نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: گلکاریاں

گُلکاریاں انٹرنیشنل اُردو اَدبی فورم کے تحت61 ویں انٹرنیشنل ہفتہ وارفی البدیہہ طرحئی مُشاعرے بروز ھفتہ، 8 فروری 2014 میں پیش کی گئی میری غزل کے چند اشعار

کسی نے ماری تھیں منہ پر صداقتیں کیسی
اور اب وہ جھاڑ رہا ہے وضاحتیں کیسی

رہی ہے دعوتِ دیدار جن کی زیبائش
وہ کر رہے ہیں مرے گھر شکایتیں کیسی

تمہارے کتے کی بے مہریوں سے ظاہر ہے
تمہارے کوچے میں ہوں گی مدارتیں کیسی

یوں کی گئی ہے دھنائی کہ ایک مدت سے
"خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی”

جو برہنہ نہ کرے آرٹ ہو نہیں سکتا
سمائیں جامے میں تو پھر ثقافتیں کیسی

گڑھے میں لے کے چلیں احمقانِ عالم کو
ملی ہیں اہلِ وطن کو قیادتیں کیسی

وہ نام لیتے ہیں اک رات کے پرندے کا
دکھائی دیتی ہیں ہم میں شباہتیں کیسی

سبق نہ سیکھا کبھی ازدواجی شہداء سے
ہیں رحمتوں کے تعاقب میں تعمتیں کیسی

یُوں بے مہار چلا اُسترا محبت کا
ہوئی ہیں وقت کے ہاتھوں حجامتیں کیسی


گُلکاریاں انٹر نیشنل اُردو اَدبی فورم کے تحت58 ویں انٹرنیشنل ہفتہ وارفی البدیہہ طرحئی مُشاعرے بتاریخ 04 جنوری 2014 میں کہی گئی غزل

زندگانی میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا
یہ جو غیروں کا ہے کاکا یہ ہمارا ہوتا

منہ کے بل گرتی نہ تقدیر الجھ کر میری
اُس نے زلفوں کو سلیقے سے سنوارا ہوتا

ایک شوہر ہوں اسی واسطے بیچارہ ہوں
بیل ہوتا تو مرے سامنے چارا ہوتا

تیرا کتا ہی مرے پیچھے لگا ہے ناحق
تیری جانب سے بھی تو کوئی اشارا ہوتا

وہ تو قسمت نے ہی اوقات میں رکھا ورنہ
کسی لیڈر کی طرح ملک ڈکارا ہوتا

جان کڈھ لی ہے بچارے کی غمِ لیلٰی نے
قیس چھوہارا نہیں آلو بخارا ہوتا

ویگنوں میں ترا عاشق تو نہ رُلتا پھرتا
جتنا نزدیک ہے کلیام‘ ہزارا ہوتا

یوں تو عیاشی میسر ہے زمانے بھر کی
پھر بھی اپنی وہی حسرت کہ گزارا ہوتا

ڈی وی ڈی کوئی مزیدار سی دے کر جاتے
"کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا”

بھوت لاتوں کے نہ مانیں گے کبھی باتوں سے
لے کے ڈنڈا کوئی ہاتھوں میں سدھارا ہوتا

باز آتی نہیں فیشن سے خواتین ظفر
جینز کی پینٹ نہ ہوتی تو غرارا ہوتا


گُلکاریاں انٹر نیشنل اُردو اَدبی فورم کے تحت ہونے والے 57 ویں انٹرنیشنل ہفتہ وارفی البدیہہ طرحٰی مُشاعرے بتاریخ ۲۱ دسمبر ۲۰۱۳ کے لئے میری کاوش

تم بھی دیکھو بیویوں کا سُوئے شوہر دیکھنا
جیسے قُربانی کی خاطر ڈھور ڈنگر دیکھنا

گُل رُخوں نے کھیڑا چھڈنا ہی نہیں عشاق کا
آج بھی پورس کے پیچھے ہے سکندر دیکھنا

ہندسہ ہم کو بنا کر رکھ دیا ہے چار کا
پاؤں پھیلانے سے پہلے اپنی چادر دیکھنا

ہائے کس اندار کے معیار ہیں اپنے یہاں
کون کس کو لگ رہا ہے کیسے سوبر دیکھنا

انقلاب اور منترِ جمہوریت سے ۔۔۔۔ ہاہاہا
آپ یہ سرسوں ہتھیلی پر جما کر دیکھنا

کس کی مضبوطی نے دے رکھی ہیں اُس کو پھرتیاں
جھولتا ہے کون سی ٹہنی سے بندر دیکھنا

نعمتِ باری کی ناشکری نہیں دعوت میں کیا؟
ضعف معدہ دیکھنا یا اپنی شوگر دیکھنا

یاد کرنا کیسے اوروں کی اُڑائی تھی ہنسی
آئینے کے سامنے جب کوئی جوکر دیکھنا

عشق سسٹر نرس کا طرفہ تماشہ ہے ظفر
اُس کا دلبر جان بھی کہتا ہے سسٹر دیکھنا


گُلکاریاں ادبی فورم کے 48 ویں طرحی فی البدیہہ
مشاعرہ 05 اکتوبر 2013 کے لئے میری کاوش

