نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: موجِ غزل فورم

رہ گیا ہوں پھنس کے یوں سسرال اِس تعطیل میں
جیسے ملزم آ گیا ہو نیب کی تحویل میں

تکتا تھا یوں جیسے نثری نظم منہ پر ماری ہو
مدعا اُس سے بیاں جب بھی کیا تفصیل میں

کچھ نہ کچھ تو ہو گیا ہے ربطِ باہم کو صنم!
آپ گرگٹ بن گئے یا ہو گیا تبدیل میں

ہر کرپٹ نسواربن کر داڑھ کے نیچے پھنسا
آرہے ہیں خان صاحب ڈیل میں نہ ڈھیل میں

لیڈرانِ قوم کی توندیں وسیع ہیں اس لئے
سارا پاکستان ڈالیں عمرو کی زنبیل میں

کیا کہیں یارو اب ایسے الو کے پٹھے کو ہم
’’الو‘‘ کو’’ ابو‘‘ پڑھا ہے جس نے کچھ تعجیل میں

عشق دنیا میں سدا خوار و زبوں رہتا ہے کیوں؟
کیدو کا کیا کام ہیر ورانجھا کی تمثیل میں

بات کر کے دیکھتے اپنے فدائی سے کبھی
خود کو دے دیتا اڑنگی حکم کی تعمیل میں

کرتا ہے پہلو تہی اس سے شریف انسان بھی
جب’’ شرافت‘‘ کا افادہ ہو ذرا تقلیل میں

لے اُڑے شاگرد اب کےمنصبِ استاد بھی
لیڈروں کا ہاتھ ہے شیطان کی تعزیل میں

آپ ہی اپنی اداؤں پر نظر ڈالیں ظفرؔ
یونہی منہا کب ہوئے ہیں زیست کی تعدیل میں

Advertisements

دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف
جس طرح کرتے ہیں سنڈیوں کو تلف

عدل کا چھڑکاؤ اِتنا بھی نہیں
ملک سے کر دے جو چوروں کو تلف

سر کا فالودہ بنا سکتے ہیں آپ
کر نہیں سکتے ہیں سوچوں کو تلف

لو مرا بھی رول نمبرآ گیا
عشق نے کرنا ہے کتنوں کو تلف

بھر دیا ہے توند کے تنور کو
کر دیا ملا نے مرغوں کو تلف

مرحبا خاصی صفائی ہو گئی
کر دیا اندھوں نے کانوں کو تلف

سرفروشی میں ہیں یکتا زن مرید
کر دیا ہے گھر سے چوہوں کو تلف

قیس کو کرنے کا ٹھیکہ مل گیا
کوچۂ لیلیٰ سے کتوں کو تلف

کیوں بجنگ آمد کوئی کرنے لگا
توپ کے گولوں سے مکھیوں کو تلف

گیسوئوں کو گہری سوچوں سے بچا
ٹڈی دل کر دے گا فصلوں کو تلف

کاش ووٹر آپ ہی کرنے لگیں
لیڈروں کے سبز باغوں کو تلف

تو ظفر کیا چیز ہے کہ وقت نے
کر دیا ہے اچھے اچھوں کو تلف


ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے


رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے
اڑنگی دے کے اگر وہ گرا نہیں دیں گے

وہ دیتے پھرتے ہیں مس کال ہی فدائی کو
تو کیا مرض کے مطابق دوا نہیں دیں گے؟

پہاڑ کاٹنے ہوں گے کہ حسن والے اُنہیں
سکوں سے دستِ حنائی تھما نہیں دیں گے

نہیں ہیں بھونپو کہ کرتے پھریں وہ پوں پوں پوں
"تمھارے شہر میں کوئی صدا نہیں دیں گے”

