نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: فی البدیہہ

تیری اماں ہے یا ریڈار ہے، سب چلتا ہے
گول ہر طالبِ دیدار ہے، سب چلتا ہے

اعتراض اُن کو ہے، جب ٹُن ہے یہ ساری دنیا
کیوں مرا دیدۂ بیدار ہے، سب چلتا ہے

خود کو وہ لیڈرِ قومی ہی سمجھ بیٹھا ہے
جانتے سب ہیں کہ فنکار ہے، سب چلتا ہے

کیوں مری حقہ نوازی کا اُڑاتا ہے مذاق
اُس کے منہ میں بھی تو نسوارہے، سب چلتا ہے

جو ہر اک گام پہ دیتا ہے اڑنگی مجھ کو
وہ کہاں کا مرا غمخوارہے، سب چلتا ہے

عشق کو ہر سمے چکرائے ہوئے رکھتا ہے
حسن اک نقطۂ پرکار ہے، سب چلتا ہے

میرا حامی بھی ’’لفافے‘‘ کو ہوا ہے پیارا
اب ترا حاشیہ بردار ہے، سب چلتا ہے

منتظر وصل کا رہتا ہوں میں سارے ہفتے
اور بس ایک ہی اتوار ہے، سب چلتا ہے

میں وہاں ٹھٹھے لگاتا ہوا پھرتا ہوں بہت
مسکرانا جہاں دشوار ہے، سب چلتا ہے

میرے اندازِ تکلم پہ ہے مشہور ظفرؔ
فدوی شاعر نہیں بمبارہے، سب چلتا ہے

Advertisements

جانتے سب ہیں جو کردار ہے، سب چلتا ہے
محترم ہے کہ وہ زردار ہے، سب چلتا ہے
 
اپنے گل خان میں فیشن کے جراثیم نہیں
وہ تو شلوار ہی شلوار ہے، سب چلتا ہے
 
سچ تو یہ ہے کہ خبر کچھ بھی نہیں ہے لیکن
شور کرتا ہوا اخبار ہے، سب چلتا ہے
 
آج کل ڈیموکریسی بھی کہاں وارے میں
اب تو بے وقت کی ملہار ہے، سب چلتا ہے
 
یہ ولیمے کے ہی کھانے پہ کھلے گا تم پر
کس قدر کوئی وضعدارہے، سب چلتا ہے
 
کاغذوں میں تو ترقی کے ہیں دعوے خاصے
اور کچھوے کی سی رفتار ہے، سب چلتا ہے
 
دیکھنے والوں میں دوڑاتی ہے دہشت کیا کیا
مونچھ کہ صورتِ تلوار ہے، سب چلتا ہے
 
اُس نے گالی کو بنا رکھا ہے تکیہء کلام
واہ کیا شوخیء گفتار ہے، سب چلتا ہے
 
نوحہ تو ڈیموکریسی کا کوئی کرتا ہے
اپنی کرسی کا عزادار ہے، سب چلتا ہے
 
وہ ستمگار تو دلدار شکن ہے یکسر
ہاں مگر نام کا دلدار ہے، سب چلتا ہے

جو گھر میں چپقلش کا پھر مقام آیا تو کیا ہو گا
تمھارے ہاں سے بھی شورِ دھڑام آیا تو کیا ہو گا

جہاں سے ہم پہ ٹھنڈا ٹھار پانی کل بھی آیا تھا
اُسی غرفے سے پھر کوئی سلام آیا تو کیا ہو گا

تحفظات ایسے ہی ترے میرے ملن پر ہیں
اگر نہ میم کے پہلو میں لام آیا تو کیا ہو گا

ابھی مہمان ہے اور آپ ناکوں ناک آئے ہیں
یہی سالا اگر بہرِ قیام آیا تو کیا ہو گا

عدالت پر بہت چیں بہ جبیں ہونا نہیں اچھا
اگر اِن فیصلوں کو اژدھا آیا تو کیا ہو گا

بڑی لش پش دکھاتا جا رہا ہے عاشقِ بے غم
ترے کوچے میں بے نیل و مرام آیا تو کیا ہو گا

پلاننگ وصل کی کر لی ہے لیکن اس کا بھی ڈر ہے
مجھے نزلہ رہا اُس کو زکام آیا تو کیا ہو گا

جہاں پر تم دئے جاتے ہو بھاشن نوجوانوں کو
وہاں پر تذکرہء ڈیڈ و مام آیا تو کیا ہو گا

