نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری غزلیں

کردار ہمارے بھی فسانے کے عجب ہیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں جو جینے کا سبب ہیں

مل جائیں گی خوشیاں بھی یونہی تم کو کسی دن
کیا غم ہے مقدر میں اگر رنج و تعب ہیں

کیا خاک علم لے کے سحر کا کوئی نکلے
جو دن کے مسافر تھے سرِ خیمہ شب ہیں

کچھ شہر کے آداب موافق نہیں اب کے
کچھ آپ کے دیوانے بھی زنجیر طلب ہیں

تب بھی مری ہر سانس ترے نام لکھی تھی
اب کے بھی شب و روز پہ یادوں کے نقب ہیں

یہ دیکھ کے بھی صبر مجھے آتا نہیں ہے
جو میرے نہیں ہو سکے اپنے بھی وہ کب ہیں

کس دور میں ہم اہلِ جنوں پیدا ہوئے ہیں
انداز ہیں جینے کے نہ مرنے کے ہی ڈھب ہیں

چپ چاپ سبھی قتل ہوئے جاتے ہیں کیانی
کچھ دیکھتی آنکھیں ہیں نہ کچھ بولتے لب ہیں



پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ
سسروں کو دے کے آ گئے گردن کا ناپ آپ

لاعلم تھے کہ آپ کے جاناں کا عقد ہے
ٹھمکا لگا کے ڈھول کی سنتے تھے تھاپ آپ

آوارگی اُنہیں کی محبت کی ہے عطا
لگنے لگے ہیں جن کو بہت روڈ چھاپ آپ

ٹپکا رہے تھے رال وہ جس کے شباب پر
موصوف اُس حسینہ کے لگتے تھے باپ آپ

اک دوسرے کو کچا چبانے کی گھات ہے
اور میڈیا کی ٹاک پہ جاری ہے آپ آپ

ماہِ صیـام تو ہے پئے تزکیہ ء نفس
اور لے گئے سمیٹ کے ساری ہی شاپ آپ

لیتے ہیں کیوں جماہیاں منہ پھاڑ پھاڑ کر
جب آنے والے دور کی سنتے ہیں چاپ آپ

چلتی نہیں یہاں پر منسٹر کی پرچیاں
جیون کے امتحان میں کیا ہوں گے ٹاپ آپ

بسم اللہ کہ جناب کا کھاتہ ہے بِل ابھی
حج کر کے دھو تو آئے ہیں جیون کے پاپ آپ

چمنی اگر خدا نے غزل کی ہے دی ہوئی
کچھ تو نکال دیجئے اندر کی بھاپ آپ

کردار سارے ڈان بنے پھرتے ہیں ظفر
جمہوریت کی فلم کو سمجھیں فلاپ آپ


درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے
کوئی آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جاتا ہے

خامشی پہنی تھی اوروں سے زیادہ میں نے
دیکھنے والوں کا کیوں مجھ پہ ہی شک جاتا ہے

دل کے آوازے کو زنجیر بھی پہنا دیکھی
یہ مگر صورتِ پازیب چھنک جاتا ہے

کبھی رہنے نہیں دیتا ہے تہی دست مجھے
جو بھی آتا ہے کوئی دے کے کسک جاتا ہے

بددعا سی ہے مسافر کو کسی کی شائد
پاس آ جاتی ہے منزل تو بھٹک جاتا ہے

جب کبھی دل میں تری یاد کی لو جاگتی ہے
میرے اندر کوئی بچہ سا ہمک جاتا ہے

کالے کوسوں کے مسافر کو سکوں خاک ملے
اپنی جانب بھی تو چلتے ہوئے تھک جاتا ہے

تشنگی روح کی بجھتے نہیں دیکھی ہے کبھی
ویسے جانے کو تو لب جام تلک جاتا ہے

اِس کو پاتال میں گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ زمیں زاد جہاں تابہ فلک جاتا ہے


کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا
کیوں اُڑنچھو ہے بھلا لے کے بیعانہ دل کا

