نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: قطعات

کیا بُرا ہے اگر کرپٹ بھی ہیں
جو ہیں تگڑے اُنہیں کی چاندی ہے

یہ پنامہ کے فیصلے سے کھلا
عدل تو اک ٹرک کی بتی ہے


وہ تھا محبوبِ تواُس میں اندازِ محبوبیت تھے بہت
اُس کی ہر اک ادا حسبِ منشائے ربِ قوی ہو گئی


کام جو بھی کیا سربسر حکمِ ربی کی تفسیر تھا
بات جو بھی کہی، معتبر ہو گئی، سرمدی ہو گئی


کراچی بلدہء اربابِ دانش
مگر ہے بلدیہ اس کی عجب شے

بنا ڈالا ہے "کوڑا دان” اس کو
کراچی کو "کوڑاچی” کر دیا ہے


اہلِ خانہ پر جب قابو پا ہی چکے ہیں
بینیفٹ کچھ اور اٹھایا جا سکتا ہے
گھر کا ساماں باندھا جا سکتا ہے پھر بھی
پہلے اِنہیں دیوان سنایا جا سکتا ہے


سمجھے گا وہی خاک نشینوں کے غموں کو
جو غمکدہء خاک نشیں میں سے اُٹھے گا

نورا ہے نہ زرداری نہ عمران نہ فضلو
لیڈر وہی ہو گا جو ہمیں میں سے اُٹھے گا


نیوز چینلز کا ہے یہ دعویٰ
ہم فقط آگہی پھیلاتے ہیں

ہم بھی تائید کرتے ہیں اِن کی
یہ تو بس آگ ہی پھیلاتے ہیں


لیلیٰ کا عقد کیوں نہ ہوا قیس بھائی سے
اُس دور میں تو اِتنے ستمگر گٹر نہ تھے

ایسے ہی اِک وقوعے کے باعث جو دیر کی
"منزل اُنہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے”