نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری نثر

یادش بخیر،غالباً اُس وقت میری عمر یہی کوئی بارہ برس تھی، میرے ایک دوست ضیا معین نے مجھے ایک رسالہ تھمایا اور پڑھنے کی پُر زور سفارش کی۔ اُس رسالے کا نام ’’ماہنامہ قہقہہ‘‘ تھا۔یہ رسالہ اُردو طنز و مزاح کا عظیم مرقع تھا اور یہ پہلا موقع تھا جب مجھ پر منکشف ہوا کہ پاکستان میں اُردو طنز و مزاح کا ایک مکمل رسالہ بھی کہیں شائع ہوتا ہے۔  اُس دن کے بعد میں ہر ماہ اپنے جیب خرچ سے یہ رسالہ خریدا کرتا تھا۔ بعد میں یہ رسالہ مختلف ناموں کی پٹڑی پر چلتا ہوا ’’تیس روزہ چاند‘‘ کے نام سے طلوع ہوا اور اِسی نام کے ساتھ پھر غروب بھی ہوا۔

’’تیس روزہ  چاند‘‘ میں مجھے بہت سے ایسے اہلِ قلم نے متاثر کیا جو مسلسل کئی برسوں تک پوری تندہی سے لکھتے رہے اور اِن میں بعض لکھنے والوں نے اِتنا اچھا مزاح تخلیق کیا کہ آج بھی چاند کے گزشتہ شمارے کھولتا ہوں تو جیسے کھو سا جاتا ہوں۔اِنہیں میں ایک نام سید ارشاد العصر جعفری کا بھی ہے۔

ارشاد صاحب نے چاند میں خاصی چاند ماری کی۔کم از کم مجھے ہر ماہ جن اصحاب کی تحریروں کا انتظار ہوتا تھا اُن میں  اِن کا نام بھی شامل تھا۔ اِنہوں نے چاند میں خاصے معرکے کی چیزیں لکھی ہیں۔ قیس چلبلائی اس کی ایک جھلک ہے۔ جیسا کہ کتاب کے آخر میں ارشاد صاحب نے ایک نوٹ میں واضح طور پر اس امر کی نشاندھی کی ہے کہ:

’’ 1990سے 1994 تک ہم میٹرک اور ایف اے کے سٹوڈنٹ تھے اسی زمانے میں ہم پاکستان بھر کے دیگر رسائل کے ساتھ ساتھ مزاحیہ ماہنامے ’’ چاند‘‘ میں بھی ذوق و شوق سے لکھتے تھے۔یہ ناول انہی چھوٹی چھوٹی تحریروں کو ربط دے کر تیار کیا گیا ہے۔‘‘

  اگر چہ ارشاد صاحب نے ’’قیس چلبلائی ‘‘ کی تجسیم میں بہت سی ایسی تحریروں کا مسالا گوندھ گوندھ کر ملایا ہے جو مختلف اوقات میں لکھی گئی ہیں اور جن کا ماحول بھی ایک دوسرے سے قطعاً مختلف تھا لیکن اُنہوں نے اِس مہارت سے اِن تمام مختلف تحریروں کو ایک لڑی میں پرویا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس ہار کے پروئے جانے والے موتی مختلف رنگوں کے حامل ہیں۔ مختلف ادوار میں لکھے گئے واقعات پر کسی ایک کردار کا کمبل ڈالنا ارشاد صاحب کا ہی کام ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہلکھے جانے والے واقعات قیس چلبلائی کے کردار سے مبرا ہو کر لکھے گئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بھی ارشاد العصر جعفری کا ایک منفرد کارنامہ ہے جو اُن کی ہم جہتی شخصیت کا ایک اور دریافت کردہ رنگ ہے۔

اُردو ادب میں  ایک مکمل مزاحیہ ناول کا لکھا جانا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہت سے مزاحیہ ناول لکھے جا چکے ہیں۔ اُردو طنز و مزاح کے لئے ’’اودھ پنچ‘‘ کا دور ایک سنہرا دور ہے۔ اس دور میں ادوھ پنچ کے لکھنے والوں نے بہت سے ایسے طویل ناول لکھے ہیں جو اودھ پنچ میں قسط وار شائع ہوئے ہیں اور پھر بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ منشی سجاد حسین کا ناول ’’تمیز الذین‘‘ تو ریختہ ڈاٹ کام پر بھی موجود ہے۔بعدازاں بھی بہت سے ایسے شگفتہ بیان ناول نگار گزرے ہیں جنہیں بلا مبالغہ طنز و مزاح پر مبنی ناول نگار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں شوکت تھانوی کا ذکر نہ کیا جائے تو موضوع کے ساتھ سراسر ناانصافی ہو گی۔ شوکت تھانوی نے اسی (۸۰) کے قریب ناول تخلیق کئے ہیں جو بظاہر رومانوی تھے لیکن شوکت تھانوی کے شگفتہ اور برجستہ اندازِ بیان نے اِن ناولوں کو طنز و مزاح کی ایک  ایسی طرز تغویض کی تھی جو اسے بلامبالغہفکاہیہ ناول کے درجے پر فائز کرتا ہے۔شوکت تھانوی کا یہی شگفتہ اندازِ بیان اور برجستگی ہے جس کی بناء پر اُنہیں اُردو ادب کا ’’پی جی ووڈ ہاؤس‘‘ کہیں تو بیجا نہ ہو گا۔اسی طرح ابنِ صفی (اسرار احمد، طغرل بوغا) کا ناول ’’تزک دو پیازی‘‘ بھی ایک خاصے کی چیز ہے۔ابنِ صفی کے سری ادبی رجحانات کے برعکس یہ ناول مکمل طور پر فکاہیہ ہے ۔ اس ناول میں ابنِ صفی صاحب کے فکاہی جوہر کھل کر سامنے آئے ہیں ۔

موجودہ دور میں گلِ نوخیز اختر کے ناول’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ کو فخریہ طور پرفکاہی ناول کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ارشاد العصر جعفری کا ناول ’’قیس چلبلائی‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اِن دونوں ناولوں کے مصنفین میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق مرحوم ’’چاند‘‘ سے رہا ہے۔

’’قیس چلبلائی‘‘کا نام ہی  اپنے آپ پر ایک طنز ہے۔ قیس چلبلائی کا کردار نام کا تو قیس ہے اور آپ کو قیس کا احوال معلوم ہے کہ بی بی لیلیٰ کے عشق میں دیوانہ ہو گیا تھا، اور کوئی اور حُسن اُسے متاثر نہیں کر سکا تھا، جبکہ قیس چلبلائی صاحب ایک مکمل فلرٹ کردار ہے جس کا نظریۂ عشق اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے کہ:

تُو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ظالم کا بچہ تمام ناول کے دوران محبوباؤں کو یوں بدلتا رہا ہے جیسے شیر خوار بچہ سارا دن پوتڑے بدلتا رہتا ہے۔یہ آج کل کے عشاق پر ایک بھرپور طنزبھی ہے۔ آجکل کے عاشق اگرچہ  دعویٰ تو اس امر کا کر رہے ہوتے ہیں کہ اُنہیں’’لوریا (LOVERIA)‘‘ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، لیکن اُن کی نظریں ہمہ اوقات اس چکر میں کلی کلی منڈلاتی پھرتی ہیں کہ:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہیہ ناول بہت سی خودمختار کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ناول کی ساری کہانیاں قیس چلبلائی  کے کردار کے گرد بھنگڑا ڈالتی نظر آتی ہیں۔قیس صاحب ہمہ اوقات راجہ ِاندربنے بیٹھے نظر آتے ہیں اور لڑکیاں موصوف کے گرد یوں امڈی پڑتی ہیں جیسے پتنگیں بجلی کی تاروں میں پھنسی نظر آتی ہیں لیکن انجامِ کار قیس صاحب کی محبت کا ہما ’’آفرین ‘‘ کے سر پر ہی بیٹھتا ہے۔ باقی سب لڑکیاں تو جیسے منزل نہیں بلکہ ’’راہگذر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مصنف نے مختلف النوع کہانیوں کو اس خوبی سے ناول کی وحدت دی ہے کہ وہ ایک مکمل ناول لگتا ہے۔

’’قیس چلبلائی‘‘ کا آغاز ہی اس انداز سے کیا گیا ہے کہ ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ در آتی ہے:

’’آج دل نے ایک نئی فرمائش کر دی۔

 ’’قیس صاحب۔ گالیاں تو سنیں‘‘

دل کی اس فرمائش پر ہم نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں کہ کوئی ایسی ہستی نظر آئے تو دل کی فرمائش پوری کی جائے لیکن ابھی اردگرد کوئی بھی ایسی ہستی موجود نہیں تھی۔

ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارے دل کی اس فرمائش پر آپ کے ماتھے پر سلوٹیں ابھر آئی ہیں اور شاید آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ دل کی یہ کیسی فرمائش ہے۔ تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ ہمارا دل ہے۔ یعنی قیس چلبلائی ۔ ایم ایس سی۔ سڑکیات۔ ڈی ایس سی۔ آواریات۔ یونیورسٹی آف عشقیات۔ یہ دل کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کی فرمائش کر سکتا ہے۔‘‘

بقول شاعر:

چاول کا ایک دانہ دیگوں کی مخبری ہی

ارشاد العصرجعفری کا یہی چُلبلاپن پورے ناول میں پھلجڑیاں چھوڑتا نظر آتا ہے۔

یہ ناول خالصاً تفریحی نقطہ نظر سے لکھا گیا ہے اور اسے اسی انداز میں لیا جانا چاہیئے، یہ میرا نقطۂ نظر ہے تاہم وہ اصحابِ دور اندیش و علم و فن جن کیآنکھوں میں قدرت نے ایکسٹرا لینز کی بصیرت فٹ کی ہوئی ہے اور جو بوسے میں بھی فلسفہ تلاش کر لیتے ہیں، انہیں اس ناول میں نصیحت و سبق حاصل ہو تو فدوی کچھ کہنے سے عاجز ہے۔

اِس ناول کا ماحول بھی ہمارے معاشرے کے عمومی رویے کے برعکس ہے۔ مصنف نے اس ناول میں تذکرہ کرنے کے لئے معاشرے کی اُن چیدہ چیدہ خصوصیات کا احاطہ کیا ہے جو مزاح نگاروں کا پسندیدہ موضوع رہی ہیں تاہم حقیقی معاشرے کی مکمل تصویر کا احاطہ نہیں کرتی۔ ناول کی تمام بیویاں شہ زور، تمام شوہر فرمانبردار اور مظلوم، تمام لڑکیاں مکار اور دھوکے باز اور تمام لڑکے دل پھینک اورٹھرکی ہیں۔ اس رویے کو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر ایسا ہوتا تو پنجاب اسمبلی سے ہمارے ملک کی مراعات یافتہ مخصوص کلاس کی نمائندہ خواتین ’’حقوقِ نسواں ایکٹ‘‘ کے نام پر ایسا قانون منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو جاتیں اور وہ بھی اس انداز سے کہ سیاست کے شیر بھی اُن کے پیچھے اپنی اپنی دُمیں ہلاتے پھریں۔اس ایکٹ کا انجام تا دمِ تحریر دو تین طلاقوں پر منتج ہوا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس ناول کو تفریحی نقطۂ نظر سے پڑھا جانا چاہیئے اور اسی انداز میں لیا جانا چاہیئے۔

ارشاد العصر جعفری نے اس ناول کی اُٹھان اس خوبصورتی سے رکھی ہے کہ دیکھا چاہیئے۔ واقعات کی رنگین بیانی کے ساتھ ساتھ مکالمات میں برجستگی اور بیساختہ پن اسے نہایت دلچسپ بنائے رکھتا ہے اور یہ اندازِ تحریر اول تا آخر برقراررکھا گیا ہے۔ذرا ناول کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

’’اچھا جناب۔ اب مجھے اجازت دیں‘‘…… ہمارا نام رجسٹر پر درج ہونے کے بعد ابا نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں۔ قیس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی۔ جس قدر چاہیں اس کی پھٹنی لگائیں‘‘…… انہوں نے کہا۔

’’ابا جی۔ گوشت کس کے حصے میں جائے گا‘‘…… ہم نے  نہایت معصومیت سے پوچھا، انہوں نے ہمیں گھور کر دیکھا۔

’’خاموش۔ نالائق گدھا‘‘…… ابا نے ہمیں ڈانٹ دیا۔ دراصل ابھی چند دن پہلے گھر میں بکرا ذبح ہوا تھا تو ابا جی نے ہڈیاں محلے میں تقسیم کر دی تھیں۔ گوشت گھر میں رکھ لیا تھا اور کھال ایک ہزار میں بیچ دی تھی۔

’’ابا جی۔ استاد صاحب سے ہماری کھال کے پیسے تو لیتے جائیں‘‘…… ابا جانے لگے تو ہم نے پیچھے سے انہیں آواز دی۔ ابا رکے، انہوں نے مڑ کر ہمیں ایسی نظروں سے دیکھا کہ ہم فوراً ہی سہم گئے اور ہم نے گردن جھکا لی۔‘‘

’’قیس چلبلائی‘‘طنز و ظرافت کا حسین مرقع ہے۔ اس میں بیساختہ مسکراہٹ بکھرنے والی سچوئیشن بھی ہے اور مکالمات کی بیساختگی اور لطافت بھی۔ قیس چلبلائی کا یہ اقتباس اسی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔

’’قیس۔ تم کتنے بہادر ہو؟‘‘…… نائلہ نے پوچھا۔

’’بہت‘‘…… ہم نے اکڑ کر کہا۔

’’ویری گڈ۔ پھر کام بن گیا۔ میں نے جن قابو کرنے کا ایک آسان طریقہ حاصل کیا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ انسان بہادر اور ذہین ہو۔ مجھے یقین ہے کہ تم جن قابو کر لو گے‘‘…… نائلہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

’’معاف کرنا۔ اگر جن قابو کرنا ہے تو پھر میں بہادر نہیں ہوں بلکہ مجھ جیسا بزدل پورے ملک میں نہیں ہو گا‘‘…… ہم نے منہ بنا کر کہا۔

’’قیس ڈئیر۔ تم بزدل نہیں ہو۔ ایک دم بہادر ہو۔ بھلا ایک بہادر بیوی کا شوہر بزدل کیسے ہو سکتا ہے‘‘۔۔۔ نائلہ نے کہا۔

’’میں آج تک تمہیں قابو نہیں کر سکا جن کیسے قابو کر سکتا ہوں‘‘…… ہم نے بدستور منہ بناتے

ہوئے کہا۔

’’بیوی کو قابو کرنا مشکل ہے۔ لیکن جن قابو کرنا بہت آسان ہے۔ تم جن قابو کرلوگے۔ ہاں‘‘…… اس نے کہا۔‘‘

یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک فکاہی تخلیق کار ہو اور طنز کی چٹکیاں نہ بھرے۔ معاشرے کی غیر ہمواری کی نشاندھی کرنا ہر فکاہی ادیب و شاعر کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہنسی ہنسی میں کوئی ایسی بات کہہ جانا جس سے معاشرے کی ناہموار کی طرف اشارہ بھی ہو جائے اور تلخ بیانی کا ارتکاب بھی نہ ہو، ایک اچھے مزاح نگار کی امتیازی خصوصیت ہوتی ہے۔ ارشاد العصر میں یہ وصف بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ باتوں ہی باتوں میں طنز کی ایسے ایسے نشتر چھبو جاتے ہیں کہ دیکھا چاہیئے۔


خادم حسین مجاہدؔ نے اور بہت سوں کی طرح اپنی کتاب ’’قلم آرائیاں‘‘ کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے ’’مزاحیہ مضامین‘‘، میں اس طرح کی پیشانیوں کو قارئین کیلئے پریشانیاں سمجھتا ہوں۔ ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ہاتھ ہو چکا ہے۔ کنگلے زمانے یعنی زمانۂ طالب علمی میں،میں ایک ایسی ہی کتاب خریدکر لایا تھا جس کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا ’’انشائیوں کا مجموعہ‘‘۔ بہت سے شاداب اور خوش باش انشائیہ نگاروں کے انشائیے پڑھ کر میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ بھی کوئی ویسی ہی کتاب ہو گی جسے پڑھ کر میں دل پشوری کر سکوں گا لیکن باپ رے باپ، صفحۂ اوّل تا آخر، فلسفے اور ثقیل نگاری کے ایسے طوفانِ بدتمیزی سے سابقہ پڑا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اب کسی کتاب کے سرِ ورق پر کوئی اس قسم کا اعلان دیکھتا ہوں تو دوکاندار کی گھوریوں کی پرواہ کئے بغیر یہ اطمینان ضرور کر لیتا ہوں کہ واقعی درست لکھا گیا ہے یا سیاست بھگاری گئی ہے۔ خادم حسین مجاہدکو اپنی کتاب کے سرِ ورق پر ’’مزاحیہ مضامین‘‘ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی، سرِ ورق پر اُن کا نام ہی کافی تھا۔خادم کے پہلو بہ پہلو مجاہد کا لفظ دیکھ کر پڑھنے والوں کو پتہ چل جاتا کہ واقعی یہ مزاحیہ مضامین کی کتاب ہے۔

 ’’قلم آرائیاں اور ’’دست و گریباں‘‘ زندہ دلی کے مکمل نسخے ہیں جنہیں معاشرے کا کوئی بھی حکیم یا ڈاکٹر پورے تیقّن سے امراضِ قلب میں مبتلا اور قنوطیت کے شکار مریضوں پر آزما سکتا ہے، انشاللہ اُسے کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ شوخ بیانی، طنز و استہزا،بشاشت ، ظرافت، رمز، ایجاز، مخول، ٹھٹھا، سخن چینی، نقطہ چینی، تفنّن کیا نہیں ہے اِن کتاب میں ، لیکن یہ بات بھی دل پر ہاتھ رکھ کر تسلیم کرنی پڑے گی کہ اِن سب گھوڑوں کی لگامیں ہمیشہ اور ہر جگہ خادم حسین مجاہدؔ کے نہایت مضبوط ہاتھوں میں محسوس ہوتی رہی ہیں،اُن کی جانب سے ذراسی بھی ڈھیل کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اُن کی ظرافت میں بے سمتی بھی نہیں ہے۔ ہر تحریر ایک واضع پیغام دیتی نظر آتی ہے۔ واشگاف اور صحافت کی زبان میں ’’مبینہ طور پر‘‘، ہرتحریر میں فلیش لائٹ براہِ راست اور مکمل طور پر موضوع پرمرتکز ملتی ہے لیکن اس قدر سادگی میں بھی پُرکاری دیکھی جا سکتی ہے، ٹو دی پوائنٹ ہو کر بھی تحریر کے ہزارہا پہلو دانت نکالے نظر آتے ہیں، ضیا ء الحق قاسمی مرحوم نے اُن کے بارے میں کیا خوب فرمایا ہے :

