نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: 2016

پئے سخن شہِ ہر دو جہاں سے نسبت ہے
مرے بیاں کو بھی حُسنِ بیاں سے نسبت ہے

میں آ گیا رہِ سرکار کے افادے میں
اگرچہ مجھ کو بھی عہدِ ذیاں سے نسبت ہے

میں اُمتی بھی ہوں اُس کا جو ہے حبیبِ خدا
زمیں کا ذرّہ ہوں اورآسماں سے نسبت ہے

مسافرت نہیں ٹھہرے ہوئے زمانوں کی
کہ اُن کے عشق کو آبِ رواں سے نسبت ہے

متاعِ جاں تو ہے ناموسِ دین کا صدقہ
میں ایک تیر ہوں مجھ کو کماں سے نسبت ہے

کوئی بھی خوفِ سرِ ظلمتِ بسیط نہیں
کہ مجھ کو منزلِ روشن نشاں سے نسبت ہے

میں جب سے آیا ہوں اُس کے بتائے رستے پر
مرے سفر کو کسی کہکشاں سے نسبت ہے


بجا کہ تیرِ ہدف تیرا ہر قیانہ ہے
یہ اور بات کہ دھوکہ ہمیشہ کھانا ہے

پڑی ہے عین لڑکپن میں جھوٹ کی عادت
”مرا مزاج لڑکپن سے لیڈرانہ ہے“

یہ لفظ لفظ نہیں ہیں، لفافہ سازی ہے
بہت سے لوگوں کا بزنس ہی کالمانہ ہے

شکایتیں تو عدو سے ہیں تلخ تلخ بہت
میں کیا کروں مرا انداز موءدبانہ ہے

دوبئی گیا ہے بھلا کس کی توند سازی کو
وہی ہے ہے پنچھی وہی اُس کا آب و دانہ ہے

ہمارا اُن سے تعلق بہت قریبی ہے
ہمارا اُن سے تعلق کہ حاسدانہ ہے

گلے لگے تو چٹختی ہیں پسلیاں ساری
کہ التفات بھی ظالم کا بیہمانہ ہے

اگرچہ بات ہمیشہ وہ کرتے ہیں سچی
مگر جو اُن کا بیاں ہے وہ سوقیانہ ہے

یہ ہر برس نئے ماڈل کا طفل رکھتے ہیں
جنابِ شیخ کا گھر ہے یا کارخانہ ہے

یہ خستہ عمر بزرگوں کا مقتدر ہونا
یوں لگتا ہے کہ جنازہ سا غائبانہ ہے

تری دلیل ہے ایسی کہ دل کو جا کے لگی
اگرچہ عقل کی جانب سے پیدلانہ ہے


نعت جب لکھنے لگا ،جذبوں کوسچائی ملی
لفظ لو دینے لگے، سوچوں کو بینائی ملی

ذکر اُن کا جب کیا،یک گونہ پایا ہے سکوں
نام اُن کا جب لیا ، دل کو توانائی ملی

جس قدر عاصی تھے اُن کے سایہء رحمت میں ہیں
جتنے تھے بیمارِ غم، سب کو مسیحائی ملی

اُن کے رستے پر چلے لوگوں نے پائی ہے فلاح
اُن کی خوشبو میں بسے پھولوں کو رعنائی ملی

عظمتوں کے باب میں جس طرح یکتا ہے خدا
ویسے مخلوقات میں اُن کو بھی یکتائی ملی

وقت کی ظلمت میں اُن کا دامنِ روشن ملا
شکر ہے اس طور منزل سے شناسائی ملی

حضرتِ حسان کے ورثے سے حصہ پا لیا
نعت کی خاطر متاعِ خامہ فرسائی ملی

نعت کی مجھ پر وحی پھر سے اُترتی ہے ظفر
عشق کے جذبوں کو اُس در سے پذیرائی ملی


تری تیاریوں کا شوق مجھ کو مار جاتا ہے
ترے نخرے نہیں مکتے، مرا اتوار جاتا ہے

وہ اِتنے شوق سے تو نان بھی لینے نہیں جاتا
کہ جتنے شوق سے لالا پئے نسوار جاتا ہے

ٹریننگ لی ہوئی ہے تونے آخر کس ”sniper“ سے
تری نظروں کا ناوک تو جگر کے پار جاتا ہے

محبت کس طرح پنپے، کروں میں کس طرح پیچھا
میں دو ٹانگوں پہ ہوتا ہوں، وہ لے کے کار جاتا ہے

یوں بڑھکیں مارتا ہے اپنے قد سے بھی بڑی لیکن
”کسوٹی جب بھی لگتی ہے تو انساں ہار جاتا ہے“

اسے ہے خوش گمانی کہ شجر پر نوٹ لگتے ہیں
بڑے ہی شوق سے کوئی سمندر پار جاتا ہے

مزے سے بیٹھ کر گھر میں جگالی کر رہا ہے وہ
کوئی اُس کو بھی بتلائے ترا بیمار جاتا ہے

زمانہ جو ہمیں فٹبال سمجھے، ٹھوکریں مارے
اُسی کو داڑھ میں دابے بُتِ عیّار جاتا ہے

اُسے مردے بھی سُن لیں تو اٹینشن ہو کے رہ جائیں
ظفر کوئی الاپے رات کو ملہار جاتا ہے


"ست بھرائی” سے جس کو الفت ہو
ڈھول اُس کے گلے کا شامت ہو

عشق کو عقد کی سزا جو ملے
تو یہ پھر قیدِ با مشقت ہو

کون سچائیوں کو چاٹا کرے
جھوٹ کا نام جب سیاست ہو

عشق میں ہار بھی قبول اُسے
جو گلے کا ہو، بیش قیمت ہو

کیوں لگا لائیں سب کو پیچھے ہم
کس لئے عشق کی حماقت ہو

ڈھیٹ پن کے بھی فائدے ہوں گے
کچھ تو رسوائیوں پہ خفت ہو

دوسروں پر وہی ہنسے جس میں
خو پہ ہنسنے کی استطاعت ہو

جب بھی میرا رقیب پکڑا جائے
جرم ناقابلِ ضمانت ہو

ایک سو بیسویں سے بھی یہ کہا
"تم مری آخری محبت ہو”

کیوں مجھے یاد آ رہے ہو بہت
میرے امراض کی وضاحت ہو

مسخرا سا دکھا رہا ہے مجھے
آئینہ قابلِ مذمت ہو

ووٹ تو شیر کو دیا تھا ظفر
کیوں گدھوں کی یہاں حکومت ہو


شکر ہے اسکینڈلوں کے درمیاں ہے زندگی
خادمانِ قوم کے شایانِ شاں ہے ہے زندگی

چن چڑھایا ہی نہیں میری جوانی نے ابھی
تیر ہے لیکن ابھی تک بے کماں ہے زندگی

بیویوں کو دیکھئے تو تیز رو اور بے سٹاپ
شوہروں کو دیکھئے تو بے زباں ہے زندگی

اوّلیں فکرِ پلاٹ اور پھر غمِ تعمیر ہے
ہم غریبوں کے لئے خوابِ مکاں ہے زندگی

سندھ کا جیسے گورنر ہے میں ہوں ویسا ہی فٹ
میری قسمت میں مگرویسی کہاں ہے زندگی

اب سمجھدانی مری امریکنوں سی ہو گئی
میں کبوتر جانتا تھا اور "کاں” ہے زندگی

ہائے یہ سوزِ محبت اُف یہ دھندے دہر کے
میں ہوں پنڈی میں اگرچہ لودھراں ہے زندگی

عقد میں متھے لگا بیٹھے ہیں بی بی بیگماں
اور اب لگتا ہے کہ "مس کہکشاں” ہے زندگی

ہم بھی گزرے ہیں وہاں سے ایک دن چھٹی کے وقت
گرلز کالج جائیے تو بیکراں ہے زندگی

خیر ہے جو حُسن والے لفٹ دیتے ہی نہیں
"برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی”

نقل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا ظفر
ممتحن سر پر کھڑا ہے، امتحاں ہے زندگی


نعرہء حق کی صدا سسروں کو منظور نہیں
اور سسرال میں جڑ دوں تو قضا دور نہیں

حکمِ زوجہ ہے کہ جب حور کے پہلو میں ہے تو
غیر محرم ہے جو کلمونہی اُسے گھور نہیں

کوئی خاتون جو میک اپ کا نہ برقعہ پہنے
لوگ کہتے ہیں کہ چہرے پہ ذرا نور نہیں

چہچہا سکتے نہیں جا کے حسیناؤں میں
پھر بھی دعویٰ ہے کہ شوہر ہیں وہ محصور نہیں

کیوں ترا ویر جماتا ہے تڑی آ آ کر
یہ مرا پنڈی ہے کوئی ترا پسرور نہیں

کوئے لیلیٰ میں یوں مجنوں کا تماشہ نہ بنا
یہ کسی شاخ سے لٹکا ہوا لنگور نہیں

ووٹ دیتے ہوئے میں تھوڑے تلک جاتا ہوں
"میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں”

رم خوردی کا بھی طعنہ ہے مرے سر لیکن
میرے حصے میں کوئی آتشِ مخمور نہیں

ایسے ویسے ہی سدا کام کیوں کرتے ہیں ظفر
ایسا ویسا کسی لیڈر کا تو منشور نہیں