نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: 2018

ثبوت دے گی تو پھر ہی کہلا ئے گی عفیفہ مرے مطابق
شریف ہوتی نہیں جو کھاتی ہے بس شریفہ، مرے مطابق

وہ میری باتوں کو مکھیوں کی طرح اُڑائے گا، دیکھ لینا
مرے رقیبوں نے یارکو اس قدر بریفا، مرے مطابق

جمہور کے واسطے ہے لیکن جمہور کی ریڑھ مارتی ہے
چنانچہ جمہوریت ہے اب کے نرا لطیفہ مرے مطابق

مری صداقت سے بغضنی ہیں اور اپنی ضد کے بیانئے کو
بتا رہے ہیں فلک سے اُترا ہوا صحیفہ مرے مطابق

وہ تختِ شاہی سمجھ کے تشریف اپنی کرلیں گے اُس پہ چپساں
جہاں کہیں بھی ملے گا اُن کو کوئی سقیفہ مرے مطابق

مری محبت کی دیں نہ اجرت، مگر مجھے مسکرا کے دیکھیں
میں مستحق ہوں،ملے مجھے بھی کوئی وظیفہ مرے مطابق

زباں کھلے گی تو سارے الفاظ ڈھینچوں ڈھینچوں کریں گے اُن کے
اگرچہ نک سک سے لگ رہے ہیں بڑے نظیفہ مرے مطابق

جو میری پھو پھو کی لاڈلی ہے، وہ ٹھیک میری ہی عمر کی ہے
مرے نصیبوں میں ہے نوشتہ وہی ضحیفہ، مرے مطابق

ہماری توندوں کے حق میں بولے، نہ مال کھینچے یہ ہولے ہولے
بگڑتا ہی جا رہاہے ماسی ترا حنیفہ، مرے مطابق

میں شعر گھڑنے کے فن میں یکتا ہوں پھر بھی ”بے داد“ پھر رہا ہوں
جو بے ہنر ہیں بنے ہوئے ہیں سبھی خلیفہ،مرے مطابق

اگر ہنسے ہیں زمانے والے تو اِس میں اُن کا قصور کیا ہے
ظفرؔ نے ہی آپ بیتی کو اس قدر ظریفا، مرے مطابق

Advertisements

غمِ ہستی میں لذت ہے؟ نہیں تو!
بہت جینے کی حاجت ہے؟ نہیں تو!

دئے سارے ہی بجھتے جا رہے ہیں
ہواؤں سے شکایت ہے؟ نہیں تو!

فضاؤں کی خموشی ہے معمہ
نئی رُت کی بشارت ہے؟ نہیں تو!

جو حرزِ جاں ہی بنتی جا رہی ہے
نہایت خوبصورت ہے؟ نہیں تو!

کہا جاتا ہے جس کو زندگانی
مسافت در مسافت ہے؟ نہیں تو!

اُسی کی طرح اُس سے روٹھ بیٹھوں
کچھ اس میں بھی قباحت ہے؟ نہیں تو!

جو آئینے میں میرے سامنے ہے
مری اُس سے شباہت ہے؟ نہیں تو!

میں کس مکڑی کا جالا بُن کے دیکھوں
اُسے میری ضرورت ہے؟ نہیں تو!

ابھی اپنا پتہ ملتا نہیں ہے
مری خود میں سکونت ہے؟ نہیں تو!

ظفرؔ ترکِ وفا جب کر چکے ہو
اب اس کے بعد فرصت ہے؟ نہیں تو!


کم مائیگی کا یونہی نہ صدمہ اُٹھائیے
قرضہ چکانے کے لئے قرضہ اُٹھائیے

اوروں کو تو تصیحتیں کرتے ہیں خوامخواہ
کچھ آپ بھی زحمتِ توبہ اُٹھائیے

شیطان کہہ رہا ہے کہ رمضاں گزر گیا
’’اب ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے‘‘

جاری رہیں گے آپ کے خراٹے کب تلک
جس تکئے پر ہے آپ کا تکیہ، اٹھائیے

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھیں جہان کو
بن کے تماشہ، لطفِ تماشہ اُٹھائیے

