نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: پیروڈی

(شباب کیرانوی مرحوم کی ایک معروف غزل کی پیروڈی )

اللہ تری شان یہ اپنوں کی ادا ہے
ہوٹل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

مرنا ہی مقدر ہے تو شادی کی سزا کیوں؟
کس جرم کی نادان سزا کاٹ رہا ہے

ہر چند کہ اک قصہء تازہ ہے مری ساس
بوتھے پہ مگر آج ہی چانٹا سا پڑا ہے

دھننے کی ہے ترکیب لبِ نہر بُلا کر
سالا یہ سمجھتا ہے وہی جیسے خدا ہے

اس طرح تو سسرال بھی ٹھینگے پہ دھرے گا
چہرے سے ہی مسکین نظر آنے لگا ہے

کہتے ہو جسے دوست بچو اُس کے کرم سے
ہر روز نیا قرض وہ ٹھگنے پہ تُلا ہے

آداب بجا لاتے تھے ہم مل کے‘ ہوا کیا؟
کیوں موڈ ترے ویر کا امریکا بنا ہے

Advertisements

(علامہ اقبال کی شہرۀ آفاق نظم ” ایک پہاڑ اور گلہری “ کی پیروڈی)

کوئی گنوار یہ کہتا تھا اِک سپاہی سے
تجھے ہو شرم تو یوں نہ اکڑ کے بات کرے

ذرا سا عہدہ ہے اِس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا

خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھا
تو کیا سمجھ کے مجھے بدتمیز بن بیٹھا

تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
تجھ ایسے باندھ کے رکھتا ہوں تھان کے آگے

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو بھلا نصیب کہاں
میں چوہدری کہاں ، تو عام سا غریب کہاں

کہا یہ سن کے سپاہی نے منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے اِنہیں نکال ذرا

میں چوہدری نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو مجھ جیسا بادشاہ بندہ

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
جو میں پلس میں ہوں تو یہ بھی اُس کی حکمت ہے

بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے
مجھے بھی تجھ سے نمٹنا سکھا دیا اُس نے

قدم اُٹھانے کی ہمت نہیں ذرا تجھ میں
جو میں نہ چاہوں تو جرات نہیں ذرا تجھ میں

یوں اپنی مونچھ کے کنڈل سے نہ ڈرا مجھ کو
اِس اپنے چھکڑے کا لیسینس تو دکھا مجھ کو

اگر نہیں ہے تو کر چھیتی مک مکانے میں
کوئی بڑا نہیں رہتا ہے ورنہ تھانے میں


(صوفی غلام مصطفٰی تبسم کی غزل کی پیروڈی )

وہ مجھ سے ہوئے ہمکلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں ٹنڈو جام اللہ اللہ

یہ بچوں کی چوں چوں ‘ یہ بیگم کی چاں چاں
یہ ہنگامۀ صبح و شام اللہ اللہ

یہ حلوے کی تابانیوں کا تسلسل
یہ ذوقِ شکم کا دوام اللہ اللہ

وہ جھینپا ہوا اِک میاں کا تبسم
وہ گھر میں کسی کے دھڑام اللہ اللہ

مرا گھر ‘ مری سیلری مختصر سی
وہ سسرال کا اژدھام اللہ اللہ

وہ بزمِ سخن میں ٹماٹر کی بارش
ظفر کا وہ لطفِ کلام اللہ اللہ


(مرحوم قتیل شفائی کی غزل کی پیروڈی)

اپنے نوٹوں کی ہواؤں میں ا ُڑا لے مجھ کو
میں ہوں لوٹا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں محرر ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں جو افسر ہوں تو پپا سے ملا لے مجھ کو

میں کھلی بوری میں رکھا ہوا گُڑ ہوں پیارے
پاؤ دو پاؤ کبھی تو بھی منگا لے مجھ کو

ایک دو نوٹ ادا کر کبھی میری خاطر
تُو کبھی کال تو کر بھولنے وا لے مجھ کو

مجھ سے تُو پوچھ رہا ہے کہ کرپشن کیا ہے
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈا لے مجھ کو

تُو نے دیکھا نہ کبھی توند سے آگے کچھ بھی
ڈرتا رہتا ہوں کسی روز نہ کھا لے مجھ کو

لاکھ دو لاکھ ہیں کیا بینک ہی کھا جاؤں ظفرؔ
شرط یہ ہے کوئی تھانے سے بچا لے مجھ کو


(ذیل کے اشعار کا ہر دوسرا مصرع سعید قیس کی غزلیات سے اغوا کیا گیا ہے)

