نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری نظمیں

وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی



(یومِ مئی کے حوالے سے ایک نظم)

تھک گئے ہیں کچھ مسافرزندگی کرتے ہوئے
زندگی کے نام پر جیتے ہوئے، مرتے ہوئے
وقت کی چونگی پہ یوں محصولِ جاں بھرتے ہوئے

ہر طرف محنت کشوں کا غلغلہ تو ہے بہت
دن منانا ہے سو اِن کا تذکرہ تو ہے بہت
زندگی اِن کی ہنوز اِک مسئلہ تو ہے بہت

وقت کی تحریرہے اِن کے پسینے سے جلی
ارتقا کی فیکٹری اِن کی مشقت سے چلی
ان کی محنت تھی کہ حرفت اس قدر پھولی پھلی

اس قدر ہر دور کی صورت گری میں کھو گئے
اپنے خدو خال گردِ مفلسی میں کھو گئے
سرخوشی سب کی بنے ،خود بےکسی میں کھو گئے

بندہء مزدور کیوں دادِ وفا پاتا نہیں
جیسی محنت کرتا ہے ویسی جزا پاتا نہیں
آئینہ اِن سے نظر بھی اب ملا پاتا نہیں

وقت ہے کہ درد کے متوالوں کا پہیہ چلے
زندگی کے سارے خستہ حالوں کا پہیہ چلے
اب ذرا پہیہ چلانے والوں کا پہیہ چلے


(مکالمہ اور اس کے جواب میں ایک دل ہی دل میں جوابی مکالمہ)

اِس نے کہا وعدہ کرو ”دلداری کروں گی“
اُس نے کہا یہ کاوشِ بیکاری کروں گی

اِس نے کہا سردار قبیلے کا ہے فدوی
اُس نے کہا گھر پر تو میں سرداری کروں گی

اِس نے کہا گھر داری ہے ہر گھر کی ضرورت
اُس نے کہا سکھلانے کی تیاری کروں گی

اِس نے کہا ماں اپنی سمجھنا میری ماں کو
اُس نے کہا میں اس کی اداکاری کروں گی

اِس نے کہا بہنیں ہیں مجھے جان سے پیاری
اُس نے کہا اللہ کو بھی میں پیاری کروں گی

اِس نے کہا اک پیار کی دنیا ہے مرا گھر
اُس نے کہا بس بس یہیں بمباری کروں گی

اِس نے کہا دل پھینک کہا جاتا ہے مجھ کو
اُس نے کہاپھر خود کو میں تاتاری کروں گی

اِس نے کہا یاروں پہ فدا رہتا ہے یہ دل
اُس نے کہا میں دور یہ بیماری کروں گی

اِس نے کہا کہ شوقِ سخن گوئی ہے مجھ کو
اُس نے کہا پھر میں بھی گلوکاری کروں گی


چل دیا ہے منزلوں کو قافلہ کشمیر کا
رہرﺅں سے بھر گیا ہے راستہ کشمیر کا

یہ گزرتے پل نہیں تاریخ کے صفحات ہیں
خوں سے لکھا جا رہا ہے واقعہ کشمیر کا

ظلم کے لاوے سے جو بھرتے ہی جاتے ہیں اِسے
ایک دن جا لے گا اُن کو دائرہ کشمیر کا

بچہ بچہ ہے لہو کی موج میں آیا ہوا
ساری وادی میں بپا ہے معرکہ کشمیر کا

اب بساطِ دہر پر ہر چال خود اپنی چلیں
اپنے جذبوں سے بنالیں زائچہ کشمیر کا

کوئی بھی چشمہ کسی کہسار سے رکتا نہیں
اپنی سرمستی میں ہے ہر زمزمہ کشمیر کا

کور چشمی ہے زمانے کی وگرنہ دوستو!
مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے مسئلہ کشمیر کا

