نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: موجِ غزل فورم

حکمراں ہم کو ہمیشہ ہی ملے اوٹ پٹانگ
جیسے اطوار سدا اپنے رہے اوٹ پٹانگ

پنکی بن کر میں بہت سوں سے ملا ہوں یارو!
فیس بک کے سبھی عشاق لگے اوٹ پٹانگ

بیویاں بھی اُنہیں ملتی ہیں سدا اول جلول
جو میاں ہوتے ہیں خود اچھے بھلے اوٹ پٹانگ

کوئی تدبیر کی خوبی نہ تگ و دو کا ہنر
گویا قسمت سے رہے سب کو گلے اوٹ پٹانگ

مر گیا مرغا پڑوسی کا سو دعوت کینسل
عذر کیا تونے تراشا ہے ابے اوٹ پٹانگ

تیری قسمت تیری فطرت کو سمجھتی ہو گی
یار ڈھونڈا ہے تبھی تیرے لئے اوٹ پٹانگ

زور و زر والوں کے سینے ہوئے چوڑے کیا کیا
فیصلے کورٹ میں جب ہونے لگے اوٹ پٹانگ

باس کو دل سے سمجھتے رہے دفتر والے
یہ الگ بات، کبھی کہہ نہ سکے اوٹ پٹانگ

ساری دنیا میں جو کترینہ بنی پھرتی ہے
روئے آئینہ تو خود کو بھی دِکھے اوٹ پٹانگ

اپنی تہمد بھی حکومت سے سنبھالی نہ گئی
یوں تو کرنے کو بہت دعوے کئے اوٹ پٹانگ

ہم سے سرزد یہ ’’ ردیفانہ حماقت‘‘ جو ہوئی
اِسی باعث تو سبھی شعر لکھے اوٹ پٹانگ

Advertisements

یوں چکاچوند کریں گے تیری زیبائی کے رنگ
آئینہ ڈھونڈتا رہ جائے گا بینائی کے رنگ

ظلمتوں میں نہ کبھی جذب ہوئی فکرِ رسا
شب کی راہوں میں نظر آئے سحر پائی کے رنگ

چھوت جیسی ہے یہ افسردہ مزاجی میری
آ گئے ہیں درو دیوار پہ تنہائی کے رنگ

اُن پہ بھی جان لٹا بیٹھے ہیں ہم دیوانے
جن زمینوں نے دئے ہم کو فقط کائی کے رنگ

میں نے اس سے بھی کہا نہ کبھی افسانۂ غم
چاند نے دیکھے تو ہیں میری شکیبائی کے رنگ

کر دیا وقت نے احساس پہ کیسا جادو
اجنبی ہو گئے سارے ہی شناسائی کے رنگ

ہم کہ منزل کی سہولت کے تمنائی تھے
آسماں بانٹ رہاہے نئی پہنائی کے رنگ

گویا ہم سب کومصور نے ادھورا رکھا
کسی تصویر میں دیکھے نہیں یکتائی کے رنگ

کس قدر سچا ہے ہر بار مکر کر بھی وہ
کس قدر جھوٹے ہیں یارو! میری سچائی کے رنگ


وقت گو بادل سا ہے
دل سلگتے تھل سا ہے

اِس پہ بھی پیاسا ہوں میں
آسماں چھاگل سا ہے

موت ہے رُوئے حیات
درمیاں ململ سا ہے

رونقِ دنیا بجا!
دل مگر بوجھل سا ہے

ذیست ہے شب کا سفر
ہر سمے جنگل سا ہے

وہ تو صدیوں بعد بھی
ایک گزرے پل سا ہے

کس کو سمجھاتا ہے تو
عشق تو پاگل سا ہے

دیکھ کربھی نہ رُکا
راستہ دلدل سا ہے

داغِ رسوائی ظفر
عشق کاطغرل سا ہے


تو مرے سانول سا ہے
عقل سے پیدل سا ہے

کس قدر اسمارٹ ہے
ہوبہو بوتل سا ہے

جانور ہے یار بھی
اک ذرا سوشل سا ہے

تو اگر ہے سرپھرا
اگلا بھی پاگل سا ہے

منہ چڑاتا ہے مرا
آئینہ چنچل سا ہے

ناک بہتی ہے تری
اور سخن چرچل سا ہے

جب تلاشِ حسن ہو
دیدہء گوگل سا ہے

کیسے بچ پائے کوئی
حسن تو چنگل سا ہے

کچھ ہدایت نہ ملی
آج بھی وہ کل سا ہے

اب بھی شامت ہے وہی
بدھ بھی کچھ منگل سا ہے

تربیت فارن کی ہے
جاب میں لوکل سا ہے

پھنس گئی مکھی کوئی
میک اپ دلدل سا ہے

اِس دوا کا ذائقہ
زوجۂ اول سا ہے

ازدواجیقصہ بھی
ٹاک شو دنگل سا ہے

اب تو ہر لیڈر ظفر
سربسر کھٹمل سا ہے


تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے
جیسے ہیں سبھی ویسا لعیں ہے کہ نہیں ہے

