نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: طرحی مشاعرہ

لیڈر حماقتوں پہ تُلا کچھ نہ کچھ تو ہے
کہتے نہیں ہیں یونہی گدھا کچھ نہ کچھ تو ہے

بیگم کا موڈ یونہی نہیں "نون لیگ” سا
خوابیدگی میں ہم نے کہا کچھ نہ کچھ تو ہے

اقدار کا علاج کیا ہے یوں عصر نے
ہر ناروا بھی اب کے روا کچھ نہ کچھ تو ہے

تم نے تو سرخیوں پر ہی منہ کو سُجا لیا
زیرِ متن مزید لکھا کچھ نہ کچھ تو ہے

یہ بھی غلط نہیں کہ کبھی لفٹ نہ ملی
یہ بھی ہے سچ کہ فدوی ترا کچھ نہ کچھ تو ہے

وہ آم ہے یا چوسی ہوئی گھٹلی آم کی
دامن میں میرے آ کے گرا کچھ نہ کچھ تو ہے

یوں تو ڈٹا ہے فدوی سپرمین کی طرح
بھونکوں سے دل میں دھلا ہوا کچھ نہ کچھ تو ہے

وہ کامیابِ عشق نہ اِترائے بے وجہ
یہ جو ہے عقد یہ بھی سزا کچھ نہ کچھ تو ہے

اہلِ کمال کچھ نہیں اُن کی جناب میں
جن کی نظر میں تھوتھا چنا کچھ نہ کچھ تو ہے

گندے سہی ٹمااٹر تو پھینکے ہیں یار نے
شاعر کو بہرِ داد دیا کچھ نہ کچھ تو ہے

Advertisements

لفٹ دیتے نہیں تاہم میرا دل کہتا ہے
وہ سمجھتے ہیں مجھے بم میرا دل کہتا ہے
دانت تو تیز چکن کے لئے کرتا ہوں مگر
میری قسمت میں ہے شلغم میرا دل کہتا ہے
طشت از بام بھی کر سکتی ہے ریحام کوئی
دلِ گستاخ کا البم میرا دل کہتا ہے
جس کو چاہے اُسے ماموں تو بنا سکتا ہے
میرے مونس میرے ہمدم میرا دل کہتا ہے
لوٹا بردار کہے تو میں بھلا کیوں نہ ہنسوں
یہ ہے تبدیلی کا موسم، میرا دل کہتا ہے
میری قسمت میں بہرحال چکن لکھا ہے
وہ ولیمہ ہو یا چہلم میرا دل کہتا ہے
چائے کے کپ پہ وہ طوفان اُٹھا سکتا ہے
لکھنے بیٹھا ہے جو کالم میرا دل کہتا ہے
میرے جیون میں لگانے کے لئے آئی ہے
مارشل لاء میری بیگم، میرا دل کہتا ہے
اِتنے بہرے بھی نہیں ہیں میرے سننے والے
جتنا دشوار ہے گوئم، میرا دل کہتا ہے
دل کی چوٹوں سے مری ناک میں ایسا دم ہے
میں نے کھا لینا ہے مرہم، میرا دل کہتا ہے