کاش کھل جائیں سبھی رستے دلوں کے درمیاں
سبز نقشے میں ڈھلے جغرافیہ کشمیر کا

یہ جہاں کے چوہدری تو اندھے بہرے ہیں ظفر
اہلیانِ دل اُٹھا لیں تعزیہ کشمیر کا


بلا لو سب کو بلا لو کہ آیو رے ساون
جمالو رنگ جمالو کہ آیو رے ساون

اُٹھو کہ پھر سے ہے موسم تماشہ کرنے کا
چلو کہ نام کمالو کہ آیو رے ساون

سیاستوں کے پنپنے کا ہے یہی موسم
بنا ہے بخت اپالو کہ آیو رے ساون

تمام شہر ہے ڈوبا ہوا تو میں کیا کروں
کرو نہ تنگ سوالو کہ آیو رے ساون

بلاؤ جتنے بھی ہیں میڈیا کے جادوگر
لفافے خوب بنا لو کہ آیو رے ساون

مری سپیچ کو کچھ اور بھی عوامی کرو
نئے مکالمے ڈالو کہ آیو رے ساون

وزیرِ اعلیٰ نہیں، میں ہوں خادمِ اعلیٰ
یہ کہہ کے سب کو پٹا لو کہ آیو رے ساون

جو مجھ میں گھسنے کی ہمت نہ کر سکی ہیں کبھی
اُن عظمتوں کو اجالو کہ آیو رے ساون

میں جو بھی بات کروں جوششِ خطابت میں
تم اُس پہ بولو نہ چالو کہ آیو رے ساون

مجھے بھی پانی میں گھس گھس کے پوز دینے ہیں
رَبر کے بوٹ نکالو کہ آیو رے ساون


دیکھ کر ظلم کی بڑھتی ہوئی یلغار حسین (رض)
نعرہء حق کی صدا بن گئے ہر بار حسین (رض)

ارتقاء دھول کو بھی پا نہ سکی ہے جس کی
اوجِ انسانی کو وہ دے گئے معیار حسین (رض)

زندگی بھر کی بھی عزت نہ ملی دشمن کو
اور تیرے لئے تاریخ کی دستار حسین (رض)

چلنا چاہتا ہے ترے نقشِ قدم پر اور بس
جب بھی کرتا ہے کوئی کفر سے انکار حسین (رض)

مقتدر بن نہیں سکتا ہے یہاں کوئی یزید
جب تلک ملتِ بیضا میں ہے بیدار حسین (رض)

تیرا کردار ہے اک ضرب شبِ ظلمت پر
تیرا پیغام ہے اک چشمہء انوار حسین (رض)

جس کی ہیبت سے لرزتے ہیں زمانے کے خدا
ہر زمانے میں ترا نام وہ للکار حسین (رض)

معجزِ عشق کا مظہر ہے شہادت تیری
ہر زمانے کے لئے دعوتِ ایثار حسین (رض)

خطہ ء پاک کے دشمن کو خبردار کرو
وقت کے ہاتھ میں اک برہنہ تلوار حسین (رض)


جب تک رہا ہے زندہ ہمہ زندگی تھا وہ
اِک پیکرِ درخشاں سرِ تیرگی تھا وہ

شائد اِسی لئے بس وہی وہ دکھائی دے
چھوٹے سے ملک میں اِک بڑا آدمی تھا وہ

تا عمر وقفِ خدمتِ انسانیت رہا
مصروفِ خیر تا بہ دمِ آخری تھا وہ

اُس کی نظیر اپنے زمانے میں تھی کہاں
اَس عہدِ بے چراغ میں نقشِ جلی تھا وہ

اُس نے کبھی کسی کو بھی مایوس نہ کیا
تا عمر ہم نے دیکھا اُسے کہ وہی تھا وہ

اِس سنتِ رسول پہ قائم رہا سدا
سب بے سہاروں کے لئے چھاؤں گھنی تھا وہ

کشکول اک صدی کا لبالب بھرا گیا
خدمات کی خیرات میں کتنا سخی تھا وہ

تاحشر اُس کے ذکر کا پرچم کشا رہے
دستِ قضا نے جس کو چھوا سرمدی تھا وہ