نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: لوڈ شیڈنگ

(ذیل کے اشعار کا ہر دوسرا مصرع سعید قیس کی غزلیات سے اغوا کیا گیا ہے)

اُن کی دو پسلیوں کی بات کریں
"حُسن کے ذاویوں کی بات کریں”

لوڈ شیڈنگ ہے کس کی نیت میں
"روشنی کو پتہ نہیں ہوتا”

پھر الیکشن کے ترانے سائیں
"پھر وہی روگ پرانے سائیں”

لوڈ شیڈنگ کے زمانے میں تو گپ لگتی ہے
"روشنی مجھ کو بلانے مرے گھر تک آئی”

کسے گمان ہے سسرالیوں کے بارے میں
"نہ جانے کب کوئی کس راستے سے آ جائے”

بتائیں خودکشانِ حسن ہم کو
"ہمارے جسم کا ملبہ کہاں ہے”

جس کو مس کرتا ہوں اُس مس کی ہے
"ایک تصویر مرے بستے میں”

پچھلی پھینٹی کس کے دھیان میں رہتی ہے
"اک خواہش تو ہر انسان میں رہتی ہے”

یہ جان سکتے نہیں بیسویں گریڈڈ بھی
"فقیر جس قدر آسودگی سے جیتے ہیں”

یونہی منہ پھاڑنے سے کیا حاصل
"کوئی پوچھے تو ہم بتائیں بھی”

اُس کی تاڑ میں منہ کیا کھلا کہ فورا” موقع پا کر
"اک دروازہ میرے دل کے اندر آن کھلا تھا”

اپنا چشمہ تو کھو چکا ہے ظفرؔ
"کس کی آنکھوں سے خواب دیکھیں ہم”


رہ رہ کے اُٹھ رہی ہے اُسی کی طرف نظر
گھڑیال میرے صبر کو کرنے لگا ہے چٹ

گھنٹہ بھی لوڈ شیڈنگ کا گھنٹوں سا بن گیا
ہر دس منٹ کے بعد گزرتے ہیں دو منٹ


لوڈ شیڈنگ رہتی ہے میرے دیس میں شب بھر
بس اِسی سبب سے کچھ باہنر بنا ہوں میں
 ۔
رات بھر اِسی کی تو مشق کرتا رہتا ہوں
مچھروں سے لڑ لڑ کر ریسلر بنا ہوں میں

لوڈ شیڈنگ پہ تنقید اپنی جگہ
کام لیکن یہ اچھا بھی ہے دوستو
۔
لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی تو بجلی کا بل
کتنا ہوتا یہ سوچا بھی ہے دوستو