نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: مزاحیہ شاعری

امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ
جن کے گھر روز ہی ہوتی ہے جھڑپ

یوں مرے دل میں کوئی آن گھسا
جیسے ڈڈو کہیں پانی میں غڑپ

سخت انگلش میں مجھے ڈانٹتے ہیں
کہنے لگتے ہیں شٹ اپ کو بھی شڑپ

اِتنے میٹھے بھی نہ بنئے صاحب
لوگ کر لیتے ہیں یکبار ہڑپ

قوم آ جائے ولیمے میں تو پھر
غیر ممکن ہے کرے شُوں نہ شڑپ

قافیہ تنگ ہے خاصا ورنہ
دل میں تھی اور بھی لکھنے کی تڑپ



اگر متاثرِ افواہِ بم نہیں ہوئے تو؟
رقیب کوچہءجاناں میں کم نہیں ہوئے تو؟

وہ یونیورسٹی میں کیا آم لینے آئے ہیں
جو حسن و عشق میں قول و قسم نہیں ہوئے تو

خدا ہی جانے کرے گی وہ کس کا خانہ خراب
نصیب سے ہمیں اُس کے خصم نہیں ہوئے تو

ہمارے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے خدا حافظ
جو ویلڈر کہیں ہم کو بہم نہیں ہوئے تو

