نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری مزاحیہ شاعری

میرا کیا دوش کہ یہ عشق تو اس دل کی ہے سازش جاناں!
کیوں ترے ویروں نے کی ہے مری مالش جاناں

حسنِ کافر میں جوانی کی بہاریں بھی عجب رُوپ کی دیکھیں ہم نے
کوئی ہے سرخ ٹماٹر کوئی کشمش جاناں

تاڑئوں پر کیوں خفا ہوتا ہے
تجھ کو رب نے جو بنایا ہے تو کاہے کو بنایا ہے یوں مہوش جاناں

کچھ مرے جذبِ دروں کا بھی کرو پاس کبھی
یوں بھی بن جاؤ نہ داعش جاناں

لاکھ فیتوں سے اسے ناپے پھرو
فاصلوں کی کہاں ممکن ہے پیمائش جاناں

ناچ تگنی کا نچایا ہے رقیبوں نے تو یہ مجھ پہ کھلا ہے اکثر
اس سے بڑھ کر نہیں ہوتی کوئی ورزش جاناں

اپنے مطلب کا نظر آئے تو پھر دیکھتے ہیں کھول کے آنکھیں ہم تم
یوں تو بنتے ہیں بہت صاحبِ بینش جاناں

وہ کرپشن سے بناتے ہیں اثاثے تو یہ حق ہے اُن کا
لیڈرِ قوم سے قانون کئے جاتا ہے کس برتے پہ پرسش جاناں

اپنے احباب میں کہلاتے ہیں وہ لوگ چغد
فیس بک پر جو بگھارے ہی چلے جاتے ہیں دانش جاناں

لفٹ ملتی ہے کلرکوں سے کہاں پھوکٹ میں
نوٹ کی شکل نظر آئے تو کرتے ہیں وہ جنبش جاناں

جب حماقت بھری ٹنڈ کوئی نظر آئے تو لفظوں کی لگاتا ہے چپت
یہ قلم کو بھی ہے کس طور کی خارش جاناں

Advertisements

جس طرف بھی جائیے
محوِ خنداں پائیے
اِن کے فقرے کھائیے
اور بس مسکائیے
ہر طرف تشریف فرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
ہر سیاستدان کا
اب لب و لہجہ ملا
اس مرض میں مبتلا
بھانڈ ہر کوئی بنا
سب کے سب جلسوں میں بن جاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
دفتروں میں بھی کہاں
اب مفر اِن سے میاں
رکھتے ہیں سب ہمرہاں
بھانڈ کا طرزِ بیاں
اب تو اِن سے آپ شرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
نیوز چینل پر ملے
بھانڈ ہر ہر طور کے
اب سیاسی تبصرے
اِن کے ہی ذمے لگے
اب صحافت کو بھی گرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
ان کی باتوں پر چڑیں
تیل جلتی پر دھریں
اور "مچلائیں” اِنہیں
جینا ہی دوبھر کریں
کس قدر فنکاری دکھلاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ


تیری اماں ہے یا ریڈار ہے، سب چلتا ہے
گول ہر طالبِ دیدار ہے، سب چلتا ہے

اعتراض اُن کو ہے، جب ٹُن ہے یہ ساری دنیا
کیوں مرا دیدۂ بیدار ہے، سب چلتا ہے

خود کو وہ لیڈرِ قومی ہی سمجھ بیٹھا ہے
جانتے سب ہیں کہ فنکار ہے، سب چلتا ہے

کیوں مری حقہ نوازی کا اُڑاتا ہے مذاق
اُس کے منہ میں بھی تو نسوارہے، سب چلتا ہے

جو ہر اک گام پہ دیتا ہے اڑنگی مجھ کو
وہ کہاں کا مرا غمخوارہے، سب چلتا ہے

عشق کو ہر سمے چکرائے ہوئے رکھتا ہے
حسن اک نقطۂ پرکار ہے، سب چلتا ہے

میرا حامی بھی ’’لفافے‘‘ کو ہوا ہے پیارا
اب ترا حاشیہ بردار ہے، سب چلتا ہے

منتظر وصل کا رہتا ہوں میں سارے ہفتے
اور بس ایک ہی اتوار ہے، سب چلتا ہے

میں وہاں ٹھٹھے لگاتا ہوا پھرتا ہوں بہت
مسکرانا جہاں دشوار ہے، سب چلتا ہے

میرے اندازِ تکلم پہ ہے مشہور ظفرؔ
فدوی شاعر نہیں بمبارہے، سب چلتا ہے


جانتے سب ہیں جو کردار ہے، سب چلتا ہے
محترم ہے کہ وہ زردار ہے، سب چلتا ہے
 
اپنے گل خان میں فیشن کے جراثیم نہیں
وہ تو شلوار ہی شلوار ہے، سب چلتا ہے
 
سچ تو یہ ہے کہ خبر کچھ بھی نہیں ہے لیکن
شور کرتا ہوا اخبار ہے، سب چلتا ہے
 
آج کل ڈیموکریسی بھی کہاں وارے میں
اب تو بے وقت کی ملہار ہے، سب چلتا ہے
 
یہ ولیمے کے ہی کھانے پہ کھلے گا تم پر
کس قدر کوئی وضعدارہے، سب چلتا ہے
 
کاغذوں میں تو ترقی کے ہیں دعوے خاصے
اور کچھوے کی سی رفتار ہے، سب چلتا ہے
 
دیکھنے والوں میں دوڑاتی ہے دہشت کیا کیا
مونچھ کہ صورتِ تلوار ہے، سب چلتا ہے
 
اُس نے گالی کو بنا رکھا ہے تکیہء کلام
واہ کیا شوخیء گفتار ہے، سب چلتا ہے
 
نوحہ تو ڈیموکریسی کا کوئی کرتا ہے
اپنی کرسی کا عزادار ہے، سب چلتا ہے
 
وہ ستمگار تو دلدار شکن ہے یکسر
ہاں مگر نام کا دلدار ہے، سب چلتا ہے

چہچہے جس سے تھے وہ بھی بے زباں بنتا گیا
بیگمانہ آمریت میں میاں بنتا گیا

کالے دھندے والوں کے اونچے محل بنتے گئے
تیرا میرا گھر سمٹ کر پانداں بنتا گیا

ارتقائے حُسن کا عالم نہ ہم سے پوچھئے
ریشمی بننا تھا موٹو ریشماں بنتا گیا

عشق ہم نے جب کیا ہر بی جمالو سے کیا
ہر اڑنگی بازاپنا رازداں بنتا گیا

بال رنگوانے لگا نائی کے آگے بیٹھ کر
دیکھتے ہی دیکھتے بڈھا جواں بنتا گیا

اولاً تم کو شریف انساں کہا تھا اور پھر
گالیوں والا ہی اندازِ بیاں بنتا گیا

غیر پہنچا تیری انگنائی میں تو کچھ نہ ہوا
میں گیا تو چار سو شورِ سگاں بنتا گیا

آج ہر خوردوکلاں ہونے لگا درپے مرے
میرا سچ میرے لئے اک امتحان بنتا گیا

ہم کو بتلاتا رہا وہ سادگی کی برکتیں
اور خود وہ کاسمیٹکس کی دکاں بنتا گیا

رفتہ رفتہ اُس کو بھی دنیا شناسی آ گئی
