نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: 2018

پت جھڑ کی رُتوں میں بھی مرے دل کو ہرا دیکھ
اُمید کو ہر شاخِ تمنا پہ کھلا دیکھ

ہریالی کا وجدان نکال اپنی زمیں سے
یہ کس نے کہا بہرِ نمو کوئی گھٹا دیکھ

توفیق ہو جینے کی تو جی لیتے ہیں یوں بھی
ویران سرائے کا کوئی تنہا دیا دیکھ

اُن کے وہی تیور، وہی زہراب نوائی
دل کا وہی اصرار کہ ناموسِ وفا دیکھ

ہر شے کی حقیقت کو سمجھنا ہے ضروری
جو تجھ کو نظر آتا ہے تو اُس سے سوا دیکھ

آفاق کی وسعت کو سمجھ، حجرے بنا مت!
منظر کے جھروکوں سے کوئی اور فضا دیکھ

مسنون ہے صدیوں کے خلا پر بھی تفکر
لیکن جو تری ذات میں ہے وہ بھی خلا دیکھ

بے رنگ زمانے میں دھنک جاگ اُٹھی ہے
بے نام خموشی میں مرا رنگِ صدا دیکھ

Advertisements

یہاں رہتا نہیں ہے حسن میں حسنِ خطاب اکثر
فدائی کو ملا ٹھینگے کی صورت بھی جواب اکثر

یوں دن ناکام لیڈر گنتے رہتے ہیں حکومت کے
کمیٹی والی ماسی جیسے رکھتی ہے حساب اکثر

ہمارا دل چرانے والا ہی پردہ نشیں کب ہے
کہ ڈاکو بھی نظر آتے تو ہیں زیرِ نقاب اکثر

سدا ایسے فلاحی کام جان و دل سے کرتا ہے
صحافی کو ملے جس سے لفافے کا ثواب اکثر

بہت چاہتا ہے جی اوروں کو گچی سے پکڑنے کا
مگر اچھا نہیں لگتا ہے اپنا احتساب اکثر

جو گھر والی کو ماں یاد آئے ہم کو نانی یاد آئے
ہمارا بخت بن جاتا ہے سسرالی عذاب اکثر

کبھی جو حسنِ کافر دعوتِ نظارہ دیتا ہے
بزرگوں کی بھی نظروں میں اُبلتا ہے شباب اکثر

