نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری غزلیں

وہ سنگ کیوں ہوا گداز خود بھی جانتا نہیں
چھڑا ہوا ہے کیسے ساز خود بھی جانتا نہیں

اگرچہ مدتوں سے روز و شب کی ٹکٹکی پہ ہوں
مگر حیات کا جواز خود بھی جانتا نہیں

زمین کے کٹاؤ کی طرح نگل نگل گیا
یہ غم ہے کیسے دل نواز خود بھی جانتا نہیں
ش
ہیدِ ناز پر فسردہ ہو گیا ہے آپ بھی
تو کیا وہ حسنِ بے نیاز خود بھی جانتا نہیں

میں کیا کہوں کہ پہنچ پایا کتنی صدیاں پھاند کر
میں کیا کروں کہ در ہے باز، خود بھی جانتا نہیں

شجر بچھائے جا رہا ہے عاجزی سے ٹہنیاں
پرندے پڑھتے ہیں نماز خود بھی جانتا نہیں

کہاں کہاں سے کر دیا ہے وقت نے حذف مجھے
کہاں کہاں ہے ارتکاز خود بھی جانتا نہیں

محبتوں کا جو ہنر ہے اُس میں کیسا نقص ہے
وہ اجنبی سا اعتزاز خود بھی جانتا نہیں

پرو دیا ہے شعر شعر اُس کی بات بات کو
کھلے گا یوں سبھی پہ راز، خود بھی جانتا نہیں


لیلیٰ کا بڑا تم سے ہے مجنون مڑا
تم قیس ہے تو ام بھی ہے پختون مڑا

نعمت کدۂ دہر میں ممکن ہی نہیں
نسوار سے بڑھ کر کوئی معجون مڑا

محبوب ہو دس بیس سا پر ایک ہی ہو
بھاتا نہیں ہر سیٹھ کو پرچون مڑا

’’تبدیلی‘‘ ابھی ہے ترا کچا خانا!
احساس کی سیخوں پہ اسے بھون مڑا

بھوکا کبھی ہوتا ہوں تو جی اُٹھتا ہے
ام میں کوئی فنکار ہے مدفون مڑا

وہ ’’جاز‘‘ کا ریچارج بجا مانگتا ہے
کنگال ہوا عشق میں قارون مڑا

ازخود تو کبھی میل نہیں جا سکتا
بوتھے پہ ملا کرتے ہیں صابون مڑا

بھنبھوڑنے کا شوق جو بھارت کو رہا
کر لے گا ہڑپ خود کوبہت سون مڑا

ام نے تو سدا پیار سے بولا ہے ’’کنا‘‘
نچلا نہ کبھی بیٹھا وہ پتلون مڑا

کمزوروں کو بے جرم بھی دھر لیتا ہے
لونڈی ہے زبردستوں کا قانون مڑا

پشتو میں جو لکھا ہے مرے’’ دا جی‘‘ نے
دھمکیلا ہے کیا عرضی کا مضمون مڑا

خانم سے مرا بات نہیں ہو پاتا
کیوں رانگ ہی ملتا ہے سدا فون مڑا

وہ سیدھا ہے تو ام بھی ہے ریشم جیسا
ٹیڑھا ہے تو ام اُس سے بھی ہے دُون مڑا

اپنا ہے وہاں کون سا بی بی شیریں
بزنس کے لئے جاتا ہے رنگون مڑا

پشتونوں میں پشتو کے چلیں گے وٹے
ہو گا نہ جدا ماس سے’’ ناخون‘‘ مڑا

میں کہتا تھا ظالم کے رُخِ روشن کو
لگتا تھا اُسے گنج مرا ’’مون‘‘ مڑا

میٹر جو مرے خان کا گھوما ہوا ہے
’’ب‘‘ جیسا ہے لملیٹ ہر اک ’’ن‘‘ مڑا

تن فن کے لکھا ہم نے بھی دس بیس غزل
مارا جو ترا یاد نے شبخون مڑا

بونگی سے تروپا کبھی ’’چولوں‘‘ سے سیا
اُدھڑا ہے مرے فن کا جہاں اُون مڑا

بیٹھا ہے مرے ووٹ سے ممبر بن کر
یا پھر ہے اسمبلی میں کوئی ژُون مڑا

کیا مرد ہے یہ شہر کا بابو، اِس سے
تگڑا ہے مرے ملک کا خاتون مڑا

مردان کا ہے خون بدن میں شائد
رہتا ہے دسمبر میں بھی وہ جون مڑا

میں جیسا بتاتا ہوں وہی بولا کر
یونہی نہ لگا اس پہ مرچ لون مڑا

وہ رانگ ہی نمبر پہ مجھے کال کرے
ہو جائے دعا میرا بھی مسنون مڑا

یہ جنس تو نایاب سی لگتی ہے ظفرؔ
انسان کا ملتا نہیں خبرون مڑا


کسی کی آرزؤیں اب بھی ہم میں رقص کرتی ہیں
سنہری مچھلیاں’’ اِکویریم‘‘ میں رقص کرتی ہیں

