نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: قطعات

سب حریصانِ اقتدار و زر
ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں

قوم دھوکہ نہ کھائے گی ہرگز
یہ سیاست کے ریلو کٹے ہیں

Advertisements

یوں تو کہنے کو بخشش کی خاطر ہی بوڑھے
روز و شب گڑگڑا کر دعا مانگتے ہیں

ہاں مگر جب حسینوں کو یہ دیکھتے ہیں
تو جوانی کی اکثر دعا مانگتے ہیں


عمرِ عزیز پھنس گئی ستر کے پھیر میں
لیکن یہ اور بات کہ جی دار پھر بھی ہیں

نہ منہ میں دانت ہے نہ کوئی آنت پیٹ میں
اک اور عقد کے لئے تیار پھر بھی ہیں


مجھے بوڑھا کہا جاتا ہے کیسے
خفا اس پر میں سب سے ہو گیا ہوں

بجا کہ عمر ہے ستر برس کی
مگر میں بوڑھا کب سے ہو گیا ہوں


شاعری کہہ رہی تھی مجھ سے ظفر
شعر میں کچھ نیا ہی فرمائیں

اور بیوی کی آ رہی تھی صدا
جا کے دودھ اور دہی تو لے آئیں


سب لیڈرانِ قوم نے سمجھا ہوا ہے آج
بزنس پلان ، قوم کی خدمت کا عزم کیا

سب اپنے انڈے بچے سیاست میں لائے ہیں
جمہوریت ہے گود بھرائی کی رسم کیا


اوروں سے تو رشتے ناتے گنجلا جاتے ہیں
جیون خوب گزر جاتا ہے اپنے ساتھ یقیناً

اوروں کو سمجھانا خاصا مشکل ہوتا ہے
بندہ آپ سمجھ لیتا ہے اپنی بات یقیناً