ہمارے طالبانِ علم کی نالج کے کیا کہنے!
کراچی میں بہا دیتے ہیں دریائے چناب اکثر

مخالف پارٹی کے ساتھ مل کر خوار ہوتا ہے
خرد کی جب نہیں سنتا دلِ خانہ خراب اکثر


دہر میں نیک شعاروں کی تمنا کی ہے
ہم کو لگتا ہے خساروں کی تمنا کی ہے
 
ہاتھ کیوں شامتِ اعمال نے تھامے ہوئے ہیں
ہم نے مضبوط سہاروں کی تمنا کی ہے
 
دنیا ہے گول سو چکرائے ہوئے پھرتے ہیں
دائرہ ہے سو مداروں کی تمنا کی ہے
 
قوم نے دھوبی بنایا تو اچھنبا کیسا
نیب نے سارے اداروں کی تمنا کی ہے
 
دلدلِ عقد میں پھنسوایا تھا جس نے ہم کو
ہم نے اُس کے بھی چھوہاروں کی تمنا کی ہے
 
تیرا عاشق تیرے انگنائی سے ہو آیا ہے
ایک بچے نے غبارے کی تمنا کی ہے
 
جین کا سوٹ ترے جسم کا حصہ ٹھہرا
تجھ سے بے فیض غراروں کی تمنا کی ہے
 
باس رشوت کے تو قائل ہی نہیں ہیں مطلق
کنٹریکٹر سے سگاروں کی تمنا کی ہے
 
ووٹ یونہی تو نہیں پول کئے ہیں جا کر
ہم گدھوں نے بھی کمہاروں کی تمنا کی ہے
 
قرعہء فال ہے کس نام پہ "اپنا گھر” کا
سب مریضوں نے اناروں کی تمنا کی ہے
 
ناسپاسی کے ہی ٹھینگے پہ دھرا ہے ہم نے
اور غیروں نے ہماروں کی تمنا کی ہے
 
وقت پڑنے پہ جو پکڑائی نہیں دیتا ہے
آج اُس نے بھی ادھاروں کی تمنا کی ہے
 
یہ الگ بات کہ دو سو میں ہوا ہے سودا
خان صاحب نے ہزاروں کی تمنا کی ہے
 
ہم کو چنگ چی کے سوا کچھ بھی میسر نہ ہوا
ہم نے جیون میں تو کاروں کی تمنا کی ہے
 
ہم تو سمجھے تھے کہ ہسبینڈ کی ویکینسی ہے
اُس نے سائنس کے کنواروں کی تمنا کی ہے
 
ایسی ٹولی ہے حسیناؤں کی، اللہ اللہ!
ہم نے بیساختہ ساروں کی تمنا کی ہے
 
حسن بھی فون کے بیلنس پہ اُتر آیا ہے
اس نے کب چاند ستاروں کی تمنا کی ہے
 
حسن و دلداری و دانش و سلیقہ مندی
ایک ہی زوجہ میں چاروں کی تمنا کی ہے
 
کارخانہ سا لگائے ہوئے ہیں مولانا
طفل در طفل قطاروں کی تمنا کی ہے
 
بہرِ انصاف میں دوپہر سے فاقے سے ہوں
ایک دعوت نے ڈکاروں کی تمنا کی ہے
 
اُس نے الفت کو معمہ جو بنایا تو ظفر
ہم نے دو چار اشاروں کی تمنا کی ہے

ثبوت دے گی تو پھر ہی کہلا ئے گی عفیفہ مرے مطابق
شریف ہوتی نہیں جو کھاتی ہے بس شریفہ، مرے مطابق

وہ میری باتوں کو مکھیوں کی طرح اُڑائے گا، دیکھ لینا
مرے رقیبوں نے یارکو اس قدر بریفا، مرے مطابق

جمہور کے واسطے ہے لیکن جمہور کی ریڑھ مارتی ہے
چنانچہ جمہوریت ہے اب کے نرا لطیفہ مرے مطابق

مری صداقت سے بغضنی ہیں اور اپنی ضد کے بیانئے کو
بتا رہے ہیں فلک سے اُترا ہوا صحیفہ مرے مطابق

وہ تختِ شاہی سمجھ کے تشریف اپنی کرلیں گے اُس پہ چپساں
جہاں کہیں بھی ملے گا اُن کو کوئی سقیفہ مرے مطابق

مری محبت کی دیں نہ اجرت، مگر مجھے مسکرا کے دیکھیں
میں مستحق ہوں،ملے مجھے بھی کوئی وظیفہ مرے مطابق

زباں کھلے گی تو سارے الفاظ ڈھینچوں ڈھینچوں کریں گے اُن کے
اگرچہ نک سک سے لگ رہے ہیں بڑے نظیفہ مرے مطابق

جو میری پھو پھو کی لاڈلی ہے، وہ ٹھیک میری ہی عمر کی ہے
مرے نصیبوں میں ہے نوشتہ وہی ضحیفہ، مرے مطابق

ہماری توندوں کے حق میں بولے، نہ مال کھینچے یہ ہولے ہولے
بگڑتا ہی جا رہاہے ماسی ترا حنیفہ، مرے مطابق

میں شعر گھڑنے کے فن میں یکتا ہوں پھر بھی ”بے داد“ پھر رہا ہوں
جو بے ہنر ہیں بنے ہوئے ہیں سبھی خلیفہ،مرے مطابق

اگر ہنسے ہیں زمانے والے تو اِس میں اُن کا قصور کیا ہے
ظفرؔ نے ہی آپ بیتی کو اس قدر ظریفا، مرے مطابق


غمِ ہستی میں لذت ہے؟ نہیں تو!
بہت جینے کی حاجت ہے؟ نہیں تو!

