نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری نظمیں


میں شائد سو گیا تھا ریل گاڑی میں
—–
نہ جانے کس نگر سےتھا
گزر میری مسافت کا
مرے اطراف میں رنگوں کی یورش تھی
کھلے تھے پھول ہرہر رنگ کے ہر سو
عجب چہکاریں پھیلی تھیں
بہت سی تتلیاں اور بھنورے منڈلاتےدکھائی دے رہے تھے دور تک مجھ کو
کھلی تھیں کھڑکیاں
اور تازہ خوشبو سے معطرتھیں ہوائیں بھی
سو ایسے میں مجھے بھی نیند سی کچھ آ گئی تھی تو عجب کیا تھا
—–
کھلی تھی آنکھ میری شور کی آواز پر
میں ہڑبڑا کر ہو گیا سیدھا
تو آخر آ گیا تھا میرا اسٹیشن
مسافر اور قلی دوڑتے پھرتے نظر آئے
عجب شورش بپا دیکھی
میں سفری بیگ اپنا لے کے باہر نکلا
تو کیچڑ میں پاؤں دھنس گیا میرا
بہ دقت نکلا اس بدصورتی سے میں
ہجومِ ناشناساں سے کسی مانوس سی آواز نے مجھ کو صدا دی
تو میں جیسے کھل سا اُٹھا تھا
—–
بہاریں رشتۂ احساس کی پابند ہوتی ہیں
چمن اذہان کے موسم میں کھلتے ہیں
مری بیداریوں نے مجھ کو رکھا ہے بہاروں میں
وہ رستے کی بہاراں تھی
یہ میری زندگی کی ہے
سو اُس خطے سے اپنے گھر تلک میں نے
بہاروں کا سفر دیکھا
بہاروں کا سفر کہ اب بھی جاری ہے

Advertisements

دل جگر میرا وطن
میرا گھر میرا وطن

یہ جہاں اک سیر گاہ
مستقر میرا وطن

عالمِ اقوام میں
معتبر میرا وطن

خوب اوطانِ دگر
خوب تر میرا وطن

فرو ظلمت یاس کی
اک سحر میرا وطن

وادیء ایمن سا ہے
سربسر میرا وطن

منزلیں وہ سامنے
راہ پر میرا وطن

چاند تارے ہیں جہاں
وہ نگر میرا وطن

بہرِ پروازِ فلک
بال و پر میرا وطن

ہر نفر بے مثل ہے
دیدہ ور میرا وطن

سر اُٹھا کر سب جئیں
خود نگر میرا وطن

حشر تک یارب رہے
اوج پر میرا وطن


جہاں میں روکشِ باغِ عدن ہے پاکستان
بہارِ حسن کی دائم پھبن ہے پاکستان
مشاطگی کاعجب بانکپن ہے پاکستان
نظیر جس کی نہیں، وہ چمن ہے پاکستان
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان

یہ وہ زمین ہے جس سے فلک کے ناتے ہیں
یہیں پہ ہست کے سب رنگ مسکراتے ہیں
اِسی کی خاک میں سورج اگائے جاتے ہیں
دیارِخوب کی گویا لگن ہے پاکستان
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان

یہ پاک دھرتی توسجدہ گہِ زمانہ ہے
نمود ہو کہ وجود اس کا، معجزانہ ہے
اسی کے نام تب و تابِ جاودانہ ہے
ابد کی لوح پہ لکھا سخن ہے پاکستان
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان

لبوں پہ گیت اسی کی محبتوں کے رہیں
نظر میں سلسلے روشن مسافتوں کے رہیں
لہو میں زمزمے ہر دم عزیمتوں کے رہیں
مری رگوں میں بھی اب موجزن ہے پاکستاں
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان


چمن زارِ ایمان میرا وطن ہے
بہاروں کی مسکان میرا وطن ہے

جہاں میں کوئی اِس سا دیکھا نہیں ہے
نمایاں در اوطان میرا وطن ہے

یہ تھر یہ زیارت، دلوں کی ریاست
یہ پنڈی یہ مردان میرا وطن ہے

یہ گہوارہ ہے امن کا آشتی کا
محبت کا اعلان میرا وطن ہے

مرے حوصلوں کو دئے پر اسی نے
ترقی کا میدان میرا وطن ہے

زمانوں کی ظلمت نگلنے نہ پائے
سدا ایک امکان میرا وطن ہے

ہر اک کہکشاں اس کا جادہ بنی ہے
حقیقت کا عرفان میرا وطن ہے

فقط اپنے رقبے میں محدود کب ہے
ہر اک دل کا دالان میرا وطن ہے

وفاؤں کی حدت لہو میں گھلی ہے
ہمیشہ کا رومان میرا وطن ہے

نئے دور کا معجزہ اس کو کہئیے
مرے رب کا احسان میرا وطن ہے

جہاں جاؤں اس کا حوالہ بنوں میں
ظفرؔ میری پہچان میرا وطن ہے


خاصی لمبی سی ناک ہے میری
اثر انگیز ٹاک ہے میری
ساری دنیا پہ دھاک ہے میری
اور گھر میں فلاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

