نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: شعر

عمر کی ٹیکنالوجی ہے رعشہ
وائبریشن پہ میں لگا ہوا ہوں

Advertisements


قصور میرا نہیں ہے حسینوں کا ہے ظفر
وہ کیوں حسین مجھے لگتے ہیں بڑھاپے میں


ابھی ہجر ہے کچھ گوارا مجھے
سیاپا نومبر کے بعد آئے گا


چار دیواری میں شورشیں ہیں بہت
اب بدن کا مکاں چھوڑنا چاہئیے


فیس بُک کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ بھٹکانے کا ٹھیکہ تھا بہم شیطان کو


خواب سچے میرے ہو کر نہیں دیتے ہیں ہنوز
صبح کے وقت بھی دیکھا ہے اُسے خوابوں میں


ہو پنامہ کا فیصلہ جیسے
اُس نے مکھڑے کو یوں چھپایا تھا