نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: شعر

چار دیواری میں شورشیں ہیں بہت
اب بدن کا مکاں چھوڑنا چاہئیے

Advertisements

فیس بُک کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ بھٹکانے کا ٹھیکہ تھا بہم شیطان کو


خواب سچے میرے ہو کر نہیں دیتے ہیں ہنوز
صبح کے وقت بھی دیکھا ہے اُسے خوابوں میں


ہو پنامہ کا فیصلہ جیسے
اُس نے مکھڑے کو یوں چھپایا تھا


چہروں پر وہ لفظ پڑھے
کسی لغت میں ملے نہیں


قیس چمپت ہو گیا لیلیٰ سمیت
جو سہولت کار تھا، تھانے میں ہے