نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: طنز و مزاح

کونوں کھدوں کے ہیں غازی لال بیگ
بسکہ دہلاتے ہیں یونہی لال بیگ

جب نظر آئے، مچا دیں تھرتھلی
شے ہے کچھ القائدہ سی لال بیگ

دندناتا پھرتا ہے سرمایہ دار
دب گئے ہیں اشتراکی لال بیگ

آپ ہیرو بن گئے کس زعم میں
آپ کو سمجھی تھی پنکی لال بیگ

کیا ہلاتے ہیں ’’پئے survival‘‘
جب نہیں رکھتے ہیں دُم بھی لال بیگ

کیوں ڈرے بیوی کہ جب شوہر نہیں
چھپکلی، چوہا یا کوئی لال بیگ

میری ہمسائی ہے تتلی کی طرح
اور ہمسایہ گھمنڈی لال بیگ

بیر بہٹی کب ہے وہ صورت سے بھی
بسکہ ہے سیرت میں کافی لال بیگ

دیکھئے فتنہ بپا اِس دہر میں
کب تلک ہیں ٹرمپ، مودی، لال بیگ

مونچھ اِن کی ہر جگہ ہے سر بلند
بیگ صاحب ہیں سماجی لال بیگ

Advertisements

سب حکمران دیکھے شکاری الگ الگ
سب نے ہی دی عوام کو خواری الگ الگ

اِس ملک میں سیاسی تماشہ ہے ایک سا
یوں کہنے کو ہیں سارے مداری الگ الگ

دلہا دلہن گو ایک ہی تھانے میں بند تھے
لیکن شبِ وصال گزاری الگ الگ

جمہوریت کے میلے میں آئے تو ساتھ تھے
ہر پارٹی نے کھولی پٹاری الگ الگ

بھتے کے ٹھیکیدار ہوں یا ٹیکس والے ہوں
دیتے ہیں سیٹھ جی کو سپاری الگ الگ

وہ جو پجیرو پر ہیں تو ٹانگوں پہ ہم بھی ہیں
سب کو ملی ہوئی ہے سواری الگ الگ

اب چار بیویوں سے بھی کیا فیض شیخ کو
سب کی طبیعتیں ہیں اچاری الگ الگ

لیڈر ہیں اور اور، عوام اور اورہیں
سو لازمی ہے مردم شماری الگ الگ

۔۔ ق ۔۔
حسب لفافہ زورِ بیاں ، کاوشِ دلیل
ہر تبصرے کی گوٹا کناری الگ الگ

سب چینلوں کا رنگِ تعصب جدا جدا
ہر نیوز کی فسانہ نگاری الگ الگ
۔۔۔۔۔

کوشش ہے پوری پوری کہ انجام ایک ہو
اسٹوری ہے ہماری تمھاری الگ الگ


چاہتا ہے اگر سلامت ٹانگ
یونہی ہربات میں اڑا مت ٹانگ

ہیروئن کی وجہ سے رش تھا بہت
فلم میں تھی فقط قیامت ٹانگ

تھامتی ہے منوں ٹنوں کے بدن
ہرکولیس کی ہے اِک علامت ٹانگ

اُن کو جب سوجھتی ہے خرمستی
میری کر دیتی ہے حجامت ٹانگ

جھک رہے تھے کئی کشیدہ سر
کر رہی تھی کہیں امامت ٹانگ

بات ہو جاتی ہے زبان سے بھی
بے حجابانہ یوں چلا مت ٹانگ

کاش کہہ دے کوئی حکومت سے
سب کی تشریف پر جما مت ٹانگ

موٹے موٹے ستون ہیں اُس کے
اور میری نری ندامت ٹانگ

اُڑ کے سینے پہ لگ رہی تھی ظفر
بن گئی تھی مری تو شامت ٹانگ


حکمراں ہم کو ہمیشہ ہی ملے اوٹ پٹانگ
جیسے اطوار سدا اپنے رہے اوٹ پٹانگ

پنکی بن کر میں بہت سوں سے ملا ہوں یارو!
فیس بک کے سبھی عشاق لگے اوٹ پٹانگ

بیویاں بھی اُنہیں ملتی ہیں سدا اول جلول
جو میاں ہوتے ہیں خود اچھے بھلے اوٹ پٹانگ

کوئی تدبیر کی خوبی نہ تگ و دو کا ہنر
گویا قسمت سے رہے سب کو گلے اوٹ پٹانگ

مر گیا مرغا پڑوسی کا سو دعوت کینسل
عذر کیا تونے تراشا ہے ابے اوٹ پٹانگ

تیری قسمت تیری فطرت کو سمجھتی ہو گی
