نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: سسرال

بہکاوے میں آیا ہوں
گھوڑے پر چڑھ بیٹھا ہوں
مونہہ پر سہرا ڈالا ہے
سجا سجایا کھوتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

دلہن کا ارمان بجا
لیکن ہے سسرال بلا
کب سے شوخ بلاؤں میں
پانی پانی ہوتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

یوں سسرال کی آل دھمال
کھینچ رہی ہے میری کھال
جیسے میں ہی دنیا میں
قربانی کا بکرا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

ہونے والی ہر سالی
آفت کی ہے پُر کالی
اِن کے نرغے میں خود کو
یکسر الُو لگتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

فقرے بازی کرتی ہیں
مجھ پر کھی کھی ہنستی ہیں
اور میں شرمندہ ہو کر
سر کو کھجائے جاتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

یار جو ہمراءبیٹھا ہے
چومکھی تو لڑتا ہے
لیکن اب تو اس کو بھی
بولایا سا پاتا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں

مانگ رہا ہوں دل میں دعا
یارب مجھ کو اِن سے بچا
اب کیا ہو کہ شادی کی
غلطی تو کر بیٹھا ہوں

عبرت کہ میں ”دولہا“ ہوں


شوہروں کو ذیست ہے بارِ گراں سسرال میں
یاد آ جاتی ہیں سب کو نانیاں سسرال میں

دوستوں کی انتقامی کاروائی دیکھئے
لے گئے ہنستے ہنساتے بے ایماں سسرال میں

میں کہ ہوں پابستۂ تقدیر جرمِ عقد پر
مجھ سے پوچھیں شوہروں کی داستاں سسرال میں

سر بچانے کی تمنا جھوٹ کی مرہون ہے
اِک قفس کو کہہ رہا ہوں آشیاں سسرال میں

وہ سمجھتے ہیں کوئی گونگا نصیبوں پڑ گیا
آج تک کھولی نہیں میں نے زباں سسرال میں

مل گیا ہوں میں اُنہیں مشقِ ستم کے واسطے
چین لینے دیتے ہیں سالے کہاں سسرال میں

رمبا سمبا کس طرح آئے کہ جب موجود ہیں
ناچ تگنی کا نچانے سالیاں سسرال میں

ساس کو درکار کیوں ہے صرف بیگم کا مفاد
ازروئے قانون ہیں میری بھی ماں سسرال میں

ایک اسرائیل کی اسٹیٹ لگتی ہے مجھے
یوں زمیں ہے تنگ بہرِ بیکساں سسرال میں

کیا کروں سسرال والے جب مرے گھر آ بسیں
ٹھیک ہے اچھا نہیں لگتا میاں سسرال میں

جرم ایسا کون سا سرزد ہوا ہے آپ سے
آپ کیوں جائیں نصیبِ دشمناں سسرال میں

صاحبِ تکریم مجھ کو آپ ہی کہہ لیجئے
آپ نے دیکھا نہیں مجھ کو وہاں سسرال میں

میر کا دیوان پڑھ کر مجھ کو لگتا ہے ظفر
زندگی گزری ہے اِن کی بے گماں سسرال میں