وطن کا نوجواں اقبال کا شاہین ہے لیکن
یہ جنگِ ازدواجی میں ہی کام آیا تو کیا ہو گا

سبھی کے منہ کھلے رہ جائیں گے فرطِ تحیر سے
"سرِ محفل محبت کا پیام کا آیا تو کیا ہو گا”

جو سچی بات کرتا ہے وہ کیسے بات کرتا ہے
اُسے بھی ڈالنے کوئی لگام آیا تو کیا ہو گا

غمِ ہستی نے اب جن چہروں پر بارہ بجائے ہیں
میں اُن پر ٹانکنے کو ابتسام آیا تو کیا ہو گا

سُنا ہے جام ہوتا ہے تو شاعر شعر کہتا ہے
ہمارے تو پر مکھن نہ جام آیا تو کیا ہو گا

کوئی تو سننے والا ہو رضاکارانہ عرضِ دل
ظفر کو سخت زوروں کا کلام آیا تو کیا ہو گا


بھرے جب سے دو تین ٹبر کھچا کھچ
ہوا ہے سیاست کا خچر کھچا کھچ

ہمارے ہی ٹیکسوں کا پیسہ اُڑا کر
بنے ہیں وہ لیڈر مخیر کھچا کھچ

اگر تم کسی اور کی ہوگئی ہو
ہمارے بھی دل میں ہیں دلبر کھچا کھچ

بھلا ہیروئن کی سمگلنگ میں کیا ہے؟
بھرو بوریوں میں ٹماٹر کھچا کھچ

کوئی کام کا بندہ ملتا نہیں ہے
اسمبلی میں دیکھے مچھندرکھچا کھچ

اگرچہ بہت مفلسی کا ہے رونا
بہر سو ہے جنسِ دِساور کھچا کھچ

بھرو ہاسٹل بے گھروں سے دبا دب
بچھائے چلے جائو بسترکھچا کھچ

سمجھتے تھے ہم جس کو دیوارِ گریہ
وہاں تھاپے جاتے ہیں گوبرکھچا کھچ

.کہاں نغمگی پاپولر سنگروں میں
گروپوں میں ہیں سارے جھینگر کھچا کھچ

پلاننگ اِدھر بھی کہ اب ہیں ظفر ؔجی
ہمارے وطن میں سخنورکھچا کھچ


اگرچہ کہنے کو اُس سے بڑھ کر کہاں کوئی جانثار ہوگا
نثار ہونے کا وقت آیا تو سب سے پہلے فرار ہو گا

ہزار روکو ، نہیں رُکیں گے، ہزار ٹوکو، نہیں ٹلیں گے
جہاں جہاں شرپسند ہوں گے، وہاں وہاں شر شرار ہو گا

یہ دورِ حاضر کی عاشقی ہے، تضیحِ اوقات ہے سنورنا
نہ ہم نے ہی شیو کی ہوئی ہے نہ اُن کا سولہ سنگھار ہو گا

یہ دیکھنا ہے نئے ڈیزائن کا کیسا شاہین آ رہا ہے
شکار کر پائے گا کسی کو یا خود کسی کا شکار ہو گا

جنابِ ناصح سے فیض کیا ہو جو درد سے آشنا نہیں ہے
نہ کیلکولیٹر ہے پاس اس کے ، نہ کچھ غموں کا شمار ہو گا

جو ٹھرکیوں میں گھُسے ہوئے ہیں، وہ چار ہی لتروں کے جن ہیں
نہ دل سے اُٹھے گی ہُوک کوئی، نہ عاشقی کا بخار ہو گا

الیکشنوں میں کبھی اِن ایکشن، عوام ہوں گے نہ پولیٹیشن
بنامِ ووٹر، بنامِ لیڈر، حمار ہوں گے، کمہار ہو گا

جو قوم کا مال کھا رہے ہیں وہ کس بُری طرح کھا رہے ہیں
نہ ہو گا کوئی حیا کا قصہ، نہ حادثہء ڈکار ہو گا

جو ٹی وی چینل کے واسطے لکھ رہا ہے محنت کشوں کے نوحے
گداز صوفے میں وہ دھنسا ہو گا اور منہ میں سگار ہو گا

کسی بھی لیڈر نے سچا وعدہ کیا تو ہو گا فضول یکسر
ہمیں یقیں آ سکے گا کیسے، تمھیں کہاں اعتبار ہو گا

پولیس والے پکڑ پکڑ کر جو آج لٹکا رہے ہیں اُلٹا
میں مقتدر بن گیا تو اک اک یمین ہو گا یسار ہو گا

ہزار کاما سہی مگر افسروں کی نظروں میں کچھ نہیں ہوں
کروں گا میں چاپلوسی سب کی تو میرا بیڑہ بھی پار ہو گا


یہ کارِ بیکاری کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں
آؤ سیاست ہی چریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

آنکھوں کا پردہ تو رہا عشاق میں نہ حُسن میں
’’پرنے‘‘ ہیں اور نہ چادریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کچھ حُسن والے مطلقاً حُسنِ بیاں رکھتے نہیں
لہجے ہیں یا ہیں ٹھوکریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کیسا ہے یہ طرزِ سخن، ہم پاس آئے تو کہا
’’ہٹ کے کھلو پچھاں مریں‘‘، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یہ دورِ’’ آئی ٹی ‘‘ہے سو آپس میں ہی دکھ سُکھ کہو
نہ گوریاں نہ گاگریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

جب ایک گھر میں برتنوں کی شکل میں موجود ہیں
تو کیوں نہ ٹکرایا کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

شغلِ چغل خوری سے ہو جاتا ہے ہلکا پیٹ کچھ
اوروں پہ ڈپریشن دھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اہلِ نظر بننا ہے تو ضعفِ بصارت کس لئے؟
کھاتے رہو سب گاجریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اب بیٹھ کر باقاعدہ میرٹ پہ کر لیں فیصلہ
کن کن حسینوں پہ مریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کس عمر میں وعدہ کسی سے کر رہے ہیں ہم نفس!
بادام کی ہیں آفریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

ہم عمر ہو کر’’میڈمیں‘‘ہیں اس قدرشاداب کیوں؟
واں کاکلیں، یاں جھالریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

بیکار، اہلِ کار ہیں، کیوں اپنے طالع میں نہیں؟
چم چم چمکتی موٹریں ، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

لب بستہ ہو جاتے ہیںکیوں جب بولنے پر آتی ہیں
یہ بیویاں،یہ ٹیچریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

جیسے بہ وقتِ گفتگو، تگڑوں سے دب جاتے ہیں سب
ویسے خدا سے بھی ڈریں ، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یوں خاک ہوں ہم تم رواں، پائیں لفافوں کے نشاں
تو لطق میں چابی بھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اہلِ صحافت سے کوئی متھا لگا سکتا نہیں
دے دیں گے منہ میںفیڈریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

پھر گرم گفتاری کا چو لہاآن کر دو آن کر
کیوں سرد مہری سے ٹھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

غوطے لگانا سیکھ لیں بے فیض باتوں کے ظفرؔ
ہر نیوز چینل میں تریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں


رہے بیمارِغمِ شیریں نوا لاحاصل
لوگ کھلواتے رہے تلخ دوا لاحاصل

حسن والے تو سبھی اونچی ہوائوں میں ملے
ڈہونڈتا رہ گیا میں جنسِ وفا لاحاصل

اللہ رکھی چلی آئی ہے حنا تھوپے ہوئے
میں نے مانگی تھی مسمات حنا لاحاصل

ماڈرن بنتا گیا، بنتا گیا، بنتا گیا
بسکہ اب لگتا ہے وہ خواجہ سرا لاحاصل

ووٹ اُن کا بھی مرے حق میں کہاں آیا ہے
تیرے پپا کو بنایا تھا چچا لاحاصل

دے گیا کارڈ عدو عقد کا آ کر اور میں
مانگتا رہ گیا ملنے کی دعا لاحاصل

اُس نے جو کرنے کی ٹھانی تھی، کیا اور گیا
میں دکھاتا رہا دھمکی کا چھُرا، لاحاصل

اپنے جیون کو مرے نام ہی کر دے، ظالم!
تونے ہو جانا ہے اک روز فنا لاحاصل

آج اک سانڈ کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا
عمر بھر ہم نے تو کھائی ہے غذا لاحاصل

جلنے کڑھنے سے کوئی کام کہاں ہوتا ہے
بنتا جاتا ہے کوئی اُلٹا توا، لاحاصل

کب کسی عہد کے عشاق نے عبرت پکڑی
عشق میں قیس نے پائی ہے سزا لاحاصل

ڈہونڈتے پھرتے ہیں غالبؔ کے طرفدار ظفرؔ
دختِ رذ میں میری چائے کا مزا لاحاصل