اُنہیں خبر ہے کہ ضد کر کے لے گی کچا گھڑا
سو سوہنی کو وہ مناسب گھڑا نہیں دیں گے

یہ ڈاکٹر ہیں جو امراضِ جنس کے ماہر
کسی کی لیلیٰ کو مجنوں بنا نہیں دیں گے؟

یوں بے دھیانی میں ٹپکا کریں نہ منہ دھو کر
دکھا کے چہرہ میاں کو ڈرا نہیں دیں گے

ابالِ خون نہ جائے گا بھائی لوگوں کا
دو ہاتھ گچی پہ جب تک ٹکا نہیں دیں گے

اگر اداؤں کی گگلی یونہی کراتے رہے
تو پھر وہ کیا میری وکٹیں گرا نہیں دیں گے

یہ خود سے عہد ہے شادی شدوں کا بعد از عقد
اب اپنا ہاتھ بہ دستِ قضا نہیں دیں گے

ترا حبیب تری قدر کیوں نہیں کرتا
ترے رقیب تو دادِ وفا نہیں دیں گے


وہ بھلا کاہے کا ہمارا رفیق
جس کو ہو نہ اڑنگی کی توفیق

لوگ کہتے ہیں شیر دھاڑا ہے
میرے کانوں نے تو سنی تھی نہیق

اک رقیبوں سے ہی الجھنا نہیں
تیرا ابا بھی بن گیا ہے فریق

حلوہ پکتا ہے تو نہیں دیتے
مولوی کے پڑوسی ہیں زندیق

مقتدر ہوں تو چھوڑیں کوئی کسر
یہ’’ شریفوں‘‘ کا تو نہیں ہے طریق

امتحانوں میں نقل کیسے ہو
جس کو معلوم ہے وہی ہے لئیق

اپنے اپنے ہیں مشغلے سب کے
کوئی کھاؤ ہے اور کوئی حریق

مانی جائے گی میری پیدائش
کوئی افسر کرے اگر تصدیق

شعر غالب کا ہے پئے بوسہ
اِس میں نقطہ نہیں ہے خاص دقیق

یوں نچوڑیں اساتذہ کا کلام
آپ ہو جائے اک غزل’’ تخلیق‘‘

وہ بھی مخبر بنا ہوا تھا ظفرؔ
جس نے کی شوقِ عشق کی تشویق


منتظر کب سے ہے مری تخلیق
رنگ دے مجھ کو بھی وہ دستِ شفیق

اس طرح بھی نہ کر فسانہ بدر
کہ ہو دشوار اپنی ہی تصدیق

کھوجتا ہے جو اک حوالے کو
ابر کی آس میں ہے قلبِ حریق

غم کو چہرے پہ کب سجاتے ہیں
مسکرانا ہے دل زدوں کا طریق

کر کے اک دوسرے سے صرفِ نظر
لوگ رہتے ہیں گفتگو میں غریق

کبھی تنہا نہیں رہا کرتے
اپنی تنہائیوں کے آپ رفیق

چھان بھی میں چکا ہوں دشتِ حیات
اور چاہتا ہوں تیری بھی توثیق

فیصلہ اب اُسی کے ہاتھ میں ہے
بن گیا ہے جو خود بھی ایک فریق

ہائے ہم کس ہجوم میں تھے ظفرؔ
خود کو جھٹلایا تو ہوئے صدیق


اہلِ وفا کو نخرے دکھائے تو کیا کروں
ہر بات پر وہ گال پھُلائے تو کیا کروں

لٹکایا تو ہے حسن نے اُلٹا ہزارہا
اس پر بھی عشق باز نہ آئے تو کیا کروں

کب تک دلاؤں یاد تقاضے وفاؤں کے
جب وہ پلانا چاہے نہ چائے تو کیا کروں

آتش بجاں ہے نمبر ملا کر غلط سلط
متھے لگے وہ بیٹھے بٹھائے تو کیا کروں

پہلا سا پیار اب بھی کوئی مانگتا تو ہے
بڑھ جائیں لاریوں کے کرائے تو کیا کروں

اُس کوبتا دیا تھا کہ انصاف اب کہاں
سرسوں ہتھیلیوں پہ جمائے تو کیا کروں

ہو کر تو آؤں اُس کی طرح پارلر سے میں
پر دیکھ کر وہ ہنستا ہی جائے تو کیا کروں

سیکھی نہیں ہے اُس نے زباں پیار کی تو کیا
سمجھے نہ کوئی رمز کنائے تو کیا کروں

ٹُن ہوں میں آزرؤں کے فٹ پاتھ پر کہیں
کھولے نہ کوئی دل کی سرائے تو کیا کروں

میں نے تو ورغلایا ہے مقدور بھر اُسے
بدلے نہ پھر بھی یار کی رائے تو کیا کروں

جس ’’باؤ ‘‘سے ڈراتی تھی بچپن میں مجھ کو ماں
بن کر ’’بہو‘‘ خود اُن کو ڈرائے تو کیا کروں

اپنی طرف سے میں کسی ہیرو سے کم نہیں
اللہ میاں کی سمجھے وہ گائے تو کیا کروں

جس کے لئے غزل پر غزل لکھ رہا ہوں میں
سُن کر کرے وہ ہائے نہ وائے تو کیا کروں