بولے جو خواتین سے تو شہد بہادے
ہم تم سے کوئی خندہ جبیں ہے کہ نہیں ہے

چہرے سے تو لگتا ہے گزارے کے وہ لائق
ہر نخرہ مگر عرش نشیں ہے کہ نہیں ہے

گھوڑی ہے جو بوڑھی تو ہوکیوں سرخ لگامی
لیکن تیری بڑبھس بھی چنیں ہے کہ نہیں ہے

آیا جو کبھی شامتِ اعمال کی زد میں
بتلانا کوئی تیرے قریں ہے کہ نہیں ہے

آخر کو وہی ہڈی بنا تیرے گلے کی
کہتے تھے جسے ”کچھ بھی نہیں“،ہے کہ نہیں ہے

اچھا نہیں ایڑھی کو بہت اونچا اُٹھانا
کھسکی ہوئی قدموں کی زمیں ہے کہ نہیں ہے

آلینے دو بھتنی کو ذرا بیوٹی کلینک
پھر پوچھوں گا وہ تم سے حسیں ہے کہ نہیں ہے

ہر چند کہ ٹھینگے پہ ہی رکھا گیا اب تک
درخواست مری تم سے سوویں ہے کہ نہیں ہے؟

کہلاتا ہے لیڈر تو بہت خادمِ ملت
ملت ہی مگر ”کمی کمیں“ ہے کہ نہیں ہے

کیوں عشق کی شہ پا کے خدا بنتا ہے ہر بُت
وہ دشمنِ جاں، دشمنِ دیں ہے کہ نہیں ہے؟


ساری دنیا سے ذہیں ہے ناں وہ
ہو نہ ہو اپنے تئیں ہے ناں وہ

اُس میں کیڑے تھے دیانت کے بہت
جس جگہ کل تھا وہیں ہے ناں وہ

چوراچورا نہیں بننا تو بتا
آئینے! زہرہ جبیں ہے ناں وہ

یار فطرت کا نہیں بے دیدا
ہم چناں ہیں تو چنیں ہے ناں وہ

کل چڑھاتا تھا جسے بانس پہ تو
آج بھی عرش نشیں ہے ناں وہ

اُس کو بھی پہلی محبت بولا
سوچ کر بول،سوویں ہے ناں وہ

بوزنہ کہتے ہیں کہنے والے
تیرے نزدیک حسیں ہے ناں وہ

کیڑے پڑتے ہیں بہت میٹھے میں
کچھ زیادہ ہی قریں ہے ناں وہ

اُس کے کرتوت نہ دیکھیں صاحب
نام کا ویسیمبیں ہے ناں وہ

شیر کہتے ہیں وہ لیڈر کو ظفرؔ
گویا انساں تو نہیں ہے ناں وہ


جب ترا ہو کے نہیں رہ سکتا
کاش میں اپنے قریں رہ سکتا

پھوٹ پڑنی تھی وہیں قوسِ قزح
تم جہاں ملتے، وہیں رہ سکتا

ویسے پرواز کا موسم تو نہ تھا
پر فشاں اپنے تئیں رہ سکتا

خاک ہے خاک نشینوں کا جہاں
کس طرح عرش نشیں رہ سکتا

آدمی اپنی ہوسناکی سے
بچ نکلتا تو حسیں رہ سکتا

سرخروزیست سے کیا ہونا تھا
ایک لمحے کا امیں رہ سکتا

کاش مجبوری سمجھ کر تیری
میں بھی تھوڑا سا کہیں رہ سکتا

بھول جانے کا گماں ٹھیک نہیں
کچھ تو خود پر بھی یقیں رہ سکتا

آسمانوں سے اُتر آیا تھا
بسکہ در خاک ِ زمیں رہ سکتا

دل کی پرواز کہاں ٹھہری ہے
میں یہاں تھا تو یہیں رہ سکتا

جاں سے جانا ہی مرا بنتا تھا
ہر مکاں میں نہ مکیں رہ سکتا

دل یوں بے چہرہ نہ ہوتا جو ظفر
ہجر کا رنگِ حزیں رہ سکتا