نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: فی البدیہہ

رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے
اڑنگی دے کے اگر وہ گرا نہیں دیں گے

وہ دیتے پھرتے ہیں مس کال ہی فدائی کو
تو کیا مرض کے مطابق دوا نہیں دیں گے؟

پہاڑ کاٹنے ہوں گے کہ حسن والے اُنہیں
سکوں سے دستِ حنائی تھما نہیں دیں گے

نہیں ہیں بھونپو کہ کرتے پھریں وہ پوں پوں پوں
"تمھارے شہر میں کوئی صدا نہیں دیں گے”

اُنہیں خبر ہے کہ ضد کر کے لے گی کچا گھڑا
سو سوہنی کو وہ مناسب گھڑا نہیں دیں گے

یہ ڈاکٹر ہیں جو امراضِ جنس کے ماہر
کسی کی لیلیٰ کو مجنوں بنا نہیں دیں گے؟

یوں بے دھیانی میں ٹپکا کریں نہ منہ دھو کر
دکھا کے چہرہ میاں کو ڈرا نہیں دیں گے

ابالِ خون نہ جائے گا بھائی لوگوں کا
دو ہاتھ گچی پہ جب تک ٹکا نہیں دیں گے

اگر اداؤں کی گگلی یونہی کراتے رہے
تو پھر وہ کیا میری وکٹیں گرا نہیں دیں گے

یہ خود سے عہد ہے شادی شدوں کا بعد از عقد
اب اپنا ہاتھ بہ دستِ قضا نہیں دیں گے

ترا حبیب تری قدر کیوں نہیں کرتا
ترے رقیب تو دادِ وفا نہیں دیں گے

Advertisements

اہلِ وفا کو نخرے دکھائے تو کیا کروں
ہر بات پر وہ گال پھُلائے تو کیا کروں

لٹکایا تو ہے حسن نے اُلٹا ہزارہا
اس پر بھی عشق باز نہ آئے تو کیا کروں

کب تک دلاؤں یاد تقاضے وفاؤں کے
جب وہ پلانا چاہے نہ چائے تو کیا کروں

آتش بجاں ہے نمبر ملا کر غلط سلط
متھے لگے وہ بیٹھے بٹھائے تو کیا کروں

پہلا سا پیار اب بھی کوئی مانگتا تو ہے
بڑھ جائیں لاریوں کے کرائے تو کیا کروں

اُس کوبتا دیا تھا کہ انصاف اب کہاں
سرسوں ہتھیلیوں پہ جمائے تو کیا کروں

ہو کر تو آؤں اُس کی طرح پارلر سے میں
پر دیکھ کر وہ ہنستا ہی جائے تو کیا کروں

سیکھی نہیں ہے اُس نے زباں پیار کی تو کیا
سمجھے نہ کوئی رمز کنائے تو کیا کروں

ٹُن ہوں میں آزرؤں کے فٹ پاتھ پر کہیں
کھولے نہ کوئی دل کی سرائے تو کیا کروں

میں نے تو ورغلایا ہے مقدور بھر اُسے
بدلے نہ پھر بھی یار کی رائے تو کیا کروں

جس ’’باؤ ‘‘سے ڈراتی تھی بچپن میں مجھ کو ماں
بن کر ’’بہو‘‘ خود اُن کو ڈرائے تو کیا کروں

