نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: نظمالوجی

وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی

Advertisements

ابے مچھر!
ابے او بے سُرے سنگر!!
تو کس موسیقی کے اُستاد کی اولاد ہے آخر
جو مصروفِ ریاض اس وقت ہے شب کے
مرے کانوں میں گھُس کر پھر
وہی ہے راگنی اب کے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
جلیبی بھی جلائے رکھی ہے شب بھر
مگر یہ مارشل لا ہے عجب انداز کا مالک
نہیں رہتا سویرے تک
صبح جب آنکھ کھُلتی ہے
ہمارے کان پڑتی ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
نہ سیکھے تونے لیڈر سے کوئی مینر
عوام الناس کا جو خون پیتے ہیں
تو یوں پیتے ہیں کہ اُن کو خبر ہونے نہیں پاتی
مگر کم ظرف! تُو کیسا ڈریکولا ہے جذباتی
لہو پیتا ہے انساں کا
تو اس کے کان میں پنجابی فلموں کے ولن کی طرح بڑکیں مارے جاتا ہے
مسلسل کرتا رہتا ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
ترے چاچے کے پُتر
جو کو ڈینگی کہتے ہیں
اس میں بڑا ہی زہر ہوتا ہے
سیاستدان کی صورت
جسے بھی کاٹ لیتا ہے
وہ جانبر ہو نہیں پاتا
مقرر ہیں جو ان پر قابو پانے کو
اُنہیں ڈینگوں سے ہی فرصت نہیں ملتی
دکھاتے پھرتے ہیں زورِ خطابت وہ
چنانچہ اب گلی کوچوں میں جاری ہے
وہی بھِن بھِن

—-

ابے مچھر!
مچھر دانی بھی ہم نے تو لگا کر دیکھ لی اکثر
تو دُراندازی سے پھرتا نہیں یکسر
نجانے کیسے گھُس آتا ہے اندر
اور پھر ہم تیرے پیچھے ہمنوا قوال کے بن جاتے ہیں گویا
مگر تو ہے کہ پکڑائی نہیں دیتا
پریشاں کرتا رہتا ہے
اپوزیشن نے جیسے مقتدر حضرات کو کر رکھا ہے پیہم
وہی سُر تان ہے ہر دم
وہی بھِن بھِن