نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: میری شاعری

ہم نے تجھ کو دی تھی عزت
اپنے ووٹ کی ساری طاقت
پلٹا دی تھی وقت کی کایا
سب سے بڑی کرسی پہ بٹھایا
۔۔۔۔۔۔
لیکن اُف تیری بیدردی
اپنے کرتوتوں کی کالک
لےکر ووٹ کے منہ پر مل دی
۔۔۔۔۔۔
ایک ذرا آنے دے الیکشن
ہم بھی اپنے ووٹ کا مکا
تیرے بوتھے پر جڑ دیں گے
تجھ کو ناک آؤٹ کر دیں گے

Advertisements

اگر ہے جورو مریضِ جفا تو یونہی سہی
اک اور عقد ہے اِس کی دوا تو یونہی سہی

اُسے دولتی جمانا تو ہے ڈیو مجھ پر
سمجھ رہا ہے وہ مجھ کو گدھا تو یونہی سہی

اگرچہ پکڑے گئے مک مکا کے چکر میں
علاج اس کا بھی ہے مک مکا تو یونہی سہی

وہ اپنے مال کوسائے سمیت تولتا ہے
یہ بے ایمانی ہے اُس کو روا تو یونہی سہی

وہ عقد کر کے تری زندگی سے چمٹی ہے
نہیں ہے کلمۂ ردِ بلا تو یونہی سہی

محبتیں تو ہمیشہ سے اندھی ہوتی ہیں
کسی کا چاند ہے’’ اُلٹا توا‘‘ تو یونہی سہی

سوال کرتا ہے جب بھی مفاد ہو اپنا
گو مستقل ہے وہ مجھ سے خفا تو یونہی سہی

لطیفے میں بھی سنائوں گا حالِ دل کی جگہ
وہ میری بات کو سُن کر ہنسا تو یونہی سہی

تو جیسے گھڑتا ہے پنسل تراش سے پنسل
یہ شعر ہم نے بھی یونہی گھڑا تو یونہی سہی


"بھونڈی” نہ کہئیے قلب و نظر کے مماس کو
اوباش نہ پکارئیے اس اپنے داس کو

شیطانیت میں لیڈرِ قومی سا ہے کہاں
ابلیس خاک پہنچے گا اس کی کلاس کو

ہوتے نہیں ہیں غیر کی پھبتی پہ وہ خجل
چکھتے رہے ہیں میرے سخن کی کھٹاس کو

بس ایک پل کے واسطے آیا تھا بزم میں
ظالم بھگا کے لے گیا ہوش و حواس کو

دنیا کی ہر معاشرت میں ہے تباہ کن
طوفان جانتے ہیں سبھی اپنی ساس کو

زور آوروں کے سامنے گویا ہیں سرخرو
کمزور پر اُتار کے دل کی بھڑاس کو

انسان سے زیادہ گدھے کا نیاز مند
دیکھا گیا ہے بندہء مردم شناس کو

چھوٹا نہ ہم سے میکدہ توبہ کے بعد بھی
بھرتے ہیں لیموں جوس سے ساقی گلاس کو

کی تھی ظفر علاجِ غمِ دل کی استدعا
اور ڈھونڈنے لگے ہیں وہ چھینی پلاس کو


صبر کا تڑکا لگا کر سوکھی پھوکی گھاس کو
دیں گرانی میں گدھوں کو (ہم عوام الناس کو)

بیف کے ہوں یا مٹن کے نرخ ،پکڑائی نہ دیں
سچ کہیں تو دیکھتے ہیں عید پر ہی ماس کو

لاد کر کچھ اور قرضے ہم گدھوں پر چل دئے
خاک پورا کرتے لیڈر ارتقاء کی آس کو

ہو چکا کب کا اڑن چھو ہم سے اسپِ ارتقاء
اور ہم تھامے کھڑے ہیں اب بھی اُس کی راس کو

ٹھینگا دکھلاتا ہے لیکن حُسن بتلاتا نہیں
کیا کریں دل والے آخر عشق کے خناس کو

اُس کی لیلیٰ تو ’’ڈیفینس سوسائٹی ‘‘میں جا بسی
حضرتِ مجنوں چلے کس کے لئے بن باس کو