مشورہ عقل کا مانا نہیں یہ جان کے بھی
احمقانہ ہے ہمیشہ سے قیانہ دل کا

دیکھتے دیکھتے ہو جاتی ہے ہر نیوز بریک
راز چھپتا ہے کہاں کوئی زنانہ دل کا

سب گرفتارِ وفا ہو کے یہیں آتے ہیں
حُسن والوں کو کھلا رہتا ہے تھانہ دل کا

اُن کو کانا تو کہا جا نہیں سکتا ہرگز
میچ کر آنکھ جو لیتے ہیں نشانہ دل کا

چاند چہرے پہ دوپٹے کا ہے ڈھاٹا، دیکھو
کوئی آیا ہے چرانے کو خزانہ دل کا

کیوں تری یاد دسمبر میں رلاتی ہے مجھے
اِتنا آساں نہیں جاڑے میں نہانا دل کا

سرجری صبر سے روزانہ میں کرواتا ہوں
لوگ فالودہ بنا تے ہیں روزانہ دل کا

ساتھ میں چاہیئے دولت کی بھی میٹھی چٹنی
ہے تو مرغوب اُنہیں کھنڈ مکھانہ دل کا

تیرے ہونٹوں پہ وہی ”دُور دفع“ کے فقرے
تیری آنکھوں پہ وہی شعر سُنانا دل کا


مار زیرِ آستیں ہے ہی نہیں
یار گویا دنیا بیں ہے ہی نہیں

ٹارچ کا ہی کام کوئی لے سکے
اِس قدر روشن جبیں ہے ہی نہیں

پارلر سے جب سے ہو کر آئی ہو
کوئی تم جیسا حسیں ہے ہی نہیں

دل میں گھستا آئے کیوں جوتوں سمیت
مہرباں اپنے تئیں ہے ہی نہیں

پونچھ لوں میں ہاتھ اُس کی شال سے
اِس قدر کوئی قریں ہے ہی نہیں

یہ رہا نچڑے ہوئے لیموں کا رس
آپ کہتے تھے نہیں، ہے ہی نہیں

اُس نے دھوکہ دے دیا تو کیا ہوا
جس پہ ہم تم کو یقیں ہے ہی نہیں

میں پئے بھونڈی گیا تو یہ کھلا
اُس مکاں میں تو مکیں ہے ہی نہیں

نغز گو رو میں اُسے بھی کہہ گئے
جو سرے سے نازنیں ہے ہی نہیں


فی البدیپرفارمس کا سودا سخنور میں پڑ گیا
بزمِ سخن میں کاوشِ جوکر میں پڑ گیا

جمعہ کسی برات میں ناچا یوں رات بھر
کارِ خمار آن کے دفتر میں پڑ گیا

اب بھی دکھائی دیتی ہے وہ بیس سال کی
اور لگ رہا ہے جیسے میں ستر میں پڑ گیا

سچ سچ بتا! یہ کوئی گویّا ہے پاپ کا
یا بھوت تان سین کا بندر میں پڑ گیا

کہتا تھا عصرِ نو میں شریف آدمی مجھے
جو مجھ کو چھیڑتا تھا اُسے اکثر میں پڑ گیا

ہر ایک مرد کا دل ہے خوباں کا بتکدہ
عورت کا دل نہیں ہے کہ زیور میں پڑ گیا

کچھ لیڈروں سے بنتا ہے اس طور کا سوال
لوٹے کا عکس کیسے کریکٹر میں پڑ گیا

ہر سمت بس پٹھان دکھائی دئے مجھے
بندوں کا کال سارے پشاور میں پڑ گیا

کھایا ہے جس کا بیف کسی ریستوران میں
وہ بیل جا نے کیسے کسی خر میں پڑ گیا

سمجھا نہ جس نے لفٹ کے قابل کبھی مجھے
آخر کو وہ مرے ہی مقدر میں پڑ گیا

مت پوچھ تیرے ہجر میں کیا حال ہو گیا
رنگِ پپیتا جیسے چقندر میں پڑ گیا

وہ بیکلی ہے ہم کو کسی پہلو نہیں سکوں
کھٹمل تمھاری یاد کا بستر میں پڑ گیا

میں تو محبتوں کا خریدار تھا ظفر
کیوں زادِ ہجر ذیست کے شاپر میں پڑ گیا


بٹتے ہیں شادیوں کے چھوہارے دگڑ دگڑ
کرتے ہیں شہر بھر کے کنوارے دگڑ دگڑ

برسوں کا فاصلہ ہے ، اِسے طے کرو گے کیا
یوں دوڑتے ہیں گھوڑے تمھارے دگڑ دگڑ

ویسے ہی دندناتے ہیں اُس کی گلی میں ہم
جیسے چلے "گرائیں” ہزارے دگڑ دگڑ

پیچھے لگایا جب بھی سگِ کوئے یار کو
میرا رقیب دڑکیاں مارے دگڑ دگڑ

غیروں کی ہو گئی ہے تو پھر کس لئے خدا
اُس کو مری گلی سے گزارے دگڑ دگڑ

جھٹکے ہمارے بخت کو لگتے ہیں بے طرح
کرتے ہیں آسماں پہ ستارے دگڑ دگڑ

لیڈر تمام بحرِ کرپشن میں غوطہ زن
اور ہم بھی ہیں کنارے کنارے دگڑ دگڑ

کوئی نہیں ہے دل کا خریدار واقعی
سارے ہی آ رہے ہیں اُدھارے دگڑ دگڑ

عشاق کی ہو دشت میں ہاؤسنگ سوسائٹی
پھرتے ہیں شہر میں کیوں بچارے دگڑ دگڑ

لو نیویں نیویں ہو کے چلے بزم سے عدو
کچھ تو بھی اپنی چال دکھا رے دگڑ دگڑ

رکھتے نہیں ہیں ہاتھ بریکوں پہ زینہار
لکھتے ہیں شعر نغزگو سارے دگڑ دگڑ