نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری نظمیں

ابھی دِن ڈھلا ہے، ابھی شام کے سائے گہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے
ابھی تک فضاؤں میں بکھری ہوئی ہے دھنک آرزو کی، اُفق تا اُفق
ابھی سب کو مبہوت کرتے ہوئے رنگوں والی کئی تتلیاں اُڑتی ہیں
چمن در چمن جادو کرتی ہوئی خوشبوؤں کی کئی ٹولیاں پھرتی ہیں
ابھی تک ہے دامانِ آفاق روشن، ابھی تک یہاں پھوٹتی ہے شفق
ابھی تک نہیں جستجو ماندہ پا، بارِ سر کو اُٹھائے ہوئے ہے عُنق
ابھی خواب زندہ ہیں اور سارے ہی زندہ لوگوں کی آنکھوں میں بیدار ہیں
قدم اُٹھ رہے ہیں،ابھی قافلے والے ٹھہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے
۔۔۔۔
ابھی راستے زندگی کی توانا صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں، سنو!
ابھی تو تمنا غبارِ رہِ شوق میں کھو نہیں پائی ہے، میری جاں!!
کسی پردۂ چشم پر جمنے پایا نہیں ہے سلگتے سمے کا دھواں
اندھیروں کے اژدر نے نگلے نہیں کائناتِ یقیں کے زمین و زماں
فضا سرمگیں ہوتی جاتی ہے لیکن نظر آ رہا ہے ابھی آسماں
اجالوں کی نگری کے رستوں پہ ظلمت کے پہرے نہیں ہیں، ابھی وقت ہے



میں شائد سو گیا تھا ریل گاڑی میں
—–
نہ جانے کس نگر سےتھا
گزر میری مسافت کا
مرے اطراف میں رنگوں کی یورش تھی
کھلے تھے پھول ہرہر رنگ کے ہر سو
عجب چہکاریں پھیلی تھیں
بہت سی تتلیاں اور بھنورے منڈلاتےدکھائی دے رہے تھے دور تک مجھ کو
کھلی تھیں کھڑکیاں
اور تازہ خوشبو سے معطرتھیں ہوائیں بھی
سو ایسے میں مجھے بھی نیند سی کچھ آ گئی تھی تو عجب کیا تھا
—–
کھلی تھی آنکھ میری شور کی آواز پر
میں ہڑبڑا کر ہو گیا سیدھا
تو آخر آ گیا تھا میرا اسٹیشن
مسافر اور قلی دوڑتے پھرتے نظر آئے
عجب شورش بپا دیکھی
میں سفری بیگ اپنا لے کے باہر نکلا
تو کیچڑ میں پاؤں دھنس گیا میرا
بہ دقت نکلا اس بدصورتی سے میں
ہجومِ ناشناساں سے کسی مانوس سی آواز نے مجھ کو صدا دی
تو میں جیسے کھل سا اُٹھا تھا
—–
بہاریں رشتۂ احساس کی پابند ہوتی ہیں
چمن اذہان کے موسم میں کھلتے ہیں
مری بیداریوں نے مجھ کو رکھا ہے بہاروں میں
وہ رستے کی بہاراں تھی
یہ میری زندگی کی ہے
سو اُس خطے سے اپنے گھر تلک میں نے
بہاروں کا سفر دیکھا
بہاروں کا سفر کہ اب بھی جاری ہے


دل جگر میرا وطن
میرا گھر میرا وطن

یہ جہاں اک سیر گاہ
مستقر میرا وطن

عالمِ اقوام میں
معتبر میرا وطن

خوب اوطانِ دگر
خوب تر میرا وطن

فرو ظلمت یاس کی
اک سحر میرا وطن

وادیء ایمن سا ہے
سربسر میرا وطن

منزلیں وہ سامنے
راہ پر میرا وطن

چاند تارے ہیں جہاں
وہ نگر میرا وطن

بہرِ پروازِ فلک
بال و پر میرا وطن

ہر نفر بے مثل ہے
دیدہ ور میرا وطن

سر اُٹھا کر سب جئیں
خود نگر میرا وطن

حشر تک یارب رہے
اوج پر میرا وطن


جہاں میں روکشِ باغِ عدن ہے پاکستان
بہارِ حسن کی دائم پھبن ہے پاکستان
مشاطگی کاعجب بانکپن ہے پاکستان
نظیر جس کی نہیں، وہ چمن ہے پاکستان
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان

یہ وہ زمین ہے جس سے فلک کے ناتے ہیں
یہیں پہ ہست کے سب رنگ مسکراتے ہیں
اِسی کی خاک میں سورج اگائے جاتے ہیں
دیارِخوب کی گویا لگن ہے پاکستان
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان

یہ پاک دھرتی توسجدہ گہِ زمانہ ہے
نمود ہو کہ وجود اس کا، معجزانہ ہے
اسی کے نام تب و تابِ جاودانہ ہے
ابد کی لوح پہ لکھا سخن ہے پاکستان
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان

لبوں پہ گیت اسی کی محبتوں کے رہیں
نظر میں سلسلے روشن مسافتوں کے رہیں
لہو میں زمزمے ہر دم عزیمتوں کے رہیں
مری رگوں میں بھی اب موجزن ہے پاکستاں
مجھے ہے فخر کہ میرا وطن ہے پاکستان


چمن زارِ ایمان میرا وطن ہے
بہاروں کی مسکان میرا وطن ہے

جہاں میں کوئی اِس سا دیکھا نہیں ہے
نمایاں در اوطان میرا وطن ہے

یہ تھر یہ زیارت، دلوں کی ریاست
یہ پنڈی یہ مردان میرا وطن ہے

یہ گہوارہ ہے امن کا آشتی کا
محبت کا اعلان میرا وطن ہے

مرے حوصلوں کو دئے پر اسی نے
ترقی کا میدان میرا وطن ہے

زمانوں کی ظلمت نگلنے نہ پائے
سدا ایک امکان میرا وطن ہے

ہر اک کہکشاں اس کا جادہ بنی ہے
حقیقت کا عرفان میرا وطن ہے

فقط اپنے رقبے میں محدود کب ہے
ہر اک دل کا دالان میرا وطن ہے

وفاؤں کی حدت لہو میں گھلی ہے
ہمیشہ کا رومان میرا وطن ہے

نئے دور کا معجزہ اس کو کہئیے
مرے رب کا احسان میرا وطن ہے

جہاں جاؤں اس کا حوالہ بنوں میں
ظفرؔ میری پہچان میرا وطن ہے


خاصی لمبی سی ناک ہے میری
اثر انگیز ٹاک ہے میری
ساری دنیا پہ دھاک ہے میری
اور گھر میں فلاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

زعمِ مردانگی کا پھیر بھی ہے
یہ زبر کچھ جگہوں پہ زیر بھی ہے
پیشِ زوجہ تو تیرا شیر بھی ہے
دم ہلانے میں ٹاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

جب بھی سسرالہوں میں گھرتا ہوں
کن پشیمانیوں سے چرتا ہوں
سارے سسروں کو دیتا پھرتا ہوں
اپنی گردن کا ناپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

یہ جو اک قیدِِ خانگی ہے مری
اپنی قسمت سے دل لگی ہے مری
’’زندگی خوب کٹ رہی ہے مری‘‘
راگ تو بھی الاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح

دل میں ویسے تو کیا کیا پکتا نہیں
صبر کرنے سے پھر بھی تھکتا نہیں
ہائے! فدوی نکال سکتا نہیں
اپنے اندر کی بھاپ سب کی طرح
میں بھی شوہر ہوں آپ سب کی طرح


تجھ سے ملنے کو آیا تھا میں
پر دکھائی دیا ہی نہیں
ایسی گردھند تھی ہر طرف
کچھ سجھائی دیا ہی نہیں

اب تو زیرو ہے حدِ نظر
تاکنا جھانکنا ہے عبث
چھوڑئیے ذعمِ دیدہ وری
خود کو بھی دیکھنا ہے عبث

دیکھ لو! ہر سڑک بن گئی
غافلوں کے لئے سیخ بھی
چرچراہٹ بریکوں کی ہے
اور گونجی ہے اک چیخ بھی

کس کی گردن ہے کس کی چھری
تجھ کو تھوڑا سا اندازہ ہے؟
علتیں ہیں بھرے پیٹوں کی
اور غریبوں پہ خمیازہ ہے

مجھ سے کیا پوچھتی ہے ارے!
دین کس کی ہے گردھند بھی
تیرے آباء کے کھلیان ہیں
تیرے ابے کی ہے فیکٹری

یہی مخزن خرابی کے ہیں
قہر میں زندگی جن سے ہے
زہر سارا ہے اِن کا دیا
ساری آلودگی اِن سے ہے

مقتدر لمبی تانے ہیں کیوں؟
ذمہ داری اُٹھائے کوئی
کوئی تو کھینچے حدِ جنوں!
ان سے بھی جا کے پوچھے کوئی