لازمی ہے دم ہلانے کے لئے سسرال میں
پوری تیاری سے ٓجائیں کوچۂ حساس کو

اختلافِ رائے کے کچھ اور بھی پیرائے ہیں
نامناسب ہے دولتی جھاڑنا یوں داس کو

شربتِ دیدار ہے درکارمجھ کو مئے نہیں
دنیا والوں نے غلط سمجھا ہے میری پیاس کو

تاڑتے ہیں کس لئے نوخیز کلیوں کو ظفرؔ
عمر دیکھیں ،جا لگے ہیں آپ ہم انچاس کو


نیوز چینل کم نہیں، بکواس کو
چھوڑئے بھی خامہ و قرطاس کو

کمپیوٹر وائرس جیسا ہے ڈھیٹ
کیسے روکیں عشق کے خناس کو

کر گئے ہیں ارتقاء اہلِ وطن
’’قومی کھانا‘‘ جانتے ہیں گھاس کو

جائے گی کس ڈھول کی آواز سے
نیند آ جائے اگر احساس کو

’’گوری‘‘ کا نمبر ملایا تھا مگر
کال نے جا پکڑا ’’کالی داس‘‘ کو

ایک سی شامت ہے ہر انداز سے
بھڑ کو ہم چھیڑیں یا اپنی ساس کو

اُس کے وافر عاشقوں کو دیکھ کر
دردِ دل والے چلے ہیں ٹاس کو

لگتے ہیں ہنستے ہوئے بجو ہمیں
کہہ نہیں سکتے مگرہم باس کو

لے رہے تھے حظ لطیفوں کاظفرؔ
کر دیا برخواست کیوں اجلاس کو


درجہ تو دے رہے تھے کسی اور کا مگر
لیڈر ہی تخم نکلا کسی چور کا مگر

بھاشن تودستیاب ہیں اقدارِ اعلیٰ کے
عالم نہیں شریف کا کمزور کا مگر

ویسے تو ہو رہی تھی گدھوں پر ہی گفتگو
از خود ہی ذکر آیا ہے لاہور کا مگر

یہ لات جو پڑی ہے ہمیں کوئے یار میں
پہلو تو ہو گا اس میں کوئی غور کا مگر

دل کے کہے پہ آئے تھے ملنے کے واسطے
رستہ دکھا رہے ہو ہمیں door کا مگر

بیلنس تو لوڈ مجھ سے کرایا تھا یار نے
نمبر ملا رہا ہے کسی اور کا مگر

مئے کی خرید کے لئے بٹوے میں ککھ نہیں
پیمانہ ہم کو چاہئیے بلّو ر کا مگر

ٹھینگا دکھائے جانے پہ تکلیف ہے بہت
تجھ سے گلہ نہیں ہے ترے طور کا مگر

سننے کو اب میسر نہیں کوئی شخص بھی
آیا ہوا ہے شعر بڑے زور کا مگر


لیڈر حماقتوں پہ تُلا کچھ نہ کچھ تو ہے
کہتے نہیں ہیں یونہی گدھا کچھ نہ کچھ تو ہے

بیگم کا موڈ یونہی نہیں "نون لیگ” سا
خوابیدگی میں ہم نے کہا کچھ نہ کچھ تو ہے

اقدار کا علاج کیا ہے یوں عصر نے
ہر ناروا بھی اب کے روا کچھ نہ کچھ تو ہے

تم نے تو سرخیوں پر ہی منہ کو سُجا لیا
زیرِ متن مزید لکھا کچھ نہ کچھ تو ہے

یہ بھی غلط نہیں کہ کبھی لفٹ نہ ملی
یہ بھی ہے سچ کہ فدوی ترا کچھ نہ کچھ تو ہے

وہ آم ہے یا چوسی ہوئی گھٹلی آم کی
دامن میں میرے آ کے گرا کچھ نہ کچھ تو ہے

یوں تو ڈٹا ہے فدوی سپرمین کی طرح
بھونکوں سے دل میں دھلا ہوا کچھ نہ کچھ تو ہے

وہ کامیابِ عشق نہ اِترائے بے وجہ
یہ جو ہے عقد یہ بھی سزا کچھ نہ کچھ تو ہے

اہلِ کمال کچھ نہیں اُن کی جناب میں
جن کی نظر میں تھوتھا چنا کچھ نہ کچھ تو ہے

گندے سہی ٹمااٹر تو پھینکے ہیں یار نے
شاعر کو بہرِ داد دیا کچھ نہ کچھ تو ہے