نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: موج سخن

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا
کب سے ہے فریزر میں جمایا ہوا بکرا

کیوں سینگوں پہ رکھا ہے مجھے بیچ سڑک پر
کیا جانئیے کس بات پہ ’’اوکھا‘‘ ہوا بکرا

آجائے گا قربانی کے بھی کام یقیناً
سیلفی کے لئے خاص خریدا ہوا بکرا

دیدار کو آیا ہے یا دیدار کرانے
پنکی کے لئے پنک سا رنگاہوا بکرا

لیڈر بھی مقلد نہیں یوں ’’میں میں ازم‘‘ کا
قربانی کے دن بھی کہاں چُپکا ہوا بکرا

کیا جانئیے کس کس کے مقدر میں لکھا ہے
تکوں میں کبابوں میں بکھیرا ہوا بکرا

قربانی محلے میں تو دی ہوتی ہے سب نے
مل سکتا ہے واپس بھی یوں بانٹا ہوا بکرا

اب مالی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ اس سے
لے سکتے ہیں کاغذ پہ بنایا ہوا بکرا

ڈھو پائے گا مجھ کو، میرے اعمال کو کیسے
واقف نہیں جنت کو سدھارا ہوا بکرا

Advertisements

اگرچہ خود کو بہت روغنِ خرد کئے جائیں
حماقتیں بھی مگر پہلے سے وہ ”وَدھ“ کئے جائیں

یہ درسگاہِ زمانہ کے طالبانِ علم و ہنر
یہ سیکھتے ہیں کہ بونوں میں کیسے قد کئے جائیں

گو عملی طور پہ اس کو فلرٹ سمجھا کریں
ادا زباں سے محبت بہ زورِ شد کئے جائیں

نہیں ہے ان سا کوئی خیر خواہِ قوم و وطن
مگر جو موقع کرپشن کا ہو تو حد کئے جائیں

یہ دِل یہ اُلّو کا پٹھا بھی مشورہ دے عجب
ہم اپنے دشمنِ جاں کی ہی کیوں مدد کئے جائیں

یہ کیسے نیوز کے چینل پڑے ہوئے ہیں گلے
بنامِ آگہی جو سب کو نابلد کئے جائیں

ہزار وقت نے پچھتاوے سے نوازا اُنہیں
جو کام کرتے رہے ہیں وہی چغد کئے جائیں

اسامی بانگ بھی دینے کی ہو تو ہٹتے نہیں
فقط وہ اپنے ہی چوزوں کو نامزد کئے جائیں

اک ابتذال ہے سو اُن کا فرضِ عین ہوا
اِک احتجاج ہے سو ہم یہ فعلِ بد کئے جائیں

وہ اپنی ٹانگ ہمیں کھینچنے جو دیتے نہیں
تو کیوں نہ اُن سے بھلا عمر بھر حسد کئے جائیں

ظفر ”ترقی پذیری“ کی دم لگائے رہیں
ترقی کا یہ سفر ہے سو تا ابد کئے جائیں


جو عاشق ہیں عجب خناس اُن کے سر میں رہتے ہیں
یہ گھن چکر کچھ ایسے ہیں جو ہر چکر میں رہتے ہیں

وہ بیوی ہے سو بھنبھیری کی طرح پھرتی رہتی ہے
یہ شوہر ہیں چنانچہ یہ ہمیشہ گھر میں رہتے ہیں

مری بیوی تعارف یوں کراتی ہے مرا اکثر
اِنہیں ملئے، مرے شوہر ہیں جو دفتر میں رہتے ہیں

ہمارے دور میں تو یہ ولن کا جزوِ فطرت تھا
جو اوصافِ حمیدہ آج کے لیڈر میں رہتے ہیں

تمھاری تیوری سے بھی کہاں بدکا ہے یہ فدوی
تمھارے خواب اب بھی دیدہٗ احقر میں رہتے ہیں

جہنوں نے میٹرک میں ایڑیاں رگڑی ہیں برسوں تک
ترقی کر گئے ہیں آج کل انٹر میں رہتے ہیں

کبھی جو باس کے یخ بستہ کمرے سے نکلتے ہیں
ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تھر میں رہتے ہیں

مزاجِ نصف بہتر صورتِ بھونچال ہے، پھر بھی
"ہمارا حوصلہ دیکھو، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں”

کسی انداز کی ترغیب سے حاصل نہیں ہوتے
ظفر اسباقِ اعلیٰ جو کسی چھتر میں رہتے ہیں


عقد سے قسمت میں خستہ حالیاں شامل ہوئیں
جان کو آ جانے والی سالیاں شامل ہوئیں

جب کبھی بھی تذکرہء لیڈرِ قومی ہوا
کیوں بیانِ دوستاں میں گالیاں شامل ہوئیں

عشق نے جاری کیا کس طور کا این آر او
گوریوں کے ساتھ دل میں کالیاں شامل ہوئیں

ووٹ بد اعمال لوگوں کو دئے ہیں عمر بھر
اپنے لیکھوں میں یہ بداعمالیاں شامل ہوئیں

برسرِ محفل کچھ ایسا بھی مقرّر نے کہا
اُس کی ٹنڈ پر بھی بہت سی تالیاں شامل ہوئیں

یوں نگاہِ شوق تو تھی جستجوئے حُسن میں
رفتہ رفتہ اس میں نخرے والیاں شامل ہوئیں

فیل تن بیگم نے جب بھی پاﺅں پٹخا طیش سے
زلزلے آنے لگے، بھونچالیاں شامل ہوئیں

ایسے لبرل بھی ہیں جن کے بتکدہء شوق میں
رنگ رلیوں کے لئے دیوالیاں شامل ہوئیں

اِس کا مطلب ہے کہ شوہر ہو گیا گولہا مزید
اُس کی شاپنگ لسٹ میں اب ”بالیاں“ شامل ہوئیں