کوئی طوفاں دبا پاتا نہیں دِل کی صداؤں کو
یہ جل پریاں تو آبِ یم بہ یم میں رقص کرتی ہیں

ہماری الفتوں کو آپ نے ہلکا نہیں لینا
بہ رنگِ ہست بھی خوابِ عدم میں رقص کرتی ہیں

یہ پیغامات پہنچاتی ہیں تم تک میرے مولا کا
اگر چڑیاں تمھارے آشرم میں رقص کرتی ہیں

میں اُن پر چل کے بھی کیوں منزلوں کا ہو نہیں پایا
جو راہیں زندگی کے پیچ و خم میں رقص کرتی ہیں

تری یادیں تو جیسے بن گئی ہیں دھڑکنیں،پیارے!
یہ رقاصائیں بھی دل کے حرم میں رقص کرتی ہیں

نیامِ مصلحت میں رہ کے جن کو زنگ لگتا ہے
وہی تلواریں لہراتے علم میں رقص کرتی ہیں

امیدیں سینۂ خنجر پہ چل کر بھی نہیں رُکتیں
یہ حسرت بن کے بھی جیسے ارم میں رقص کرتی ہیں

تمھارے ہجر کی غزلیں ، تمھارے وصل کی نظمیں
دلوں میں تھرتھراتی ہیں، قلم میں رقص کرتی ہیں


ذکر ہم جیسے کج راؤں پر آیا ہے اپسراؤں کی باتیں بتاتے ہوئے
آپ کا تذکرہ بھی کیا جائے گا پارساؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جانے وہ کیوں گرجنے برسنے لگے شا نتی کی کہانی کے اِک موڑ پر
جانے ہم بھی کیوں خاموش سے ہو گئے بے نواؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جو ہتھیلی کے نقشے کو تبدیل کر کے فلک بوس ٹاور کھڑے کر گیا
اُس کے لہجے میں حسرت سی کیوں آ گئی اپنے گاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ جو اُن کی حفاظت کے ہتھیار ہیں، اب اُنہیں کی ہلاکت کو تیار ہیں
لوگ خود ہی جراثیم بننے لگے ہیں وباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا کہیں کس ہوا میں رہے تب تلک، نہ زمیں زیرِ پا تھی نہ سر پر فلک
اپنی دھرتی کا قصہ سناتے ہوئے یا خلاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ وہ رشتوں کی بیلیں ہیں جن سے سداہم نے دیکھا ہے روحوں کو سرسبز سا
جوئے خوں سب کی آنکھوں سے جاری ہوا اپنی ماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

برش سارے ہی رنگوں میں پھیرا ہے تو اپنی تصویر کو دی صداقت کی لو
ذکر ڈستی ہوئی دھوپ کا بھی کیا ٹھنڈی چھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

سامنے کیسا منظر روانی کا تھا، ریت پر وہم کیوں ہم کو پانی کا تھا
رہزنوں کا خیال آ گیا کس طرح رہنماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

ساربانوں کے سب قافلے جا چکے،گزرے ادوار کو راستے جا چکے
ہم بھی رخشِ زماں پر ہیں محوِ سفر اِن کتھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا خبر داستاں کے کسی موڑ پرچھیڑ دے درد کا ساز کون آن کر
دھر لیا کرتے ہیں ہاتھ دل پر ظفرؔ دلرباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے


جھٹپٹے میں ہی اذاں دینے لگے خوابِ سحر
آخرش آ ہی گئے اِن کو بھی آدابِ سحر

رات دروازے سے اندر نہیں آ پائے گی
میری آنکھیں مرا دل منبر و محرابِ سحر

مارتا پھرتا ہے شب خوں بڑی بے خوفی سے
لشکرِ ظلمتِ شب میں کوئی مہتابِ سحر

جب بھی مایوسی کے موسم نے چمن کو جکڑا
مسکرا دیتا ہے کوئی گلِ شادابِ سحر

نور افشانی رہی شب کے شہیدوں سے بھی
صرف سورج ہی نہیں گوہرِ نایابِ سحر

سانپ لپٹا نہیں اس پیڑ سے مایوسی کا
مضمحل ہوتے نہیں ہیں کبھی اعصابِ سحر

جادوئے خامشیء شب میں کہاں آتے ہیں
گیت بُنتے ہی چلے جاتے ہیں مضرابِ سحر

تب بھی ڈالی نہ سپر معرکہ آراء دل نے
باز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ہر اک بابِ سحر

اب کے خود اپنے لہو سے ہی بجھی تشنہ لبی
کب ملی میکدہء وقت سے مے نابِ سحر