نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: نظمیں

نویدِ نوبہار دو، مرا وطن سنوار دو
روش روش نکھاردو، مرا وطن سنوار دو

ہر ایک ذرہء وطن میں زندگی اُتار دو
نگارِ لالہ زار دو، مرا وطن سنوار دو

یہ آندھیاں، یہ بادلوں کی گھن گرج، یہ بجلیاں
سکون دو ، قراردو، مرا وطن سنوار دو

جو خود کو جان لیتا ہے، جہاں کو جان لیتا ہے
خودی کو اعتبار دو، مرا وطن سنوار دو

عداوتیں، عصیبتیں، مرے وطن کو کھا گئیں
ہر ایک سانپ مار دو، مرا وطن سنوار دو

خزاں کی چیرہ دستیوں کے سامنے ڈٹے رہو
یہ بارِ غم اُتاردو، مرا وطن سنوار دو

جو برگ ہو سو امن کا، جو گل کھلے سو پیار کا
ہوائےمشکبار دو، مرا وطن سنوار دو

یہ رنگِ رنگ کے ازم تو روک لیتے ہیں قدم
نظامِ کردگار دو، مرا وطن سنوار دو

صفوں میں ایسا نظم ہو کہ کارواں ہو یک بدن
قطار در قطاردو، مرا وطن سنوار دو

نئی نئی بلندیوں کی سمت ہم اڑے پھریں
وہ نقطۂ مطار دو، مرا وطن سنوار دو

قدم اُٹھیں تو نہ رُکیں، بڑھیں تو بس بڑھے چلیں
لہو میں وہ فشادو، مرا وطن سنوار دو

Advertisements

وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی


نالہء شبگیر کی تاثیر پاکستان ہے
کتنی صدیوں بعد اِک تنویر پاکستان ہے

پیار کرنے والوں کا اِک دیس ہے میرا وطن
مہرباں ہاتھوں کی اِک زنجیر پاکستان ہے

میری ہر اُمید کی تمہید اس کے نام سے
میرے ہر اِک خواب کی تعبیر پاکستان ہے

میرا ماضی، حال، مستقبل، سبھی کچھ ہے یہی
میری ساری عمر کی جاگیر پاکستان ہے

کوئی بھی خطہ کہاں آغوشِ مادر کی طرح
میں جہاں جاﺅں مری تقدیر پاکستان ہے

دل ہے پاکستان میں تو تم ہو پاکستان میں
نقشہء عالم کی ہر تصویر پاکستان ہے

تم اگر دنیا میں اس کی آبرو بن کر رہو
تو جہاں میں باعثِ توقیر پاکستان ہے

نظرئیے کا نام ہے یہ، قطعہء ارضی نہیں
جس جگہ ہو نعرہء تکبیر پاکستان ہے

کلمہ گو لوگوں کو مل جائے کوئی جائے اماں
بس یہی اِک حسرتِ تعمیر پاکستان ہے

دیوِ استبداد کے پنجے میں ہے یوں تو پری
دِل سے دیکھا جائے تو کشمیر پاکستان ہے

خندقِ اوّل ہے دہشت گردیوں کے سامنے
امنِ عالم کی نئی تفسیر پاکستان ہے

اِس لئے بھی رُک گئی ہیں ظالموں کی یورشیں
ایک لہراتی ہوئی شمشیر پاکستان ہے

صفحہء عالم سے اس کو کیا مٹائے گا عدو
خون سے لکھی ہوئی تحریر پاکستان ہے


ناکے پر پولیس نے مجھ کو روک لیا
مخبر نے کر دی تھی اطلاع پہلے سے
شہر میں دہشت گردی کا کچھ خطرہ تھا
سو پولیس نے ہر مشکوک کو گھیرا تھا
اور مشکوک تھا مجھ سے بڑھ کر کون بھلا
مشقِ سخن کی خواری سے جو حلیہ تھا
اُس نے مجھ کو جیل سے بھاگا مجرم سا کر رکھا تھا
یوں بھی گزشتہ شب آنکھوں میں کاٹی تھی
سر کے بال تھے ایسے بکھرے بکھرے سے
جیسے کانٹے ہوں سیہہ کے
لالوں لال تھے دیدے
باہر کو نکلے
چہرے پر تھے بارہ بجے
ہینڈ اپ کر کے خوب تلاشی لی پولیس نے پھر میری
مجھ کو سر تا پا الٹایا پلٹایا
اور پھر بالآخر اُن کو
مل ہی گیا تھا میری دہشت گردی کا اک ایویڈینس
میری جیب سے اک سہ غزلے کی صورت