اپنی طرف سے میں کسی ہیرو سے کم نہیں
اللہ میاں کی سمجھے وہ گائے تو کیا کروں

جس کے لئے غزل پر غزل لکھ رہا ہوں میں
سُن کر کرے وہ ہائے نہ وائے تو کیا کروں


حکمراں ہم کو ہمیشہ ہی ملے اوٹ پٹانگ
جیسے اطوار سدا اپنے رہے اوٹ پٹانگ

پنکی بن کر میں بہت سوں سے ملا ہوں یارو!
فیس بک کے سبھی عشاق لگے اوٹ پٹانگ

بیویاں بھی اُنہیں ملتی ہیں سدا اول جلول
جو میاں ہوتے ہیں خود اچھے بھلے اوٹ پٹانگ

کوئی تدبیر کی خوبی نہ تگ و دو کا ہنر
گویا قسمت سے رہے سب کو گلے اوٹ پٹانگ

مر گیا مرغا پڑوسی کا سو دعوت کینسل
عذر کیا تونے تراشا ہے ابے اوٹ پٹانگ

تیری قسمت تیری فطرت کو سمجھتی ہو گی
یار ڈھونڈا ہے تبھی تیرے لئے اوٹ پٹانگ

زور و زر والوں کے سینے ہوئے چوڑے کیا کیا
فیصلے کورٹ میں جب ہونے لگے اوٹ پٹانگ

باس کو دل سے سمجھتے رہے دفتر والے
یہ الگ بات، کبھی کہہ نہ سکے اوٹ پٹانگ

ساری دنیا میں جو کترینہ بنی پھرتی ہے
روئے آئینہ تو خود کو بھی دِکھے اوٹ پٹانگ

اپنی تہمد بھی حکومت سے سنبھالی نہ گئی
یوں تو کرنے کو بہت دعوے کئے اوٹ پٹانگ

ہم سے سرزد یہ ’’ ردیفانہ حماقت‘‘ جو ہوئی
اِسی باعث تو سبھی شعر لکھے اوٹ پٹانگ


وقت گو بادل سا ہے
دل سلگتے تھل سا ہے

اِس پہ بھی پیاسا ہوں میں
آسماں چھاگل سا ہے

موت ہے رُوئے حیات
درمیاں ململ سا ہے

رونقِ دنیا بجا!
دل مگر بوجھل سا ہے

ذیست ہے شب کا سفر
ہر سمے جنگل سا ہے

وہ تو صدیوں بعد بھی
ایک گزرے پل سا ہے

کس کو سمجھاتا ہے تو
عشق تو پاگل سا ہے

دیکھ کربھی نہ رُکا
راستہ دلدل سا ہے

داغِ رسوائی ظفر
عشق کاطغرل سا ہے


معرکہء حیات ہے درپیش
دمبدم کوئی گھات ہے درپیش

میرے آنسو تو خشک ہو بھی چکے
اب غمِ شاملات ہے درپیش

سانس کی آنچ آ رہی تھی مگر
دوریء شش جہات ہے درپیش

بجھتنے دیتا نہیں ہے یہ احساس
ہر نفی کو ثبات ہے درپیش

ساری دنیا سے میں نمٹ لوں گا
پر جو یہ اپنی ذات ہے درپیش

چاند اس ڈر سے کیا نہیں نکلے
اس کو اک لمبی رات ہے درپیش

خود کو پانے کا مرحلہ ہے یہی
وسعتِ کائنات ہے درپیش

اعتبار اب کسی قدم کا نہیں
عالمِ ممکنات ہے درپیش

مضمحل ہو گیا سرورِ فتح
اپنے دشمن کی مات ہے درپیش


ہر اِک بات پرکیوں غلط ہو تلفظ
ادا کر ہی لیتے ہیں رو دھو تلفظ

جہاں پھول جائے مری اُردو کا دم
وہاں آپ ہی دے اُٹھے لو تلفظ
۔۔ق۔۔
کوئی جیسا بولے اُسے بولنے دو
یونہی ہر حلق پر نہ لادو تلفظ

مگر اِس قدر گڑبڑی بھی نہیں ہو
کہ ابلاغ کو کر دے ویٹو تلفظ
۔۔۔۔
وہ تڑکے لگاتے تو ہیں بھاری بھاری
نہیں آتے الفاظ کے گو تلفظ

کرو نہ زباں اس قدر لیڈرانہ
ہنسا دے سرِبزم سب کو تلفظ

بنانے چلے ہیں جو محبوب اُن کو
نہیں جانتے نام کے وہ تلفظ

وہ عالم میں عالم بھی کہلا رہے ہیں
”عِلَم“ کرتے ہیں علم کا جو تلفظ

ظفر کوئی کس معنی کی گچی پکڑے
جہاں لفظ ہو ایک اور سو تلفظ


پت جھڑ کی رُتوں میں بھی مرے دل کو ہرا دیکھ
اُمید کو ہر شاخِ تمنا پہ کھلا دیکھ

ہریالی کا وجدان نکال اپنی زمیں سے
یہ کس نے کہا بہرِ نمو کوئی گھٹا دیکھ

توفیق ہو جینے کی تو جی لیتے ہیں یوں بھی
ویران سرائے کا کوئی تنہا دیا دیکھ

اُن کے وہی تیور، وہی زہراب نوائی
دل کا وہی اصرار کہ ناموسِ وفا دیکھ

ہر شے کی حقیقت کو سمجھنا ہے ضروری
جو تجھ کو نظر آتا ہے تو اُس سے سوا دیکھ

آفاق کی وسعت کو سمجھ، حجرے بنا مت!
منظر کے جھروکوں سے کوئی اور فضا دیکھ

مسنون ہے صدیوں کے خلا پر بھی تفکر
لیکن جو تری ذات میں ہے وہ بھی خلا دیکھ

بے رنگ زمانے میں دھنک جاگ اُٹھی ہے
بے نام خموشی میں مرا رنگِ صدا دیکھ