’’وہ ایک خیال پر ایک تحریر نہیں لکھتے بلکہ ایک تحریر میں کئی خیال پیش کرتے ہیں۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ مزاح لکھنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اِس کے لئے ایک توخود لکھنے والی کی فطری خوش طبیعی کا عمل دخل ہوتا ہے اور دوسرا یہ بھی لازم ہے کہ اُس میں معاشرتی، معاشی، سیاسی، عمرانیاتی  غرض یہ کہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں موجودناہمواریوں اور بے اعتدالیوں سے مفاہمت کا جذبہ نہ ہو اور وہ اُس کو اُسی نظر سے دیکھتا ہے جیسے بیوی سوتن کو دیکھتی ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ  کامیاب مزاح نگاری کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ کسی وقوعے پر اپنی  شدیدذاتی ناپسندیدگی کے باوجود اپنے شدید ردِعمل کو قابو میں رکھ کرنہایت نفاست سے چٹکیاں لے کر موضوع سے انصاف کرے۔ ہمارے مجاہد کے لئے  تو لگتا ہے کہ مزاح لکھنا خالہ جی کا گھر ہے۔کسی بھی موضوع پر خامہ فرسائی کر رہا ہو، اس قدربیساختگی اور روانی سے چٹکلے چھوڑتا ہوا بہتا جاتا ہے کہ راوی کے بہاؤ کا سماں بندھ جاتا ہے۔اُن کے نشتروں کی کاٹ اور تیزی کسی بھی موڑ پرکند نہیں لگتی ۔

 ہمارے دفتر میں تین افراد پر مشتمل ایک بھانڈ گروپ ہے جس کا کام بقول شخصے بلا انصاف تمام لوگوں کی لباس دری کرنا ہے۔ اِن تینوں بھانڈوں کو نقالی پر اس قدر عبور حاصل ہے کہ دیکھا چاہیئے۔اہلِ مجلس کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتے ہیں، اُن کی اِس قدر پُرلطف محفل سے کوئی بھی اُٹھ کر جانا نہیں چاہتا۔محفل سے اُٹھ کرجانے کا مطلب ہے کہ محفل کا موضوع بننا یا ’’جگتوں کا نشانہ‘‘ بننا، جس کے لئے کسی کا بھی ظرف راضی نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس طرح وہ کچھ دیر قبل دوسروں کی ’’لباس دری‘‘ پر ہنستا رہا ہے، دوسرے بھی اُس کا ٹھٹھا اُڑانے میں اِسی خشوع و خصوع کا مظاہرہ کریں گے۔یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں پر تو خوب لطف اندوز ہوتا ہے لیکن جب خود اُس کی کمزوریوں کا مذاق اُڑایا جائے تو اُس کا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ خادم حسین مجاہد اِس کا قطعاًقائل نہیں۔ وہ دوسروں کی طرح خود اپنے آپ پر بھی ہنسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ خود اپنی برادری ’’ادیبوں‘‘ پر قلم آرائیاں میں ایک پورا مضمون ملتا ہے جو اُنہوں نے غالباً آئینے کے سامنے بیٹھ کر لکھا ہے۔ اپنی قلمکاریوں پر اس قدر نفاست سے خنجر آزمائی کی ہے جیسے اکبر الٰہ آبادی نے اپنے ایک شعر میں اپنے آپ کو لہولہان کیا ہے:

بھیا رنگ یہی ہے اچھا

ہم بھی کالے یار بھی کالا

’’قلم آرئیاں‘‘ میں ایک مضمون قلم قبیلہ میں ’’ادیب‘‘ کی تعریف میں خادم حسین مجاہد لکھتا ہے:

’’خود کو جینئس سمجھنے والا ایک کھسکا ہوا انسان جو اس خوش فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ معاشرے کو بذریعہٗ قلم سدھار لے گالیکن یہ بیچارہ خود کو بھی ساری عمر سدھار نہیں سکتا۔‘‘

بہت سے مزاح نگاروں کا طریقۂ واردات ہی الفاظ سے کھیلنا ہے۔ وہ کسی بھی بات سے یوں بات نکالتے ہیں جیسے سیاستدان خیر کے کاموں سے بھی اپنی آف شور کمپنیوں کے لئے سرمایہ۔محض اِسی ہتھیار کو استعمال کرکے بہت سے مزاح نگاروں نے خود کو مشفق خواجہ،یونس بٹ، انور مقصود ،گلِ نوخیز اختر وغیرہ بنا ڈالا ہے۔ خادم کا ترکش بھی رعایت لفظی کے اِن تیروں سے خالی نہیں۔ وہ باتوں ہی باتوں میں انتہائی معصومیت سے ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ بندہ بیساختہ ہنس دیتا ہے۔ مثلاً اپنے ایک مضمون ’’انگریزی اور ہم دیسی‘‘ میں وہ یوں چٹکیاں بھرتے ہیں۔

مجھے ایک دفعہ ان کا انگریزی اردو مکس میسج ملا تو میں نے سر پیٹ لیا۔ لکھا تھا’’ کل میری میرجmarriage کی برتھ ڈے birthday ہے آپ کی دعاؤں کا ویٹweight کروں گا۔‘‘ شادی کی سالگرہ کا ترجمہ جو انہوں نے اینی ورسری کی بجائے برتھ ڈے (یوم ِپیدائش ) سے کیاا س کی صحیح دادتو کوئی انگریز ہی دے سکتا ہے۔ہم تو حیران تھے کہ شادی کی پیدائش کا دن بھی ہوتا ہے اور پھر انتظار کرنے کے لئے weight  واہ۔

الفاظ کے اُلٹ پھیر سے نئے مضحک و ظریفانہ مفہوم نکالنے کو پیروڈی یا تحریف کہا جاتا ہے۔اُردو ادب میں مزاحیہ شاعروں نے کثرت سے تحریفیں لکھی ہیں لیکن ہماری نثر کا دامن بھی تحریف سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، عطا الحق قاسمی، یونس بٹ وغیرہ نے تحریف نگاری کے کامیاب تجربے کئے ہیں۔خادم حسین مجاہدؔ بھی اس میدان کا مجاہد ہے۔اُن کی کتابوں قلم آرائیاں اور دست و گریبان میں جابجا اس کی مثالیں ملتی ہیں۔’’قلم آرائیاں‘‘ کی تحریر ’’ادبی اجلاس‘‘ اس سلسلے کا ایک عمدہ نمونہ ہے، جس کا ایک ابتدائی قاشہ پیشِ خدمت ہے۔

’’خواتین و حضرات! بزمِ ادب کے زیرِ انہدام اس یتیم الشان ادبی محفل میں بادل صحرائی بجلی پوری پورے زور سے کڑکتے ہوئے آپ کو خوش آمدید کہنے کی جسارتِ عالیہ کی جسارت کر رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی کانوں میں روئی دے کر پُر امن طریقے سے تشریف فرما رہیں گے اور ہمیں ہماری حماقت کا احساس نہیں دلائیں گے۔‘‘

عموماً طنز و ظرافت کا استعمال ایک ساتھ ہوتا ہے اور اِن دونوں میں امتیاز نہیں برتا جاتا حالانکہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ظرافت خالص مزاح ہوتا ہے جس سے پڑھنے والوں کو ہنسانا مقصود ہوتا ہے، اس میں کسی پر چوٹ نہیں کی جاتی جبکہ اس کے برخلاف طنز تیز اورچبھتے ہوئے خفتہ معنی رکھتا ہے لیکن اس میں ہجو کی طرح کثافت اور زہر بھرا ہوا نہیں ہوتا۔ اسے تنقید کی جڑواں بہن بھی کہا جا سکتا ہے، تاہم یہ اُس کی خاصی لڑاکا بہن ہوتی ہے اس لئے اس میں کاٹ اور بے اعتدالی بھی زیادہ ہوتی ہے۔خادم حسین مجاہد کے ہاں طنزیہ اندازِ فکر جا بجا ملتا ہے۔اُن کی ایک تحریر’’از نوابی تا قصابی‘‘ کی اختتامی سطوراس اسلوب کی ایک  عمدہ مثال ہے۔

’’ آج ہمارا ایک عالیشان گھرہے۔ایک قصاب مارکیٹ ہے اور اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ بیسیویں گریڈ کے افسر ہم سے قرض لینے آتے ہیں ۔ہماری بیٹی کسٹم میں آفیسر ہے،ایک بیٹا پولیس میڈ ہے اور دوسرا ڈاکٹر ہے۔یوں ہماری اولاد جدید بنیادوں پر ہمارے پیشے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔‘‘

خادم کے مزاح میں ’’تفنّن‘‘ کے اسلوب کی بہت اعلیٰ شکل موجود ہے۔ اُنہوں نے بہت سے بزرگانِ سخن کے ساتھ چہلیں کی ہیں۔اس سلسلے میں اُن کا مضمون ’’مرزا غالب‘‘ بھی خاصے کی چیز ہے۔اس میں وہ رقم طراز ہے۔

جب اُنہوں نے دیوان مرتب کیا تو اپنی رنگین جوانی کی سنگین شاعری کا بیشتر حصہ حذف کردیا۔ اس کے باوجود ان کا چھوٹا سا دیوان دوسرے شاعروں کے بڑے بڑے دیووئں کو ناک آؤٹ کردیتا ہے، کیونکہ غالب کے معیار پر پرکھا جائے تو کئی لوگوں کے دیوان کے دیوان حذف کرنا پڑیں گے، مگر مرزا کا انکسار ملاحظہ فرمائیں کہ پورا اردو دیوان مومنؔ کے ایک شعر کے بدلے دینے کو تیار ہوگئے، وہ تو شکر ہے مومنؔ صاحب اس تبادلے پر راضی نہیں ہوئے ورنہ آج ہمیں غالبؔ کے بجائے مومنؔ کو چھیڑنا پڑتا اور پھر نجانے ہمارا کیا انجام ہوتا۔

خادم حسین مجاہد پیشے کے لحاظ سے ہی اُستاد نہیں، ادیب بھی  بڑا اُستادقسم کا ہے۔ اپنی نصابی اوزار کو مزاح نگاری میں بھی کھینچ لانا اُنہیں کا بودا ہے۔ اپنے بالغ شاگردوں کے لئے نمونے کی عرضی نویسی، خطوط نویسی،معاشرے کے مختلف طبقات کے لئے امتحانی پرچے وضع کرنا اُنہیں کا کمال ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ اگر آپ بیک وقت قہقہہ،زیرِ لب تبسم، بدیہہ گوئی، موشگافیوں ، ٹھٹھا بازیوں، چکلس، خندہِ استہزا اور اسی طرح کی دوسری ظرافت نگاریوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں خادم حسین مجاہدؔ کی کسی بھی تحریر کا مطالعہ آپ کی صحت کے لئے ازحد مفید ہو گا۔


احمدؔ علوی کے نام پر ذہن میں ازخود ایک ایسے بچے کا تصور ابھرتا ہے جس کی شربتی آنکھوں میں شوخی اور الہڑ پن لشکارے مار رہا ہے۔اُس کے ہاتھوں میں بہت سی پھلجڑیاں ہیں جسے وہ زمانے کی بسیط ظلمت میں لے کر نکلا ہے۔ اُس کی پھلجڑیوں سے رنگ برنگے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔وہ زمانے کے ملگجے اندھیروں میں طرارے بھرتا پھر رہا ہے۔ جہاں جہاں جاتا ہے، گونا گوں قسم کی روشنیوں کے ننھے ننھے ستارے بکھیرتا چلا جاتا ہے۔بہت سے لوگ قلانچیں بھرتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔ وہ سب لوگ اُن رنگ برنگی روشنیوں کے ستارے چُن رہے ہیں اور خوشی سے قلقاریاں مار رہے ہیں۔ ہر طرف موج میلہ ہے اور اس موج میلے کا مرکزی کردار ہے احمد علوی۔
احمد علوی نام کا شوخ و شنگ بچہ محض سرمستی اور الہڑ پن سے دوڑتا نہیں پھرتا بلکہ بسا اوقات اُس کے انداز میں شوخی اور شرارت بھی عود کر آتی ہے۔جب کبھی بھی زمانے کے بدصورت اور تاریک چہروں والے بھوتوں پر اُس کی نظر پڑتی ہے تو وہ اپنی رنگ برنگی روشنیوں والی پھلجڑی سونت کر اُن پر جھپٹ پڑتا ہے۔ بھوت روشنیوں کی یلغار سے خوفزدہ ہو کر اُلٹے قدموں پیچھے پلٹتے ہیں اور دوڑ لگا دیتے ہیں۔بچہ تاریکی کے بھوتوں کو بھاگتا ہوا دیکھتا ہے تو خوشی سے کھلکھلا اُٹھتا ہے ۔ اُس کی مترنم کھلکھلاہٹوں کی لے پر پھلجڑیوں کے رنگ برنگی روشنیوں والے ستارے رقص کرنے لگتے ہیں اور ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ چاند بھی بادلوں کا لحاف ہٹا کر بڑی دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھنے لگتا ہے۔
آپ میری اس خیال آرائی کو محض میری fantasy سمجھ سکتے ہیں لیکن یقین کیجئے کہ میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ وہ ظرافت نگار جو مستقل اپنے چلبلے فن کی شمع جلائے ہوئے ہیں،مستقل اسی طلسمِ ہوشربا کا حصہ ہیں اور احمد علوی اُنہیں میں سے ایک ہے۔
احمد علوی ایک ایسا خوش فکر شاعر ہے جو اپنے اندازِ فکر کی لطافت سے ایسی انبساط آگیں کیفیت پیدا کر دیا ہے جو پڑھنے والوں کی توجہ کو مقناطیس کی مانند کھینچتی ہے۔اُن کے ہاں زبان و بیان کے ساتھ ساتھ اندزِ بیان میں بھی ندرت موجود ہے۔ وہ جس موضوعِ سخن کا انتخاب کرتے ہیں، اُس سے پورا پورا انصاف کرتے ہیں۔ وہ بڑی سنجیدگی اور تواتر کے ساتھ ادبِ لطیفہ کی تخلیق میں مشغول ہے۔
اس کی نظموں اور غزلوں کے موضوعات میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مزاح گو شاعر اور سنجیدگی، یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ کسی متین بلکہ سنگین موضوع پر خامہ فرسائی کرنا اور اپنے اندزِ بیان سے اُسے رنگین بنادینا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کا بودا نہیں ؂
یہ اُس کی دین ہے جسے پروردگار دے
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کے اندازِ بیان کی شعوری و غیر شعوری شرارتوں سے کاوشوں میں موجود فکاہی عنصر پڑھنے والوں پر چھاتہ بردار فوج کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور اُسے مطالعہ کے بعد بھی ہینڈز اپ کئے رکھتا ہے۔ذرا اس قطعہ میں دیکھئے کہ وہ کس معصومیت،سادگی اور روانی سے کیسی کیسی پھلجڑیاں چھوڑے جاتے ہیں۔
لندن کو اُڑ گئے وہ ہنی مون کے لئے
میں لڑکیوں کو شعر سنانے میں رہ گیا
وہ خوش نصیب نسل بڑھانے میں لگ گیا
میں بد نصیب بچے کھلانے میں رہ گیا
الفاظ میں سلاست اور روانی ایسی ہے کہ پڑھنے والا بہے چلا جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اندازِ بیان کی سادگی اس کی ریڈر شپ کے اسکوپ کو خاصی متنوع بنا دیتی ہے، جیسے بعض کتابوں پر لکھا ہوتا ہے ’’چھ سے ساٹھ سال کے بچوں کے لئے۔‘‘
ان کے ہاں مزاح خالصاً آمد کا شاخسانہ ہے ۔ ان کی باغ و بہار شخصیت کی برجستگی اورشستگی اس کے فنی محاسن کی ازخود آبیاری کرتی ہے۔تاہم یہ آمد بھی دردمندی اور آگہی کے مسلسل ریاض کا پیشِ خیمہ ہوتی ہے۔موجودہ دور کی علاقائی سیاست اور سماجی پس ِ منظرمزاح گو شاعر کو ہجو اور استہزا کی جانب راغب کرتا ہے لیکن احمد علوی اس باب میں بھی فکری توازن کو برقرار رکھتا ہے ۔ اگرچہ بسا اوقات اُن کا لہجہ خاصا تلخ اور کھردرا بھی ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی اُن کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہے کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں۔ بادشاہ کی طرف ترت انگشت نمائی کر دیتا ہے کہ ’’بادشاہ سلامت، آپ ننگے ہیں۔‘‘
وہ بڑی بہادری اور جانفروشی سے معاشرے کے اُن منفی عناصر کو للکارتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔اِس موقع پر احمدؔ علوی اپنے قلم کو آتش فشاں کے بہتے ہوئے لاوے میں ڈبو لیتا ہے۔
سُرخ گجرات میں کیسر کی ہے رنگت یارو
کتنی مکروہ ہے ووٹوں کی سیاست یارو
یہ ہنر سیکھئے جاکر نریندر مودی سے
کس طرح ہوتی ہے لاشوں پہ حکومت یارو
(حکومت)
چھوڑ دے چھوڑ دے بڑ بولا پن
کچھ رکھا کر زبان پر قابو
کیا مصلّہ بچھاؤں تیرے لئے
ایک رکعت کا بھی نہیں ہے تو
(راج ٹھاکرے)
کچھ سمجھ ہے تو دھو کے میں مت آئے
یہ نہ ہندو کے ہیں نے مسلماں کے ہیں
باپ کو اپنے یہ باپ کہتے نہیں
یہ وفادار بس کرسی امّاں کے ہیں
(لیڈر)
یہ تو وہ احمد علوی ہے جو سماجی بھوتوں پر باآوازِ بلند’’لاحول‘‘ پڑھتا ہے لیکن ’’پن ڈرائیو‘‘میں ایک ایسا احمد علوی بھی دکھائی دیتا ہے جو بذلہ سنجی اور شوخ بیانی میں بھی فرد ہے۔باتوں باتوں میں ایسی دلچسپ بات کہہ جانے والا احمد علوی کہ سننے والا پھڑک اُٹھے۔
جب پڑوسن سے لڑ گئیں آنکھیں
کالا ایک اِک بال کر بیٹھے
پڑھے لکھے تو راکٹوں کے تجربے کیاکیئے
پہونچ گئے ہیں چاند پر لڈّن میاں جگاڑ سے
سو کوششوں سے آئے تھے چندیا پہ چار بال
’’دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں‘‘
بوب کٹ زلفیں کٹا لی ہیں مرے محبوب نے
کیسے شانوں پر لکھوں زلفیں پریشاں ہو گئیں
دوسرے طنز و مزاح نگاروں کی طرح طنزیہ اندازِ بیان بھی احمد علوی کا ایک امتیازی وصف ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جس مزاح نگار میں بلٹ اِن (builtin)طنز کے ڈنک نہ ہوں، وہ یا توبے مقصدمزاح نگارہے یا پھر وہ اپنے شعری وجدان میں درست سمت پر سفر نہیں کر رہا ہے۔ایک شاعر اپنے زمانے کے تمام مسائل اوردکھوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اُس کی شاعری ہر قسم کی تلخانہ شیرینی سے ناکوں ناک ہوتی ہے، تاہم ایک اچھا طنز نگار رہی ہے جو کسی معاشرے کی ناہمواری پر اس نیت سے نشتر آزمائی کرتا ہے کہ اُس کے ناسوروں کا علاج کر سکے۔
احمد علوی کا شعری اسلوب بھی طنز کے’’ اندازِ احتجاج‘‘ سے مزیّن ہے۔ پن ڈرائیو میں وہ جا بجا ناوک فگن نظر آتا ہے۔

ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیکر اردو سر ہیں کالج میں
غالب گاف سے پڑھنے والے لیکچرر ہیں کالج میں

اس کی قسمت بدل نہیں سکتی
ہاتھ میں ٹھیکرا ہی رہتا ہے
چاہے بن جائے وہ کروڑی مل
بھک منگا بھک منگا ہی رہتا ہے

وہ کانوینٹ گرل ہے کافی پڑھی لکھی
روداد حسب و نسب کی اب انسٹینٹ بھیج
رشتہ بنے گا بینک کا بیلینس دیکھ کر
تصویر نہیں بینک کا اسٹیٹمینٹ بھیج

اور اب ذراامریکی صدر براک اوبامہ کو امن کا نوبل انعام ملنے پر اُن کا یہ قطعہ ملاحظہ ہو:
سوچتا ہوں امن کا کیسے فرشتہ بن گیا
جس کا کلچر ہی ہمیشہ سے رہا بندوق کا
اَمن کا نوبل پرائیز مل گیا کیسے اُسے
قتل گردن پر ہے جس کی اَن گنت مخلوق کا
پن ڈرائیو میں جس صنفِ سخن کی مقدار سب سے زیادہ ہے وہ ہیں ان کے قطعات۔ اِس فن میں اِنہیں خصوصی تخصیص حاصل ہے۔قطعہ نگاری کا سب سے بڑا حُسن اس کی حقیقت نگاری ہے۔ شاعر کسی بھی واقعے کو بنیاد بنا کر چار مصرعوں پر مشتمل ایک خیال کو یکجا کرتا ہے۔ احمد علوی کے قطعات میں شْگفتگی،دلکشی اور تازگی پائی جاتی ہے۔اُن کے بعض قطعات ایسے بھی ہیں جس میں اُن کے اندازِ بیان نے آفاقیت بھرکر رکھ دی ہے۔
’’پرانا شعر ‘‘کے عنوان سے ان کا ایک قطعہ ملاحظہ کیجئے:
جتنے آل انڈیے ہیں ڈائس پر
سیڑھیاں شہرتوں کی چڑھتے ہیں
اِن کا استاد ہی نہیں کوئی
شعر سارے چرا کے پڑھتے ہیں
اِن کے قطعات طنز کی کاٹ سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ شگفتگی کی ایک دبیز تہہ بھی اس پر پڑی ہوئی ملتی ہے جس سے پڑھنے والے بہت حظ لیتے ہیں:
فرشتے بھی کلرکوں کی طرح ہوتے ہیں لا پروا
جو تخلیقِ خداوندی بھی سرکاری نکلتی ہے
یہاں پہچان ہو کیسے مونث اور مذکر کی
جسے نورا سمجھتے ہیں وہی ناری نکلتی ہی
پیروڈی لفظ پیروڈیا سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں جوابی نغمہ۔اس سے مراد ایسی ادبی طرز تخلیق ہے ،جس میں کسی نظم یا نثر کی اس طرح نقل کرکے مزاح کا رنگ پیدا کیا جاتا ہے کہ پیروڈی کا لفظی و بحری اہتمام جوں کا توں رہے، تھوڑے سے الفاظ کے رد و بدل یا تبدیلی سے مضمون میں ایسی مضحکہ خیزی پیدا کرنا ہے جس سے نفسِ مضمون کی ایسی کی تیسی ہو کر رہ جائے۔احمد علوی کو پیروڈی میں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔احمدؔ علوی کی پیروڈی میں یہی خاص بات ہے کہ وہ کسی فن پارے کی پیروڈی کرتے وقت پیروڈی کے جملہ لوازمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں جس سے اُن کی پیروڈی پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔پن ڈرائیو میں آپ کو بہت سی پیروڈیاں پڑھنے کو ملیں گی۔بھارت کا ایک مشہور فلمی گاناجب اِن کی فکرِ رساکے ہتھے چڑھا تو اس کا کیا حشر ہوا، ملاحظہ فرمائیے:
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
اچھّی طرح سکا ہوا شامی کباب ہو
۔۔۔
آنکھیں ہیں جیسے چہرے پہ قبریں کھدی ہوئی
زلفیں ہیں جیسے راہوں میں جھاڑی اگی ہوئی
جانِ بہار تم تو کباڑی کا خواب ہو
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
۔۔۔
ایسا نہیں کہ مرتے ہیں بس تم پہ نوجواں
آہیں تمہارے عشق میں بھرتے بڑے میاں
بدبو ہے جس میں شوز کی تم وہ جراب ہو
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
ایک اور فلمی گانے کی پیروڈی ملاحظہ ہو:
آپ کی نظروں نے سمجھا ووٹ کے قابل مجھے
ڈاکوؤں اور رہزنوں میں کردیا شامل مجھے
ماشاء اللہ آج تو تعلیم کا میں ہوں وزیر
کم سے کم اب تو نہ کہیئے اَن پڑھ و جاہل مجھے
توڑ دی ہیں میری ٹانگیں اس کے اباّ جان نے
اب بھی محبوبہ سمجھتی ہے مری کامل مجھے
دل بدلنے کے لیئے مجھ کو ملے ہیں دو کروڑ
دل کی اے دھڑکن ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے
کل میں ڈرتا تھاپلس سے اب ڈرے مجھ سے پلس
زندگی کی ساری خوشیاں ہو گئیں حاصل مجھے
پھر تو کر سکتا ہوں میں بھی چار سے چھے شادیاں
ساتھ میں بیوی کے مل جائیں اگر دو مِل مجھے

اِسی طرح ساحر لدھیانوی کی ایک معروف نظم کی پیروڈی بھی خاصے کی چیز ہے۔ اِس پیروڈی میں اُن کا جارحانہ رنگ ، بقول ایک پنجابی محاورے کے ’’بلیاں دے دے کر‘‘ جھلکیاں مار رہا ہے۔
یہ کھٹمل یہ مکھّی یہ مچھر کی دنیا
یہ لنگور بھالو یہ بندر کی دنیا
یہ کتّوں گدھوں اور خچر کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ عورت یہ مردوں یہ چھکّوں کی دنیا
نہتوں کی ہتھیار بندوں کی دنیا
یہ ڈاکو پولس اور غنڈوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ چوروں یہ لچّوں لفنگوں کی دنیا
یہ کمزوروں کی اور دبنگوں کی دنیا
تپِ دق کے بیمار چنگوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ بش جونیئر اور اوباموں کی دنیا
یہ امریکیوں کے غلاموں کی دنیا
یہ ملاّ عمر اور اساموں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جنابوں کی عزت مآبوں کی دنیا
یہ اچھوں کی دنیا خرابوں کی دنیا
یہ چمچوں کو ملتے خطابوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ بندوق کٹّوں طمنچوں کی دنیا
یہ فٹ بال کی اور کنچوں کی دنیا
خوشامد میں مشغول چمچوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہوائی جہازوں کی ریلوں کی دنیا
حوالات کی اور جیلوں کی دنیا
یہ ٹرکوں کی دنیا یہ ٹھیلوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
رئیسوں کی دنیا یہ کڑکوں کی دنیا
یہ بے کار آوارہ لڑکوں کی دنیا
ٹریفک سے بد حال سڑکوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
لطیفہ ایک چھوٹی سی حکایت کا نام ہے جس کے اثرات بہت مثبت ہوتے ہیں۔ بقول خواجہ عبدالغفور:
’’لطیفے کا یہ اعجاز ہے کہ روتوں کو ہنسا دے، مردہ دلوں کو زندہ دلی عطا کرے، قنوطیت اور یاسیت کو نابود کر دے، اعصابی تناؤ اور اضمحلال کو دور کر دے، یہ ایک شگوفہ ہوتا ہے لیکن عام فہم اور زود فہم۔ذرا سے میں موڈ بدل دے مزاج کو شگفتگی بخش دے۔‘‘
لطیفوں پر منظوم چھاپے مارنے کا بھی احمد علوی کا اپنا ہی انداز ہے۔ نہایت نپے تلے انداز میں لطیفوں کو یوں دبوچ لیتے ہیں کہ دیکھا کیجئے۔ذرا دیگ کی مخبری کے لئے چاول کا یہ دانہ تو ملاحظہ کیجئے:
یہ کہا میں نے پڑوسی سے مدد کر دیجئے
چند مہماں آگئے ہیں چارپائی چاہئے
چارپائی کے لئے قبلہ نے کر لی معذرت
اپنے گھر کی محترم نے یوں بیاں کی کیفیت
صرف دو ہی چار پائی ہیں مرے گھر میں جناب
رات بھر جن پر رہا کرتے ہیں چاروں محوخواب
ایک پر سوتا ہوں میں اور میرے ابّا محترم
دوسری پر میری بیوی اور مری امّی بہم
سن کے ان کی بات کو میں رہ گیا حیرت زدہ
بیش قیمت زندگی کیوں کر رہے ہو بے مزا
اس طرح ضائع جوانی کا نہ تم حصہ کرو
چارپائی دونہ دو پر ڈھنگ سے سویا کرو
آخر میں احمد علوی کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو جس میں قریب قریب ہر مزاح نگار کا الیہ بیان کیا گیا ہے۔
مذاق خود کا ہی خود کو اڑانا ہوتا ہے
اُداس چہروں کو مشکل ہنسانا ہوتا ہے
ہے پل صراط سے باریک راہِ طنزو مزاح
دیا ہواؤں کے رُخ پر جلانا ہوتا ہے


ہم چاروں وہاں موجود تھے۔۔۔۔ جارج’ سیموئیل ہیرس اور میں اورمونٹمورینسی بھی۔۔۔ اِس دھما چوکڑی کا نشانہ میرا کمرہ تھا۔ کمرہ سگریٹ کے دہوئیں میں گم تھا اور ہم سب باتوں میں گم۔ پریشان اور پژمردہ ۔۔۔ ہماری باتوں کا ایک ہی موضوع تھا۔۔۔۔۔ ہم کتنے بُرے ہیں ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے طبی نقطہء نظر سے ۔۔۔۔۔ آپ کچھ اور نہ سمجھ لیجئے گا۔
ہم سب بہت مضمحل تھے اور اپنی اس حالت کے بارے میں فکر مند بھی ۔۔۔۔ہیرس نے بتایا کہ بسا اوقات اُس کے جسم میں ایسی کپکپی طاری ہو جاتی ہے کہ وہ کرتا کچھ ہےے اور اُس سے ہو کچھ جاتا ہے۔ جارج نے بھی کچھ ایسی ہی کپکپی کا تذکرہ کیا اور یونہی کچھ کرنے کا اور کچھ ہو جانے کی شکایت کی۔۔۔۔۔۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو یہ کمبخت میرا جگر تھا جو خرابی پر آمادہ تھا۔۔۔۔ میں نے خود تشخیصی کے طور پر یہ جانا تھا کہ میرا جگر خراب ہے۔ دراصل میں نے ایک دواخانے کا مراسلہ پڑھا تھا جس میں اُن تمام علامتوں کی نشاندھی کی گئی تھی جو جگر کی خرابی کی غمّاز ہوتی ہے اور لگ بھگ مجھ میں یہ تمام علامتیں موجود تھیں۔
یہ غیر معمولی صورتحال سہی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں نے کبھی بلاوجہ کسی دواساز کمپنی کا اشتہار نہیں پڑھا جب تک مجھے اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ مجھے اس قسم کا مرض لاحق ہے جس کے لئے یہ دوا اکسیر ہے۔ لیکن یہ بھی ایک امرِ دیگر ہے کہ میں نے جس اشتہار کو بھی ملاحظہ کیا ہے اُس میں بیان کردہ ہر بیماری کو علامت کو اپنے اندر موجود پایا ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ میں اُن معمولی امراضِ کے بارے میں مطالعہ کے لئے برٹش میوزیم گیا تھا جس کے بارے میں مجھے شبہ تھا کہ میں اُن میں مبتلاء ہوں مثلاً موسمی بخار وغیرہ۔۔۔۔میں نے کتاب کھولی اور جو سامنے آتا گیا’ پڑھتا گیا۔اس دوران میں نے یونہی بے خیالی میں صفحہ پلٹا اور بلا سوچے سمجھےامراضِ معروضہ کے مطالعہ میں غرق ہو گیا اور یہ بھول ہی گیا کہ میں وہاں کس مقصد کے لئے آیا تھا’ کچھ انتہائی دل دہلا دینے والے امراض پر نظر پڑی جن کی تباہ کاریوں سے میں واقف تھا ۔ اُن کی پیش بینی کے لئے دی گئی علامتوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ سب مجھ میں موجود ہیں۔
میں ایک لمحے کے لئے سُن ہو کر رہ گیا لیکن پھر کسی خوف کے زیرِ اثر میں نے اگلے اُس کتاب کی مزید ورق گردانی شروع کر دی۔ میں ٹائیفائڈ بخار ر پہنچا اور اُس کی علامتوں کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ میں تو ٹائیفائڈ بخار میں مبتلاء ہوں’ اور وہ بھی کئی برسوں سے ‘ بغیر اس کا ادراک کئے’ یا الہٰی یہ مجھے ہو کیا گیا ہے اور کیا کیا ہو سکتا ہے؟ میں نے قترب یا رقصہ کے لئے صفحہ الٹایا’ تو پایا پایا کیا پایا’ جی ہاں۔۔۔۔میں قترب میں بھی مبتلا تھا۔۔۔۔ اب میں نے اپنے طبی کیس پر مزید تحقیق کا ارادہ کیا اور حروفِ تہجی کے لحاظ سے امراض کا مطالعہ شروع کر دیا۔ سب سے پہلے "جاڑے کے بخار” کی علامات پڑھیں’ تمام تر علامات مجھ میں موجود تھیں اور یہ کہ بیماری کی نازک اسٹیج اگلے چند دنوں میں آیا ہی چاہتی ہے۔ "برائٹ ” یا ضعفِ گردہ کے بارے میں پڑھا تو پتہ چلا کہ میں اس کی ارتقائی نوع کا شکار ہوں اور ایک دو برس تک جی سکتا ہوں۔ ہیضہ کی بیماری مجھے چند ایک پیچیدگیوں سمیت لاحق تھی اور خناق تو میری پیدائش سے میرے ہمراہ تھی۔ مسلسل چھبیس حروفِ تہجی کی بیماریاں مجھ میں موجود تھیں ۔ محض نقصِ طبع (ورمِ درجک) کی بیماری تھی جس نے مجھے بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔
اوۤل اوۤل تو اس امر نے مجھے پریشان ہی کر دیا کہ آخر یہ ورمِ درجک کی بیماری نے میرے ساتھ رعایت کیوں کر رکھی ہے۔ میں نے اس کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔کچھ دیر یہی ملامت کی کیفیت رہی لیکن اس کے بعد جب ذہن کچھ مزید سوچ بچارکے قابل ہوا تو میں خود کو خاصا مراعات یافتہ تصور کرنے لگا۔۔۔۔ یعنی میرا دامن کی وسعت ہر قسم کی بیماریوں کو سمیٹنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرا احساسِ تفاخر اپنی انتہاء کو نہ پہنچ سکا۔ آخر مجھ میں ورمِ درجک میں تو مبتلا نہیں تھا۔
تاہم "زاموسس” یا جراثیمی چھوت کی بیماری جو میری آگہی کو چیلنج کئے بغیر مجھ میں جانے کب سے در آئی تھی’ کے بعد کوئی ایسی بیماری طبی دنیا میں نہیں بچی تھی جو مجھ میں ہو۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ میں ایسی بہت سے بیماریوں سے بچا ہوا تھا جو ابھی دریافت نہیں ہو پائی تھیں۔
اب میں سوچنے لگا کہ اگر میں طبیبوں کے ہاتھ لگ جاؤں تو کتنا دلچسپ کیس ثابت ہوں گا۔میں ایک چلتا پھرتا ہسپتال ٹھہرا’ طب کے طالبعلموں کو ذیادہ تردد کرنے کی حاجت ہی نہیں ہو گی’ بس وہ میرا معائنہ کریں گے اور بیماریوں کے ایک عالم سے روشناس ہو جائیں گے۔ ڈگریاں وہیں کی وہیں انہیں تھما دی جائیں گی۔
اب یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ میری زندگی رہ کتنی گئی ہے میں نے اپنا جائزہ لینے کی ٹھا نی ۔ میں نے اپنی نبض پر ہاتھ دھرااوّل اول تو مجھے اپنی نبض میں حرکت عنقا ملی ۔ پھر اچانک وہ ہڑ بڑا کر چلنے لگی ۔ میں نے اپنی گھڑی اتاری اور نبض کی رفتار نوٹ کرنے لگا ۔ پتہ چلا کہ میری نبض ایک سو چالیس فی منٹ کے حساب سے دوڑ رہی تھی ۔ اب میں دل کی دھڑکن کی طرف آیا ، مجھے تو دل کی دھڑکن بھی سنائی نہ دی ۔
ارے ! دل نے تو دھڑکنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ مجھے تو یہ بتایا گیا تھا کہ دل کا کام دھڑکنا ہے اور میرا دل بھی اسی معمول پر گامزن ہے یہ اور بات ہے کہ مجھے اس کی دھڑکن سننے کا شعور نہیں ۔ میں نے اپنے بالائی جسم کا سارا حصہ ٹٹول ڈالا کمر سے لے کر اس جگہ تک جہاں دل کی موجودگی کا گمان کیا جا سکتا تھا ، یہاں تک کہ احتیاط کے طور پر کمر کو بھی تھپتھپا ڈالالیکن نہ تو دل کا سراغ ملا اور نہ ہی اسی دھڑکن کا ۔ اب میں نے اپنی توجہ اپنی زبان پر مرکوز کی میں نے اسے ممکنہ حد تک باہر نکالا اور ایک آنکھ میچ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔ مجھے محض زبان کا کوکونا ہی نظر آسکا اور اس منظر سے میرے جس نظرئیےکو تقویت ملی وہ یہ تھا کہ مجھے خسرہ بخار کا عارضہ لاحق ہے۔کیسی ستم ظریفی تھی کی میں جب دارالمطا لعہ میں آیا تھا تو ایک خوش باش صحتمند شخص تھا لیکن جب وہاں سے رخصت ہوا تو ایک خوف اور مایوسی کی تصویر تھا۔
میں نے اپنے معالج سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا وہ میرا بہت پرانا واقف کار ہے اس کا یہ معمول ر ہا ہے کہ وہ میری نبض پہ انگلی دھر دیتا ہےاور مجھے اپنی زبان دکھانے کا کہتا ہے۔ زبان دیکھتے ہوئے وہ موسم کے بارے میں گپ شپ کرتا رہتا ہے، یعنی یوں ہی لا یعنیاں مارتا رہتا ہے باوجود یہ کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں بیمار ہوں ، یہی وجہ ہے کہ اب مجھے موقع ملا تھا کہ میں اُس کے پاس جاؤں اور اگلے پچھلے تمام حساب چکتا کروں۔ بھلا ایک ڈاکٹر کو اور کیا چاہئے ہوتا ہے۔۔۔۔ میں نے سوچا۔۔۔ پریکٹس ہی ناں ۔۔۔۔ تو مجھ میں کیا کمی ہے؟ وہ مجھ جیسے نادر الوجود مریض سے اتنے تجربات حاصل کر سکتا ہے جتنے سترہ ہزار مریضوں سے بھی حاصل نہیں کئے جا سکتے’ کیونکہ دوسرےمریض محض ایک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ میں ۔۔۔۔۔
یہی سوچ کر میں نے اُس کے کلینک کی راہ لی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی حسبِ عادت بولا۔۔۔کیوں میاں ؟ کیا ہو گیا ہےتمہیں ؟؟
میں نے کہا ۔۔۔۔پیارے ڈاکٹر ! میں آپ کو یہ بتانے میں وقت ضائع نہیں کروں گا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ‘ زندگی بہت مختصر ہے ۔۔۔ اتنی کہ جب تک میں آپ کو اپنے امراض کے بارے میں بتاؤں گا’ تو ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کی رخصتی کا نقارہ بج جائے۔۔۔ ہاںالبتہ میں آپ کو یہ ضرور بتاؤں گا کہ مجھے کیا نہیں ہے ۔۔۔ تو پیارے’ مجھے صرف ورمِ درچک نہیں ہے جس میں عموماً صرف خواتین مبتلا ہوتی ہیں۔میں اگر آپ کو نہ بھی بتاتا تب بھی یہ حقیقت ہے کہ محض یہی ایک مرض ہے جس سے میں بال بال بچا ہوا ہوں۔ باقی تو جتنے بھی امراض ہیں وہ مجھ میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں”۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ مجھے ان باتوں کا کیسے پتہ چلا؟
ڈاکٹر نے بغیر وقت ضائع کئے مجھے اسٹیچر پر لٹایا اور میری کلائی دبوچ لی۔ پھر اُس نے اچانک غیر متوقع طور پر میرے سینے پر میری چھاتی کو ٹھونکنا شروع کر دیا۔انتہائی بزدلانہ حرکت تھی یہ۔۔۔پھر اس کے بعد اُس نے اپنے سر کے پہلو سے مجھےبجانا شروع کر دیا۔ اس کام سے فارغ ہوا تو دوبارہ اپنی کرسی پر جا بیٹھا اور نسخہ تجویز کرنے لگا ۔ نسخہ لکھ کر اُس نے کاغذ کو تہ کیا اورمجھے تھما دیا۔ میں نے وہ نسخہ لے کر اپنی پتلو ن کی جیب میں ٹھونسا اور کلینک سے باہر نکل آیا۔
کسی انجانے خدشے کے تحت میں نے اُس نسخے کو پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی بلکہ قریبی کیمسٹ کی دکان کا رُخ کیااور نسخہ اُسے تھما دیا۔ کیمسٹ نے ایک طائرانہ نظر اُس پر ڈالی اور مجھے واپس لوٹا دیا۔
اُس نے کہا کہ یہ چیزیں اُس کی دکان میں موجود نہیں ۔۔۔!!
میں نے طنزاً کہا ۔۔۔۔ کیا آپ کیمسٹ ہیں؟