ابے مچھر!
ابے او بے سُرے سنگر!!
تو کس موسیقی کے اُستاد کی اولاد ہے آخر
جو مصروفِ ریاض اس وقت ہے شب کے
مرے کانوں میں گھُس کر پھر
وہی ہے راگنی اب کے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
جلیبی بھی جلائے رکھی ہے شب بھر
مگر یہ مارشل لا ہے عجب انداز کا مالک
نہیں رہتا سویرے تک
صبح جب آنکھ کھُلتی ہے
ہمارے کان پڑتی ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
نہ سیکھے تونے لیڈر سے کوئی مینر
عوام الناس کا جو خون پیتے ہیں
تو یوں پیتے ہیں کہ اُن کو خبر ہونے نہیں پاتی
مگر کم ظرف! تُو کیسا ڈریکولا ہے جذباتی
لہو پیتا ہے انساں کا
تو اس کے کان میں پنجابی فلموں کے ولن کی طرح بڑکیں مارے جاتا ہے
مسلسل کرتا رہتا ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
ترے چاچے کے پُتر
جو کو ڈینگی کہتے ہیں
اس میں بڑا ہی زہر ہوتا ہے
سیاستدان کی صورت
جسے بھی کاٹ لیتا ہے
وہ جانبر ہو نہیں پاتا
مقرر ہیں جو ان پر قابو پانے کو
اُنہیں ڈینگوں سے ہی فرصت نہیں ملتی
دکھاتے پھرتے ہیں زورِ خطابت وہ
چنانچہ اب گلی کوچوں میں جاری ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
مچھر دانی بھی ہم نے تو لگا کر دیکھ لی اکثر
تو دُراندازی سے پھرتا نہیں یکسر
نجانے کیسے گھُس آتا ہے اندر
اور پھر ہم تیرے پیچھے ہمنوا قوال کے بن جاتے ہیں گویا
مگر تو ہے کہ پکڑائی نہیں دیتا
پریشاں کرتا رہتا ہے
اپوزیشن نے جیسے مقتدر حضرات کو کر رکھا ہے پیہم
وہی سُر تان ہے ہر دم
وہی بھِن بھِن


بھلا سر پھٹول اِن کی خاطر ہے کیوں دوستو!
نہیں رینگتی جس کے کانوں میں جُوں دوستو!
یہ سوچو! ارے!!
تمھارے لئے
کبھی یہ لڑے
خدا سے ڈرو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

جو لیڈر ہے ذاتی مفادات کا یار ہے
شکم ہی وہ نقطہ ہے جس کی یہ پُرکار ہے
یوں پل پل پڑیں
جو کھاپے دِکھیں
سبھی ایک ہیں
نہ باہم لڑو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

رہے ہیں سیاسی جماعتوں میں کب فاصلے
سو لیڈر بھی لوٹوں کی صورت لڑھکنے لگے
اِدھر یا اُدھر
یہ جائیں جدھر
لگے اپنا گھر
میاں چھوڑ دو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

کسی بھی ازم سے کسی کو کہاں کام ہے
نظریہ بھلا کون سی چڑیا کا نام ہے
یہ رطلِ گراں
کسی سے یہاں
اُٹھے گا کہاں
اے دیدہ ورو! ۔۔۔۔ اجی بس کرو


ہمارے لیڈرِ قومی کے کیا کہنے
تجوری توند کی بھرتا چلا جاتا ہے جو قومی خزانے سے
فرینڈلی گیم کی خاطر
پلاتا ہے عوام الناس کا خوں بھی سیاسی ڈریکولاؤں کو
مگر پھر جب خزانہ خالی ہو جائے
کوئی قرضہ مکانا ہو
کسی بحران سے اپنی حکومت کو بچانا ہو
تو قربانی کی خاطر وہ
ہماری آپ کی گردن پکڑتا ہے
ہمیں بکرے سمجھتا ہے