جو سراپا گل تھا وہ گل شیر خان بنتا گیا

عمر تو ہم دونوں کی یکساں تھی لیکن دن بدن
تیر وہ بنتا گیا اور میں کماں بنتا گیا

ہو گیا معلوم آٹے دال کا بھاؤ اُنہیں
درد میرا جب سے دردِ ناصحاں بنتا گیا

جس کے جی میں جو بھی آئی ہے وہی کرنے لگا
کارواں گویا جلوسِ رہرواں بنتا گیا


گھورتا ہے اُس کا بھائی فیل تن علیٰحدہ
اور رقیب بھی بنا ہے ٹارزن علیٰحدہ

پولیٹکس میں نہیں تو چانس ہی گنوا دیا
جن کے بینک میں بھرا ہے کالا دھن علیٰحدہ

کالی پیلی سی صحافتوں کے طور دیکھئے
سُرخیاں علیٰحدہ ہیں اور متن علیٰحدہ

بیویوں کے پاتھ میں بھی بیلنوں کے ہیں تبر
اور دور بھی ہے خاصا پُر فتن علیٰحدہ

اُس کی سازشوں سے ہی پٹا ہوں میں مبینہ
دے رہے تھے جو وفاؤں کے وچن علیٰحدہ

بیویوں کا شک میاؤں پر بھی پہلے کم نہیں
حشر ڈھا رہا ہے پنکی کا چلن علیٰحدہ

تین تین مرلوں کے گھروں میں ہم کرائے دار
لے کے بیٹھے ہیں وہ گلشنِ عدن علیٰحدہ

دال بھات سے میاں کے یار کی مدارتیں
کر لیا ہے اپنے واسطے چکن علیٰحدہ

لیڈروں کی پود بھی سیاستوں میں آ گھسی
تن گئی ہے قوم پر یہ اور گن علیٰحدہ

لُوٹتے نہیں زنانہ وار ہی مشاعرے
بزم میں وہ کر رہے ہیں چھن چھنن علیٰحدہ


جو گھر میں چپقلش کا پھر مقام آیا تو کیا ہو گا
تمھارے ہاں سے بھی شورِ دھڑام آیا تو کیا ہو گا

جہاں سے ہم پہ ٹھنڈا ٹھار پانی کل بھی آیا تھا
اُسی غرفے سے پھر کوئی سلام آیا تو کیا ہو گا

تحفظات ایسے ہی ترے میرے ملن پر ہیں
اگر نہ میم کے پہلو میں لام آیا تو کیا ہو گا

ابھی مہمان ہے اور آپ ناکوں ناک آئے ہیں
یہی سالا اگر بہرِ قیام آیا تو کیا ہو گا

عدالت پر بہت چیں بہ جبیں ہونا نہیں اچھا
اگر اِن فیصلوں کو اژدھا آیا تو کیا ہو گا

بڑی لش پش دکھاتا جا رہا ہے عاشقِ بے غم
ترے کوچے میں بے نیل و مرام آیا تو کیا ہو گا

پلاننگ وصل کی کر لی ہے لیکن اس کا بھی ڈر ہے
مجھے نزلہ رہا اُس کو زکام آیا تو کیا ہو گا

جہاں پر تم دئے جاتے ہو بھاشن نوجوانوں کو
وہاں پر تذکرہء ڈیڈ و مام آیا تو کیا ہو گا

وطن کا نوجواں اقبال کا شاہین ہے لیکن
یہ جنگِ ازدواجی میں ہی کام آیا تو کیا ہو گا

سبھی کے منہ کھلے رہ جائیں گے فرطِ تحیر سے
"سرِ محفل محبت کا پیام کا آیا تو کیا ہو گا”

جو سچی بات کرتا ہے وہ کیسے بات کرتا ہے
اُسے بھی ڈالنے کوئی لگام آیا تو کیا ہو گا

غمِ ہستی نے اب جن چہروں پر بارہ بجائے ہیں
میں اُن پر ٹانکنے کو ابتسام آیا تو کیا ہو گا

سُنا ہے جام ہوتا ہے تو شاعر شعر کہتا ہے
ہمارے تو پر مکھن نہ جام آیا تو کیا ہو گا

کوئی تو سننے والا ہو رضاکارانہ عرضِ دل
ظفر کو سخت زوروں کا کلام آیا تو کیا ہو گا