وہ بولا ۔۔۔۔ جی ہاں! لیکن میں محض کیمسٹ ہوں’ اگر میری دکان دواؤں کے ساتھ ساتھ پرچون کا کام بھی کر رہی ہوتی ‘ بلکہ ہوٹلنگ کا فریضہ بھی سرانجام دے رہی ہوتی تو شائد میں آپ کی خدمت کرنے کے قابل ہوتا ۔۔۔ محض کیمسٹ ہونے کی وجہ سے میں اس سعادت سے محروم رہ گیا ہوں!!
اب میں نے نسخہ نکالا اور اُس پر ایک نظر ڈالی۔ اُس میں درج تھا:
چھوٹا گوشت ۔ ایک کلو بمع ایک پیگ بئر کے ‘

ہر چھ گھنٹے کے بعد ایک میل کی چہل قدمی ۔ ہر صبح

نیند کا آغاز ۔ ہر شب ٹھیک گیارہ بجے

نوٹ:- ایسے معاملات میں پنگا لینے سے حتی المقدور گریز جس کے بارے میں آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔

میں نے اپنے معالج کی اِن باتوں پر عمل کیا اور نتیجہ خاصا خوشگوار رہا۔۔۔ اور برسبیلِ تذکرہ’ میری زندگی بھی محفوظ ہو گئی ہے اور ابھی تک جاری و ساری ہے۔
میں دوبارہ اُسی جگر کی دوا والے مراسلے کی طرف چلتا ہوں جس کے بارے میں میں نے عرض کی تھی کہ اِس میں جن علامتوں نے مجھے دہلا کر رکھ دیا تھا اُس میں نمایاں علامت ” ہر قسم کے کام سے کترانے کا عمومی رجحان”۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ مجھے اس ضمن میں کتنا کچھ بھگتنا پڑا تھا۔ جب میں بچہ تھا تو اس ظالم نے ایک لمحے کے لئے بھی مجھے نہیں بخشا تھا۔اُس وقت میرے بڑوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ میرے جگر میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ تب سائنس نے بھی اتنی ترقی نہیں کی تھی جتنی اب ہے؛ چنانچہ اسے میرے ازلی ماٹھے پن سے تعبیر کیا گیا۔
تم بستر پر پڑے کیوں اینٹھتے رہتے ہو۔۔۔ وہ کہا کرتے تھے۔۔۔ کچھ کام وام کیوں نہیں کرتے؟
اب یہ اُن سادہ روحوں کی بلا جانے کہ مجھے کسی قسم کا کوئی مرض لاحق ہے۔ وہ مجھے گولیاں نہیں دیتے تھے بلکہ سمجھتے تھے کہ میں اُنہیں گولیاں دے رہا ہوں۔ چنانچہ میری گدی پر ایک کرارا سا ہاتھ جما دیتے تھے لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ یہ اور مزید حیران کر دینے والا ہوتا تھا کہ اُن کی حیرت کام دکھا جاتی تھی۔ میری بیماری فوراً رفو چکر ہو جایا کرتی تھی۔ اس بات پر میرا بھی ایمان ہوتا تھا کہ میرے بڑوں کی چپت نے میرے جگر کی بیماری پر نہایت مثبت اثرات چھوڑے ہیں اور میں اپنے آپ کو تیر کی طرح سیدھا محسوس کروں گا اور ہر وہ کام بغیر وقت ضائع کئے کرگزروں گا جس کا مجھے کہا جائے گا۔ آجکل ایسے علاج کی توقع تو گولیوں کے ایک پورے پیکٹ سے بھی کی جا سکتی ہے۔
بس ایسے ہی سادہ اور رجعت پسند ہوتے تھے وہ دن۔۔۔۔لیکن اُن دنوں کے ٹوٹکے اتنے موثر ہوتے تھے کہ آج کل کے دواخانوں کے طویل معائنے اور علاج بھی اُن کی برابری نہیں کر پاتے۔
ہم تینوں آدھے گھنٹے تک وہاں بیٹھے رہے اور ایک دوسرے کو اپنی اپنی امکانی بیماریوں کے بارے میں بتاتے رہے۔ میں ولیم ہیرس کو اُس ہیجانی کیفیت کے بارے میں بتا رہا تھا جو مجھے صبح بیدار ہونے پر حاوی ہوتی تھی اور ہیرس ہمیں بتا رہا تھا کہ جب وہ بستر پر سونے جاتا ہے تو اُس کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یہ بات ہیرس نے نہ صرف زبانی کلامی بتائی بلکہ کمال کی اداکاری کرتے ہوئے اُن تمام تاثرات کی تصویر کشی بھی کی جس کا شکار وہ قبل از خوابیدگی ہوا کرتا تھا۔ جارج کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ بیمار ہے لیکن یہ محض اُن کی خام خیالی تھی۔ یہ بات ہم سبھی جانتے تھے۔
عین اُسی وقت مسز پپٹ نے دروازے پر دستک دی۔ وہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ ہم رات کے کھانے کے لئے تیار ہیں یا نہیں؟ ہم نے ایک دوسرے کی طرف مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں فیصلہ کیا کہ بہتر ہے پہلے کچھ زہر مار کر لیا جائے۔ ہیرس نے نہایت دانشمندانہ انداز میں یہ قولِ زریں فرمایا تھا کہ پیٹ میں کچھ ہوتا ہے تو جراثیموں کے ہوش بھی ٹھکانے رہتے ہیں۔ مسز پپٹ کھانے کی ٹرے اٹھا لائی۔ ہم سب کھانے کی میز پر سٹک گئے اور سب مل کر اسنیک ،روٹی اور سالن کے ساتھ کھیلنے لگے ۔
اس وقت مجھ پر یقیناََ خاصی نقاہت طاری ہو گی ،کیونکہ کم از کم آدھ پون گھنٹےتک تو ایسا لگتا ہے کہ مجھے کھانے سے قطعاََ کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔کتنی عجیب بات ہے ناں! کہ مجھے پنیر تک کی طلب محسوس نہیں ہو رہی ۔
کھانے کے بعدحسب معمول ہم تینوں نے اپنے اپنے جام از سرِ نو لبا لب بھر لئے پائپ جلا لئےاور دوبارہ اپنی اپنی صحت کا رونا شروع کر دیا۔ہم میں سے کسی کو بھی واضح طور پر علم نہیں تھا کہ ہماری صحت کو آخر ہو کیا گیا ہے، تاہم ہماری متفقہ رائے یہی تھی کہ یہ سب کام کی زیادتی کا کیا دھرا ہے۔
ہمیں صرف اور صرف آرام چاہیئے ۔۔۔۔۔۔ ہیرس بولا

بالکل ۔۔۔۔۔۔۔ آرام اور کچھ تھوڑی بہت تبدیلی ۔۔۔۔۔۔۔ جارج نے کہا

کام کے دباؤ نے ہمارے اعصابی نظام میں ڈپریشن کا وائرس چھوڑ دیا ہے۔ اب ذہنی سکون اور توازن اسی صورت واپس لایا جا سکتا ہے جب معمولات سے ہٹ کر کچھ کیا جائے ۔۔۔ زندگی کے منظر کو تبدیل کیا جائے۔
جارج کا ایک عم زاد ہے جو ہر چیز کو طبی اصطلاحا ت کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہے۔ ہر چیز کو اسی نقطہء نظر سے دیکھنے کی بیماری جارج نے بھی اسی سے وراثت میں پائی ہے ۔ میں اس کی اس بات سے متفق تھا اور خود بھی یہی چاہتا تھا کہ ہمیں اس ہتھیائے ہوئے ہجوم سے پرے کسی پرانے اور غیر ترقی یافتہ دنیا کو تلاش کرنا چاہئے اور وہاں کے خمار آلود سبزے پر خوابو ں کے خیمے گاڑ لینے چاہئے ایسے گوشے میں جسے دنیا فراموش کر چکی ہو ، جنہیں پریوں کے تلووں نے نہ چھوا ہو اور جو اس شورش زدہ دنیا سے دور ہو کسی ایسے کنوارے ساحل پر جسے گذشتہ دو صدیوں کی لہریں چھو نہ سکی ہوں ( کیا میں کچھ زیادہ ہی رومانوی نہیں ہو گیا ہوں)
ہیرس نے کہاکہ میں نے جس مقام کی تصویر کشی کی ہے وہ اسے جانتا ہے کہ جہاں لوگ سرِ شام سو جاتے ہیں ، جہاں محبت کے لئے حوالہ جات یا روکڑوں کے پاپڑ نہیں بیلنا پڑتے اور جہاں گھروں کو پہنچنے کے لئے ٹراموں کے در پر سجدوںکی ضرورت نہیں پڑتی۔
بحری سفر کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔ جارج نے پوچھا۔
نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔۔ہیرس بولا۔۔۔۔اگر سکون اور تبدیلی کے متلاشی ہیں تو بحری پکنک اس کے لئے قطعی موزوں نہیں’ مجھے بحری سفر پر شدید تحفظات ہیں۔۔۔ بحری سفر اُس وقت تک کارآمد نہیں ہوتا جب تک آپ نے اس کے لئے دو تین مہینے مختص نہ کر رکھے ہوں۔۔۔۔ہفتے بھر کے لئے بحری سفر تو مزید تھکا دینے والا ثابت ہو گا۔
ذرا سوچیں کہ آپ بحری سفر کا آغاز پیر کے روز کرتے ہیں’ یہ سوچ کر کہ آپ اس سفر سے حتی المقدور لطف نچوڑیں گے’ ساحل پر کھڑے ہوئے ساتھیوں کو ہاتھ لہرا کر الوداع کہتے ہیں’ اپنے سگار جلاتے ہیں اور عرشے پر یوں آن کھڑے ہوتے ہیں جیسے آپ کیپٹن "کوک” ہوں یا سر فرانسس ڈریک ہوں یا پھر کرسٹو کولمبس ‘ بلکہ تھری اِن ون ہوں ۔۔۔ منگل کے دن آپ ناکوں ناک ہو کر کہتے ہیں کہ کاش میں نے اِس سفر کا سوچ بھی نہ ہوتا ۔۔۔ پھر بدھ’ جمعرات اور جمعہ کے دنوں میں آپ سوچتے ہیں کہ کاش یہا ں آنے سے قبل ہی آپ گزر گئے ہوتے’ ہفتے کو آپ کچھ خوراک نگلنے کے قابل ہو پاتے ہیں’ اس دن آپ عرشے تک آتے ہیں اور اُن رحمدل مسافروں کو مسکرا کر جواب دیتے ہیں جو آپ سے آپ کی خیریت پوچھتے ہیں’ اتوار کو آپ دوبارہ روزِ اوّل کیطرح چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں بلکہ وہ سب کچھ کھانے کے لائق ہو جاتے ہیں جو اس سفر سے قبل کھایا کرتے تھے اور پیر کی صبح جب آپ جہاز کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ آپ کے ایک ہاتھ میں سفری بیگ اور دوسرے میں ایک چھتری ہے اور آپ کے قدم ساحل کی طرف اُٹھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کو بحری سفر سے کچھ کچھ اُنسیت محسوس ہو چکی ہوتی ہے لیکن اب کیا ہوت ‘ کوئی بتلاوت۔
اِس موقع پر مجھے اپنا برادرِ نسبتی یاد آ رہا ہے جو ایک بار بحالی صحت کی خاطر بحری سفر پر روانہ ہوا تھا۔ اُس نے لندن سے لیورپول کے لئے برتھ کا دوطرفہ ٹکٹ بھی لے رکھا تھا اور جب وہ لیور پول پہنچا تو پہلا کام اُس نے یہ کیا کہ اپنے اُس ریٹرن ٹکٹ کو فروخت کرنے کی ٹھانی۔ اس سلسلے میں اُس نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹکٹ پر سیل لگا دی تھی چنانچہ ایک نوجوان نے ہاتھوں ہاتھ وہ ٹکٹ خرید لیا کیونکہ کسی ڈاکٹر نے اُس کی صحت کی بحالی کے لئے ورزش اور بحری سفر تجویز کیا تھا۔
آخر بحری سفر ہی کیوں ۔۔۔میرا برادرِ نسبتی ٹکٹ کو اپنے ہاتھوں میں بھینجتا ہوا بولا۔۔۔ کیا تمہاری زندگی ایسی ہی فالتو ہے کہ تم اسے بحری سفر میں رولتے پھرو۔۔۔ اور ورزش’ تم اس کے لئے خشکی پر رہتے ہوئے بھی کوئی کلب جوائن کر سکتے ہو۔
واپسی پر میرے سالے نے ریل گاڑی پکڑی ۔۔۔ اُس کا کہنا تھا کہ نارتھ ویسٹ ریلوےتو اِس کام کے لئے سب سے زیادہ صحت بخش ہے۔
میرا ایک اور دوست ایک ہفتے کے لئے بحری سفر کے لئے نکلااور اس سے پہلے کہ وہ اپنا سفر آغاز کرتا’ جہاز کا منتظمِ رسد (سٹیورڈ) اُس کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا وہ دورانِ سفر اپنے کھانے کی ادائیگی ساتھ ساتھ کرتا رہے گا یا ہفتے بھر کی ادائیگی یکمشت کر دے گا؟ منتظمِ رسد دوسرے آپشن کے حق میں تھا کیونکہ یہ میرے دوست کے لئے بہت سستا پڑنا تھا۔اُس نے اس حیرت انگیز رعایت کے بارے میں اُسے بتایا تھا کہ اُسے پورے ہفتے کے صرف ڈھائی پونڈ دینے ہوں گے’ زور کس پر ہوا "صرف” پر۔ کھانے کے لوازمات کے بارے میں اُس نے بتایا کہ کھانے پر بُھنی ہوئی مچھلی ملے گی’ لنچ ٹھیک ایک بجے سرو کیا جائے گا’ جس میں چار مختلف انواع کے کھانے شامل ہوں گے’ شام کا کھانا چھ بجے ہو گا جس میں سُوپ ‘ مچھلی’مرغی’ سلاد’ میٹھا’پنیر اور الحلوی(ڈیزٹ) پیش کیا جائے گا’ جبکہ رات دس بجے بھی ہلکا پھلکا کھانا سرو کیا جائے گا۔
اِتنے بہت سے لوازمات کا سُن کر ہی میرے دوست کی رال ٹپکنے لگی چنانچہ اُس نے فوری طور پر منتظمِ رسد کی تجویزتسلیم کر لی۔
جہاز پر جس وقت لنچ کا قت آیا تو اُس وقت بمشکل جہاز کی روانگی کا عمل ہوا تھا’ بھوک لگ بھگ عنقا تھی چنانچہ اُس نے ایک عدد گوشت کے اُبلے ہوئے ٹکڑے’ سڑا بری اور کچھ بالائی پر قناعت کی۔ دراصل گھر سے وہ قبل از وقت لنچ کر کے نکلا تھا اور یہ سوچ کر نکلا تھا کہ اُسے اونٹ کی طرح سارے ہفتے کا کھانا اپنے معدے میں بھر نا ہے اوراب معدے کا فیوز اُڑ چکا تھا۔
چھ بجے اُسے بتایا گیا کہ ڈنر تیار ہے۔ یہ اطلاع اُس کے لئے کوئی مژدہء جانفزا ثابت نہیں ہوئی’ اُس کے اندر کسی قسم کی بھوک نہ جاگی لیکن اس آواز سے اُسے اس بات کا اطمینان ہوا کہ اب اُس کے ادا کئے گئے ڈھائی پونڈ کی خطیر رقم کا حق ادا ہو سکے گا۔ وہ سیڑھیوں کی رسیوں کو پکڑتاہوا نیچے اُترا۔ تڑکا لگی’ بھُنی ہوئی مچھلی اور سلاد کی مسحورکن خوشبُو نے آخری سیڑھی سے ہی اُس کو خوش آمدید کہا۔سٹیورڈ خوشامدانہ مسکراہٹ کے ساتھ اُس کی طرف بڑھا۔

