نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: مزاحیہ شاعری

ساری دنیا سے ذہیں ہے ناں وہ
ہو نہ ہو اپنے تئیں ہے ناں وہ

اُس میں کیڑے تھے دیانت کے بہت
جس جگہ کل تھا وہیں ہے ناں وہ

چوراچورا نہیں بننا تو بتا
آئینے! زہرہ جبیں ہے ناں وہ

یار فطرت کا نہیں بے دیدا
ہم چناں ہیں تو چنیں ہے ناں وہ

کل چڑھاتا تھا جسے بانس پہ تو
آج بھی عرش نشیں ہے ناں وہ

اُس کو بھی پہلی محبت بولا
سوچ کر بول،سوویں ہے ناں وہ

بوزنہ کہتے ہیں کہنے والے
تیرے نزدیک حسیں ہے ناں وہ

کیڑے پڑتے ہیں بہت میٹھے میں
کچھ زیادہ ہی قریں ہے ناں وہ

اُس کے کرتوت نہ دیکھیں صاحب
نام کا ویسیمبیں ہے ناں وہ

شیر کہتے ہیں وہ لیڈر کو ظفرؔ
گویا انساں تو نہیں ہے ناں وہ

Advertisements

چار دیواری میں شورشیں ہیں بہت
اب بدن کا مکاں چھوڑنا چاہئیے


تیری اماں ہے یا ریڈار ہے، سب چلتا ہے
گول ہر طالبِ دیدار ہے، سب چلتا ہے

اعتراض اُن کو ہے، جب ٹُن ہے یہ ساری دنیا
کیوں مرا دیدۂ بیدار ہے، سب چلتا ہے

خود کو وہ لیڈرِ قومی ہی سمجھ بیٹھا ہے
جانتے سب ہیں کہ فنکار ہے، سب چلتا ہے

کیوں مری حقہ نوازی کا اُڑاتا ہے مذاق
اُس کے منہ میں بھی تو نسوارہے، سب چلتا ہے

جو ہر اک گام پہ دیتا ہے اڑنگی مجھ کو
وہ کہاں کا مرا غمخوارہے، سب چلتا ہے

عشق کو ہر سمے چکرائے ہوئے رکھتا ہے
حسن اک نقطۂ پرکار ہے، سب چلتا ہے

میرا حامی بھی ’’لفافے‘‘ کو ہوا ہے پیارا
اب ترا حاشیہ بردار ہے، سب چلتا ہے

منتظر وصل کا رہتا ہوں میں سارے ہفتے
اور بس ایک ہی اتوار ہے، سب چلتا ہے

میں وہاں ٹھٹھے لگاتا ہوا پھرتا ہوں بہت
مسکرانا جہاں دشوار ہے، سب چلتا ہے

میرے اندازِ تکلم پہ ہے مشہور ظفرؔ
فدوی شاعر نہیں بمبارہے، سب چلتا ہے


جانتے سب ہیں جو کردار ہے، سب چلتا ہے
محترم ہے کہ وہ زردار ہے، سب چلتا ہے
 
اپنے گل خان میں فیشن کے جراثیم نہیں
وہ تو شلوار ہی شلوار ہے، سب چلتا ہے
 
سچ تو یہ ہے کہ خبر کچھ بھی نہیں ہے لیکن
شور کرتا ہوا اخبار ہے، سب چلتا ہے
 
آج کل ڈیموکریسی بھی کہاں وارے میں
اب تو بے وقت کی ملہار ہے، سب چلتا ہے
 
یہ ولیمے کے ہی کھانے پہ کھلے گا تم پر
کس قدر کوئی وضعدارہے، سب چلتا ہے
 
کاغذوں میں تو ترقی کے ہیں دعوے خاصے
اور کچھوے کی سی رفتار ہے، سب چلتا ہے
 
دیکھنے والوں میں دوڑاتی ہے دہشت کیا کیا
مونچھ کہ صورتِ تلوار ہے، سب چلتا ہے
 
اُس نے گالی کو بنا رکھا ہے تکیہء کلام
واہ کیا شوخیء گفتار ہے، سب چلتا ہے
 
نوحہ تو ڈیموکریسی کا کوئی کرتا ہے
اپنی کرسی کا عزادار ہے، سب چلتا ہے
 
وہ ستمگار تو دلدار شکن ہے یکسر
ہاں مگر نام کا دلدار ہے، سب چلتا ہے

امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ
جن کے گھر روز ہی ہوتی ہے جھڑپ

یوں مرے دل میں کوئی آن گھسا
جیسے ڈڈو کہیں پانی میں غڑپ

سخت انگلش میں مجھے ڈانٹتے ہیں
کہنے لگتے ہیں شٹ اپ کو بھی شڑپ

اِتنے میٹھے بھی نہ بنئے صاحب
لوگ کر لیتے ہیں یکبار ہڑپ

قوم آ جائے ولیمے میں تو پھر
غیر ممکن ہے کرے شُوں نہ شڑپ

قافیہ تنگ ہے خاصا ورنہ
دل میں تھی اور بھی لکھنے کی تڑپ



اگر متاثرِ افواہِ بم نہیں ہوئے تو؟
رقیب کوچہءجاناں میں کم نہیں ہوئے تو؟

وہ یونیورسٹی میں کیا آم لینے آئے ہیں
جو حسن و عشق میں قول و قسم نہیں ہوئے تو

خدا ہی جانے کرے گی وہ کس کا خانہ خراب
نصیب سے ہمیں اُس کے خصم نہیں ہوئے تو

ہمارے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے خدا حافظ
جو ویلڈر کہیں ہم کو بہم نہیں ہوئے تو

تمام سسروں میں تقسیم کس طرح ہوں گے
دلوں کے ولولے دو اک ڈرم نہیں ہوئے تو

تمام خلقِ خدا کو قرار آئے گا
ہمیں فساد کی جڑ ہیں، جو ہم نہیں ہئے تو

مہیا ہو گا کہاں شغلِ سرپھٹول ہمیں
گُروِ دیر یا شیخِ حرم نہیں ہوئے تو

رہی نہ تیل کی فوں فاں تو تم بھی دیکھو گے
عرب کے لوگ بھی سوئے عجم نہیں ہوئے تو

میں اُن کے واسطے کیا کیٹ واک کرتا پھروں
وہ ہم سفر ہی اگر ہم قدم نہیں ہوئے تو

بڑھیں گے بال جو شاعر بنے ترے عاشق
کٹیں گی قلمیں جو اہلِ قلم نہیں ہوئے تو

رہیں گے سب کی نگاہوں میں پھنے خان ظفر
اگر پھسل کے کہیں پر ”دھڑم“ نہیں ہوئے تو


کیا بُرا ہے اگر کرپٹ بھی ہیں
جو ہیں تگڑے اُنہیں کی چاندی ہے

یہ پنامہ کے فیصلے سے کھلا
عدل تو اک ٹرک کی بتی ہے