نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: طرحی مشاعرہ

ذکر ہم جیسے کج راؤں پر آیا ہے اپسراؤں کی باتیں بتاتے ہوئے
آپ کا تذکرہ بھی کیا جائے گا پارساؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جانے وہ کیوں گرجنے برسنے لگے شا نتی کی کہانی کے اِک موڑ پر
جانے ہم بھی کیوں خاموش سے ہو گئے بے نواؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

جو ہتھیلی کے نقشے کو تبدیل کر کے فلک بوس ٹاور کھڑے کر گیا
اُس کے لہجے میں حسرت سی کیوں آ گئی اپنے گاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ جو اُن کی حفاظت کے ہتھیار ہیں، اب اُنہیں کی ہلاکت کو تیار ہیں
لوگ خود ہی جراثیم بننے لگے ہیں وباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا کہیں کس ہوا میں رہے تب تلک، نہ زمیں زیرِ پا تھی نہ سر پر فلک
اپنی دھرتی کا قصہ سناتے ہوئے یا خلاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

یہ وہ رشتوں کی بیلیں ہیں جن سے سداہم نے دیکھا ہے روحوں کو سرسبز سا
جوئے خوں سب کی آنکھوں سے جاری ہوا اپنی ماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

برش سارے ہی رنگوں میں پھیرا ہے تو اپنی تصویر کو دی صداقت کی لو
ذکر ڈستی ہوئی دھوپ کا بھی کیا ٹھنڈی چھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

سامنے کیسا منظر روانی کا تھا، ریت پر وہم کیوں ہم کو پانی کا تھا
رہزنوں کا خیال آ گیا کس طرح رہنماؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

ساربانوں کے سب قافلے جا چکے،گزرے ادوار کو راستے جا چکے
ہم بھی رخشِ زماں پر ہیں محوِ سفر اِن کتھاؤں کی باتیں بتاتے ہوئے

کیا خبر داستاں کے کسی موڑ پرچھیڑ دے درد کا ساز کون آن کر
دھر لیا کرتے ہیں ہاتھ دل پر ظفرؔ دلرباؤں کی باتیں بتاتے ہوئے


ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے


رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے
اڑنگی دے کے اگر وہ گرا نہیں دیں گے

وہ دیتے پھرتے ہیں مس کال ہی فدائی کو
تو کیا مرض کے مطابق دوا نہیں دیں گے؟

پہاڑ کاٹنے ہوں گے کہ حسن والے اُنہیں
سکوں سے دستِ حنائی تھما نہیں دیں گے

نہیں ہیں بھونپو کہ کرتے پھریں وہ پوں پوں پوں
"تمھارے شہر میں کوئی صدا نہیں دیں گے”

اُنہیں خبر ہے کہ ضد کر کے لے گی کچا گھڑا
سو سوہنی کو وہ مناسب گھڑا نہیں دیں گے

یہ ڈاکٹر ہیں جو امراضِ جنس کے ماہر
کسی کی لیلیٰ کو مجنوں بنا نہیں دیں گے؟

یوں بے دھیانی میں ٹپکا کریں نہ منہ دھو کر
دکھا کے چہرہ میاں کو ڈرا نہیں دیں گے

ابالِ خون نہ جائے گا بھائی لوگوں کا
دو ہاتھ گچی پہ جب تک ٹکا نہیں دیں گے

اگر اداؤں کی گگلی یونہی کراتے رہے
تو پھر وہ کیا میری وکٹیں گرا نہیں دیں گے

یہ خود سے عہد ہے شادی شدوں کا بعد از عقد
اب اپنا ہاتھ بہ دستِ قضا نہیں دیں گے

ترا حبیب تری قدر کیوں نہیں کرتا
ترے رقیب تو دادِ وفا نہیں دیں گے


وہ بھلا کاہے کا ہمارا رفیق
جس کو ہو نہ اڑنگی کی توفیق

لوگ کہتے ہیں شیر دھاڑا ہے
میرے کانوں نے تو سنی تھی نہیق

اک رقیبوں سے ہی الجھنا نہیں
تیرا ابا بھی بن گیا ہے فریق

حلوہ پکتا ہے تو نہیں دیتے
مولوی کے پڑوسی ہیں زندیق

مقتدر ہوں تو چھوڑیں کوئی کسر
یہ’’ شریفوں‘‘ کا تو نہیں ہے طریق

امتحانوں میں نقل کیسے ہو
جس کو معلوم ہے وہی ہے لئیق

اپنے اپنے ہیں مشغلے سب کے
کوئی کھاؤ ہے اور کوئی حریق

مانی جائے گی میری پیدائش
کوئی افسر کرے اگر تصدیق

شعر غالب کا ہے پئے بوسہ
اِس میں نقطہ نہیں ہے خاص دقیق

یوں نچوڑیں اساتذہ کا کلام
آپ ہو جائے اک غزل’’ تخلیق‘‘

وہ بھی مخبر بنا ہوا تھا ظفرؔ
جس نے کی شوقِ عشق کی تشویق


منتظر کب سے ہے مری تخلیق
رنگ دے مجھ کو بھی وہ دستِ شفیق

اس طرح بھی نہ کر فسانہ بدر
کہ ہو دشوار اپنی ہی تصدیق

کھوجتا ہے جو اک حوالے کو
ابر کی آس میں ہے قلبِ حریق

غم کو چہرے پہ کب سجاتے ہیں
مسکرانا ہے دل زدوں کا طریق

کر کے اک دوسرے سے صرفِ نظر
لوگ رہتے ہیں گفتگو میں غریق

کبھی تنہا نہیں رہا کرتے
اپنی تنہائیوں کے آپ رفیق

چھان بھی میں چکا ہوں دشتِ حیات
اور چاہتا ہوں تیری بھی توثیق

فیصلہ اب اُسی کے ہاتھ میں ہے
بن گیا ہے جو خود بھی ایک فریق

ہائے ہم کس ہجوم میں تھے ظفرؔ
خود کو جھٹلایا تو ہوئے صدیق


اہلِ وفا کو نخرے دکھائے تو کیا کروں
ہر بات پر وہ گال پھُلائے تو کیا کروں

لٹکایا تو ہے حسن نے اُلٹا ہزارہا
اس پر بھی عشق باز نہ آئے تو کیا کروں

کب تک دلاؤں یاد تقاضے وفاؤں کے
جب وہ پلانا چاہے نہ چائے تو کیا کروں

آتش بجاں ہے نمبر ملا کر غلط سلط
متھے لگے وہ بیٹھے بٹھائے تو کیا کروں

پہلا سا پیار اب بھی کوئی مانگتا تو ہے
بڑھ جائیں لاریوں کے کرائے تو کیا کروں

اُس کوبتا دیا تھا کہ انصاف اب کہاں
سرسوں ہتھیلیوں پہ جمائے تو کیا کروں

ہو کر تو آؤں اُس کی طرح پارلر سے میں
پر دیکھ کر وہ ہنستا ہی جائے تو کیا کروں

سیکھی نہیں ہے اُس نے زباں پیار کی تو کیا
سمجھے نہ کوئی رمز کنائے تو کیا کروں

ٹُن ہوں میں آزرؤں کے فٹ پاتھ پر کہیں
کھولے نہ کوئی دل کی سرائے تو کیا کروں

میں نے تو ورغلایا ہے مقدور بھر اُسے
بدلے نہ پھر بھی یار کی رائے تو کیا کروں

جس ’’باؤ ‘‘سے ڈراتی تھی بچپن میں مجھ کو ماں
بن کر ’’بہو‘‘ خود اُن کو ڈرائے تو کیا کروں

اپنی طرف سے میں کسی ہیرو سے کم نہیں
اللہ میاں کی سمجھے وہ گائے تو کیا کروں

جس کے لئے غزل پر غزل لکھ رہا ہوں میں
سُن کر کرے وہ ہائے نہ وائے تو کیا کروں


حکمراں ہم کو ہمیشہ ہی ملے اوٹ پٹانگ
جیسے اطوار سدا اپنے رہے اوٹ پٹانگ

پنکی بن کر میں بہت سوں سے ملا ہوں یارو!
فیس بک کے سبھی عشاق لگے اوٹ پٹانگ

بیویاں بھی اُنہیں ملتی ہیں سدا اول جلول
جو میاں ہوتے ہیں خود اچھے بھلے اوٹ پٹانگ

کوئی تدبیر کی خوبی نہ تگ و دو کا ہنر
گویا قسمت سے رہے سب کو گلے اوٹ پٹانگ

مر گیا مرغا پڑوسی کا سو دعوت کینسل
عذر کیا تونے تراشا ہے ابے اوٹ پٹانگ

تیری قسمت تیری فطرت کو سمجھتی ہو گی
یار ڈھونڈا ہے تبھی تیرے لئے اوٹ پٹانگ

زور و زر والوں کے سینے ہوئے چوڑے کیا کیا
فیصلے کورٹ میں جب ہونے لگے اوٹ پٹانگ

باس کو دل سے سمجھتے رہے دفتر والے
یہ الگ بات، کبھی کہہ نہ سکے اوٹ پٹانگ

ساری دنیا میں جو کترینہ بنی پھرتی ہے
روئے آئینہ تو خود کو بھی دِکھے اوٹ پٹانگ

اپنی تہمد بھی حکومت سے سنبھالی نہ گئی
یوں تو کرنے کو بہت دعوے کئے اوٹ پٹانگ

ہم سے سرزد یہ ’’ ردیفانہ حماقت‘‘ جو ہوئی
اِسی باعث تو سبھی شعر لکھے اوٹ پٹانگ