یار ڈھونڈا ہے تبھی تیرے لئے اوٹ پٹانگ

زور و زر والوں کے سینے ہوئے چوڑے کیا کیا
فیصلے کورٹ میں جب ہونے لگے اوٹ پٹانگ

باس کو دل سے سمجھتے رہے دفتر والے
یہ الگ بات، کبھی کہہ نہ سکے اوٹ پٹانگ

ساری دنیا میں جو کترینہ بنی پھرتی ہے
روئے آئینہ تو خود کو بھی دِکھے اوٹ پٹانگ

اپنی تہمد بھی حکومت سے سنبھالی نہ گئی
یوں تو کرنے کو بہت دعوے کئے اوٹ پٹانگ

ہم سے سرزد یہ ’’ ردیفانہ حماقت‘‘ جو ہوئی
اِسی باعث تو سبھی شعر لکھے اوٹ پٹانگ


تو مرے سانول سا ہے
عقل سے پیدل سا ہے

کس قدر اسمارٹ ہے
ہوبہو بوتل سا ہے

جانور ہے یار بھی
اک ذرا سوشل سا ہے

تو اگر ہے سرپھرا
اگلا بھی پاگل سا ہے

منہ چڑاتا ہے مرا
آئینہ چنچل سا ہے

ناک بہتی ہے تری
اور سخن چرچل سا ہے

جب تلاشِ حسن ہو
دیدہء گوگل سا ہے

کیسے بچ پائے کوئی
حسن تو چنگل سا ہے

کچھ ہدایت نہ ملی
آج بھی وہ کل سا ہے

اب بھی شامت ہے وہی
بدھ بھی کچھ منگل سا ہے

تربیت فارن کی ہے
جاب میں لوکل سا ہے

پھنس گئی مکھی کوئی
میک اپ دلدل سا ہے

اِس دوا کا ذائقہ
زوجۂ اول سا ہے

ازدواجیقصہ بھی
ٹاک شو دنگل سا ہے

اب تو ہر لیڈر ظفر
سربسر کھٹمل سا ہے


تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے
جیسے ہیں سبھی ویسا لعیں ہے کہ نہیں ہے

بولے جو خواتین سے تو شہد بہادے
ہم تم سے کوئی خندہ جبیں ہے کہ نہیں ہے

چہرے سے تو لگتا ہے گزارے کے وہ لائق
ہر نخرہ مگر عرش نشیں ہے کہ نہیں ہے

گھوڑی ہے جو بوڑھی تو ہوکیوں سرخ لگامی
لیکن تیری بڑبھس بھی چنیں ہے کہ نہیں ہے

آیا جو کبھی شامتِ اعمال کی زد میں
بتلانا کوئی تیرے قریں ہے کہ نہیں ہے

آخر کو وہی ہڈی بنا تیرے گلے کی
کہتے تھے جسے ”کچھ بھی نہیں“،ہے کہ نہیں ہے

اچھا نہیں ایڑھی کو بہت اونچا اُٹھانا
کھسکی ہوئی قدموں کی زمیں ہے کہ نہیں ہے

آلینے دو بھتنی کو ذرا بیوٹی کلینک
پھر پوچھوں گا وہ تم سے حسیں ہے کہ نہیں ہے

ہر چند کہ ٹھینگے پہ ہی رکھا گیا اب تک
درخواست مری تم سے سوویں ہے کہ نہیں ہے؟

کہلاتا ہے لیڈر تو بہت خادمِ ملت
ملت ہی مگر ”کمی کمیں“ ہے کہ نہیں ہے

کیوں عشق کی شہ پا کے خدا بنتا ہے ہر بُت
وہ دشمنِ جاں، دشمنِ دیں ہے کہ نہیں ہے؟


ساری دنیا سے ذہیں ہے ناں وہ
ہو نہ ہو اپنے تئیں ہے ناں وہ

اُس میں کیڑے تھے دیانت کے بہت
جس جگہ کل تھا وہیں ہے ناں وہ

چوراچورا نہیں بننا تو بتا
آئینے! زہرہ جبیں ہے ناں وہ

یار فطرت کا نہیں بے دیدا
ہم چناں ہیں تو چنیں ہے ناں وہ

کل چڑھاتا تھا جسے بانس پہ تو
آج بھی عرش نشیں ہے ناں وہ

اُس کو بھی پہلی محبت بولا
سوچ کر بول،سوویں ہے ناں وہ

بوزنہ کہتے ہیں کہنے والے
تیرے نزدیک حسیں ہے ناں وہ

کیڑے پڑتے ہیں بہت میٹھے میں
کچھ زیادہ ہی قریں ہے ناں وہ

اُس کے کرتوت نہ دیکھیں صاحب
نام کا ویسیمبیں ہے ناں وہ

شیر کہتے ہیں وہ لیڈر کو ظفرؔ
گویا انساں تو نہیں ہے ناں وہ