دئے سارے ہی بجھتے جا رہے ہیں
ہواؤں سے شکایت ہے؟ نہیں تو!

فضاؤں کی خموشی ہے معمہ
نئی رُت کی بشارت ہے؟ نہیں تو!

جو حرزِ جاں ہی بنتی جا رہی ہے
نہایت خوبصورت ہے؟ نہیں تو!

کہا جاتا ہے جس کو زندگانی
مسافت در مسافت ہے؟ نہیں تو!

اُسی کی طرح اُس سے روٹھ بیٹھوں
کچھ اس میں بھی قباحت ہے؟ نہیں تو!

جو آئینے میں میرے سامنے ہے
مری اُس سے شباہت ہے؟ نہیں تو!

میں کس مکڑی کا جالا بُن کے دیکھوں
اُسے میری ضرورت ہے؟ نہیں تو!

ابھی اپنا پتہ ملتا نہیں ہے
مری خود میں سکونت ہے؟ نہیں تو!

ظفرؔ ترکِ وفا جب کر چکے ہو
اب اس کے بعد فرصت ہے؟ نہیں تو!


کم مائیگی کا یونہی نہ صدمہ اُٹھائیے
قرضہ چکانے کے لئے قرضہ اُٹھائیے

اوروں کو تو تصیحتیں کرتے ہیں خوامخواہ
کچھ آپ بھی زحمتِ توبہ اُٹھائیے

شیطان کہہ رہا ہے کہ رمضاں گزر گیا
’’اب ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے‘‘

جاری رہیں گے آپ کے خراٹے کب تلک
جس تکئے پر ہے آپ کا تکیہ، اٹھائیے

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھیں جہان کو
بن کے تماشہ، لطفِ تماشہ اُٹھائیے

لکھنا نہیں تو ناڑا پاجامے میں ہی سہی
کس کام کا ہے آپ کا خامہ، اُٹھائیے

ہم کو دکھائیے نہ یونہی موڈ بے وجہ
گھر پر ہے نخرے والی تو نخرہ اُٹھائیے

جیسے اُٹھا وزارتِ عظمیٰ سے اک شریف
در سے نہ ہم کو اس طرح قبلہ اُٹھائیے

ہی آر ہے تو جانئیے شاعر عظیم ہے
مردہ اُٹھانے کی طرح مصرعہ اُٹھائیے


چار سو بیس تھا بچپن میں بھی
نرا لیڈر ہے وہ پچپن میں بھی

صرف میک اپ ہی کیا ہے یا پھر
دے کے منہ آئی ہے روغن میں بھی؟

جب بھی آئے سرِ دستِ بیگم
ایک پیغام ہے بیلن میں بھی

یہ سمجھ میں نہیں آتا، کیسے؟
لوگ جی لیتے ہیں پنشن میں بھی

مسکرا کر مجھے جب دیکھتی ہو
دُم ہلا دیتا ہوں فوراً میں بھی

صرف لوہار نہیں ہیں صاحب
ویسے سریا تو ہے گردن میں بھی

دور بینیں وہیں نظروں کی ہیں
کیوں جھلکتا ہے وہ چلمن میں بھی

جس کو کنفیوز بہت کہتے ہو
ڈال سکتا ہے وہ الجھن میں بھی

اب تغیر کوئی کیا آئے گا
کچرا کنڈی ہے الیکشن میں بھی

اب تو ہر چیز کمرشل ٹھہری
کیوں فلیور نہیں "منجن” میں بھی

مجھ کو خچر ہی سمجھ بیٹھا ہے
جھولے لینے لگا دھڑکن میں بھی

اب تو پھر اُس پہ شباب آیا ہے
وہ تو کافر تھا لڑکپن میں بھی