آپ کی خدمت میں کیا پیش کیا جائے جناب ۔۔۔۔۔ اُس نے دریافت کیا

مجھے یہاں سے فوراً واپس لے چلو ۔۔۔۔ اُسے اپنی نقاہت بھری آواز سنائی دی۔

فوری طور پر کچھ ہٹے کٹے مددگار آگے بڑھے ‘ اُسے سہارا دیا اور اُسے اُس کے کیبن تک چھوڑ آئے۔

اگلے چار دِنوں تک اُس نے نہایت سادہ اور پرہیزگاروں جیسی زندگی گزاری اور دُبلے پتلے کیپٹن کے بسکٹوں (دُلے پتلے بسکٹ تھے’ کیپٹن نہیں۔۔۔وہ تو بسکٹوں کا برانڈ نام تھا) اور سوڈا واٹر پر گزارہ کیا تاہم اتوار کو اُس کی طبیعت خاصی بحال ہو گئی اور اُس نے کیفے میں جا کر چائے اور خشک ڈبل روٹی پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ پیر کے روز وہ اپنے رنگوں میں آ چکا تھا اور اُس نے خود کو بھُنے ہوئے مرغ کے روبرولا کھڑا کیا۔منگل کا دن اُس کی جہاز سے رخصتی کا دن تھا اور جب جہاز کنارے پر لنگر انداز ہو رہا تھا تو اُسے یک گونا پشیمانی نے آن گھیرا تھا۔

یہ میں چلا ۔۔۔۔یہ میں چلا۔۔۔اُس نے حسرت زدہ لہجے میں کہا ۔۔۔دو پونڈ کے کھانے کو چھوڑ کر ۔۔۔وہ کھانا جو میرے لئے تھا لیکن میں کھا نہیں سکا تھا۔

کاش اُس کے پاس محض ایک دن اور ہوتا۔۔۔یقیناً وہ اس دن اپنے تمام کے تمام ڈھائی پونڈ کے ساتھ نہ صرف انصاف کر سکتا تھا بلکہ بطور منافع کچھ اضافی خوراک بھی ڈکار سکتا تھا۔

یہ تو تھا میرے دوست کی روداد ۔۔۔اب میں دوبارہ اپنی طرف آتا ہوں’ میں نے بحری سفر کا رخ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔ جی نہیں’ یہ میں نے کوئی اپنی وجہ سے نہیں کیا تھا ‘ آپ مجھ سے اس قسم کے حماقت آمیز فیصلے کی توقع نہ رکھیں ۔۔۔ یہ جارج تھا جس کے استدلالی دھرنے نے ہم سب کو مجبور کر دیا تھا۔اُس نے پُرزور انداز میں کہا تھا کہ اُس کی صحت صرف اور صرف بحری سفر کی مرہونِ منت ہے’ بلکہ وہ تو بحری سفر سے بھرپور لطف اندوز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ہاں البتہ اُس نے ہیرس اور مجھے مشورہ دیا تھا کہ بحری سفر ہمارے بس کی بات نہیں ہے اس لئے ہمیں تو اس سے اجتناب ہی کرنا چاہئیے۔ ہم لوگ تو بحری سفر کے دوران یوں بیمار پڑ جاتے ہیں جیسے بجو بھادوں کی تاب نہ لا کر بیمار ہو جاتا ہے۔ ہیرسں نے کہا کہ اُسے بھی اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ بحری سفر کے دوران بیمار ہو کیسے جاتے ہیں۔ پھر اُس نے اس امر کا تجزیہ کرتے ہوئے قیاس کیا کہ یقیناً وہ لوگ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہوں گے۔۔۔اُس نے کہا کہ وہ خود کبھی کبھار سوچتا ہے کہ دورانِ سفر بیمار ہونے کا مزا چکھ لیا جائے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ اُس میں ایسے میں بیمار ہونے کی صلاحیت ہی مفقود ہے۔ اُس نے اس سلسلے میں ایک واقعہ بھی سُنایا کہ ایک مرتبہ بحری سفر کے دوران اُس کا جہاز طوفان میں پھنس گیا اور اس قدر ہچکولے کھائے کہ دوسرے مسافر اپنی اپنی برتھوں پر ہی انٹا غفیل ہو گئے لیکن سارے جہاز میں ایک وہ تھا اور ایک جہاز کا کپتان جس کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔۔۔۔ہیرس اس ضمن میں جتنی کہانیاں سُنا چکا ہے اس میں اُس کے علاوہ ایک دوسرے شخص کا تذکرہ ہمیشہ ملتا ہے۔ اگر اتفاق سے دوسرا شخص نہ ہو تو کم از کم وہ خود ایسی مافوق الفطرت شخصیت کا مالک ضرور ہوتا ہے جو بحری سفر کے دوران بیمار نہ ہونے کا عظیم الشان کارنامہ تنِ تنہا سرانجام دیتا ہے۔

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بحری بیماریوں کے سزاوار کہیں کسی قطعہء خشک میں نہیں پائے جاتے۔ بحری سفر میں آپ کو بھانت بھانت کی مخلوق ملے گی’ بلکہ پورا کا پورا جہاز "سی سک” ہو گا لیکن آپ کو خشکی پر کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ بتا سکے کہ آخر یہ "سی سکنگ” ہے کیا بلا!آخر یہ ہزاروں لاکھوں لوگ جو آئے دن بحری سفر کرتے رہتے ہیں وہ خشکی پر نہیں جاتے تو کہاں کھپتے ہیں کہ اُنہیں اس بیماری کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔

اگر زیادہ تو لوگ اُس شخص کی طرح ہیں جو ایک بار مجھے یارماؤتھ کی کشتی میں ملا تھا تو یقیناً اوپر بیان کردہ اسرار سے پردہ ہٹ جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ جاتے کہاں ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابھی ہم ساؤتھ پینڈپئر سے کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ میری نظر اُس شخص پر پڑی جو نہایت خطرناک حد تک سمندر کی طرف جھکا ہوا تھا۔ میں اُس کو بچانے کے لئےلپکا۔

ارے ۔۔۔ پیچھے ہٹو ۔۔۔ میں نے اُس کے کاندھے کو ہلاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ تم نیچے سمندر میں گر جاؤ گے!

کاش میں سمندر میں گر سکتا ۔۔۔۔ اُس کی آواز میں حسرت تھی۔ میں نے بس اتنا سُنا تھا اور دوسرے ہی لمحے واپس پلٹ آیا تھا۔

اس واقعہ کے تین ہفتوں بعد میرا اُسی شخص سے ایک کافی ہاؤس میں سامنا ہوا۔ وہ اُس وقت اپنی مسافتوں کی رام کہانی سُنا رہا تھا کہ اُسےسمندر سے عشق ہے۔

محترم ۔۔۔۔ میری یاد دہانی کرانے پر اُس نے ملائم انداز میں کہا تھا ۔۔۔جی ہاں۔۔۔ ایک بار میرے ساتھ اسی قسم کا واقعہ ہوا تھا۔ ہمارا جہاز کیپ ہارن سے کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ جہاز اُلٹ گیا تھا۔

کیا تمہیں یاد ہے کہ تم ساؤتھ پینڈپئر کے قریب بھی ایسے ہی اضطراب کا شکار رہے تھے اور سمندر میں کود جانا چاہتے تھے!

ساؤتھ پینڈپئر ۔۔۔۔ وہ تذبذب کا شکار ہو گیا۔

جی ہاں ۔۔۔ یار ماؤتھ کی طرف جاتے ہوئے! غالباً وہ جمعہ کا دن تھا ۔۔۔ تین ہفتے قبل !!

اوہ ۔۔۔ اچھا۔۔۔ وہ ۔۔۔ یک بیک اُسے یاد آ گیا۔۔۔ ہاں مجھے یاد ہے۔۔۔ اُس وقت دوپہر تھی اور میرے سر میں شدید درد تھا ۔۔۔ شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ میرے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ۔۔۔ آپ کیساتھ کبھی ایسا ہوا؟

جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے سمندر زدگی سے بچنے کے لئے ایک نہایت موثر طریقہ دریافت کر لیا تھا۔ سمندر زدگی کا مرض جہاز یا کشتی کے ہچکولوں کے باعث وقوع پذیر ہوتا ہے۔ آپ عرشے کے وسط میں کھڑے ہیں اور جہاز تیزی سے آگے پیچھے ہچکولے کھا رہا ہے تو آپ کو چاہئیے کہ آپ اپنے جسم کو سیدھا اور اکڑا کر رکھیں۔ جب جہاز کا اگلا حصہ اوپر اُٹھے تو آپ بھی اپنے جسم کو آگے کی طرف جھکا لیں’ چاہے آپ کی ناک عرشے کے فرش کو چھو لے۔ اِسی طرح جب جہاز کا بیرونی حصہ بلند ہو تو آپ بھی پیچھے کی طرف جھک جائیں۔ لیکن یہ مشق ایک دو گھنٹوں کے لئے تو ٹھیک ہے لیکن اگر معاملہ ہفتے کا ہو تو اللہ اللہ خیر صلا۔

جارج بولا ۔۔۔اِس بار بحری سفر ہی سہی ! کیوں یارو ؟

اُس کا کہنا تھا کہ ہمیں اور کیا چاہئیے’ تازہ ہوا ‘ ورزش’ سکون اور ہر روز ایک ہی منظر میں جیتے رہنے سے نجات۔۔۔ اس باسی معمولات نے تو ذہنوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بحری سفر کے دوران ہماری ورزش ہو گی ‘ بھوک بھی لگے گی نیند بھی خوب آئے گی۔۔۔ اور کیا چاہئیے ہمیں ؟؟؟

ہیرس کا خیال تھا کہ جارج کو ایسا کچھ نہیں کرنا چاہئیے جس سے اُسے پہلے سے بھی ذیادہ نیند آنے لگے کیونکہ یہ خود اُس کے لئے خطرناک ہو گا۔ وہ حیران تھا کہ آکر جارج کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ مزید سونے کا معجزہ دکھا سکتا ہے’ جبکہ گرمی ہو یا سردی’ ہر دن محض چوبیس گھنٹوں پر مشتعمل ہوتا ہے تاہم اگر وہ مزید سونے میں کامیاب ہو گیا تو یہ تبھی ممکن ہو سکے گا جب اس زمان و مکان سے ماورا ہو کر سوئے اوراسے زندگی کی ضرورت نہ رہے’ ویسے کیا اس سے وہ زندگی کے مصارف کے اخراجات بچانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا ۔۔۔سوچنے کی بات ہے۔

ہیرس کا کہنا تھا کہ بحری جہاز اُسے بہت سُوٹ کرتا ہے کیونکہ بحری سفر سے نہ صرف اُس کی تونائی بحال ہو جاتی ہے بلکہ جب وہ گھر لوٹتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ کسی نئے گھر میں منتقل ہو گیا ہو اور وہ بھی بغیر کوئی پونڈ لگائے۔

میں بھی بحری سفر کے حق میں تھا اور اس سلسلے میں میں اور ہیرس جارج سے متفق تھے اور شائد جارج کے خیالات ہم پہلی مرتبہ اس قدر متاثر ہوئے تھے۔ اصل میں جارج نے اس سے پہلے عقلمندی کی کوئی خاص بات کی ہی نہیں تھی۔

ہم میں سے ایک ہی فرد تھا جو اس تمام قضئے میں شدید تحفظات رکھتا تھا اور وہ تھا مونٹمورینسی۔۔۔ اُسے بحری سفر کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا۔

آپ لوگوں کے ساتھ تو بحری سفر میں سب کچھ اچھا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اُس نے یقیناً کہا ہو گا ۔۔۔ آپ لوگوں کو پسند ہو گا لیکن مجھے تو ہرگز ہرگز پسند نہیں۔۔۔نہ تو خوبصورت نظارے میرے لائن کی چیز ہیں اور نہ ہی مجھے جگہ جگہ سگار کی چمنی بننے میں مزا آتا ہے’ ہاں کسی بلی کو میرے آگے چھوڑیں پھر دیکھئے گا میری پھرتیاں۔۔۔اور اگر میں سونے پر آ جاؤں تو پھر کیا جہاز اور کیا لندن کی کوئی کٹیا۔۔۔مجھ سے اگر پوچھتے ہیں تو میں آپ لوگوں کے اس سارے تانے بانے کو ہی احمقانہ سمجھتا ہوں۔۔۔!

مونٹمورینسی کے مقابلے میں ہم تین تھے چنانچہ بحری سفر کے حق میں تحریک کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔

جیروم کے جیروم کی کتاب "Three Men in a Boat” کا پہلا باب۔


میں اُس وقت فون پراپنے دوست "نِک” سے باتیں کر رہی تھی۔ وہ اپنے دفتر میں تھا اور میں گھر پر تھی۔۔۔ ہم اُسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے جس پر لوگ عموماً گفتگو کیا کرتے ہیں  ۔۔۔۔ یعنی  کسی بھی موضوع پر  نہیں۔

وہ مجھے اپنی "اداکاری” کی کلاس کے بارے میں بتا رہا تھا۔ ہم دونوں نے پروگرام بنایا تھا کہ ہم کوئی مزاحیہ فلم دیکھنے جائیں گے۔ اُس سے فارغ ہو کر ٹی وی پر مشکوک دانشواروں سےحالاتِ حاضرہ  و غیر حاضرہ  پر ہوائیاں اڑاتے سنیں گے اور پھر مزید سنجیدہ پروگرام یعنی مشہورِ زمانہ کارٹون شو  "سمپسن” دیکھیں گے وغیرہ وغیرہ۔
شائد اِسی لئے مرد حضرات کو رقص سے دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ وہ اس طور پرُ معنی باتوں سے اجتناب کر کے ایک لمبا وقفہ اُن خواتین کے ساتھ بحفاظت گزار سکتا ہے  جو اُن سے تعلقات کےکسی پُر معنی حل پر گفت و شنیدکرنا چاہتی ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ مجھے شدید دھچکا لگا جب باتوں کے دوران نِک نے میری بات کاٹی اور کہا ” آئی لویُو” اور  پھر فون کا سلسلہ منقطع کر دیا۔
میں سُن ہو کر رہ گئی ۔۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم بہت پرانے دوست تھے   ۔۔۔ اتنی کہ میں اُس کی شادی  کے موقع پرپیش پیش رہی تھی ۔۔۔ لیکن مجھے اس امر کا قطعاً احساس نہیں تھا کہ وہ میرے متعلق اِس انداز سے سوچتا ہے۔۔۔ اُس نے تو اظہار محبت کے ضمن میں اُن تمام ضمنی اقدامات کو نظر انداز کر دیا تھا  جو اظہارِ محبت کے خمیازے سے  پہلے اُٹھائےجاتے ہیں۔ مثلاً    یہ کہنا کہ۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری یہ بات پسند ہے یا یہ کہ مجھے تمہارے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے یا پھر یہ کہ تم نے مجھے مکمل کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن یہ ایک دم سے شبخون مارنا کہ ” مجھے تم سے محبت ہے” ناقابلِ فہم بات تھی۔
اُس کے یہ الفاظ   اسقدر سرسری انداز میں کہےتھے جیسے کہہ رہا ہو ۔۔۔۔ ہیلو’ برگر کھانا ہے ؟
واضح طور پر لگ رہا تھا کہ نِک مجھ سے مذاق کر رہا ہے ۔۔۔۔ ابھی وہ مجھے فون کرے گا اور ایک پُر زور قہقہہ لگا کر کہے کہ  ۔۔۔۔ تم کیا سمجھیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔
میں کافی دیر انتظار کرتی رہی ۔
(ریکارڈ کے لئے بتائے دیتی ہوں کہ اب مجھے پتہ لگا کہ دل کے معاملات میں سسپنس کتنی بُری شے ہے’ خصوصاً صنفِ نازک اس سے کس قدر متاثر ہو سکتی ہیں)۔
ناچار مجھے خود ہی اُسے فون کرنا پڑا ۔۔۔۔مجھے محسوس ہوا کہ وہ اپنی گزشتہ گفتگو  کے سلسلے میں میرا ردِ عمل دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ یہی کہ آیا کہ میں نے اُس کی بات کا نوٹس لیا ہے یا نہیں ۔۔۔۔ جیسے اگر میں کہہ دوں کہ نہیں کیا کہا تھا تم نے  تو وہ کہے گا  ۔۔۔۔ نہیں کچھ نہیں ‘ میں یونہی پوچھ رہا تھا  ۔۔۔ اور یوں یہ بات آئی گئی ہو جاتی ۔۔۔۔ جیسے کبھی وقوع پذیر ہی نہ ہوئی ہو۔
لیکن میں کسی بھی صورت اتنے حساس معاملے پر  اُسے یا خود کو لٹکائے رکھنے کی قائل نہیں تھی ۔۔۔۔ایسا وقوعہ قسمت کے دروازے پر شاذو نادر ہی دستک دیتا ہے اور اگر اس معاملے سے یونہی اغماذ برتا جاتا تو ہمیشہ کے لئےدل میں ایک پھانس بن کر رہ جاتا۔
میرے استفثار پر اُس نے فوری وضاحت پیش کی ۔۔۔۔ اُس نے بتایا کہ وہ اُس وقت اپنے آفس میں تھا کہ اچانک اُس کا باس کمرے میں داخل ہو گیا تھا ۔۔۔ اُس کے اس طرح اچانک آ جانے سے نِک کنفیوز ہو گیا ۔۔۔ چونکہ اُس  دفتر میں نیا نیا بھرتی ہوا تھا اس لئے نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا باس یہ تاثر لے کہ وہ اپنے کسی دوست سے فون پر اتنی دیر تک کال کر رہا ہے۔۔۔اگرچہ بات کچھ ایسی ہی تھی۔
چنانچہ نِک نے اُس کے سامنے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ اپنی بیوی سے بات کر رہا ہے  ۔۔۔۔ ظاہر ہے کوئی اپنی بیوی سے تو زیادہ بات نہیں کر سکتا ۔۔۔۔مجھ سے اظہارِ محبت کر ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔ میرے لئے وہ اظہارِ محبت ہوتا لیکن اُس کی بیوی کے لئے معمول کا ایک سماجی فقرہ۔
اُس دن میں نےیہ ایک سبق سیکھا۔
اگر آپ فون پر بات کر رہی ہوں اور آپ کا بہترین دوست آپ کو کہے کہ ” مجھے تم سے محبت ہے” تو ذیادہ چونکنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ممکن ہے کہ اُس کا باس اچانک اُس کے دفتر میں ٹپک پڑا ہو ۔۔۔۔۔ ایسی صورتِ حال میں بہتر یہی ہے کہ آپ نہایت سکون کے ساتھ ریسیور کو کریڈل پر رکھیں اور سوچیں کہ دوپہر کے کھانے میں کیا پکانا چاہئیے۔
یہ بھی عین ممکن ہے کہ کوئی آپ سے سیدھے سبھاؤ کہہ دے کہ "مجھے تم سے محبت ہے” لیکن یہ بھی اُس صورت میں ہو گا جب آپ شگاگو سے بھاگم بھاگ گھر کو واپس لوٹ رہی ہوں اور آپ میں سے ایک قریب المرگ ہو۔
باقی تمام دیگر حالات میں ایسا صرف ویکٹورین  دورکی فلموں میں  ہی ممکن ہے ۔
"مجھے تم سے محبت ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

