اچھوں کا بھی بھلا کب بے دید سوچتے ہیں
یہ جب بھی سوچتے ہیں تنقید سوچتے ہیں

ہو نہ وصال کی شب گو وینٹ گون تب تک
ہم عرضِ دل کی جب تک تمہید سوچتے ہیں

یہ لیڈرانِ قومی کا بن چکا وتیرہ
دے کر بیاں پھر اُس کی تردید سوچتے ہیں

تفہیمِ عشقِ شیخاں، کچھ ہے تو بس یہی ہے
ظالم ہمیشہ بہرِ تولید سوچتے ہیں

وہ ہیں کہ ہر قدم پر دیتے پھریں اڑنگی
ہم ہیں کہ پھر وفا کی تجدید سوچتے ہیں

اس واسطے ہم اُن کو بجو سے لگ رہے ہیں
ہر شے کو ہی بہ رنگِ تجرید سوچتے ہیں

کہتا تھا کون کس کو جمہوریت کا دشمن
کرتا ہے کون کس کی تائید، سوچتے ہیں

کیا ہم میں اور رقیبوں میں فرق کچھ نہیں ہے
کیوں ٹاس کر رہی ہے ناہید، سوچتے ہیں

اُس کا تو کیس تھا کچھ تھانہ کچہری والا
کیوں قیس کی کریں ہم تقلید، سوچتے ہیں