تمام سسروں میں تقسیم کس طرح ہوں گے
دلوں کے ولولے دو اک ڈرم نہیں ہوئے تو

تمام خلقِ خدا کو قرار آئے گا
ہمیں فساد کی جڑ ہیں، جو ہم نہیں ہئے تو

مہیا ہو گا کہاں شغلِ سرپھٹول ہمیں
گُروِ دیر یا شیخِ حرم نہیں ہوئے تو

رہی نہ تیل کی فوں فاں تو تم بھی دیکھو گے
عرب کے لوگ بھی سوئے عجم نہیں ہوئے تو

میں اُن کے واسطے کیا کیٹ واک کرتا پھروں
وہ ہم سفر ہی اگر ہم قدم نہیں ہوئے تو

بڑھیں گے بال جو شاعر بنے ترے عاشق
کٹیں گی قلمیں جو اہلِ قلم نہیں ہوئے تو

رہیں گے سب کی نگاہوں میں پھنے خان ظفر
اگر پھسل کے کہیں پر ”دھڑم“ نہیں ہوئے تو


کیا بُرا ہے اگر کرپٹ بھی ہیں
جو ہیں تگڑے اُنہیں کی چاندی ہے

یہ پنامہ کے فیصلے سے کھلا
عدل تو اک ٹرک کی بتی ہے



شب محلے والوں نے جس پر ہاؤ ہو کی تھی
واردات وہ شائد ایک خوش گلو کی تھی

آج بیٹے کو کیسے زن مرید کہتی ہیں
آرزو بھلا کس کو چاند سی بہو کی تھی

کھائے جاتی تھی بیگم یوں دماغ میرا کیوں؟
کس قدر میں چارہ تھا، کس قدر وہ بھوکی تھی

اپنی اپنی کینونس پرجائے وصل جانا تھا
میری یہ دوٹانگیں تھیں، آپ کی سوزوکی تھی

شعر جب سنایا تھا رام ہو گئی تھی وہ
کام میرا نکلا تھا شاعری کسو کی تھی

"میم شین” والوں کا سروے ہی بتلائے گا
جس قدر بھی آبادی شہرِ آرزو کی ہے

کارپٹ بھی میرا تھا پاندان بھی میرا
پان مانگ کر کھایا تھا ور پیک تھوکی تھی

میں نے فقرہ مارا تھا اُس نے چانٹا مارا تھا
فیصلہ نہ ہو پایا کس کی بدسلوکی تھی

آرزو چنبیلی کی تھی اور پائی ہے گوبھی
کون ہے نصیبوں میں کس کی جستجو کی تھی

جس سے بچے ڈرتے تھے بہرِ عقد ماں اُس کو
پارلر میں لائی تھی اور خوبرو کی تھی



یہ کس نے کہا آپ سے فنکاری کروں گا
دلدار بنیں گے تو میں دلداری کروں گا

لیچڑ تو بہرحال اُسے کہنا پڑے گا
میں گرچہ بہت پاسِ وضعداری کروں گا

جو ذات مرے باس کی اُس ذات کا میں بھی
خود کو کبھی بھٹی کبھی انصاری کروں گا

میں عقد کروں گا تو یہ غلطی میری ہو گی
معصوم سی ناری کو میں تاتاری کروں گا

انگلش تو مٹن کی طرح وارے میں نہیں ہے
پنجابی و اُردو کی ہی ترکاری کروں گا

اک پینڈو نے محبوبہ سے یہ وعدہ کیا ہے
بھینسوں کی طرح تیری نگہداری کروں گا

روڑے نہیں اٹکاتا فقط والدِ اڑیل
تیرے لئے دنیا سے بھی منہ ماری کروں گا

ہر بات پہ لگ جاتے ہیں متھے میرے ظالم
ہر بات رقیبوں سے میں تکراری کروں گا

لالا تو نہیں ہوں کہ بڑھوں چائے سے آگے
کب اپنے نشے کو کبھی نسواری کروں گا

اشعار کہے جاﺅں گا مصرعِ طرح پر
اوروں کی زمینوں پہ زمینداری کروں گا


تم جیسا سمجھتے ہو میں ویسا تو نہیں ہوں
اْترا ہوں میں بس سے کوئی کبڑا تو نہیں ہوں

دیکھو نہ یونہی رحم بھری نظروں سے مجھ کو
شوہر ہوں میں سچ مچ کوئی گونگا تو نہیں ہوں

بیماری سے ہلتی ہے مسلسل میری گردن
میں تیری کسی بات کو سمجھا تو نہیں ہوں

آنکھیں ہیں کہیں اور تو نظریں ہیں کہیں اور
پالیسی ہے ایسی کوئی بھینگا تو نہیں ہوں

کیدو اْسے بننے کا یونہی شوق ہے ورنہ
میں ہیر کے چاچے سے اکڑتا تو نہیں ہوں

دنیا تو تماشہ ہے مگر سوچ رہا ہوں
دنیا کے لئے میں بھی تماشا تو نہیں ہوں

اِتنا بھی نہ سمجھو مجھے شرفائے زمانہ
پانامہ کی لیکوں سے میں رِستا تو نہیں ہوں

لڈو نہیں بٹتے تھے سرِ دشتِ کہ جاتا
مجنوں کی طرح اْلو کا پٹھا تو نہیں ہوں

رکھتے ہیں عبث لوگ ترنم کی توقع
شاعر ہوں ظفرؔ کوئی گویّا تو نہیں ہوں


بلا لو سب کو بلا لو کہ آیو رے ساون
جمالو رنگ جمالو کہ آیو رے ساون

اُٹھو کہ پھر سے ہے موسم تماشہ کرنے کا
چلو کہ نام کمالو کہ آیو رے ساون

سیاستوں کے پنپنے کا ہے یہی موسم
بنا ہے بخت اپالو کہ آیو رے ساون

تمام شہر ہے ڈوبا ہوا تو میں کیا کروں
کرو نہ تنگ سوالو کہ آیو رے ساون

بلاؤ جتنے بھی ہیں میڈیا کے جادوگر
لفافے خوب بنا لو کہ آیو رے ساون

مری سپیچ کو کچھ اور بھی عوامی کرو
نئے مکالمے ڈالو کہ آیو رے ساون

وزیرِ اعلیٰ نہیں، میں ہوں خادمِ اعلیٰ
یہ کہہ کے سب کو پٹا لو کہ آیو رے ساون

جو مجھ میں گھسنے کی ہمت نہ کر سکی ہیں کبھی
اُن عظمتوں کو اجالو کہ آیو رے ساون

میں جو بھی بات کروں جوششِ خطابت میں
تم اُس پہ بولو نہ چالو کہ آیو رے ساون

مجھے بھی پانی میں گھس گھس کے پوز دینے ہیں
رَبر کے بوٹ نکالو کہ آیو رے ساون