نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: نعت

آنکھیں بہر کوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم
دل ہےاک سادھوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

ایماں کی ہر فصلِ بہاراں، ایک اُنہیں کی منتِ احساں
عالم عالم بوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جن نظروں نے دیکھا اُن کو، پایا نور کا چشمہ اُن کو
روشن ہر پہلوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کی دعاؤں کا اِک محور، امت امت اور بس امت
اِس کے لئے آنسوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کا نور مسلح کر دے، تو ٹکراؤں ہر ظلمت سے
بن جاؤں جگنوئے محمد صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کی محبت سب کے لئے ہے، لطف و عنائت سب کے لئے ہے
سب کی خاطر جوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جو راہوں میں خار بچھاتے اُن پر بھی شفقت فرماتے
اللہ اللہ خوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

شعر و سخن کا سارا ورثہ، صدقہ ہے حسان کے در کا
ایک سفر ہے سوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جب بھی نعت میں لکھنے بیٹھوں تو لگتا ہے ظفرؔ مجھے یوں
جیسے ہوں میں روئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

Advertisements

صورتِ قرآں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)
ذیست کا عنواں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس ماہتاب جبیں کے آگے، جان و مال نہیں ہے کچھ بھی
خوب از خوباں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

رب تک اُس نے پہنچایاہے، حق کا رستہ دکھلایا ہے
حق کی پہچاں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کے رستے کاہکشاں سے، نقشِ قدم ہیں چاند ستارے
منزلِ عرفاں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

ماضی اُس کے فکر سے سینچا، مستقبل کا وہی دریچہ
محورِ دوراں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

رشد و ہدایت کی خاطر لاکھوں ہی پیغمبر آئے ہیں
سب میں نمایاں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اسوۂ حسنہ کے پھولوں کو ہر دم تازہ تردیکھا ہے
مشک بداماں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

کس نے سدرہ کی منزل کو پار کیا ہے خنداں خنداں
رب کے مہماں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

ہر لمحہ ضوبار اُسی سے، نور کی اِک یلغار اُسی سے
خاکی انساں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کے رنگ و بو کا کرم ہے، گلشنِ ہستی رشکِ ارم ہے
عکسِ بہاراں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کا نام لبوں پر آئے، تو جیسے دل کھل کھل جائے
درد کا درماں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کا دامن ہاتھ میں ہو تو عصیاں کے گرداب سے نکلے
بہرِ پشیماں، کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)


رنگِ مدینہ ڈھونڈ!
ضامنِ عقبیٰ ڈھونڈ

دل کے قطرے میں
عشق کا دجلہ ڈھونڈ!

عالم وہم کدہ ہے
ایک حوالہ ڈھونڈ

تابہ حشر چلے گا
اُن کا سکہ ڈھونڈ

ذکرِ خواجہ پر
وقت کا بوسہ ڈھونڈ

کاہکشاں بن جائے
ایسا جادہ ڈھونڈ

ہر دوراہے پر
اُن کا رستہ ڈھونڈ

ظلمت کیوں نگلے
نور کا ہالہ ڈھونڈ

جس بھی دور میں جی
اسوۂ حسنہ ڈھونڈ!

