نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: 2016

شکر ہے اسکینڈلوں کے درمیاں ہے زندگی
خادمانِ قوم کے شایانِ شاں ہے ہے زندگی

چن چڑھایا ہی نہیں میری جوانی نے ابھی
تیر ہے لیکن ابھی تک بے کماں ہے زندگی

بیویوں کو دیکھئے تو تیز رو اور بے سٹاپ
شوہروں کو دیکھئے تو بے زباں ہے زندگی

اوّلیں فکرِ پلاٹ اور پھر غمِ تعمیر ہے
ہم غریبوں کے لئے خوابِ مکاں ہے زندگی

سندھ کا جیسے گورنر ہے میں ہوں ویسا ہی فٹ
میری قسمت میں مگرویسی کہاں ہے زندگی

اب سمجھدانی مری امریکنوں سی ہو گئی
میں کبوتر جانتا تھا اور "کاں” ہے زندگی

ہائے یہ سوزِ محبت اُف یہ دھندے دہر کے
میں ہوں پنڈی میں اگرچہ لودھراں ہے زندگی

عقد میں متھے لگا بیٹھے ہیں بی بی بیگماں
اور اب لگتا ہے کہ "مس کہکشاں” ہے زندگی

ہم بھی گزرے ہیں وہاں سے ایک دن چھٹی کے وقت
گرلز کالج جائیے تو بیکراں ہے زندگی

خیر ہے جو حُسن والے لفٹ دیتے ہی نہیں
"برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی”

نقل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا ظفر
ممتحن سر پر کھڑا ہے، امتحاں ہے زندگی


نعرہء حق کی صدا سسروں کو منظور نہیں
اور سسرال میں جڑ دوں تو قضا دور نہیں

حکمِ زوجہ ہے کہ جب حور کے پہلو میں ہے تو
غیر محرم ہے جو کلمونہی اُسے گھور نہیں

کوئی خاتون جو میک اپ کا نہ برقعہ پہنے
لوگ کہتے ہیں کہ چہرے پہ ذرا نور نہیں

چہچہا سکتے نہیں جا کے حسیناؤں میں
پھر بھی دعویٰ ہے کہ شوہر ہیں وہ محصور نہیں

کیوں ترا ویر جماتا ہے تڑی آ آ کر
یہ مرا پنڈی ہے کوئی ترا پسرور نہیں

کوئے لیلیٰ میں یوں مجنوں کا تماشہ نہ بنا
یہ کسی شاخ سے لٹکا ہوا لنگور نہیں

ووٹ دیتے ہوئے میں تھوڑے تلک جاتا ہوں
"میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں”

رم خوردی کا بھی طعنہ ہے مرے سر لیکن
میرے حصے میں کوئی آتشِ مخمور نہیں

ایسے ویسے ہی سدا کام کیوں کرتے ہیں ظفر
ایسا ویسا کسی لیڈر کا تو منشور نہیں


اُس کے کوچے میں دندنایا جا سکتا ہے
آیا جا سکتا ہے جایا جا سکتا ہے

جو ایوانوں میں ہوتا ہے، دیکھ کے اُن کو
کانوں کو بھی ہاتھ لگایا جا سکتا ہے

انساں اپنی آئی پر بھی آ سکتے ہیں
شیطانوں کا ہاتھ بٹایا جا سکتا ہے

لیڈر کی دُم ٹیڑھی ہے تو ٹیڑھی رہے گی
یوں تو ڈنگر کو بھی سدھایا جا سکتا ہے

نارنجی ہے ٹرین یا کالی۔۔۔۔۔ اوکے ہے
بندہ اس پر اگر ملایا جا سکتا ہے

یہ جو دل کی آتش ہے ، کچھ کام کی بھی ہے؟
اس سے سگریٹ تو سلگایا جا سکتا ہے؟؟

پکڑے جاؤ تو پھر شور مچادو خود بھی
چور و مور کا فرق مٹایا جا سکتا ہے

وقت پڑے تو الٹی جمپ لگا لیتا ہے
لیڈر بندر بھی کہلایا جا سکتا ہے

اپنی تدبیروں پر خوب بجا لو بغلیں
لیکن کوئی پلٹ کے کایا جا سکتا ہے

دیکھ لے آدھی رات کو پکے راگ سنا کر
تھانے خود تیرا ماں جایا جا سکتا ہے

حُسن کے جھرمٹ میں ہو تو ٹلنا ناممکن
ہاں تائی آئے تو تایا جا سکتا ہے


عقد کا وقوعہ تھا ایک خواب کی طرح
زندگی میں ڈال دی اضطراب کی طرح

آگے سے گزر سکیں کیا چرا کے ہم نظر
وہ نظر ہے شعبہء احتساب کی طرح

جانتا ہے وہ ہمیں اک بٹیر دوستو
جس کا بھائی جان ہے اک عقاب کی طرح

اپنی سیٹ پر کھڑا کر دیا ہے پوت کو
اور سمجھتا ہے اسے انقلاب کی طرح

ایسے ڈیم فول پر چپ کا ڈیم کیوں نہیں
وہ جو بہتا جا رہا ہے چناب کی طرح

میرے پہلو میں تجھے دیکھتے ہی جل گیا
دل کسی کا ہو گیا پھر کباب کی طرح

عشق خبط بھر گیا، عقد کونڈا کر گیا
اِک سوال کی طرح ، اک جواب کی طرح

بدنصیبی سے مری، وہ بلیک بیلٹ تھی
جو نزاکتوں میں تھی کچھ گلاب کی طرح

میتھ کی کتاب ہے ازدواجی زندگی
عشق تو ہے سرسری، انتساب کی طرح

ووٹروں میں لیڈروں میں ہے فرق تو یہی
یہ ہیں گائے کی طرح وہ قصاب کی طرح

مفتیوں سے پوچھئے حد لگے گی یا نہیں
پی رہے ہیں چائے بھی ہم شراب کی طرح

وہ جو گھر جوائی کے عہدے پرازل سے ہے
اُس کی فرصتیں بھی ہیں میری جاب کی طرح


اُس کی یادوں میں دفنایا جا سکتا ہے
خود کو ایک مزار بنایا جا سکتا ہے

دل میں کسی کا پیار بسا رکھا ہے ہم نے
رحل میں جوں قران سجایا جا سکتا ہے

تیرہ شبی کی بیخ کنی ناممکن بھی ہو
کم از کم اک دیا جلایا جا سکتا ہے

لوگ اگر تسخیر نہ ہو پائیں تو کیا ہے
قلعے پہ جھنڈا تو لہرایا جا سکتا ہے

جو بیدار ہیں اُن کو ہوش میں لائیں کیسے؟
جو سوتے ہیں اُنہیں جگایا جا سکتا ہے

دل کی گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے اکثر
اپنے آپ کو بھی الجھایا جا سکتا ہے

مشتِ خاک سہی پر اپنے حق کی خاطر
طوفانوں سے بھی ٹکرایا جا سکتا ہے

آنکلا ہے جنگل کو اک بھوت ہوس کا
لے کر ہر اک پیڑ کا سایہ جا سکتا ہے

دل کی بے رنگی کا افسانہ کہہ سُن کر
محفل میں اک رنگ جمایا جا سکتا ہے