لکھنا نہیں تو ناڑا پاجامے میں ہی سہی
کس کام کا ہے آپ کا خامہ، اُٹھائیے

ہم کو دکھائیے نہ یونہی موڈ بے وجہ
گھر پر ہے نخرے والی تو نخرہ اُٹھائیے

جیسے اُٹھا وزارتِ عظمیٰ سے اک شریف
در سے نہ ہم کو اس طرح قبلہ اُٹھائیے

ہی آر ہے تو جانئیے شاعر عظیم ہے
مردہ اُٹھانے کی طرح مصرعہ اُٹھائیے


چار سو بیس تھا بچپن میں بھی
نرا لیڈر ہے وہ پچپن میں بھی

صرف میک اپ ہی کیا ہے یا پھر
دے کے منہ آئی ہے روغن میں بھی؟

جب بھی آئے سرِ دستِ بیگم
ایک پیغام ہے بیلن میں بھی

یہ سمجھ میں نہیں آتا، کیسے؟
لوگ جی لیتے ہیں پنشن میں بھی

مسکرا کر مجھے جب دیکھتی ہو
دُم ہلا دیتا ہوں فوراً میں بھی

صرف لوہار نہیں ہیں صاحب
ویسے سریا تو ہے گردن میں بھی

دور بینیں وہیں نظروں کی ہیں
کیوں جھلکتا ہے وہ چلمن میں بھی

جس کو کنفیوز بہت کہتے ہو
ڈال سکتا ہے وہ الجھن میں بھی

اب تغیر کوئی کیا آئے گا
کچرا کنڈی ہے الیکشن میں بھی

اب تو ہر چیز کمرشل ٹھہری
کیوں فلیور نہیں "منجن” میں بھی

مجھ کو خچر ہی سمجھ بیٹھا ہے
جھولے لینے لگا دھڑکن میں بھی

اب تو پھر اُس پہ شباب آیا ہے
وہ تو کافر تھا لڑکپن میں بھی


کہیں طیبہ سی جنت ہے؟ نہیں تو!
کوئی ایسی علامت ہے؟ نہیں تو!

قدم پڑتے ہیں اب تو کہکشاں پر
سفر میں ایسی راحت ہے؟ نہیں تو!

مدینے کی زیارت ہو میسر
تو کوئی اور حاجت ہے؟ نہیں تو!

نظر ہے سبز گنبد سے فروزاں
یہ خوابوں سی حقیقت ہے؟ نہیں تو!

اُسی کے ذکر کی سرشاریاں ہیں
بجز اس کے مسرت ہے؟ نہیں تو!

نظر جائے مدینے سے بھی آگے
روا ایسی بصارت ہے؟ نہیں تو!

پئے بوسہ ملے خاک مدینہ
پھر اس کے بعد حسرت ہے؟ نہیں تو!

ملے حسان کی تجھ کو وراثت
تری ایسی محبت ہے؟ نہیں تو!

خریداریِ راہِ عشق چاہے
ظفر نقدِ عبادت ہے؟ نہیں تو!


موسم نہیں چلتا تیری memory کے مطابق
ساون نے برسنا نہیں چھتری کے مطابق

ہر شادی شدہ کو یہ لقب ملتا ہے گھر سے
سو میں بھی نکھٹو سہی بیوی کے مطابق

ہر سو میری آوارہ مزاجی کے ہیں قصے
کالی کی زبانی کہیں گوری کے مطابق

آ جائے جو قانون کی جاسوس نظر میں
وہ زر کی دُھلائی نہیں دھوبی کے مطابق

فطرت نے تو فدوی کو مٹن خور بنایا
کھیسہ ہے مگر دال کے سبزی کے مطابق

لذت کی بھی قربانی پہ آمادہ نہیں ہے
تجسیم کی خواہش بھی ہے مولی کے مطابق

انصاف کی کہئیے کہ یہ انصاف کہاں ہے
جب مرغے کا درجہ نہ ہو کلغی کے مطابق

میدانِ سیاست میں تسلسل سے ہے جاری
دوڑیں سگِ آوارہ کی ہڈی کے مطابق

زیرہ نہیں دیتے ہیں ظفر اونٹ کے منہ میں
درکار سخاوت ہے سوالی کے مطابق


کہیں جذبِ محبت ہے؟ نہیں تو!
یہ پرسش بر فراست ہے؟ نہیں تو!

کرپشن تو ہے استحقاقِ لیڈر
امانت میں خیانت ہے؟ نہیں تو!

ہے اک کارِ مسلسل زن مریدی
کوئی وقفہء عدت ہے؟ نہیں تو!

ہنر گردانتے ہیں ڈھیٹ پن کو
کسی کو بھی ندامت ہے؟ نہیں تو!

ذرا بی لیلیٰ کے بابل سے پوچھو
محبت کی اجازت ہے؟ نہیں تو!

یہ ٹھمکے اور یہ تک دھن دھنا دھن
یہی اپنی ثقافت ہے؟ نہیں تو!

بہت لیڈر کی عظمت ناپتے ہیں
کچھ اُن کی اپنی وقعت ہے؟ نہیں تو!

بہت کہتے ہو کالے کاں کو چٹا
کوئی صعفِ بصارت ہے؟ نہیں تو!

وہ سننا چاہتے ہیں "دُر فٹے منہ”
خموشی میں وضاحت ہے؟ نہیں تو!

فقط دھوکے کا ہی ہے خوف کیسا!
یہ آئینِ سیاست ہے؟ نہیں تو!

دیا جائے جو ہر شادی شدہ کو
کوئی تمغہء جرات ہے؟ نہیں تو!

جسے تشکیک کا نہ عارضہ ہو
کوئی ایسی بھی عورت ہے؟ نہیں تو!

مرے معدے کی وسعت دیکھ کر بھی
ترے ہاں میری دعوت ہے؟ نہیں تو!

کوئی مدقوق اُس کو جان کہہ دے
یہ اندازِ شرارت ہے؟ نہیں تو!

تمھیں تھے جس نے جاں اُس کو کہا تھا
یہ بعد از عقد حسرت ہے؟ نہیں تو!

بہت گُن جس کے گاتے پھر رہے ہو
اُسے بھی شوقِ دھرپت ہے؟ نہیں تو!

ظفر تنقید میرا شغل ٹھہرا
پئے اصلاحِ خلقت ہے؟ نہیں تو!