(جو ڈوناٹیل کی تحریر "لو از کنفیوزنگ” کا ترجمہ)


ہم میں سے بہت سوں کی زندگی کا واحد مقصد محض کلرکی کرنا‘ ڈبل روٹی کھانا اور خوشی سے پُھول جانا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زندگی کے جن معمولات میں پرو لیا ہے وہ انہیں کو ایک بہت بڑی عیاشی گردانتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو عیاشی تو ایک طرف رہی معمولی معمولی خوشیاں بھی اُنہیں جھکائی دے جاتی ہیں۔ جنسِ مسرت کثافتوں کے جمعہ بازار میں فروخت نہیں ہوتی بلکہ یہ نعمت تو اُن منظروں کا توشہء خاص ہے جہاں ابھی تک فطرت کی خطاطی مسکراہٹیں بکھیر رہی ہو۔ اس ضمن میں یہ استدلال تسلیم کہ معاشرے کا ہر فرد گردشِ احساس کا اسیر ہے۔ وہ زندگی کے تانگے میں جُتے ایسے خچر کی مانند ہوتا ہے جس پر کچھ دوسرے لوگ بھی سوار ہو جاتے ہیں چنانچہ اُس کی زندگی کے سفر میں اُس کی منشا کا موج میلہ ذرا کم ہی ہوتا ہے لیکن یہ بات بھی غلط ہو گی کہ انسان مادیت کا اسیر ہو کر رہ جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے آہنی ہیلمٹ کو ہی اپنا چہرہ تصور کر لے۔ اُسے سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور بھی ڈہونڈنی چاہئے۔ فطرت کے میلے سے بھی خوشیوں کی جلیبیاں خرید لینی چاہئیں تاکہ زندگی کا توازن برقرار رہے۔ کم از کم ہم تینوں کا یہی خیال تھا۔ ہم تینوں سے مراد میں یعنی جیروم‘ جارج اور ہیرس ہیں۔ اگر اپنے کتے منٹکمری کو بھی شامل کر لیں تو ہماری مثلث پر مبنی جمعیت اِس رائے پر سو جان سے متفق تھی۔ یہ ہم چاروں سیلانی دوستوں کا معمول تھا کہ سال میں حسبِ درک ایک یا دو بار کچھ عرصے کے لئے کسی طرف نکل پڑتے تھے اور یوں اِن آزاد لمحوں میں اپنی نسوں میں اِتنی تازہ ہوا بھر لیتے تھے سال کے باقی دورانئے میں کام چل جایا کرتا تھا۔ اِس بار ہم نے چیٹرسی تک جانے کی ٹھانی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ قیام کی کیا صورت ہو۔ سینگ سیدھے کر کے کسی سرائے میں جا گھُسا جائے یا خیمہ زنی کے مزے لُوٹے جائیں۔ جارج اور میں خیمہ زنی کے حق میں تھے۔ ہماری منچلی طبعیت خیمہ زنی کی صورت میں ایک انتہائی آزاد اور رومان پرور زندگی کی رنگا رنگی دیکھ رہی تھی۔ خیمہ زنی کے ذکر پر ہی میرے تصور میں گویا دھنک اُتر آئی۔ ہم کسی ایسے گوشہء عافیت کو جا نکلتے ہیں جہاں بندہ نہ بندے کی ذات ہو۔خیمے گاڑ دئے جاتے ہیں اور تیل کے چولہے پر پکنے والا چھڑے چھانٹ کنواروں والا کھانا یوں کھایا جاتا ہے جیسے من و سلویٰ حلق میں اُتار رہے ہوں۔ پائپوں کے جہنم تمباکو سے بھر کر جلا لئے جاتے ہیں۔ خوشگوار بات چیت ہلکے ہلکے سُر بکھیرنے لگتی ہے۔ قریب دریا سے کوئی کشتی گزرتی ہے تو اُس کے چپووں کی چپ چپ بھی اس موسیقی میں تان ملانے لگتی ہے۔ ہماری توجہ اُس طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ ہماری دیکھا دیکھی چاند بھی اپنے چہرے پر سے بادل کی ایک ٹکڑی کو ہٹاتا ہے اور رقص کرتی ہوئی لہروں پر اپنے ہونٹ ثبت کر دیتا ہے۔ ایسے میں ہیرس کو جانے کیا سُوجھتی ہے کہ وہ لپک کر اُٹھتا ہے‘ اپنا وائلن اُٹھاتا ہے اور دھیمے دھیمے سُروں میں آئر لینڈ کے ایک لوک گیت کی دُھن چھیڑ دیتا ہے۔ اَس لوک گیت کا قصہ بھی عجیب ہے۔ یہ آئرلینڈ کی ایک رومانوی داستان پر مشتعمل ہے لیکن جس طرح بعض شریر بچوں کو اکثر و پیشتر گنتی تو بھول جاتی ہے لیکن اُس کی طرز یاد رہ جاتی ہے بالکل اُسی طرح اِس لوک گیت کے اصل بول تو فراموش کئے جا چکے ہیں البتہ دوسرے کئی گیت گڑ لئے گئے ہیں۔ آئر لینڈ کے حریت پسند اس لوک گیت کی دُھن پر برطانوی بادشاہ کو بے نطق کی سناتے ہیں جبکہ اس کے عین برعکس شاہ پسند اسی لوک گیت کی دُھن پر بادشاہ کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نظر آتے ہیں۔ بہرحال ہیرس نہ تو شاہ پرست ہے اور نہ ہی علیحدگی پسند‘ چنانچہ اُس نے ایک رومانوی گیت کی دُھن چھیڑی ہے جس کا پتہ ایک سُر کے مخصوص جھکاؤ سے بخوبی چل جاتا ہے۔
پھر جب فضا میں خمار گھُل جاتا ہے‘ موسیقی دم توڑ دیتی ہے‘ پائپوں میں تمباکو جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور ہم ایک دوسرے کو الوداع کہہ کر خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنے لگتے ہیں تو یہ طلسماتی ماحول خواب میں بھی ڈاکہ زنی کرنے لگتا ہے۔ دنیا گاؤں کی اُس الہڑ مٹیار کی مانند دکھائی دیتی ہے جس کا لونگ ابھی نہیں گواچا ۔۔۔۔ اُس کی پلکوں پر آنسو نہیں بلکہ رتجگوں کے ستارے جھلملا رہے ہوتے ہیں۔ اُس کے عارض پر کسی کارخانے کی تیار کردہ لالی نہیں بلکہ زندگی کی حمرت جھلک رہی ہوتی ہے۔ اُس کے لبوں کی مسکراہٹ کسی ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار کی خاطر نہیں بلکہ حقیقی انبساط میں گُندھی ہوئی ہوتی ہے۔
عین اِسی لمحے جارج نے مجھے خیالات کے کوہِ قاف سے نکالتے ہوئے استہفامیہ انداز میں کہا “خیمہ زنی کا شوق بجا لیکن یہ تو بتاؤ کہ اگر اسی دوران بارش نے آ لیا تو پھر کیا ہو گا؟“
دودھ میں مینگنیاں ڈالنا جارج کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جمالیاتی حس تو ظالم کو چھُو کر بھی نہیں گزری۔ اِس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ اُس کا نام جارج ہے کوئی جمال الدین جمالی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اُس کا نام جمال الدین جمالی بھی ہوتا تب بھی وہ رنگ میں بھنگ ڈالنے سے باز نہ آتا۔ ضرورت سے ذیادہ حقیقت پسندی نے اُس کے تمام نازک جذبات کو سُن کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ ہمیشہ اشیا کے اُس رخ کو دیکھتا ہے جسے کوئی بھی شخص دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ اگر آپ لبِ دریا بیٹھے ہوں۔ پانی کی لہریں ٹھہری ہوئی ہوں۔ فضا میں ایک عجیب سُرور آمیز کیفیت مسلط ہو اور آپ مسحور ہو کر کہیں ۔۔۔۔۔ کیوں جارج؟ کیا تمھیں دریا کی اِس پرسکون لہروں کے نیچے دور کہیں سے جل پریوں کی آوازیں آتی نہیں سنائی دے رہی ہیں۔۔۔۔۔ یا پھر یہ کہ کیا یہ محسوس نہیں ہو رہا کہ کوئی بھٹکی ہوئی اداس روح سسکیاں بھر رہی ہے؟ ۔۔۔۔ جوابا جارج پہلے تو آپ کو بارو سے پکڑ کر بڑے غور سے دیکھے گا اور آپ کی بات دھرائے گا ۔۔۔۔ بھٹکی ہوئی روح ؟۔۔۔۔۔ پھر قدرے مسکرا کر کہے گا ۔۔۔۔ کوئی پری وری نہیں ہے میاں! بات صرف اِتنی سی ہے کہ تمہیں ٹھنڈ لگ گئی ہے اسی لئے یوں بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔۔اب اچھے بچوں کی طرح میرے ساتھ آؤ ۔۔۔۔ یہیں قریب ہی ایک کافی ہاؤس موجود ہے ۔۔۔۔ ایک کپ گرم گرم کافی حلق میں انڈیلو گے تو منٹوں میں دماغ ٹھکانے آ جائے گا۔
جارج کو ہمیشہ قریب ہی ایک ایسی دکان کا پتہ ہوتا ہے جہاں آبِ معقر ہمیشہ دستیاب رہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اتفاق سے آپ کا سامنا جنت میں بھی جارج سے ہو گیا (آپ کے گناہ و ثواب آپ کے ذمے لیکن جارج کے اعمال کو دیکھتے ہوئے تو اُس کے جنت میں جانے کے امکانات صفر فیصد سے بھی کم دکھائی دیتے ہیں) تو وہ چھوٹتے ہی آپ سے کہے گا ۔۔۔۔ شکر ہے تمہاری صورت تو نظر آئی چلو میاں میرے ساتھ ۔۔۔۔ میں نے یہیں قریب ہی ایک دودھ کی نہر دیکھ رکھی ہے ۔۔۔۔ چلو چل کر دودھ کا ایک ایک کپ پی لیتے ہیں ۔۔۔۔۔!
ہمیشہ کی طرح ہم نے اُس کی بات کو ایک کان سے سُنا اور دوسرے کان سے نکال دیا۔ دوسرا کان شائد خدا نے ہمیں اسی لئے دے رکھا ہے کہ ہم اُس سے جارج کی باتیں خارج کر سکیں۔ حتمی طور پر طے ہو گیا کہ دریا کے کنارے کسی خوبصورت اور پُرسکون سے گوشے میں خیمے گاڑ کر آس میں قیام کیا جائے۔ اب سفر کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ رختِ سفر باندھا جانے لگا۔ خیر رختِ سفر کی بھی خوب کہی۔ ہم فقیروں کے مال منال کا کیا پوچھنا۔ میرا کُل سرمایہ چند نوٹ بُکس اور کتابیں تھیں۔ جارج نے اپنے کتے منٹکمری کی زنجیر سنبھالی جبکہ ہیرس نے اپنے وائلن کو سینے سے لگایا۔ باقی چیزوں میں چند کپڑے‘ خیمے اور روزانہ استعمال کی دوسری چیزیں تھیں۔ تمام سامان کشتی میں لاد لیا گیا اور سفر آغاز ہوا۔ جانے جارج کی کالی زبان رنگ لائی تھی یا ہماری قسمت ہی خراب تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے فضا کی نیت بدل گئی۔ آسمان کی شفاف پیشانی پر کالے کالے بادلوں کی جھریاں پڑنے لگیں۔ موسم پر لندن کا بڑھاپا غالب آ گیا اور پھر وہی ہوا جا کا دھڑکا تھا۔ بوندوں کے راگ رنگ کے ساتھ ہی بارش کی دھمال شروع ہو گئی۔ ہمارے رومان پر گویا جارج کی کالی زبان پھر گئی۔ کہاں تو ہم شام کی سرمئی سانواہٹ میں مشرق کی کسی دوشیزہ کا پرتو ڈہونڈ رہے تھے اور کہاں یہ حالت ہو گئی کہ یہی حُسن ہمیں ظلمتِ بسیط نظر آنے لگا۔ ہم تینوں بُری طرح بھیگ گئے۔ کشتی میں خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی دو دو انچ پانی بھر گیا تھا۔ تمام چیزیں شرابُور ہو کر رہ گئیں تھیں۔ ایسے میں کسی حسین جگہ کے انتخاب میں وقت ضائع کرنا اپنی شامت کو آواز دینے کے مترادف تھا۔ موسم کے ساتھ ساتھ دریا کا رویہ بھی کسی بھی لمحے بدل سکتا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کی موجیں گستاخی کی حد تک سرکشی اختیار کر لیتیں‘ ہمیں خود ہی شرافت کا ثبوت دینا تھا چنانچہ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ کشتی کو کنارے کی طرف دہکیلنے لگے۔ کنارے پر پہنچ کر خیموں کو کشتی سے گھسیٹ کر اُتارا اور کچھ دُور جا کر نصب کرنے لگے۔ یہ جگہ اُن جگہوں میں سے نہیں تھی جہاں ہم نے خیمہ زنی کرنے کی ٹھہرائی تھی لیکن وہ جو ولیم فاکنر نے کہا ہے کہ دریا کی موجیں اُس وقت تک خوبصورت لگتی ہیں جب تک سر پر سے نہ گزریں۔ اگر ہم کسی رومان پرور جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے تو نمونیا نہیں تو کم از کم نزلہ یا زکام تو ضرور ہمارے مزاج پوچھتا۔
ایسے بپھرے ہوئے موسم میں خیمہ نصب کرنے جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔۔۔۔ دوسرا خیمہ بھی بھیگ کر کسی غصیلی ساس کی صورت بے قابو ہوا جا رہا تھا۔ کبھی ہاتھوں سے پھسل پڑتا تو کبھی سر پر آن گرتا۔ اِن تمام باتوں نے مجھے عجیب طرح کی جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ اُدھر موسم بھی مسلسل جلتی پر تیل چھڑکے جا رہا تھا۔ جارج خیمہ نصب کرنے میں میری مدد کر رہا تھا۔ مدد کیا کر رہا تھا مجھے تو لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے اُلو بنا رہا ہو۔ جب کبھی میں خیمے کے اپنی طرف کا حصہ درست طور پر کھڑا کر دیتا‘ وہ دوسری طرف سے جھٹکا دیتا اور میری تمام محنت پر پانی پھیر دیتا۔
آخر تم کر کیا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے چلا کر کہا
میں پوچھتا ہوں تم کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ جوابا چلایا ۔۔۔۔۔ کیا تمہیں خیمہ لگانا بھی نہیں آتا؟
ارے الُو کی دم تم اسے اپنی طرف کیوں کھینچ رہے ہو ۔۔۔۔ میں نے دوبارہ دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہم خیمہ لگا رہے ہیں کوئی دسترخوان نہیں بچھا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔!
کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہم رسہ کشی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ وہ جھنجھلا کر بولا ۔۔۔۔۔۔ خیمے کو مسلسل گھسیٹے جا رہے ہو۔ آرام سے کیوں نہیں لگاتے۔۔۔۔۔ اسے ڈھیلا چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں کہتا ہوں تم بالکل غلط کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ میں نے دہاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دل میں ایک وحشیانہ خواہش چٹکیاں لے رہی تھی کہ کاش جارج اس وقت میرے سامنے ہوتا تو مزا چکھا دیتا بچو جی کو ۔۔۔۔۔ ایسا جھانپڑ رسید کرتا کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ۔۔۔۔۔ جھلا کر میں نے خیمے کو ایک جھٹکے سے اپنی طرف گھسیٹا جس سے تمام معاملہ گڑبڑا کر رہ گیا۔ کلے ایک جھٹکے سے اکھڑ پڑے۔
ہُوں ۔۔۔۔ گاؤدی نہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔ جارج کی جھنجھلائی ہوئی بڑبڑاہٹ کسی پگھلے ہوئے سیسے کی طرح میرے کانوں میں پڑی۔ دماغ بھک سے اُڑ گیا۔ لہو لاوے کی مانند کھولنے لگا۔ انتہائی طیش کے عالم میں ہتھوڑے کو زمین پر پٹخا اور جارج کی طرف لپکا تاکہ اُس پر اُس کی پیدائش کے بارے میں نئے نئے انکشاف کر سکوں۔ جارج وہاں موجود نہیں تھا تاہم اُس کی اشتعال انگیز بڑبڑاہٹیں صاف سُنائی دے رہیں تھیں۔ غالبا وہ میرا انتظار نہ کر سکا تھا اور مجھے صلواتیں سنانے میری طرف بڑھا تھا۔ گڑ بڑ بس یہ ہوئی کہ وہ خیمے کی دوسری طرف سے روانہ ہوا تھا چنانچہ میری طرح تشنہ کام رہا۔ میں دوبارہ اُس کے پیچھے لپکا اور وہ میرے پیچھے نتیجتا ہم کافی دیر تک ایک دوسرے کے پیچھے خیمے کے گرد چکر لگاتے رہے لیکن ایک دوسرے کو پکڑائی نہ دئے۔ غالبا خیمے سے یہ خالی خولی کی آنکھ مچولی برداشت نہ ہو سکی وہ بڑے اطمعنان سے گرا اور زمین پر لملیٹ ہو رہا۔ اب درمیان میں کوئی سماج کی دیوار حائل نہ تھی۔ میں اور جارج آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ہم دونوں نے یک بیک خیمے کی طرف دیکھا اور یک آواز ہو کر دہاڑے ۔۔۔۔۔۔ دیکھا ! میں نے کہا نہیں تھا !!!
اسی اثنا میں ہمارا تیسرا ساتھی ہیرس جس کے ہاتھوں میں ہم نے کشتی کی زمام تھمائی تھی‘ آن موجود ہوا۔ اُس کی حالت ہم دونوں سے ذیادہ وگرگوں اور غصہ ہم دونوں سے کہیں ذیادہ تھا جس کا ثبوت اُس کی موسم کے نام وہ صلواتیں تھیں جو وہ بآوازِ بلند دئے جا رہا تھا۔
تم دونوں کیا کرتے پھر رہے ہو۔۔۔۔۔؟ وہ لال پیلا ہو کر بولا ۔۔۔۔۔۔ ابھی تک ایک خیمہ بھی لگا نہیں پائے ۔۔۔۔۔۔ !!
جارج اور میں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بیک وقت اُس پر پل پڑے۔ ہیرس غریب کو اس کی بالکل بھی توقع نہیں تھی چنانچہ وہ ہم دونوں کو لیتا ہوا زمین بوس ہو گیا۔ اُس کا منہ کیچڑ سے لت پت ہو کر رہ گیا۔ کیچڑ سے مفر تو خیر ہم دونوں کو بھی نصیب نہ ہوا۔ ہیرس کی جوابی کاروائی نے ہمیں بھی وہ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا جو اب کیچڑ بن چکی تھی۔ ہم تینوں کافی دیر تک گتھم گتھا رہے۔ اُدھر منٹکمری بھی اس تماشے کو نوراکشتی سمجھتے ہوئے اس میں شامل ہو گیا اور زورآزمائی کرنے لگا۔ پھر جب ہماری طبیعتیں صاف ہوئیں اور حواس ٹھکانے لگے تو تینوں بلکہ چاروں اُن افریقی قبائل کے باشندے دکھائی دئے جو دورانِ جنگ اپنے جسم پر کیچڑ تھوپ لیتے ہیں۔
جارج نے اپنے کیچڑ سے لتھڑے ہوئے ہاتھوں سے چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دیکھا ! میں نہ کہتا تھا کہ خیمہ زنی ٹھیک نہیں ۔۔۔۔۔ !!
آخر کسی نہ کسی طرح خیموں کو نصب کرنے کا مرحلہ پایہء تکمیل کو پہنچا۔ اِس بار خیموں نے کوئی نخرہ بازی نہیں کی تھی۔ اب چیزوں کو ترتیب سے رکھنے کا سوال تھا۔ تمام اشیاء بُری طرح بھیگی ہوئیں تھیں۔ اُنہیں کیسے خشک کیا جاتا؟ گیلے تولیوں سے؟؟؟ بہرحال جوچیز جیسی ہے اپنی جگہ ٹھیک ہے کے مصداق سب چیزیں سلیقے سے رکھ دی گئیں۔ دریا کے کنارے جا کر غسلِ طہارت فرمانے اور پھر گیلے کپڑے زیبِ تن کر چکنے کے بعد قدرے قرار نصیب ہوا۔ کمبل اگرچہ گیلے تھے لیکن آخر کمبل تھے کچھ نہ کچھ کام دے گئے۔ جنگل کی لکڑیوں سے آگ جلانا تو خیر ناممکن تھا‘ بھلا گیلی لکڑیاں آگ کو کیا لفٹ دیتیں۔ مجبورا تیل کے چولہے پر قناعت کرنی پڑی۔ چولہا جلا کر رات کا کھانا تیار کیا جانے لگا۔
رات کے کھانے میں بارش کا پانی ہماری غذا کا جزوِ لانفینک نکلا۔ کھانے کی پر چیز تر بتر تھی۔ ڈبل روٹی کا تین چوتھائی حصہ اس کی دریا دلی کا اسیر تھا۔ اِسی طرح مکھن میں بھی بارش کا پانی اس کثرت سے تھا کہ لگتا تھا کہ جیسے اس میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کا متمنی ہو۔ جام‘ پنیر‘ کافی‘ نمک سب کا اس نے اچار مربہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ یہ سب چیزیں کھائیں تو نئی نویلی دلہن کے ہاتھوں پکائے گئے کھانے کا لطف مل گیا۔
کھانے کے بعد حسبِ معمول تمباکو کی طلب دامن گیر ہوئی۔ تمباکو کا ڈبہ کھول کر دیکھا تو سر پیٹ لینے کو جی چاہا۔ سارا ہی تمباکو گیلا ہو چکا تھا۔ میں نے تو مایوس ہو کر سر ڈال دیا لیکن ہیرس گیلے تمباکو کو ہی پائپ میں بھر کر سلگانے کی کوشش کرنے لگا لیکن بھلا ہتھیلی پر بھی کبھی سرسوں جمی ہے‘ غریب اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اتنے میں جارج‘ جو بڑی سرگرمی سے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا‘ چلایا ۔۔۔۔۔ وہ مارا ۔۔۔۔۔!
ہم نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھوں میں شمپئن کی بوتل تھی۔ ہم دونوں کے چہرے بھی کھل اٹھے۔ ایک ایک جام چڑھایا تو زندگی میں اتنی دلچسپی نظر آئی کہ بستر پر دراز ہوا جائے اور خوشی خوشی ایک دوسرے کو ‘‘شب بخیر‘‘ کہہ کر لمبی تان لی جائے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات کا عکس خوابوں میں بھی جھلکنے لگتا ہے۔ اگر آپ کو عالمِ بیداری میں کسی پریشانی نے مرغا بنائے رکھا ہے تو خواب میں بھی آپ اپنے آپ کو کان پکڑے ہوئے دیکھیں گے۔ یہی کچھ میرے ساتھ بھی اُس رات خیمے میں ہوا۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ یکلخت ایک ہاتھی میرے سینے پر آ کر براجمان ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک زوردار دہماکہ ہوا۔ کوئی آتش فشاں پھٹا تھا جس نے مجھے اُٹھا کر سمندر کی گہرائیوں میں پھینک دیا تھا۔ ہاتھی بدستور میرے سینے پر استراحت فرما رہا تھا۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی؟ اگر کوئی ہاتھی میرے سینے پر بیٹھا ہوا تھا تو آتش فشاں مجھے سمندر میں کیسے پھینک سکتا تھا۔ اور اگر ایسا ہو بھی گیا تھا تو ہاتھی میرے سینے پر کیسے بیٹھا رہ سکتا تھا؟؟ یعنی اگر یہ تھا تو وہ کیسے تھا اور اگر وہ تھا تو یہ کیسے تھا؟؟؟
اِسی الجھن میں میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ آتش فشاں اور ہاتھی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ اور مسائل بھی وقوع پذیر ہو چکے تھے۔ اول اول تو یوں محسوس ہوا جیسے قیامت آ چکی ہے‘ صور پھونکا جا چکا ہے اور آسمان زمین پر گر پڑا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے خود ہی اپنے خدشے کی تردید کر دی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ غالبا ڈاکوؤں اور لٹیروں نے حملہ کر دیا تھا یا کوئی آگ وغیرہ لگ گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہی کچھ ہو سکات تھا۔ قیامت بھلا کیسے آ سکتی تھی۔ ابھی تو میں نے اتوار کی اتوار چرچ جانا موقوف نہیں کیا تھا۔ مجھے یُوں لگتا تھا جیسے سیکڑوں لوگوں کے مجمع نے مجھ پر چڑھائی کر دی ہو اور اب اُن کے درمیان میرا دم گھٹا جا رہا ہے۔ کویی اللہ کا بندہ ایسا نہیں تھا جو میری مدد کو آتا اور مجھے اُن کے پنجوں سے رہائی دلاتا۔
مجھے یُوں لگا کہ جیسے آس پاس کوئی اور ذی روح بھی موجود ہے جو میری طرح کسی انجانی مصیبت میں مبتلا ہے۔ اُس کی خوف میں ڈوبی ہوئی آواز خود میری چارپائی کے نیچے سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اِس تاثر کے ساتھ ساتھ میرے اندر یہ احساس بھی مجھے اندر ہی اندر ڈنگ مارنے لگا کہ میری اپنی زندگی خطرے میں ہے۔ کوئی جناتی عفریت میرے جسم کو نگلتا جا رہا ہے۔ اپنی قیمتی زندگی کو بچانے کے لئے میں نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئے۔ ساتھ میں چیخوں اور فریادوں کا تڑکا بھی لگائے جا رہا تھا۔ مجھے اپنی ریاضت رنگ لاتی نظر آئی۔ چند ہی لمحوں میں میں نے اپنے آپ کو گردن تک کھلی فضا میں پایا۔مجھ سے تقریبا دو فٹ کے فاصلے پر کوئی کفن بردوش آسیب نظر آیا۔ تو یہی وہ عفریت تھا جو میری زندگی کے درپے تھا؟ میں نے سوچا اور پھر اپنی زندگی کی جدوجہد کے لئے سینہ سپر ہو گیا۔ ٹھیک آسی وقت میرے شعر میں اُس عفریت کی شناخت ابھری۔۔۔۔۔ وہ جارج تھا۔
عین اُسی وقت جارج نے بھی مجھے پہچان لیا اور پورا منہ کھول کر چلایا ۔۔۔۔۔۔ ارے ! یہ تو تم ہو !! تمہیں ہو ناں جے ؟؟؟
ہاں ! میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔ میں آنکھیں ملتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔ لیکن آخر ہوا کیا تھا ؟؟
ہونا کیا تھا ۔۔۔۔ کم بخت خیمہ اکھڑ کر گر پڑا ہے ۔۔۔۔۔ اُس نے سر کھجا کر کہا ۔۔۔۔ ہیرس کہاں ہے ؟
اب ہم دونوں کو ہیرس کی فکر پڑ گئی۔ جارج نے اپنی دونوں ہتھیلیوں سے بھونپو بنایا اور پکار کر کہا ۔۔۔۔ ہیرس ! ہیرس !!
عین اُسی لمحے اتفاقا میری نظر جارج کے عقب میں پڑی ۔۔۔۔۔ وہاں زنین پر پڑے ہوئے خیمے کے نیچے کوئی شے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک گھٹی گٹھی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ ارے ! کیا تم لوگ اندھے ہو‘ میں یہاں ہوں خیمے کے نیچے !!
اِس سے پہلے کہ ہم اُس کی مدد کو پہنچتے‘ وہ خود ہی خیمے کو اٹھاتا ہوا اس کے نیچے سے نکل آیا۔ یہ ہیرس کی ایک انتہائی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ شدید غصے اور کیچڑ نے اُس کے چہرے کو ناقابلِ شناخت بنا دیا تھا۔ یُوں لگتا تھا جیسے ہنری ہشتم کو کسی گستاخ درباری نے چھیڑ دیا ہو۔
یہ کس نامعقول کی حرکت تھی؟ ۔۔۔۔۔ وہ دہاڑتے ہوئے بولا
اگر یہ کسی کی حرکت ہوتی تو وہ شخص یقینا نامعقول ہوتا لیکن میرا خیال تھا کہ یہ ساری کارستائی خود خیمے کی تھی جسے انتہائی غلط وقت پر قیلولے کی سُوجھی تھی۔ بہرحال ہیرس کو قائل کرنا بہت مشکل کام تھا۔ وہ بدستور بضد تھا کہ یہ اُس کے خلاف کسی بدطینت کی سازش تھی۔ کبھی کبھار تو وہ ہماری طرف بھی شکوک بھری نظروں سے دیکھ لیا کرتا تھا۔
اُدھر جارج کی یہ روں روں بھی مسلسل جاری تھی کہ ‘‘ دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ خیمہ زنی ٹھیک نہیں !!“
اِس وقت ہم لوگ ایک سرائے کے انتہائی آرام دہ کمرے میں آرام کر رہے ہیں۔ میں آتشدان کے قریب بیٹھا ہوا اِس تحریر کی اختتامیہ سطور رقم کر رہا ہوں۔ میری کرسی کے پہلو میں جارج کا بستر ہے جس پر وہ خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو وہ غنودگی کے عالم میں پچاسوں مرتبہ یہ فقرہ دہرا چکا ہے ۔۔۔۔ دیکھا! میں نہ کہتا تھا کہ خیمہ زنی ٹھیک نہیں !!

(جیروم کے جیروم کی معرکتہ آرا کتاب Three Men in a Boat کے ایک باب سے ماخوذ)


ہر سال کا ایک حصہ انگریزوں سے بھی بُرا ہوتا ہے جب تقریبا ہر سائز کے انگریز کو کرکٹ کھیلنا پڑجاتی ہے۔ فرسٹ کلاس کاؤنٹی کی وبا عین آغازِ اگست سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح در آتی ہے اور انگریزی سامراج کی طرح چھاتی چلی جاتی ہے۔ ستمبر طلوع ہوتا ہے تو تقریبا ہر منیڈکی کو زکام ہو چکا ہوتا ہے۔

مجھے تو بس سال میں ایک مرتبہ کرکٹ کی یخنی چاہئے ۔۔۔۔۔ میں نے ایک انگریز کو ایک بار کہتے سُنا ۔۔۔۔۔ اگر انگریز یہ یخنی پیتا رہے تو نشاہ الثانیہ کچھ دور نہیں ۔۔۔۔۔۔!

ایک دوسرے انگریز نے نشاہ الثانیہ کے ہوتوں سوتوں کی شان میں گستاخی کی اور کہا ۔۔۔۔۔۔ میں تو اِن کل کے لونڈوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ ہم بابوں میں ابھی تک اِتنا دم خم ہے کہ اُن کی جوانی کو آئنینہ دکھا سکیں ۔۔۔۔۔ !

کھیل کا اہتمام شہروں میں ہی نہیں بلکہ مضافاتی قصبوں اور گاؤں کے لشکارے مارتے سبز میدانوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ یہ کھیل اِتنی دلچسپی اور انہماک سے کھیلا اور دیکھا جاتا ہے کہ اکثر کتے بھونکنا بھول جاتے ہیں حالانکہ جمہوری کتوں کو بھونکنے کے علاوہ اور کوئی آزادی درکار نہیں ہوتی۔

کرکٹ کھیلنے والے ہر عمر‘ جنس اور سائز کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ کیا لکھا ہوتا ہے ناولوں پر ۔۔۔۔۔ آٹھ سے اسی سال تک کے بزرگوں کے لئے ۔۔۔۔۔ جی ہاں انگریز سال میں ایک بار بچہ بھی بن جاتا ہے خصوصا اسی سال کا بچہ تو دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔ میں نے تو اِس کا حِظ اُٹھایا ہے کیونکہ اس برس جو ہماری کرکٹ ٹیم تھی اس کا وکٹ کیپر کم و بیش اسی عمر کا کھلاڑی تھا۔ اُسے وکٹ کیپر کے اسٹائل سے جھکنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کیونکہ عمرِ عزیز نے اُسے پہلے ہی خمیدہ پشت بنا رکھا تھا۔ خمیدہ پشتی کی سہولت تسلیم لیکن اگر فاسٹ باؤلر کو چمونے لڑ رہے ہوں تو بیٹسمین کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپر کی ارادی وغیر ارادی ہِل جُل میں اضافہ ناگزیر ہوتا جاتا ہے جبکہ زائدالعمری پہلے ہی چولیں ہلائے دے رہی تھی نتیجتا میلے کی اس شوقن کو عین کھیل کے دوران ہڈیوں کے ماہر سے رجوع کرنا پڑا جو آخری خبریں آنے تک اُس کے ماتھے پر وہ سینگ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کا احتمال اُن باب لوگ کو گیند لگنے کے بعد پیدا ہو گیا تھا۔ خیر یہ تذکرہ دیگر ہے۔ فی الحال اس سال وقوع پذیر ہونے والے اُن تاریخی واقعات کا ذکر ہو جائے جب ہمیں بقلم خود اس سانحے سے گزرنا پڑا۔ جی ہاں‘ کہنے والے اِس کو کرکٹ میچ کہہ سکتے ہیں لیکن میرے ایک مزاح نگار دوست کو تو اس میچ کو دیکھ کر بیسیوں آئیڈیے مل گئے تھے۔

تمہیں ہر حال میں کھیلنا ہے ۔۔۔۔۔ بال پارٹی کی ایک جانِ محفل نے مجھ سے فرمائش کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔ تم جہاں چاہے فیلڈ کر سکتے ہو (جی نہیں‘ گراؤنڈ کے باہر ہرگز نہیں) تمہیں باؤلنگ کے لئے بھی نہیں کہا جائے گا اور اگر تم چاہو گے تو تمہیں کھیلنے کے لئے بھی آخری نمبر پر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ ہمیں دراصل دو ٹیمیں پوری کرنی ہیں ۔۔۔۔!