اُن کی دو پسلیوں کی بات کریں
"حُسن کے ذاویوں کی بات کریں”

لوڈ شیڈنگ ہے کس کی نیت میں
"روشنی کو پتہ نہیں ہوتا”

پھر الیکشن کے ترانے سائیں
"پھر وہی روگ پرانے سائیں”

لوڈ شیڈنگ کے زمانے میں تو گپ لگتی ہے
"روشنی مجھ کو بلانے مرے گھر تک آئی”

کسے گمان ہے سسرالیوں کے بارے میں
"نہ جانے کب کوئی کس راستے سے آ جائے”

بتائیں خودکشانِ حسن ہم کو
"ہمارے جسم کا ملبہ کہاں ہے”

جس کو مس کرتا ہوں اُس مس کی ہے
"ایک تصویر مرے بستے میں”

پچھلی پھینٹی کس کے دھیان میں رہتی ہے
"اک خواہش تو ہر انسان میں رہتی ہے”

یہ جان سکتے نہیں بیسویں گریڈڈ بھی
"فقیر جس قدر آسودگی سے جیتے ہیں”

یونہی منہ پھاڑنے سے کیا حاصل
"کوئی پوچھے تو ہم بتائیں بھی”

اُس کی تاڑ میں منہ کیا کھلا کہ فورا” موقع پا کر
"اک دروازہ میرے دل کے اندر آن کھلا تھا”

اپنا چشمہ تو کھو چکا ہے ظفرؔ
"کس کی آنکھوں سے خواب دیکھیں ہم”


(پروین شاکر مرحومہ کی غزل کی پیروڈی )

ٹوٹے کسی کی نیند ، مگر تم کو اِس سے کیا
کرتے رہو خراٹے نشر ، تم کو اِس سے کیا

تم روز روز سینڈل بکف گھومتی رہو
پھٹ جائے میرے یار کا سر ، تم کو اِس سے کیا

تم کو مری سوات کی سیروں سے ہے غرض
پنڈی میں جی نہ پائے بشر ، تم کو اِس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، مجھے ٹھینگے پر دھرو
میں چوز کر لوں کوئی سسر ، تم کو اِس سے کیا

تم نے تو بیڈروم میں اے سی لگا لئے
چٹخے ہماری ٹنڈ ظفر ، تم کو اِس سے کیا


چلو اِک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

تو انٹرنیٹ کھولے اور چیٹنگ روم جا پہنچے
کسی رومانوی چینل پہ ہوں میں منتظر تیرا
بڑے ہی مان سے تجھ سے میں پوچھوں تیرا اے ایس ایل
تو لکھے سترہ برسوں کی ، وطن انگلینڈ ہے میرا

میں لکھوں بیس کا سن ہے ، میں ٹورانٹو میں بیٹھا ہوں
یہیں اِک اشتہاری کمپنی میں جاب ہے میری
تو لکھے میں نمانی ہوں ، ادب سے شغل رکھتی ہوں
میں لکھوں ہائے اُف اللہ ، تہی تو خواب ہے میری

تو لکھے کیٹس اور ٹیگور پر میں جان دیتی ہوں
میں لکھوں کون ہیں یہ جو رقابت پر ہیں آمادہ
تو لکھے آنجہانی ہیں ، بڑے معروف شاعر تھے
میں لکھوں پارڈن می ، کیا سمجھ بیٹھا تھا میں سادہ

بہت سی ہم میں باتیں ہوں ، بہت سی فقرہ بازی ہو
بہت سے جھوٹے افسانے کہیں اِک دوسرے سے ہم
یوں اِک دوجے میں کھو جائیں ، بھلا دیں ساری دنیا کو
بھلا دیں وقت کی ظالم حقیقت کو سرے سے ہم

بھلا دیں وقت کو ایسے ، خبر نہ ہو سکے یکسر
یونیورسٹی سے بیٹا اور بیٹی لوٹ آئے ہیں
تو اُن کی کھلکھلاہٹ سن کے سی پی یو کو شٹ کر دے
اُنہیں معلوم ہے ماں باپ نے جو گل کھلائے ہیں

ہمیں وہ لیلیٰ مجنوں کہہ کے چھیڑیں اور ہم بوڑھے
بہت جھینپیں ، جوانوں سے بہت شرمائیں ہم دونوں
مگر جب اگلا دن آئے ، یہی تم سے ہو فرمائش
چلو اِک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں