نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: عالمی ادبی فورم

کچھ کر کے زمانے کو دکھائیں گے کسی دن
آنگن نہ ہوا ٹیڑھا تو ناچیں گے کسی دن

آ جائے گا یہ اونٹ بھی کہسار کے نیچے
عشاق مزا عقد کا چکھیں گے کسی دن

فی الحال تو چوروں نے اُنہیں ڈال دی ہڈی
کتے میری انگنائی کے بھونکیں گے کسی دن

جو ہم پہ گزرتی ہے سرِ مقتلِ سسرال
"دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن”

یہ کام فقط اُس کے تعاون سے ہے ممکن
دب جائے گا تو اُس کو دبائیں گے کسی دن

لپکیں گے جو بٹتے ہیں شب و روز بتاشے
ہم بھی تری انگنائی میں گھومیں گے کسی دن

جیسے وہ” تراہ” آج نکالے ہیں ہمارا
ویسے ہی رقیبوں کو بھی گھوریں گے کسی دن

سوجھا نہ علاج اور اگر ننگِ بدن کا
پرچم کو ہی تہبند بنائیں گے کسی دن


نیکیوں کا بھی سلسلہ رکھنا
کھانے پینے کا در کھُلا رکھنا

سرفروشانہ اُس گلی جانا
بھاگنے کا بھی راستہ رکھنا

اُس کو اپنانا جیسے بن پائے
نام پھر اُس کا بھی بلا رکھنا

کبھی میک اپ بغیر بھی رہنا
اپنے شوہر کو بھی ڈرا رکھنا

لسے بندوں کے سر چڑھے جانا
زور والوں سے دُم دبا رکھنا

کوئی شکرا تو پھنس ہی جائے گا
سر پہ جوڑے کا گھونسلہ رکھنا

مولوی کو اگر بلایا ہے
بوٹیاں اور شوربہ رکھنا

یارماروں سے احتیاط کے ساتھ
"ملنے جُلنے کا حوصلہ رکھنا”

جو زمانے کو منہ چڑاتا ہے
اُس کے آگے بھی آئینہ رکھنا

تھکیاں بھی ضروری ہیں لیکن
ہاتھ گدی پہ بھی جما رکھنا

رن کو رن نہ بنانے دینا ظفر
خانگی میچ کو ڈرا رکھنا


بتا کے ناصح کو یہ بات کیسے عام کریں
ہمارے ساتھ جو اُس مِس کے ڈیڈ مام کریں

اگرچہ بہتے ہیں برساتی نالے کی طرح
تمہارے ویر سے ہکلا کے ہم کلام کریں

عوام الناس کو خاصا رُلا چکے لیڈر
مرا خیال ہے اب اور کوئی کام کریں

یوں جانئے کہ اُنہوں نے ہی لوٹ لی محفل
جو خاص و عام میں اِک ساس کو سلام کریں

ہمارے دل میں تو مدت سے رہ رہے ہیں مگر
ہمارے گھر میں بھی آ کر کبھی قیام کریں

پڑے نہیں کسی قاصد کی جی حضوری میں
جو ایس اہم ایس کے تھرو نامہ و پیام کریں

یہ کیا کہ پڑھ ہی نہ پائیں وہ ہجے کر کے بھی
متاعِ شعر و سخن آپ جن کے نام کریں

یہ چار دن جو ملے ہیں گزارنے کے لئے
کسی کے نام کریں، زندگی حرام کریں

وہی بنائیں گے لشکر جہاد کی خاطر
جو ہر برس نئے ماڈل کا اہتمام کریں

نصاب طفلاں کو ترتیب دینا ہے، تسلیم
مگر خدارا یونہی میم کو نہ لام کریں

ہمارے جیسوں کی کیا خاک دال گلنی ہے
رقیب یار کے کوچے میں اژدگام کریں

چھری ہے یار کے ہاتھوں میں ، احتیاط ظفر
اب اُن سے بات ذرا دل کو تھام تھام کریں


بحث کرتے ہوئے بیگم سے بھی ڈر لگتا ہے
گفتگو ہوتی نہیں پھر وہ غدر لگتا ہے

تُو منافق نہیں ویسا ہی ہے باہر سے بھی
جیسا کالا تیرے اندر کا کلر لگتا ہے

یوں تو بھیگا ہوا الو نظر آتا ہے میاں
بیوی میکے ہو تو پھر اس کو بھی پر لگتا ہے

حُسنِ بیباک نے یہ دن بھی دکھایا ہے مجھے
میں جہاں پر ہوں وہیں نورِ نظر لگتا ہے

فلسفہ دان نظر آتا ہے الو سب کو
ایسا ہرگز نہیں ہوتا ہے مگر لگتا ہے

نئے انداز کا فنکار ہے سوتے میں کوئی
یہ جو خراٹوں سے ہے سازِ دگر لگتا ہے

بیویاں اس سے میاؤں پہ ظفریاب رہیں
ایک ہتھیار مجھے دیدہء تر لگتا ہے

اُس کی بنیاد میں بھونچال کبڈی کھیلے
جس عمارت میں کوئی مجھ سا پلر لگتا ہے

کرفیو آپ کے ابے نے لگایا ہے جہاں
مسکرانا بھی وہاں مجھ کو ہنر لگتا ہے

اب تو میک اپ نہیں کرتی مری بیوی اکثر
"میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے”

سائلینسر جو اُتارا ہے ظفر بائیک کا
پاپ سنگنگ کا ملہارا ہوا شر لگتا ہے


اُن کو کہہ بیٹھا ہوں "رانی میری”
بے دھیانی ہے پرانی میری

خود پہ تنقید کہاں سُنتا ہے
"اور پھر وہ بھی زبانی میری”

ہوگئی پولی کلر سے صیقل
اب بڑھاپے میں جوانی میری

کیسے محبوبہ بناؤں اُس کو
جو ہے رشتے میں زنانی میری

اُن کی آنکھوں کو بھی چبھتا ہوں میں
جس کے گھر آنی نہ جانی میری

پی گیا ولز کی ساری ڈبی
کیسی فطرت ہے دُخانی میری

میں بھی ہتھے سے اکھڑ جاؤں گا
رنگ لائے گی پٹھانی میری

اُن کی مشاق نگاہی واللہ
رہ گئی تیر کمانی میری

سوچ مت کس کی ہے ایسی تیسی
دیکھ بس شیریں بیانی میری

میرا ماحول ۔۔۔دہی کی گڑوی
میرا انداز۔۔۔مدھانی میری

پاؤں آ جائے جو تیری دُم پر
سچ بھی آشفتہ بیانی میری

آپ ٹھینگے پہ دھریں تو کیا ہے
مان لیتا ہے کیانی میری


ملے ہیں اب ترے کتے بھی آ کے رستے میں
جو چھوڑ جاتے ہیں اکثر بھگا کے رستے میں

تمہارے کوچے سے باہر قدم نہیں اُٹھتے
یہ کس نے پھینکی ہے چیونگم چبا کے رستے میں

ہزارہا ہمیں پھینٹا تمہارے ویروں نے
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے پیں

فقط وہی تو ہیں فنکارِ کُلجگِ حاضر
جو چل پڑے کسی خواجہ سرا کے رستے میں

تری تلاش میں آ جاتا ہے ترا تاڑو
گدا نہیں ہے جو بیٹھے گا آ کے رستے میں

وہ عقد کرتے ہیں یا احتجاج کرتے ہیں
جو دھرنا دیتے ہیں تنبُو لگا کے رستے میں

لگا کے آگ وہی میرے گھر میں آئے ہیں
جو مل رہے تھے بہت مسکرا کے رستے ہیں

لگا ہوا تھا جہاں منزلوں کا سنگ میل
میں آ گیا ہوں رہیں سے خلا کے رستے میں

فروخت کرتے ہیں کس انقلاب کا منجن
بٹھا رہے ہیں جو سب کو بلا کے رستے میں

وہ گولی دیتا ہے یا میڈیسن کی ڈوز ظفر
یہ دیکھنے کو ہوں درد آشنا کے رستے میں

 


عالمی ادبی فورم کے زیرِ اتمام منعقد ہونے والے گزشتہ شب آن لائن فی البدیہہ مشاعرے میں میری غزل

تم نہ ہو گے تو عید کیا ہو گی
آؤ گے تو مزید کیا ہو گی

بھاؤ سُن کر ہی ہو گیا اُلٹا
قیمتِ ناخرید کیا ہوگی

اُن کی زن سے ہی پوچھنا ہو گا
خواہشِ زن مرید کیا ہو گی

تم کو موضوع کی ہے خبر نہ مجھے
بحث ہم میں شدید کیا ہو گی

کسی غرفے میں چاند کو دیکھیں
آسمانوں میں دید کیا ہو گی

اُن کا ابا بھی ہے اگر موجود
ہم کو خوش آمدید کیا ہو گی

ہم نے مضمونِ عشق پڑھنا ہے
اس کی کوئی کلید کیا ہو گی

آپ نے بھی دکھا دیا ٹھینگا
اور مٹی پلید کیا ہو گی

عشق تو تا بہ عقد کر بھی چکے
کوئی غلطی مزید کیا ہو گی

نام ہی رکھ دیا گیا ہے نوید
اور ہم میں نوید کیا ہو گی