نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: طنز و مزاح


پہنچے تھے اُس گلی میں تو بہرِ ملاپ آپ
سسروں کو دے کے آ گئے گردن کا ناپ آپ

لاعلم تھے کہ آپ کے جاناں کا عقد ہے
ٹھمکا لگا کے ڈھول کی سنتے تھے تھاپ آپ

آوارگی اُنہیں کی محبت کی ہے عطا
لگنے لگے ہیں جن کو بہت روڈ چھاپ آپ

ٹپکا رہے تھے رال وہ جس کے شباب پر
موصوف اُس حسینہ کے لگتے تھے باپ آپ

اک دوسرے کو کچا چبانے کی گھات ہے
اور میڈیا کی ٹاک پہ جاری ہے آپ آپ

ماہِ صیـام تو ہے پئے تزکیہ ء نفس
اور لے گئے سمیٹ کے ساری ہی شاپ آپ

لیتے ہیں کیوں جماہیاں منہ پھاڑ پھاڑ کر
جب آنے والے دور کی سنتے ہیں چاپ آپ

چلتی نہیں یہاں پر منسٹر کی پرچیاں
جیون کے امتحان میں کیا ہوں گے ٹاپ آپ

بسم اللہ کہ جناب کا کھاتہ ہے بِل ابھی
حج کر کے دھو تو آئے ہیں جیون کے پاپ آپ

چمنی اگر خدا نے غزل کی ہے دی ہوئی
کچھ تو نکال دیجئے اندر کی بھاپ آپ

کردار سارے ڈان بنے پھرتے ہیں ظفر
جمہوریت کی فلم کو سمجھیں فلاپ آپ


امنِ عالم کی ہے اُن میں بھی تڑپ
جن کے گھر روز ہی ہوتی ہے جھڑپ

یوں مرے دل میں کوئی آن گھسا
جیسے ڈڈو کہیں پانی میں غڑپ

سخت انگلش میں مجھے ڈانٹتے ہیں
کہنے لگتے ہیں شٹ اپ کو بھی شڑپ

اِتنے میٹھے بھی نہ بنئے صاحب
لوگ کر لیتے ہیں یکبار ہڑپ

قوم آ جائے ولیمے میں تو پھر
غیر ممکن ہے کرے شُوں نہ شڑپ

قافیہ تنگ ہے خاصا ورنہ
دل میں تھی اور بھی لکھنے کی تڑپ


کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا
کیوں اُڑنچھو ہے بھلا لے کے بیعانہ دل کا

مشورہ عقل کا مانا نہیں یہ جان کے بھی
احمقانہ ہے ہمیشہ سے قیانہ دل کا

دیکھتے دیکھتے ہو جاتی ہے ہر نیوز بریک
راز چھپتا ہے کہاں کوئی زنانہ دل کا

سب گرفتارِ وفا ہو کے یہیں آتے ہیں
حُسن والوں کو کھلا رہتا ہے تھانہ دل کا

اُن کو کانا تو کہا جا نہیں سکتا ہرگز
میچ کر آنکھ جو لیتے ہیں نشانہ دل کا

چاند چہرے پہ دوپٹے کا ہے ڈھاٹا، دیکھو
کوئی آیا ہے چرانے کو خزانہ دل کا

کیوں تری یاد دسمبر میں رلاتی ہے مجھے
اِتنا آساں نہیں جاڑے میں نہانا دل کا

سرجری صبر سے روزانہ میں کرواتا ہوں
لوگ فالودہ بنا تے ہیں روزانہ دل کا

ساتھ میں چاہیئے دولت کی بھی میٹھی چٹنی
ہے تو مرغوب اُنہیں کھنڈ مکھانہ دل کا

تیرے ہونٹوں پہ وہی ”دُور دفع“ کے فقرے
تیری آنکھوں پہ وہی شعر سُنانا دل کا


وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی


مار زیرِ آستیں ہے ہی نہیں
یار گویا دنیا بیں ہے ہی نہیں

ٹارچ کا ہی کام کوئی لے سکے
اِس قدر روشن جبیں ہے ہی نہیں

پارلر سے جب سے ہو کر آئی ہو
کوئی تم جیسا حسیں ہے ہی نہیں

دل میں گھستا آئے کیوں جوتوں سمیت
مہرباں اپنے تئیں ہے ہی نہیں

پونچھ لوں میں ہاتھ اُس کی شال سے
اِس قدر کوئی قریں ہے ہی نہیں

یہ رہا نچڑے ہوئے لیموں کا رس
آپ کہتے تھے نہیں، ہے ہی نہیں

اُس نے دھوکہ دے دیا تو کیا ہوا
جس پہ ہم تم کو یقیں ہے ہی نہیں

میں پئے بھونڈی گیا تو یہ کھلا
اُس مکاں میں تو مکیں ہے ہی نہیں

نغز گو رو میں اُسے بھی کہہ گئے
جو سرے سے نازنیں ہے ہی نہیں


فی البدیپرفارمس کا سودا سخنور میں پڑ گیا
بزمِ سخن میں کاوشِ جوکر میں پڑ گیا

جمعہ کسی برات میں ناچا یوں رات بھر
کارِ خمار آن کے دفتر میں پڑ گیا

اب بھی دکھائی دیتی ہے وہ بیس سال کی
اور لگ رہا ہے جیسے میں ستر میں پڑ گیا

سچ سچ بتا! یہ کوئی گویّا ہے پاپ کا
یا بھوت تان سین کا بندر میں پڑ گیا

کہتا تھا عصرِ نو میں شریف آدمی مجھے
جو مجھ کو چھیڑتا تھا اُسے اکثر میں پڑ گیا

ہر ایک مرد کا دل ہے خوباں کا بتکدہ
عورت کا دل نہیں ہے کہ زیور میں پڑ گیا

کچھ لیڈروں سے بنتا ہے اس طور کا سوال
لوٹے کا عکس کیسے کریکٹر میں پڑ گیا

ہر سمت بس پٹھان دکھائی دئے مجھے
بندوں کا کال سارے پشاور میں پڑ گیا

کھایا ہے جس کا بیف کسی ریستوران میں
وہ بیل جا نے کیسے کسی خر میں پڑ گیا

سمجھا نہ جس نے لفٹ کے قابل کبھی مجھے
آخر کو وہ مرے ہی مقدر میں پڑ گیا

مت پوچھ تیرے ہجر میں کیا حال ہو گیا
رنگِ پپیتا جیسے چقندر میں پڑ گیا

وہ بیکلی ہے ہم کو کسی پہلو نہیں سکوں
کھٹمل تمھاری یاد کا بستر میں پڑ گیا

میں تو محبتوں کا خریدار تھا ظفر
کیوں زادِ ہجر ذیست کے شاپر میں پڑ گیا