے نہیں کائناتِ یقیں کے زمین و زماں
فضا سرمگیں ہوتی جاتی ہے لیکن نظر آ رہا ہے ابھی آسماں
اجالوں کی نگری کے رستوں پہ ظلمت کے پہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے