نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: نعت

لب پہ پھر مسکرا رہی ہے نعت
دل کو طیبہ بنا رہی ہے نعت

نور ہی نور ہر طرف پھیلا
کیف میں سب کو لا رہی ہے نعت

پڑھنے والے پہ وجد طاری ہے
سننے والے پہ چھا رہی ہے نعت

اسمِ خیر الانام ہے لب پر
خوشبوؤں میں بسا رہی ہے نعت

ذکر کے اک عجب حصار میں ہوں
دور تک جگمگا رہی ہے نعت

ذیست بزمِ درود لگتی ہے
رنگ کیسا جما رہی ہے نعت

رات تادیر رُک سکے گی کیا
مجھ میں سورج جگا رہی ہے نعت

سلسلہ یہ وہیں سے جاری ہوا
کاوشِ کبریا رہی ہے نعت

میں بھٹکتا دیارِ عشق میں کیوں
مجھ کو رستہ دکھا رہی ہے نعت

استطاعت کہاں ہے لکھنے کی
خود کو لکھواتی جا رہی ہے نعت

روحِ بیمار کھِل اُٹھے گی ظفر
اک نویدِ شفا رہی ہے نعت



اب سخن میں نہیں آتی ہے حسینوں کی تڑپ
اُن کے روزے سے لپٹ جاتی ہے سوچوں کی تڑپ

اُن کے در سے کہاں مایوس گیا کوئی سمے
روشنی لے کے گئی کتنے زمانوں کی تڑپ

دستِ امید نہیں ہٹتا کبھی کاندھوں سے
بارور ہو گی کبھی اُن کے گدائوں کی تڑپ

کھنچتی جاتی ہے اُسی مرکزِ رحمت کی طرف
قابلِ دید ہے بھٹکے ہوئے لوگوں کی تڑپ

اُسی جلوے کی تمنائی مری آنکھیں ہیں
وہی آنکھوں کے دریچے میں ہے خوابوں کی تڑپ

اِن کو درکار ہے بطحا کی ہوائے دلجو!
ایک آتش سی لئے ہے میری سانسوں کی تڑپ

اُن کا پیغام صبا لاتی رہے گی ہر پل
جب تلک طالعِ گلشن میں ہے پھولوں کی تڑپ

میری گفتار میں ہے ذکرِ مدینہ کیا کیا
میرے کردار میں ہے کتنے فسانوں کی تڑپ

گنبدِ سبز سدا سامنے رہتا ہے ظفر
ہونے دیتی نہیں اوجھل اسے نظروں کی تڑپ


 

اگر ہے نعتِ نبی کی خواہش تو روشنائی یہ معتبر ہے
اِسی سے موزوں بنے گی کاوش یہ خونِ دل ہے یہ چشمِ تر ہے

وہ ساعتوں کے صدف کہ جن سے ملے ہیں اُن کی ثنا کے گوہر
یہ اِتنے برسوں کی زندگی بس اُنہیں کے صدقے میں بارور ہے

اُنہیں کے ذکرِ مزکّی سے ہو گئی ہے سرشارزندگانی
زمانے کی دھوپ میں ہمارے لئے یہی سایہء شجر ہے

مجھے یقیں ہے کہ خارزاروں میں بھی گلِ تر ہے میرا طالع
نبی کی ذاتِ حمید و طیب مطافِ فکر و نظر اگر ہے

یہ نعت گوئی کا کیف گویا اُڑا کے لے جائے مجھ کو بطحا
یہ میری کرسی، یہ میری لکھنے کی میز جیسے کہیں اُدھر ہے


تمام عالم نے فیض پایا مدینہ وہ نور کا نگر ہے
وہ جس نے دونوں جہاں اُجالے وہیں کا خورشید ہے قمر ہے

جو نعرہء لااِلہ گونجا، رہا نہ آسیب تیرگی کا
سبیلِ حق تا ابد وہی ہے جو صبحِ نوخیز کا گجر ہے

نبی کی الفت مرا اثاثہ، تہی نہ رکھے کسی کا کاسہ
یہی ہے زادِ حیات میرا، اِسی سے میری گزر بسر ہے

وہ لوحِ اول صداقتوں کی، وہ مہرِ آخر نبوتوں کی
میں کیا کہوں اُس کی رفعتوں کی مقامِ سدرہ کی تو خبر ہے

کہاں وہ آتش خمیر مخلوق اور کہاں خاک دان لیکن
بشر کی تعظیم کرتے ہیں کہ خدا کا محبوب بھی بشر ہے

اُسی کا دامن ملے گا ہم کو تو زخم صدیوں کے بھر سکیں گے
وہ آس ہے ہر مریضِ غم کی وہ ہر زمانے کا چارہ گر ہے

جو اُس کی حرمت پہ کٹ مرے ہیں وہ زندہء جاوداں ہوئے ہیں
جو زندگی اُس پہ ہے تصدق وہ چشمِ داتا میں معتبر ہے

بنی کے بتلائے راستے پر چلے تو پاﺅ گے خیر یارو!
کسی کو منزل کی فکر کیا ہو کہ کہکشاں کا اگر سفر ہے

کبھی کسی بے کنار منزل کی سمت جاتے نہیں مسافر
بھٹکنے پاتے نہیں مسافر، نبی کا اسوہ جو راہبر ہے

اُسی کے موجِ کرم نے سیراب کر دیا ہے زمانے بھر کو
وہ ایک رحمت کی آبجو ہے، وہ ایک دجلہء بے بھنور ہے

ہزار معجز بیاں ہو شاعر، مگر ہیں بیکار سب مظاہر
سلیقہء نعت گوئی نہ آ سکا تو سمجھو کہ بے ہنر ہے



ہر اک آرزو ہے سلیقہ طلب
رہی ہے ہمیشہ سے طیبہ طلب

شہِ ہر زمانہ کا شیدا ہوں میں
کوئی ہے تو ہو لے زمانہ طلب

معطر ہے اسمِ حبیبی سے نطق
یہ خوشبو نہیں ہے دریچہ طلب

عجب لطف ہے ذکرِ سرکار میں
رہے لب کو بس یہ وظیفہ طلب

یہ عشقِ نبی اور وہ حُبِ جہاں
یہ زم زم پسند اور وہ شعلہ طلب

اگر اُن کے در کی گدائی ملے
نہ جاہ کی ہوس ہو نہ رتبہ طلب

طریقہ ہے ہر رنگِ ہستی میں حق
طریقت نہیں اُس کی حجلہ طلب

۔۔۔ق۔۔۔
زمانے کا دجّال درپے ہوا
زبوں حال ہیں جملہ اقصیٰ طلب

یہود و نصاریٰ ہیں آتش بپا
مدینے کا زائر ہے سایہ طلب
۔۔۔۔۔۔۔

مقامِ غمِ مصطفیٰ دل میں ہے
یہ منزل نہیں ہوتی رستہ طلب

ظفر دھڑکنوں میں لکھی جاتی ہے
کہاں نعت ہوتی ہے خامہ طلب



حیات کچھ نہیں جو اُن کے ہم نہیں ہوئے تو
سفر عبث ہیں جو سوئے حرم نہیں ہوئے تو

زمانے اپنی ہی نظروں سے گرتے جائیں گے
اگر بلند نبی کے علم نہیں ہوئے تو

یقین کر لو کہ ہم تم بھٹک گئے ہیں کہیں
دیارِ پاک کی جانب قدم نہیں ہوئے تو

وہی نکالیں تو نکلیں گے بحرِ عصیاں سے
وجودیت کے خسارے عدم نہیں ہوئے تو

عمل کا کوئی دیا حشر میں نہ لو دے گا
ہمارے ساتھ جو خیر الامم نہیں ہوئے تو

حوالہ اُن کا میسر ہے تو کسے پرواہ
نگاہِ دہر میں ہم محترم نہیں ہوئے تو

عمل نے جامہءسنت درست پہنا نہیں
اگر فقیری میں رنگِ حشم نہیں ہوئے تو

دکانِ وقت سے کیا سرخوشی خریدیں گے
کرم کے سکے ہی ہم کو بہم نہیں ہوئے تو

ہم اُن کو نعت کی مسجد میں کیسے آنے دیں
جو شعر خونِ جگر سے رقم نہیں ہوئے تو



پئے سخن شہِ ہر دو جہاں سے نسبت ہے
مرے بیاں کو بھی حُسنِ بیاں سے نسبت ہے

میں آ گیا رہِ ِ سرکار کے افادے میں
اگرچہ مجھ کو بھی عہدِ ذیاں سے نسبت ہے

میں اُمتی بھی ہوں اُس کا جو ہے حبیبِ خدا
زمیں کا ذرّہ ہوں اورآسماں سے نسبت ہے

مسافرت نہیں ٹھہرے ہوئے زمانوں کی
کہ اُن کے عشق کو آبِ رواں سے نسبت ہے

متاعِ جاں تو ہے ناموسِ دین کا صدقہ
میں ایک تیر ہوں مجھ کو کماں سے نسبت ہے

کوئی بھی خوفِ سرِ ظلمتِ بسیط نہیں
کہ مجھ کو منزلِ روشن نشاں سے نسبت ہے

میں جب سے آیا ہوں اُس کے بتائے رستے پر
مرے سفر کو کسی کہکشاں سے نسبت ہے