جب ایسی گرانی ہو تو کس طور گزارا
ہم جیسے غریبوں کا تو no more گزارا

اب سینگ کہیں اپنے سما پائیں تو جائیں
پنڈی میں چلے گاڑی نہ لاہور گزارا

گھسنے کی اجازت کہاں دیتا تھا ستمگر
سو نینوں کی کھڑکی سے دلِ چور گزارا

سنتا رہا بھاشن تیرے ابے سے میں گھنٹوں
اک دن تیرے کوچے میں بہت بور گزارا

کچھ ایسے مباحث بھی شبِ وصل رہے ہیں
جو وقت گزارا ہے بصد غور گزارا

جیون ہے یا بیگم ہے، نباہے نہیں نبھتی
کرنا ہے مگر تا بہ لبِ گور گزارا

سالے ہیں کہ ہر گام پہ دیتے ہیں اڑنگی
ہونا نہیں ایسوں سے مرا اور گزارا

اب کیسے ترے شہر کے لوگوں کو بتائیں
ہم بہرِ وصال آئے تھے یا ٹور گزارا

کیدو بھی تھا کھیڑے بھی تھے بیچارے کے درپے
رانجھے نے زمانہ بڑا پُر شور گزارا


ہم تھک چکے ہیں محفل میں آہ کرتے کرتے
اور اَک چکے ہیں اس پر سب واہ کرتے کرتے

وہ دنیا کی نظر میں بجو سے بن گئے ہیں
قول و عمل کو اپنے رُوباہ کرتے کرتے

ہم سے چھپی نہیں ہے اُن کی ستم ظریفی
پھر دے نہ دیں اڑنگی ہمراہ کرتے کرتے

ہم قرض کا تقاضہ کر کر کے تھک چکے ہیں
پر وہ تھکے نہ وعدہ ہر ماہ کرتے کرتے

کیا یاد آ گئے ہیں اپنے گزشتہ وعدے
کیوں چُپ سے ہو رہے ہیں واللہ کرتے کرتے

فریاد کرتے لیڈر سے پوچھئے تو آخر
کتنا گرے گا خود کو ذی جاہ کرتے کرتے؟

وہ اپنی شفقتوں میں تہ کر کے لے گئے ہیں
میری مشقتوں کو تنخواہ کرتے کرتے

ابلیس مبتلا ہے احساسِ کمتری میں
انسانِ عصرِ نو کو گمراہ کرتے کرتے

وہ دل ہے ایک پتھر، سر پھوڑنے سے حاصل
ہم راہ نہ بدل لیں اب راہ کرتے کرتے

جامِ وصال غیروں کے نام ہو گئے ہیں
چائے پہ رہ گئے ہیں ہم چاہ کرتے کرتے

یادیں پئے زیارت ہر رات آن دھمکیں
مرحوم الفتوں کو درگاہ کرتے کرتے

وہ واک کر رہی تھی اور تاڑتا تھا فدوی
اُس نے نظر اُٹھائی ناگاہ کرتے کرتے

اب نیوز چینلوں کا کچھ اور مشغلہ ہے
مرغے لڑا رہے ہیں آگاہ کرتے کرتے


ہم فیض نہیں کہ بتلائیں حالاتِ رقیباں کیسے ہیں
عاشق کا ٹھینگا ہی جانے، جاناں کے جاناں کیسے ہیں

جب خوابِ وصل دکھایا تھا تو دودھ میں "مینگیاں” چہ معنی
ملنے کے اگر تھے پیماں تو نہ آنے کے امکاں کیسے ہیں

گل پاشی کی تھی غیروں پر تو لالوں لال تھی راہگذر
اب میری جانب پھینکے ہیں تو گل مع گلداں کیسے ہیں

نہ آڑھت والے واقف ہیں نہ تاجر کو آگاہی ہے
اِس دورِ گرانی میں انساں ارزاں ہیں تو ارزاں کیسے ہیں

ہم بیدِ مجنوں جیسوں پر یوں حسن کی ٹھٹھا بازی ہے
اک جان بھی اپنی پوری نہیں سو جان سے قرباں کیسے ہیں

جو قوم کو لوٹے جاتے ہیں، وہ شرفاء کیوں کہلاتے ہیں
لیڈر ہیں تو لیڈر کیونکر ہیں، انساں ہیں تو انساں کیسے ہیں

سرکاری زباں گر مستقبل میں چینی بنی تو کیا ہو گا
ہم آپ تو بیٹھے سوچیں گے، یہ شوں شاں شوں شاں کیسے ہیں؟

کچھ قدرِ فدائی کرتے نہیں، شکنوں سے بھری رہتی ہے جبیں
ہم جن کے "چپکو” کہلائے وہ ہم سے گریزاں کیسے ہیں

جو آتے جاتے یونہی ہمیں اشعار سناتے رہتے تھے
دیوان نکالا ہم نے تو انگشت بہ دنداں کیسے ہیں


حسرت ہو اور خواہش ہو اور بارش ہو
پھر یادوں کی سازش ہو اور بارش ہو

ضبط کے بندھن توڑ کے نکلے بھید کوئی
اُن پلکوں میں لرزش ہو اور بارش ہو

دوڑتا ہو شریانوں میں تیزاب سا کچھ
قلب و نظر میں آتش ہو اور بارش ہو

ہجر کے بادل دل سے گزرتے جاتے ہوں
فون ہو اُس کی پرسش ہو اور بارش ہو

اُس کی چپ میں لہراتی ہو قوسِ قزح
کچھ ہونٹوں میں جنبش ہو اور بارش ہو

دل کا فسانہ رُت کے رخساروں سے ڈھلے
بھیگی بھیگی کاوش ہو اور بارش ہو

ایک ہی صحرا ہو جیون کے رستے میں
ایک ہی غم کی یورش ہو اور بارش ہو

پھر سے کاغذ کی کشتی ہو، ہم تم ہوں
بچوں والی رنجش ہو اور بارش ہو


میرا کیا دوش کہ یہ عشق تو اس دل کی ہے سازش جاناں!
کیوں ترے ویروں نے کی ہے مری مالش جاناں

حسنِ کافر میں جوانی کی بہاریں بھی عجب رُوپ کی دیکھیں ہم نے
کوئی ہے سرخ ٹماٹر کوئی کشمش جاناں

تاڑئوں پر کیوں خفا ہوتا ہے
تجھ کو رب نے جو بنایا ہے تو کاہے کو بنایا ہے یوں مہوش جاناں

کچھ مرے جذبِ دروں کا بھی کرو پاس کبھی
یوں بھی بن جاؤ نہ داعش جاناں

لاکھ فیتوں سے اسے ناپے پھرو
فاصلوں کی کہاں ممکن ہے پیمائش جاناں

ناچ تگنی کا نچایا ہے رقیبوں نے تو یہ مجھ پہ کھلا ہے اکثر
اس سے بڑھ کر نہیں ہوتی کوئی ورزش جاناں

اپنے مطلب کا نظر آئے تو پھر دیکھتے ہیں کھول کے آنکھیں ہم تم
یوں تو بنتے ہیں بہت صاحبِ بینش جاناں

وہ کرپشن سے بناتے ہیں اثاثے تو یہ حق ہے اُن کا
لیڈرِ قوم سے قانون کئے جاتا ہے کس برتے پہ پرسش جاناں

اپنے احباب میں کہلاتے ہیں وہ لوگ چغد
فیس بک پر جو بگھارے ہی چلے جاتے ہیں دانش جاناں

لفٹ ملتی ہے کلرکوں سے کہاں پھوکٹ میں
نوٹ کی شکل نظر آئے تو کرتے ہیں وہ جنبش جاناں

جب حماقت بھری ٹنڈ کوئی نظر آئے تو لفظوں کی لگاتا ہے چپت
یہ قلم کو بھی ہے کس طور کی خارش جاناں