اُس جانِ محفل کی زیبائش اور فرمائش دونوں ہی قیامت تھی لیکن چونکہ زیبائش نگاہوں کو خیرہ کئے دے رہی تھی اس لئے ہمیں کھیرا بن کر چاقو کے اوپر نیچے ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوا۔

مجھے فیلڈنگ کے باب میں یہ بات پسند آئی کہ آپ جہاں چاہیں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ گویا ہم وہاں بھی کھڑے ہو سکتے ہیں جہاں کسی بیٹسمین کی جارحیت سگار کے دو ایک کش لگانے میں مانع نہیں ہو سکتی تھی لیکن باؤلنگ کے لئے نہ کہے جانے والی بات کچھ ذیادہ پسند نہیں آئی ۔ اگر باؤلنگ ہی نہیں کی تو پھر آپ نے کرکٹ کھیلی ہے یا جھک ماری ہے۔ نویں دسویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے اپنے فوائد ہیں۔ بندہ آؤٹ آف فوکس بھی نہیں ہوتا اور اگر معجزانہ طریقے سے آؤٹ ہونے سے بچ رہے تو پھر اُسے ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی نہیں کرنا پڑتا۔

اِس برس پہلی بار ہماری ٹیم نے ٹاس جیتا ورنہ ہمیشہ اس کا انجام ہٹلر کے آخری معرکے کی طرح ہوتا رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سات کھلاڑی کام آ گئے۔ سکور بورڈ پر کلم کلا سات کا ہندسہ منہ چڑھا رہا تھا۔ بلکہ ہماری غیرت کو سات سلام بھیج رہا تھا۔ گویا واسطا ہر کھلاڑی توحید کا قائل رہا۔ پھر اس کے بعد آٹھویں وکٹ پر دو کھلاڑی ایلفی لگا کر جم گئے۔ ہوٹل آکسٹرا کا ایک کھلاڑی جس کا کرکٹ کے ضمن میں معاشرتی پسِ منظر خاصا مشکوک تھا کمال کی ٹانگیں توڑنے لگا۔ اُس نے آگے بڑھ بڑھ کر ہٹیں لگانا شروع کر دیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے دو اووروں میں چوبیس رنز بنا ڈالے۔ اس سے پہلے کہ انگریزی نشاہ الثانیہ کے متعلق کوئی پیشکوئی کی جاتی اُس پارٹنر شپ کا ایک چکنا پات بلے کو بغل میں دبائے پویلین کی جانب آتا ہوا نظر آنے لگا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈرامے میں میری انٹری ہوتی ہے۔ میں بہت نروس تھا۔۔۔۔۔۔خیر نروس ہونے کا کیا ہے‘ مجھے تو اس میں ملکہ حاصل ہے (ملکہ ایلزبتھ کا اس سے کوئی علاقہ نہیں)۔ وہاں بھی نروس رہتا ہوں جہاں دوسروں کو نروس کیا جاسکتا ہے۔ میرے نروس ہونے کی وجہ وہ دوستانہ مسکراہٹیں بھی تھیں جو آلے دوالے کھڑے ہوئے فیلڈروں کے لبوں پر رقصاں تھیں۔ مجھے یہ ساری مسکراہٹیں برطانوی دفترِخارجہ کےلوگوں جیسی لگیں جن کے ہونٹ مسکراتے ہوئے اگلے بندے کو دھیرج دیتے ہیں جبکہ ہاتھ پیٹھ پیچھے چھپی ہوئی چھُری پر مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اِن مسکراہٹوں سے اگرچہ فضا کو خوشگوار بنانا مقصود تھا لیکن میرا پارٹنر بھیڑئے کی طرح غرا رہا تھا۔ جونہی میں کریز پر آیا وہ مجھے یوں ہدایتیں دینے لگا جیسے بریڈمین کا پھوپھڑ ہو۔ میں نے دونوں کان کھول دئے تاکہ اگر کوئی ہدایت ایک کان سے داخل ہو تو دوسرے سے بآسانی خارج ہو سکے۔ اُس گدھے کو کیا خبر کہ میں کوئی ایسا بھی سوہن حلوہ نہیں ہوں۔ اتنی مزاحمت کو مذاق رکھتا ہوں کہ اگلوں کو ہست و بود کے ہجوں کی ادائیگی کا وقت بخوبی مل سکے۔

مجھے ایک ایسے باؤلر سے سابقہ پڑ رہا تھا جو باؤنڈری وال سے دوڑتا ہوا آتا تھا دوسری جانب والی وکٹ کے قریب آکر اچھلتا تھا اور پھر زور سے بازو گھما دیتا تھا۔ گیند دیند نہیں پھینکتا تھا لیکن وکٹ کیپر کی اچھل کود اور قریبی فیلڈروں کی زوردار “اوہ“ سے لگتا تھا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ یوں بھی ایمپائر اُسے اس نوع کی شرارت کی اجازت کیسے دے سکتا تھا۔ وہ ایک فاسٹ باؤلر تھا اور وکٹ ایسی سپاٹ اور بلئرڈ ٹیبل جیسی چکنی تھی کہ اگر میرے جیسا جیالا بھی بال کرواتا تو مائیکل ہولڈنگ سے کم خطرناک ثابت نہیں ہوتا۔ جب باؤلر دو بار اس عمل کو دھرا چکا تو مجھ کر کھلا کہ وہ گیند پھنکتا بھی ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی تیز رفتاری کے باعث کم کم نظر آتی ہے۔ اب میں سنبھل گیا اور اگلی بال کھیلنے کے لئے تیار ہو گیا۔ اِس بار باؤلر نے باؤنسر پھینکا۔ مجھے بال صاف دکھائی دی۔ گیند میرے سر کے اُوپر سے گزر گئی تھی۔ میں یکدم پُر اعتماد ہو گیا۔ اِس قسم کی گیند تو ہر ایرا غیرا نتھو خیرا کھیل سکتا تھا۔ چوتھی گیند بھی پہلی دونوں گیندوں کی طرح نکلی۔ نہ اُن کے آنے کا پتہ چلا اور نہ جانے کا ۔۔۔۔۔ بس دو باتوں کا ہی نوٹس لے سکا۔ ایک تو یہ کہ گیند میں بھی کسی نوع کی برقی توانائی گھولی گئی ہے تبھی تو میری کہنی کے قریب بازُو پر زوردار کرنٹ لگا تھا۔ جو دوسری شے مجھے نظر آئی وہ میرا پارٹنر تھا جو میری طرف دوڑتا چلا آرہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ چلا بھی رہا تھا ۔۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔۔ دو۔۔۔۔!!!

میں سمجھا کہ وہ مجھ سے میرا بلا مانگ رہا ہے۔ میں نے اپنا بلا اُس کی طرف بڑھا دیا۔

وہ میرے قریب آ کر چلانے لگا ۔۔۔۔۔۔ ابے گدھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاگتے کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔ رنز بناؤ رنز۔۔۔۔۔!!!

اگرچہ رنز بنانے کو کہا تو اُس نے کسی گدھے کو تھا لیکن نہ جانے میں کیوں بھاگنے لگا۔ ہم نے بھاگ کر لیگ بائی کے دو رنز بنائے جسے اگر “بازو بائی“ رنز کہا جائے تو مضائقہ نہیں ہو گا بلکہ ایک طرح سے اُسے “کجن بائی“ رنز بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ گیند لگنے پر جیسی پُرسوز آواز میرے منہ سے برآمد ہوئی تھی وہ صرف اور صرف کجن بائی کا خاصا ہے۔

اب باؤلر کو مزید تجربات کی سوجھی۔ اُس نے گیند کا زاویہ بدل کر اُسے مزید “اُٹھان“ دینے کی ٹھانی۔ یہ اُٹھان کسی جوانی کی اُٹھان کی طرح قیامت خیز ثابت ہوئی۔ پانچویں بال نے میرے منہ کو “فٹے منہ“ بنانے کی ناپاک جسارت کر ڈالی۔ اگرچہ میں نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا لیکن گیند بلیاں دے کر جانے کیسے زنان خانے میں آن گھسی اور میری ٹھوڑی کی خیریت پوچھ ڈالی۔ اس کے بعد جب میں کسی ترقی پزیر ملک کی طرح ڈگمگاتے ہوئے میں کامیاب ہوا تو پون گھنٹا گزر چکا تھا۔ باؤلر کسی نسلی انگریز کی طرح مجھ سے معذرت کرنے لگا۔ میں نے بھی کسی اصلی انگریز کی طرح اُسے دل ہی دل میں ہزاروں گالیاں دیں لیکن اُوپر اُوپر سے اپنی زخمی بانچھیں پھیلا پھیلا کر کہنے لگا ۔۔۔۔۔ اٹس اوکے ۔۔۔۔ تھینکس اینی وے ۔۔۔۔۔۔!!

ویسے قصور تو نہ اُس کا تھا اور نہ میرا بلکہ اگر قصوروار اگر کوئی تھا تو وہ پچ تھی کہ جس نے گیند کو اِتنا اونچا اچھال دیا تھا کہ میرے ظرف سے سنبھالے نہ سنبھلا۔ اوور کی چھٹی اور آخری گیند فل ٹاس تھی۔ میں نے اُسے لیگ باؤنڈری کی طرف کھیلنے کی کوشش کی لیکن مِس کر گیا۔ اِس مس کے مسز بننے کی نوبت نہ آئی کیونکہ محترمہ نے میرے زانو پر اپنا سر رکھنے کی جسارت کر ڈالی تھی۔

ہاؤز دیٹ ۔۔۔۔۔ باؤلر نے اس کُھلی فحاشی پر ایمپائر کی رائے لینی چاہی۔

اوور ۔۔۔۔۔۔ ایمپائر نے تصدیق کی کہ گیند بہت اوور ہو گئی تھی۔

اوور نے جیسے میری بیٹری چارج کر کے رکھ دی۔ شکر ہے کہ ایمپائر نے اِس بال کو نو بال قرار نہیں دیا ورنہ باؤلر کو تو خون لگ گیا تھا۔ آخری بال پر میں نے جس طرح خٹک ڈانس کا ٹھمکا لگایا تھا اُس سے متاثر ہو کر باؤلر یقینا اگلی بال بھی فُل ٹاس ہی کرواتا اور صریحا میرا تختہ دھرن کر دیتا۔

اگلے اوور کی پہلی گیند ہوئی اور دوسری طرف وکٹ کی کلی اڑ گئی۔ محترم بیٹسمین صاحب نے چھکے کی حسرت میں خودکشی فرما لی تھی۔ اب میرا مزید بیٹنگ کرنے کا موقع جاتا رہا لیکن ایک اچھے بیٹسمین کی طرح میں نے حرفِ شکایت زبان پر نہیں لایا۔ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ میںجم گیا تھا تو کسی بھی سیاستدان کی سچائی کو چیلنج کر سکتا ہوں تاہم جس بال پر دوسرا کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا میں اُسے تو کم از کم پویلین کی سلامی کو تو بھیج ہی سکتا تھا۔

چونکہ مجھے “ناٹ آؤٹ“ رہنے کا افتخار حاصل رہا تھا اس لئے میرے کپتان نے اپنے غازی کو بخوشی اجازت دے دی کہ وہ ہوٹل کی کسی بھی حسینہ سے کچھ دیر کے لئے اپنے دکھُتے ہوئے بازُو کی مالش کرا سکے۔

اُس دن کی باقی دوپہر فیلڈنگ کرتے گزر گئی۔ دوسری ٹیم کی بیٹنگ میں کوئی خاص بات نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ صورتِ حرام نوجوان جسے ہوٹل کی حسینائیں “چاکلیٹ ہیرو“ اور میں پیار سے “تارا مسیح“ کہہ کر بُلاتا تھا‘ سینچری بنا گیا۔ کم بخت نے زیادہ تر شارٹس میری طرف ہی ماریں۔ میں شارٹ لیگ پر پہرہ دے رہا تھا۔ ہر بال پر دلکش اسٹائل سے غوطہ زنی فرماتا تھا لیکن اس اہتمام کے ساتھ کہ “انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو“ ۔۔۔۔۔ یُون بھی میں اگر اُس کے شارٹس روکنے لگ جاتا تو تماشائی حسینائیں صاف پہچان جاتیں کہ رقابت پر تُلا بیٹھا ہوں۔ وہ کمبخت بھی شارٹس لگاتے ہوئے میرے کدو کو مدِنظر رکھتا تھا جیسے باؤنڈری یہیں طلوع ہوتی ہو۔

کپتان نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اگر میری بے مثال فیلڈنگ جاری رہی تو اُس نامراد کی سینچری “ہزاری“ میں بدل سکتی ہے‘ مجھے باؤلنگ پر لگا دیا۔ میں ایک وکھرے ٹائپ کا باؤلر ہوں۔ میری باؤلنگ منفرد نظریے کی حامل ہے۔ بعض حاسدوں کا خیال ہے کہ میں عموما گلی میں کھڑے ہوئے فیلڈروں کو بلے باز سمجھ کر باؤلنگ کراتا ہوں جو کہ ایک انتہائی غلط خیال ہے۔ میں اپنے آپ کو صرف اور صرف نجیب الطرفین سمجھ کر باؤلنگ کرواتا ہوں۔ میں اپنی باؤلنگ سے کسی کو یہ سمجھنے کا موقع نہیں چاہتا کہ بچپن میں شرفاء زادوں کے برعکس بنٹے کھیلتا رہا ہوں اسی لئے نشانے سے انحراف طبقاتی تفاخر کا طرہ امتیاز سمجھتا ہوں۔

میں نے جونہی اُس صورتِ حرام کو پہلی بال کروائی‘ اُس نے ایک زوردار ہٹ لگائی اور حسبِ عادت گیند کا رخ میری طرف ہی رکھا۔ گیند میزائل کی طرح میرے سینے کی طرف لپکی۔

کیچ اِٹ ۔۔۔۔۔۔ ہمارا کپتان چلایا۔

میں نے ایک شاندار چھلانگ لگائی‘ گیند پکڑنے کے لئے نہیں بلکہ اُس کی زد سے بچنے کے لئے۔ کپتان کا منہ کسی ویلش باشندے کے منہ کی طرح سُوج گیا۔۔۔۔۔ ویسے ہمارا کپتان ویلش کا باشندہ ہی ہے ۔۔۔۔۔ بدخُو اور خونخوار ۔۔۔۔۔۔ اب وہ مجھ سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ میں نے کیچ کیوں نہیں پکڑا

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

جب گیند باؤنڈری وال سے واپس میرے قبضے میں آئی تو میں نے اُس سے کہا ۔۔۔۔۔۔ یار ! کیوں میری روزی روٹی کے دشمن بنے بیٹھے ہو ۔۔۔۔ اگر میں اُس گیند کو کیچ کرنے کی حماقت کرتا تو اپنی تینوں انگلیاں تڑوا بیٹھتا اور اگر انگلیاں ہی نہ ہوئیں تو کیا میں ڈاکٹروں کی طرح پیروں سے لکھا کروں گا ۔۔۔۔۔ اگر کسی کا ہاتھ ٹوٹ جائے یا اُس کی انگلیوں میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو لگ پتہ جاتا ہے۔ کیوں ایک کیچ کے پیچھے میری جان کے درپے ہو رہے ہو ۔۔۔۔ کچھ خُدا کا خوف کرو ۔۔۔۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے (ہونے والے) بیوی بچوں کے نان نفقے کی ذمہ داری کون لے گا ۔۔۔۔ کیا تم لو گے۔۔۔۔۔؟؟؟

اُس نے ویلش باشندوں کی طرح منہ ہی منہ میں کچھ کہا ۔۔۔۔ غالبا روایتی طور پر میرے انگریز ہونے کو ہی گالی بنایا ہو گا۔

جیسے تیسے کر کے میں نے اوور کی بقایا گیندیں بھی کروا ہی ڈالیں۔

اوور کے اختتام پر میں دوبارہ شارٹ لیگ پر فیلڈنگ کرنے لگا۔ بلے باز نے مجھ سے شرارتوں کا سلسلہ جاری رکھا اور عین اگلی بال پر لیگ کی طرف گیند کی گولی داغ ڈالی۔ کچھ تو جذبہ رقابت سے مغلوب ہو کر اور کچھ کپتان کی رطب و یابِس سے جھنجھلا کر میں نے اُس گیند کو روکنے کے لئے غوطہ لگایا۔ گیند کو روک تو نہ پایا ہاں البتہ اُس کا رُخ اور رفتار تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ گیند نے میری ٹانگوں کے اُوپر ایک ایسے حصے میں ٹکر جڑ دی تھی کہ جس کا بیان سنسر کی زد میں آتا ہے اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اگر رہی بھی تو اِس احساس کے ساتھ کہ

زندگی درد کی تصویر بنی جاتی ہے

میری بیکسی کی شرم رکھتے ہوئے کسی دوسرے فیلڈر نے گیند اُٹھائی اور باؤلر کی طرف اُچھال دی اور یُوں کھیل جاری رہا۔

جب میرے حواس نادندگان کی طرح قابُو میں آئے اور دن میں دکھائی دئے جانے والے تارے نظروں سے چھٹے تو ایک نہایت عبرت ناک منظر نظروں سے گزرا۔ وہی مردود بلے باز جس نے کافی دیر سے مجھے اپنی خباثت کا نشانہ بنا رکھا تھا‘ خاک چاٹ رہا تھا۔ ہماری ٹیم نے فاسٹ باؤلر نے ایسی انتقام پرور گیند کرائی تھی کہ اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔ اُس نے عین جسم کا وہی حصہ تھاما ہوا تھا جس کا نشانہ مجھے بنایا تھا۔ اِدھر میں اُردو کے آٹھ کا ہندسہ بنتا ہوا کھڑا ہوا اُدھر وہ سات کا ہندسہ بنتا ہوا زمین بوس ہوتا گیا۔ ایسا گرا کہ جیسے زمین پر نہ گرا ہو نظروں سے گرا ہو‘ اُٹھ ہی نہ سکا۔

جب وکٹ کی کلیوں کو گرایا گیا تو میرا خیال تھا کہ اب اِس طویل دن کا بوریا بستر لپٹ چکا اور میں پُلِ صراط کا سفر طے کر چکا لیکن ایسا نہیں تھا۔ ابھی اس دن کی جگ ہنسائی کو امر بننا باقی تھا جس کا مظاہرہ ایک گروپ فوٹو کی صورت میں ظاہر ہوا۔

اس واقعے کو صدیاں گزر چکیں ہیں۔ پچھلے دنوں میری ایک دوست نے جب یہ گروپ فوٹو دیکھا تو ایک صاحب کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا ۔۔۔۔۔ کیوں مکڈونلڈ ! یہ بجو جیسا شخص کون ہے؟

میں نے لاعلمی سے شانے ہلا دئے۔ کیوں صاحبو! آپ جانتے ہیں کہ وہ کون تھا؟؟؟؟

(بیسل میکڈونلڈ ہیزٹنگس کی تحریر “ دی ونس اے ائر کرکٹ“ سے ماخوذ)