دیرینہ تابش سے
جذبِ تازہ ڈھونڈ

اوج ملا تھا جس سے
پھر وہ نسخہ ڈھونڈ


روشن ہے کہکشاں کی طرح میری ذات آج
ہر پل سے چھن کے آنے لگی جیسے نعت آج

دل میں پروئے جاتا ہوں موتی میں ذکر کے
لو دے رہا ہے روح میں رنگِ حیات آج

ہے اسوۂ رسولﷺ کا آئینہ سامنے
کھولی ہوئی ہے میں نے قراں کی لغات آج

حل ہو گیا ہوں ذکر و درودو سلام میں
مجھ سے سوا کہیں ہے مری کائنات آج

میلاد کی مہک سے معطر ہیں شش جہت
بادِ نسیم جیسی مری بات بات آج

یادِ نبی ﷺہے اور عجب کیفیت میں ہوں
جیسے گزر رہی ہو مدینے میں رات آج

کافی ہے عمر بھر کی کفالت کے واسطے
درکار ہے بس ایک نظر کی زکواۃ آج

جو فیض یاب مکتبِ عشقِ نبیﷺ سے ہو
پا لے گا یہ زمانہ نظامِ ثبات آج


دل میں سرکار کے اذکار سے خوشبو آئی
کس قدر نطق سے گفتار سے خوشبو آئی

ہر زمانہ تھا کسی غارِ حرا سا تیرہ
اِک اُسی منبع ضوبار سے خوشبو آئی

کیوں مہکتے نہ نقاط ہائے مکان و لا مکاں
جب خوئے ریشمیں پرکار سے خوشبو آئی

جس محبت سے بنایا ہے خدا نے ہم کو
اُسی تہذیب کی کردار سے خوشبو آئی

بزمِ کونین سجائی گئی اُن کی خاطر!
ایک گل کی سبھی گلزار سے خوشبو آئی

تقشۂ طالع پہ رکھا جو رہ بطحا کو
ہر ڈگر قریۂ انوار سے خوشبو آئی

اسوۂ حسنہ سے ہر رستہ سمن بار ہوا
ذیست کی وادیٔ پُرخار سے خوشبو آئی

تحفۂ موسمِِ گل ہے اُسی دامن کی عطا
جس کے ہر روپ کے اثمار سے خوشبو آئی

لبِ اظہار نے چھڑکا ہے ظفرؔ عطرِدرود
سو بہر سودرودیوار سے خوشبو آئی


کبھی کبھی تو بہت آتا ہے مدینہ یاد
نفس نفس میں بپا ہونے لگتا ہے میلاد

درودِ پاک سدا سے ہے نغمہ دھڑکن کا
کہاں رہا ہے کبھی عشق منتِ اعداد

وہ ساعتیں جو ترے ذکر کے نمو میں ہیں
اُنہیں سے عمر کے ویرانے ہو گئے آباد

صراطِ اسوۂ حسنہ ہے کہکشاں کی طرح
گریز پائی نے کر دی ہے خاک ہی برباد

کیا وہی ہے جو قران میں ہے لکھا ہوا
کہا وہی ہے جو مولائے کل کا ہے ارشاد

ترے پیام سے تزئینِ گلشنِ ہستی
ترے جمال سے فصلِ بہار کی بنیاد

لکھی ہے تونے ہی تاریخِ اوجِ انسانی
شبِ معراج سبھی مہر و مہ رہے اِشہاد

ترا ہی نور رہے گا ازل سے تا بہ ابد
کوئی چراغِ نبوت نہیں ہے تیرے بعد

مدد مدد کہ ترے نام لیوا ہیں معتوب
سرینگر ہو کہ روہنگیا ہو یا بغداد


تاحشرمعلم ہیں کہ جو اُمّی لقب ہیں
وہ علم کا عرفان ہیں وہ گنجِ ادب ہیں

یہ موجِ لہو کیا مجھے زنجیر کرے گی
وہ میرا حوالہ ہیں مرا نام و نسب ہیں

اژدر کبھی ظلمت کا نگھل سکتا نہیں ہے
اُس نام کے انجم جو سرِ عرصۂ شب ہیں

اُس اسم کی لذت ہے کہ بشاشتِ جاں ہے
اُس ذکر کے تمغے ہیں کہ زیبائشِ لب ہیں

یہ سلسلۂ عشقِ محمد ہے خدائی
ہم اُن کے پرستار ہیں جو الفتِ رب ہیں

وہ دل ہیں دمیدہ کہ ہیں وابستۂ طیبہ
وہ آنکھیں سلامت ہیں کہ دیدار طلب ہیں

ہر دور کے دامن کو معظر کئے رکھا
وہ ایسے گُلِ تر سرِ صحرائے عرب ہیں

ان خشک زمینوں پہ پڑے ابرِ شفاعت
یہ اشکِ ندامت مری بخشش کا سبب ہیں

امریکنوں سے کیسی ہے امید۔۔۔ ظفر ؔجی
یہ دشمنِ دیں آپ کے پہلے تھے نہ اب ہیں