اپنے گھر کو میں اگر بھول گیا
جانئے سمتِ سفر بھول گیا

یا تو دشوار تھا شب کا کٹنا
یا تمنائے سحر بھول گیا

حادثے ہوتے رہے پہلے بھی
میں ہی جینے کا ہنر بھول گیا

جانے والے کو خبر بھی نہ ہوئی
کوئی چوکھٹ پہ نظر بھول گیا

ہائے وہ عشق کہ جس میں خود کو
یاد رکھنا تھا مگر بھول گیا

پھر سمندر نے بلایا ہے مجھے
اور میں رنگِ بھنور بھول گیا

دور جھیلوں کی تمنا نہ گئی
اپنے ٹوٹے ہوئے پر بھول گیا

پھر اُسی دشمنِ جاں کا ہے خیال
زخمِ دل سوزِ جگر بھول گیا

کھا گیا کیسا دھندلکا مجھ کو
جانے کیا کیا میں ظفر بھول گیا