بھرم توڑا نہیں کرتے
سنو ایسا نہیں کرتے

اگر پورا نہ کر پاؤ
تو پھر وعدہ نہیں کرتے

جلا نہ دہوپ میں ہم کو
اگر سایہ نہیں کرتے

جو شبنم سے سلگ اٹھے
اُسے شعلہ نہیں کرتے

اُنہیں جس دل میں رکھا ہے
اُسے میلا نہیں کرتے

یہ کن راہوں پہ آ نکلے
شجر سایہ نہیں کرتے

وہ جن کو جینا آ جائے
غمِ رفتہ نہیں کرتے

ظفر ہے فیصلہ دل کا
بہت سوچا نہیں کرتے


فیس بُک پر گُلکاریاؔں کے 40ویں ھفتہ وارطرحی مشاعرے میں مورخہ 10 اگست 2013 کو کہے گئے اشعار کا انتخاب

چلے ہیں کوہِ مری یا کلر کہار چلے؟
یہ آپ لوگ بنا کر کہاں قطار چلے؟

سفر ہے عشق کا لیکن اِس اہتمام کے ساتھ
جنابِ قیس چلیں آر لیلٰی پار چلے

سبھی نے ہاتھ کئے صاف بہتی گنگا میں
فقط ہمیں ہیں کہ جن پر خدا کی مار چلے

اُٹھا کے لے گئے مالی کے تم سبھی اوزار
‘‘چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘

ہمیں تو اپنی ہی ٹانگوں پہ ہے لدے رہنا
اُنہیں کی کار چلے جن کا کاروبار چلے

تری گلی میں یہ عشاق کس کی گھات میں ہیں
یہ کون لوگ ہیں’ کرنے کو کیا شکار چلے

ترے خیال سے اب بھی ہیں نسبتیں مجھ کو
تری دکان سے اب بھی مرا ادھار چلے

لگائے پھرتے ہیں آگے یوں تیری یادوں کو
گدھوں کو ہانکتے جیسے کہیں کمہار چلے

نماز پڑھنا بھی دشوار ہو گا روز بروز
خدا کے گھر سے اگر ننگے پاؤں یار چلے

مجھے نہ ہونے دیا کامیابِ ِعشق ظفر
مرے رقیب مری عاقبت سنوار چلے


”گُلکاریاؔں” 4 مئی 2013 بروز ھفتہ،  27 ویں ھفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعر ے میں کہے گئےچند اشعار

آپ کو آپ کی الفت نہیں ملنے والی
گویا کہ خلعتِ شامت نہیں ملنے والی

اپنی مرضی کا بناتے رہو "دی اینڈ” مگر
ہر فسانے کو حقیقت نہیں ملنے والی

آج کاکی نے وہ جھاڑی ہے "کراٹے لتی”
اور کاکے کی شکایت نہیں ملنے والی

جب رقیبوں نے کہیں گھیر لیا رستے میں
اپنی صورت سے بھی صورت نہیں ملنے والی

کلجگِ نو میں ہیں ہر طور سے مرنے کے مزے
پھر کبھی ایسی سہولت نہیں ملنے والی

آنسہ ہیر کے ویروں نے وہ کُٹ دینی ہے
میاں مجنوں کو جراحت نہیں ملنے والی

عقد کا پھل جو چکھو گے تو سزا بھگتو گے
اس میں پہلے سے قباحت نہیں ملنے والی

یوں فصیحہ کی فصاحت کے جو چکر میں رہے
تو ملیحہ کی ملاحت نہیں ملنے والی

تیری بیوی کو ہو چوہے سے زیادہ ترا ڈر
اس قدر دادِ شجاعت نہیں ملنے والی

ووٹ دے کر تجھے سرزد بھی ہو سکتی ہے
جرم ایسا کہ ضمانت نہیں ملنے والی

ایسے لیڈر کے بھی حصے میں ہیں احمق کہ جسے
ووٹ ملنے ہیں ہدایت نہیں ملنے والی


گُلکاریاں کےھفتہ وار طرحی فی البد یہہ مشاعرہ بتاریخ 9 مارچ 2013 میں کہی گئی غزل کے چند اشعار

کسی کو کوئی مرض بھی کبھی فنا نہ کرے
دعا کرو کہ کوئی ڈاکٹر دوا نہ کرے

ملے رقیب کو ٹھینگا تمہاری محفل سے
تُو میرے بعد بھی زندہ رہے’ خدا نہ کرے

میں کھینچتا رہوں ٹانگیں ہر ایرے غیرے کی
یہ چاہتا ہوں کہ مجھ سے کوئی بُرا نہ کرے

سمارٹ ہونے کے ان ٹوٹکوں سے کیا حاصل
اگر وہ کم کسی صورت کبھی غذا نہ کرے

تم آؤ گے تو چراغاں کریں گے ہم گھر میں
آئی ایسکو کیدو کا کردار جو ادا نہ کرے

تری وفاؤں کی ویگن کو دیکھتا ہی رہوں
مرے قریب سے گزرے تو آسرا نہ کرے

مجھے لگانی نہ پڑ جائے ہر دفعہ دُڑکی
تمہارا کتا ہمیشہ مجھے ملا نہ کرے

تُو مارتی چلی جاتی ہے اُس کو مس کالیں
تو کیا کرے ترا عاشق اگر خطا نہ کرے

میں ووٹروں کی طرح تیری پھرتیاں دیکھوں
تو لیڈروں کی طرح میرا سامنا نہ کرے

وہ چٹکیاں یونہی بھرتا رہے زمانے کو
ظفر کی بات کسی کو مگر چبھا نہ کرے