نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: نعت

رنگِ مدینہ ڈھونڈ!
ضامنِ عقبیٰ ڈھونڈ

دل کے قطرے میں
عشق کا دجلہ ڈھونڈ!

عالم وہم کدہ ہے
ایک حوالہ ڈھونڈ

تابہ حشر چلے گا
اُن کا سکہ ڈھونڈ

ذکرِ خواجہ پر
وقت کا بوسہ ڈھونڈ

کاہکشاں بن جائے
ایسا جادہ ڈھونڈ

ہر دوراہے پر
اُن کا رستہ ڈھونڈ

ظلمت کیوں نگلے
نور کا ہالہ ڈھونڈ

جس بھی دور میں جی
اسوۂ حسنہ ڈھونڈ!

دیرینہ تابش سے
جذبِ تازہ ڈھونڈ

اوج ملا تھا جس سے
پھر وہ نسخہ ڈھونڈ

Advertisements


روشن ہے کہکشاں کی طرح میری ذات آج
ہر پل سے چھن کے آنے لگی جیسے نعت آج

دل میں پروئے جاتا ہوں موتی میں ذکر کے
لو دے رہا ہے روح میں رنگِ حیات آج

ہے اسوۂ رسولﷺ کا آئینہ سامنے
کھولی ہوئی ہے میں نے قراں کی لغات آج

حل ہو گیا ہوں ذکر و درودو سلام میں
مجھ سے سوا کہیں ہے مری کائنات آج

میلاد کی مہک سے معطر ہیں شش جہت
بادِ نسیم جیسی مری بات بات آج

یادِ نبی ﷺہے اور عجب کیفیت میں ہوں
جیسے گزر رہی ہو مدینے میں رات آج

کافی ہے عمر بھر کی کفالت کے واسطے
درکار ہے بس ایک نظر کی زکواۃ آج

جو فیض یاب مکتبِ عشقِ نبیﷺ سے ہو
پا لے گا یہ زمانہ نظامِ ثبات آج


دل میں سرکار کے اذکار سے خوشبو آئی
کس قدر نطق سے گفتار سے خوشبو آئی

ہر زمانہ تھا کسی غارِ حرا سا تیرہ
اِک اُسی منبع ضوبار سے خوشبو آئی

کیوں مہکتے نہ نقاط ہائے مکان و لا مکاں
جب خوئے ریشمیں پرکار سے خوشبو آئی

جس محبت سے بنایا ہے خدا نے ہم کو
اُسی تہذیب کی کردار سے خوشبو آئی

بزمِ کونین سجائی گئی اُن کی خاطر!
ایک گل کی سبھی گلزار سے خوشبو آئی

تقشۂ طالع پہ رکھا جو رہ بطحا کو
ہر ڈگر قریۂ انوار سے خوشبو آئی

اسوۂ حسنہ سے ہر رستہ سمن بار ہوا
ذیست کی وادیٔ پُرخار سے خوشبو آئی

تحفۂ موسمِِ گل ہے اُسی دامن کی عطا
جس کے ہر روپ کے اثمار سے خوشبو آئی

لبِ اظہار نے چھڑکا ہے ظفرؔ عطرِدرود
سو بہر سودرودیوار سے خوشبو آئی


کبھی کبھی تو بہت آتا ہے مدینہ یاد
نفس نفس میں بپا ہونے لگتا ہے میلاد

درودِ پاک سدا سے ہے نغمہ دھڑکن کا
کہاں رہا ہے کبھی عشق منتِ اعداد

وہ ساعتیں جو ترے ذکر کے نمو میں ہیں
اُنہیں سے عمر کے ویرانے ہو گئے آباد

صراطِ اسوۂ حسنہ ہے کہکشاں کی طرح
گریز پائی نے کر دی ہے خاک ہی برباد

کیا وہی ہے جو قران میں ہے لکھا ہوا
کہا وہی ہے جو مولائے کل کا ہے ارشاد

ترے پیام سے تزئینِ گلشنِ ہستی
ترے جمال سے فصلِ بہار کی بنیاد

لکھی ہے تونے ہی تاریخِ اوجِ انسانی
شبِ معراج سبھی مہر و مہ رہے اِشہاد

ترا ہی نور رہے گا ازل سے تا بہ ابد
کوئی چراغِ نبوت نہیں ہے تیرے بعد

مدد مدد کہ ترے نام لیوا ہیں معتوب
سرینگر ہو کہ روہنگیا ہو یا بغداد


تاحشرمعلم ہیں کہ جو اُمّی لقب ہیں
وہ علم کا عرفان ہیں وہ گنجِ ادب ہیں

یہ موجِ لہو کیا مجھے زنجیر کرے گی
وہ میرا حوالہ ہیں مرا نام و نسب ہیں

اژدر کبھی ظلمت کا نگھل سکتا نہیں ہے
اُس نام کے انجم جو سرِ عرصۂ شب ہیں

اُس اسم کی لذت ہے کہ بشاشتِ جاں ہے
اُس ذکر کے تمغے ہیں کہ زیبائشِ لب ہیں

یہ سلسلۂ عشقِ محمد ہے خدائی
ہم اُن کے پرستار ہیں جو الفتِ رب ہیں

وہ دل ہیں دمیدہ کہ ہیں وابستۂ طیبہ
وہ آنکھیں سلامت ہیں کہ دیدار طلب ہیں

ہر دور کے دامن کو معظر کئے رکھا
وہ ایسے گُلِ تر سرِ صحرائے عرب ہیں

ان خشک زمینوں پہ پڑے ابرِ شفاعت
یہ اشکِ ندامت مری بخشش کا سبب ہیں

امریکنوں سے کیسی ہے امید۔۔۔ ظفر ؔجی
یہ دشمنِ دیں آپ کے پہلے تھے نہ اب ہیں


ہم بھی ہیں شہرِ وفا کے وارث
گویا جنت کی فضا کے وارث

اُن ؐکے بیمار کی عظمت دیکھی
مرکزِ بادِ شفا کے وارث

ہوں گے قارونِ زماں سے بڑھ کر
دولتِ غارِ حرا کے وارث

دے گئے کون و مکاں کا ورثہ
وہ ہمیں اپنا بنا کے وارث

کر کےآئے ہیں سفر صدیوں کا
دور تک پھیلی ضیا کے وارث

نعرۂ حق ہے اُنہیںؐ کی سنت
ہر خموشی میں نوا کے وارث

دل ہے معمورۂ عشقِ احمدؐ
گویا ہیں جذبِ خدا کے وارث

فکر کرتے ہیں بہ عنوانِ امید
شافعِ روزِ جزا کے وارث

جب سے مدحت کی ہوئی ہے توفیق
ہو گئے آہِ رسا کے وارث

نام لیوائے نبیؐ ہیں کیانیؔ
ہر سُو اقدارِ صفا کے وارث


دل کہیں لگتا نہیں طیبہ پلٹ
راس اپنی موڑ، پھر رستہ پلٹ

بندگی پر گردِ دنیا کیوں پڑے
اپنا اندر صاف کر ، سایہ پلٹ

گمرہی کے رستوں سے کر مفر
پھر مدینے کی طرف پہیہ پلٹ

جس میں تیرے نقش دھندلانے لگیں
آئینہ گر کو وہ آئینہ پلٹ

دور تونے رہ لیا خود سے بہت
دیر مت کر، جانبِ کعبہ پلٹ!

عمر ہے اب ریزگاری کی طرح
وقت ہے کچھ سوچ، کر توبہ ، پلٹ!

بس خمارِ عشقِ احمد ہے بہت
کیا کرے گا لے کے پیمانہ، پلٹ!

ساتھ میں اذنِ حضوری چاہیئے
یونہی مل جاتا نہیں ویزہ، پلٹ!

اِتنی بے مایہ نہیں ہے زندگی
راکھ میں خفتہ ہے انگارہ، پلٹً!

زندگانی کا قرینہ سیکھ لے
پھر سے سوئے اسوۂ حسنہ پلٹ

روشنی کا راستہ روکا نہ کر
دل کا روزن کھول دے، پردہ پلٹ