یہ کرشمہ تو فقط قومی سیاست میں ہوا
دودھ پر بلّے کی بھی رکھوالیاں شامل ہوئیں

اُس گُلِ تر نے دکھائے ہاتھ کچھ ایسے مجھے
گال کے دونوں طرف کو لالیاں شامل ہوئیں

میں نے بھی مونچھوں کو وٹ دینے کی عادت ڈال لی
میرے چہرے پر بھی کچھ ہریالیاں شامل ہوئیں

کیٹ واکوں میں کبھی دیکھی نہیں بلی کوئی
بیدِ مجنوں کی بہت سی ڈالیاں شامل ہوئیں


پیار سے دُم بھی ہلاتے ہو غضب کرتے ہو
سینگ بھی ساتھ دکھاتے ہو غضب کرتے ہو

جس کے چہرے پہ ہے میک اپ کی کرشمہ سازی
تم اُسے چاند بتاتے ہو غضب کرتے ہو

روئی کانوں میں تو ٹھونسی تھی دکھا کر تم کو
پھر بھی تم شعر سناتے ہو غضب کرتے ہو

نیوز چینل میں سیاست پہ ہے ڈیبیٹ کوئی
یا بٹیروں کو لڑاتے ہو غضب کرتے ہو

خوابِ جمہوریت اور اپنے وطن میں وللہ
بے ہدف تیر چلاتے ہو غضب کرتے ہو

بات جو کہنے یا سننے کی نہیں ہے ہرگز
بات بے بات سناتے ہو غضب کرتے ہو

حُسن تو ایک طویلے کی بلا ہوتی ہے
آپ سر اپنے منڈھاتے ہو غضب کرتے ہو

چھینک بھی جیسے ہو گھمبیر سی دہشت گردی
میرے بچوں کو ڈراتے ہو غضب کرتے ہو

ہم تو کنسرٹ پہ آئے تھے تمھارے اور تم
ہنہنائے چلے جاتے ہو غضب کرتے ہو

آزمائش ہے سراسر میرے جبڑوں کی ظفر
تم تو جو کچھ بھی پکاتے ہو، غضب کرتے ہو


شورشِ آہنِ بیکار کہیں رہ جائے
خود وہ آ جائے مگر کار کہیں رہ جائے

جس کو پپا سے ملانا تھا کسی لڑکی نے
کچھ تو ہو گا وہ سمجھدار، کہیں رہ جائے

کیا خبر پہن کے کیا نکلیں پروفیسر جی
اُن کا کُرتا کہیں شلوار کہیں رہ جائے

سرِ راہے کسی کتے کو رقابت سوجھے
میں کہیں اور میرا دلدار کہیں رہ جائے

چھت پہ سوتا ہی رہے تیز ہواؤں میں کوئی
یوں کہ تہمدِ ہوادار کہیں رہ جائے

جیب میں یاد سے رکھ لینا نظر کی عینک
یوں نہ ہو حسرتِ دیدار کہیں رہ جائے

اس کے چنگل سے نکل بھاگے یہ میرا دل بھی
یہ ترا عشق یہ خرکار کہیں رہ جائے

گونجتا رہتا ہے ہر وقت محلے بھر میں
میاں بیوی کا یہ پندار کہیں رہ جائے

شوق لڑنے کا اگر یونہی رہا تو کیا عجب
کلغیء مرغِ طرحدار کہیں رہ جائے

حلوے مانڈے کا ہو امکان تو ممکن ہے ظفر
بھان متی کا پریوار کہیں رہ جائے


اِتنی گرمی میں سُنے جانے کے بھی قابل نہ تھا
یہ ترا شکوہ کہ فدوی گرمئی محفل نہ تھا

کیوں مری گاڑی کے نیچے آ کے مرتے ہو میاں
بہرِ مردن پاس کیا بجلی کا کوئی بِل نہ تھا؟

قیس کیا ڈاچی کی بھونڈی کے لئے جاتا وہاں
دشت بھی وہ جس میں بی لیلیٰ نہ تھی محمل نہ تھا

وہ تو مجبورِ محبت کر دیا اُس شوخ نے
ورنہ میں کارِ ذیاں کا تو کبھی قائل نہ تھا

تجھ پہ مرنا آ گیا تیرے فدائی کو مگر
زندگی کرنا بھی آتی اس قدر عاقل نہ تھا

تیری یادیں تھیں کہ جا لیتی تھیں اُس کو ہر جگہ
تیرے عاشق کو زمانے میں کہیں بھی چِل نہ تھا

شاعرِ عجلت نوا نے جھٹ قصیدہ لکھ دیا
گال پر محبوب کے مکھی تھی کوئی تِل نہ تھا

ہم سے یوں بے اعتنائی کس لئے برتی گئی
کیٹلاگِ عاشقاں میں نام کیوں شامل نہ تھا

اِک ذرا ہکلا بھی جاتی تھی زباں چلتی ہوئی
یوں تو وہ جھوٹا تھا لیکن لیڈرِ کامل نہ تھا

ہر کسی کی تیوری کب نعل تھی بندوق کی
یہ مرا سسرال پہلےکوچہء قاتل نہ تھا

لیلیٰ و مجنوں میں کیا سرخاب کے پر تھے لگے
تیرا میرا پیار کیونکر لائقِ گڈ وِل نہ تھا

ٹاک شو ایسا کوئی بھی خوش نہیں آیا کبھی
جس میں کوئی نو بہ نو ہنگامہء کِل کِل نہ تھا

اِس لئے میرے چھوہارے بٹ نہیں پائے ظفرؔ
تُو مری منزل تھا لیکن میں تری منزل نہ تھا