نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: فیس بک

ذکر ہم جیسے کج راؤں پر آیا ہے اپسراؤں کی باتیں بتاتے ہوئے
آپ کا تذکرہ بھی کیا جائے گا پارساؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جانے وہ کیوں گرجنے برسنے لگے شا نتی کی کہانی کے اِک موڑ پر
جانے ہم بھی کیوں خاموش سے ہو گئے بے نواؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جو ہتھیلی کے نقشے کو تبدیل کر کے فلک بوس ٹاور کھڑے کر گیا
اُس کے لہجے میں حسرت سی کیوں آ گئی اپنے گاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ جو اُن کی حفاظت کے ہتھیار ہیں، اب اُنہیں کی ہلاکت کو تیار ہیں
لوگ خود ہی جراثیم بننے لگے ہیں وباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا کہیں کس ہوا میں رہے تب تلک، نہ زمیں زیرِ پا تھی نہ سر پر فلک
اپنی دھرتی کا قصہ سناتے ہوئے یا خلاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ وہ رشتوں کی بیلیں ہیں جن سے سداہم نے دیکھا ہے روحوں کو سرسبز سا
جوئے خوں سب کی آنکھوں سے جاری ہوا اپنی ماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

برش سارے ہی رنگوں میں پھیرا ہے تو اپنی تصویر کو دی صداقت کی لو
ذکر ڈستی ہوئی دھوپ کا بھی کیا ٹھنڈی چھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

سامنے کیسا منظر روانی کا تھا، ریت پر وہم کیوں ہم کو پانی کا تھا
رہزنوں کا خیال آ گیا کس طرح رہنماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

ساربانوں کے سب قافلے جا چکے،گزرے ادوار کو راستے جا چکے
ہم بھی رخشِ زماں پر ہیں محوِ سفر اِن کتھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا خبر داستاں کے کسی موڑ پرچھیڑ دے درد کا ساز کون آن کر
دھر لیا کرتے ہیں ہاتھ دل پر ظفرؔ دلرباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے


جھٹپٹے میں ہی اذاں دینے لگے خوابِ سحر
آخرش آ ہی گئے اِن کو بھی آدابِ سحر

رات دروازے سے اندر نہیں آ پائے گی
میری آنکھیں مرا دل منبر و محرابِ سحر

مارتا پھرتا ہے شب خوں بڑی بے خوفی سے
لشکرِ ظلمتِ شب میں کوئی مہتابِ سحر

جب بھی مایوسی کے موسم نے چمن کو جکڑا
مسکرا دیتا ہے کوئی گلِ شادابِ سحر

نور افشانی رہی شب کے شہیدوں سے بھی
صرف سورج ہی نہیں گوہرِ نایابِ سحر

سانپ لپٹا نہیں اس پیڑ سے مایوسی کا
مضمحل ہوتے نہیں ہیں کبھی اعصابِ سحر

جادوئے خامشیء شب میں کہاں آتے ہیں
گیت بُنتے ہی چلے جاتے ہیں مضرابِ سحر

تب بھی ڈالی نہ سپر معرکہ آراء دل نے
باز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ہر اک بابِ سحر

اب کے خود اپنے لہو سے ہی بجھی تشنہ لبی
کب ملی میکدہء وقت سے مے نابِ سحر



رہ گیا ہوں پھنس کے یوں سسرال اِس تعطیل میں
جیسے ملزم آ گیا ہو نیب کی تحویل میں

تکتا تھا یوں جیسے نثری نظم منہ پر ماری ہو
مدعا اُس سے بیاں جب بھی کیا تفصیل میں

کچھ نہ کچھ تو ہو گیا ہے ربطِ باہم کو صنم!
آپ گرگٹ بن گئے یا ہو گیا تبدیل میں

ہر کرپٹ نسواربن کر داڑھ کے نیچے پھنسا
آرہے ہیں خان صاحب ڈیل میں نہ ڈھیل میں

لیڈرانِ قوم کی توندیں وسیع ہیں اس لئے
سارا پاکستان ڈالیں عمرو کی زنبیل میں

کیا کہیں یارو اب ایسے الو کے پٹھے کو ہم
’’الو‘‘ کو’’ ابو‘‘ پڑھا ہے جس نے کچھ تعجیل میں

عشق دنیا میں سدا خوار و زبوں رہتا ہے کیوں؟
کیدو کا کیا کام ہیر ورانجھا کی تمثیل میں

بات کر کے دیکھتے اپنے فدائی سے کبھی
خود کو دے دیتا اڑنگی حکم کی تعمیل میں

کرتا ہے پہلو تہی اس سے شریف انسان بھی
جب’’ شرافت‘‘ کا افادہ ہو ذرا تقلیل میں

لے اُڑے شاگرد اب کےمنصبِ استاد بھی
لیڈروں کا ہاتھ ہے شیطان کی تعزیل میں

آپ ہی اپنی اداؤں پر نظر ڈالیں ظفرؔ
یونہی منہا کب ہوئے ہیں زیست کی تعدیل میں


دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف
جس طرح کرتے ہیں سنڈیوں کو تلف

عدل کا چھڑکاؤ اِتنا بھی نہیں
ملک سے کر دے جو چوروں کو تلف

سر کا فالودہ بنا سکتے ہیں آپ
کر نہیں سکتے ہیں سوچوں کو تلف

لو مرا بھی رول نمبرآ گیا
عشق نے کرنا ہے کتنوں کو تلف

بھر دیا ہے توند کے تنور کو
کر دیا ملا نے مرغوں کو تلف

مرحبا خاصی صفائی ہو گئی
کر دیا اندھوں نے کانوں کو تلف

سرفروشی میں ہیں یکتا زن مرید
کر دیا ہے گھر سے چوہوں کو تلف

قیس کو کرنے کا ٹھیکہ مل گیا
کوچۂ لیلیٰ سے کتوں کو تلف

کیوں بجنگ آمد کوئی کرنے لگا
توپ کے گولوں سے مکھیوں کو تلف

گیسوئوں کو گہری سوچوں سے بچا
ٹڈی دل کر دے گا فصلوں کو تلف

کاش ووٹر آپ ہی کرنے لگیں
لیڈروں کے سبز باغوں کو تلف

تو ظفر کیا چیز ہے کہ وقت نے
کر دیا ہے اچھے اچھوں کو تلف


ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے


رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے
اڑنگی دے کے اگر وہ گرا نہیں دیں گے

وہ دیتے پھرتے ہیں مس کال ہی فدائی کو
تو کیا مرض کے مطابق دوا نہیں دیں گے؟

پہاڑ کاٹنے ہوں گے کہ حسن والے اُنہیں
سکوں سے دستِ حنائی تھما نہیں دیں گے

نہیں ہیں بھونپو کہ کرتے پھریں وہ پوں پوں پوں
"تمھارے شہر میں کوئی صدا نہیں دیں گے”

اُنہیں خبر ہے کہ ضد کر کے لے گی کچا گھڑا
سو سوہنی کو وہ مناسب گھڑا نہیں دیں گے

یہ ڈاکٹر ہیں جو امراضِ جنس کے ماہر
کسی کی لیلیٰ کو مجنوں بنا نہیں دیں گے؟

یوں بے دھیانی میں ٹپکا کریں نہ منہ دھو کر
دکھا کے چہرہ میاں کو ڈرا نہیں دیں گے

ابالِ خون نہ جائے گا بھائی لوگوں کا
دو ہاتھ گچی پہ جب تک ٹکا نہیں دیں گے

اگر اداؤں کی گگلی یونہی کراتے رہے
تو پھر وہ کیا میری وکٹیں گرا نہیں دیں گے

یہ خود سے عہد ہے شادی شدوں کا بعد از عقد
اب اپنا ہاتھ بہ دستِ قضا نہیں دیں گے

ترا حبیب تری قدر کیوں نہیں کرتا
ترے رقیب تو دادِ وفا نہیں دیں گے


وہ بھلا کاہے کا ہمارا رفیق
جس کو ہو نہ اڑنگی کی توفیق

لوگ کہتے ہیں شیر دھاڑا ہے
میرے کانوں نے تو سنی تھی نہیق

اک رقیبوں سے ہی الجھنا نہیں
تیرا ابا بھی بن گیا ہے فریق

حلوہ پکتا ہے تو نہیں دیتے
مولوی کے پڑوسی ہیں زندیق

مقتدر ہوں تو چھوڑیں کوئی کسر
یہ’’ شریفوں‘‘ کا تو نہیں ہے طریق

امتحانوں میں نقل کیسے ہو
جس کو معلوم ہے وہی ہے لئیق

اپنے اپنے ہیں مشغلے سب کے
کوئی کھاؤ ہے اور کوئی حریق

مانی جائے گی میری پیدائش
کوئی افسر کرے اگر تصدیق

شعر غالب کا ہے پئے بوسہ
اِس میں نقطہ نہیں ہے خاص دقیق

یوں نچوڑیں اساتذہ کا کلام
آپ ہو جائے اک غزل’’ تخلیق‘‘

وہ بھی مخبر بنا ہوا تھا ظفرؔ
جس نے کی شوقِ عشق کی تشویق