نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: سخن دان

کسی کو حالِ سخنور دکھانے والا نہیں
پکانے والی ہے گھر میں کمانے والا نہیں

وہ فاختہ جسے مودی نے پر لگائے ہوں
اُسے خلیل بھی ہرگز اُڑانے والا نہیں

تمام رات کسی سے گپیں لڑاتے ہو
کہیں ارادہ ترا شامیانے والا نہیں

میں اُس کے ڈھیٹ پنے کا ازل سے واقف ہوں
جو دل چراتا ہے نظریں چرانے والا نہیں

محلے والوں نے پھینٹی لگا دی مجنوں کی
کہ یہ مقدمہ کچہری یا تھانے والا نہیں

میں کس لئے تیرے ابے سے دب کے بات کروں
ہزار سانپ ہے لیکن خزانے والا نہیں

اب اپنے دل کو کوئی کس قدر کرے گا بڑا
وہ فِیل تن تو کہیں بھی سمانے والا نہیں

پولیس میں اُسے کیونکر لیا نہیں جاتا
اگر دماغ بھی اُس کا ٹھکانے والا نہیں

غبارِ شہر میں اٹ کر بنا ہوں بھوت ظفر
سو اب یہ چہرہ کسی کو دکھانے والا نہیں


میں نظر وٹو سہی پیار ترا اور سہی
تیری سرکار میں اک چکنا گھڑا اور سہی

تیرے پیچھے مجھے پینجا ہے رقیبوں نے بہت
تیری نظروں میں مگر ایلِ وفا اور سہی

میاں مجنوں نے یوں پونی کہاں باندھی تھی کبھی
لیلٰی اک اور سہی لیلٰی نما اور سہی

عقد بھی کرنا پڑا ہے مجھے محبوبہ سے
عشق کے بعد مری ایک سزا اور سہی

کوئی ناراض ہے آئینہ دکھا دینے پر
خیر اس پر ہو بصد شوق خفا اور سہی

میری تنخواہ سے گر میچ کرے تو بے شک
عشوہ و غمزہ و نخرہ و ادا اور سہی

لیڈروں نے تو لگا رکھا ہے آگے کب سے
راستہ تو بھی کوئی مجھ کو دکھا اور سہی

بھوت لاتوں کا ہے باتوں سے کہاں مانتا ہے
سو ترے واسطے خوراک دوا اور سہی

میں ظفر ہوں مجھے تم لوگ ڈفر مت بولو
لینے والوں نے مرا نام لیا اور سہی