زعمِ مردانگی کا پھیر بھی ہے
یہ زبر کچھ جگہوں پہ زیر بھی ہے
پیشِ زوجہ تو تیرا شیر بھی ہے
دم ہلانے میں ٹاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

جب بھی سسرالہوں میں گھرتا ہوں
کن پشیمانیوں سے چرتا ہوں
سارے سسروں کو دیتا پھرتا ہوں
اپنی گردن کا ناپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

یہ جو اک قیدِِ خانگی ہے مری
اپنی قسمت سے دل لگی ہے مری
’’زندگی خوب کٹ رہی ہے مری‘‘
راگ تو بھی الاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

دل میں ویسے تو کیا کیا پکتا نہیں
صبر کرنے سے پھر بھی تھکتا نہیں
ہائے! فدوی نکال سکتا نہیں
اپنے اندر کی بھاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح


تجھ سے ملنے کو آیا تھا میں
پر دکھائی دیا ہی نہیں
ایسی گردھند تھی ہر طرف
کچھ سجھائی دیا ہی نہیں

اب تو زیرو ہے حدِ نظر
تاکنا جھانکنا ہے عبث
چھوڑئیے ذعمِ دیدہ وری
خود کو بھی دیکھنا ہے عبث

دیکھ لو! ہر سڑک بن گئی
غافلوں کے لئے سیخ بھی
چرچراہٹ بریکوں کی ہے
اور گونجی ہے اک چیخ بھی

کس کی گردن ہے کس کی چھری
تجھ کو تھوڑا سا اندازہ ہے؟
علتیں ہیں بھرے پیٹوں کی
اور غریبوں پہ خمیازہ ہے

مجھ سے کیا پوچھتی ہے ارے!
دین کس کی ہے گردھند بھی
تیرے آباء کے کھلیان ہیں
تیرے ابے کی ہے فیکٹری

یہی مخزن خرابی کے ہیں
قہر میں زندگی جن سے ہے
زہر سارا ہے اِن کا دیا
ساری آلودگی اِن سے ہے

مقتدر لمبی تانے ہیں کیوں؟
ذمہ داری اُٹھائے کوئی
کوئی تو کھینچے حدِ جنوں!
ان سے بھی جا کے پوچھے کوئی


کہنے کو وہ بکرا تھا
لیکن یہ بھی جھوٹ نہیں
ظالم ہم تم جیسوں سے
بڑھ کے معزز لگتا تھا

قیمت میں وہ بڑھ کر تھا
کچھ میری اوقات سے بھی
بھاؤ تاؤ کی ازلی
مدد نہ ملتی سسروں کی
تو میں لے نہ سکتا تھا
یہ جو مری تشریف پہ ہے
زخم۔۔۔ یہ ہرگز نہ ہوتا

ایسا جادوگر تھا وہ
دن میں دکھائے تارے تھے
(سینگ بھی مجھ کو مارے تھے)

گھر میں مجھ سے تھا مقبول
بسکہکروا بیٹھتا میں
گھر میں الیکشن کی جو بھول
اُس کی جیت یقینی تھی

اور مری یہ شورش بھی

لاحاصل رہ جانی تھی
پول میں کوئی رگنگ ہوئی
میں تو اس کے سامنے تھا
مولانا فضل الرحمٰن
اور یہ ظالم لگتا تھا
تبدیلی والا عمران

خو بو میں تھا افسر سا
اُس پر حکم چلاتا تو
ایک تجاہل سے مجھ کو
تکتا اور منہ پھیرتا تھا

دن بھر میں میں کرتا تھا
بالکل میرے افسر سی
گھر میں فضا مل جاتی تھی
مجھ کو اپنے دفتر سی

ہائے بچر کی مت پوچھو
کتنا کٹائی کا اینٹھا
اسے ذبح کرنے سے قبل
اُس نے مجھ کو ذبح کیا

اِ تنی قربانی کے بعد
فرض یہ بنتا ہے اس کا
(عید پہ جو قربان ہوا)
پلِ صراط کے اوپر سے
مجھ کو حفاظت سے لے جائے
(دیکھے نہ کرتوت مرے)