نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: سخندان

ہائے ناکامِ محبت تھے بیچارے کیا کیا
تیرے بچوں کو میسر ہوئے مامے کیا کیا

میری بائیک پہ نظر آتی رہی جو پنکی
مجھ سے جلتے رہے، کڑھتے رہے منڈے کیا کیا

لے اُڑا ہیر کو کھیڑا، یہ الگ قصہ ہے
بھائی رانجھے نے کئے ہوں گے وقوعے کیا کیا

دل دیا ، مال دیا جان بھی دے دی آخر
عشق کرتا ہی رہا حُسن پہ خرچے کیا کیا

‛‛آگ بھڑکی تو در و بام ھوئے راکھ کے ڈھیر‛‛
میرے سگریٹ نے دکھائے ہیں کرشمے کیا کیا

ارتقاء نام کی چڑیا کا پتہ چل نہ سکا
ہم وطن سوئے رہے بیچ کے گھوڑے کیا کیا

قوم کے حُسنِ چناؤ کے میں صدقے جاؤں
لیڈرِ قوم بنے قوم کے بونگے کیا کیا

صوتی اثرات سے اک قومی ترانہ سا بنا
یوں سیاست میں لڑھکتے رہے لوٹے کیا کیا

اپنی قسمت میں فقط نانِ جویں ہوتا ہے
مولوی جی کو مگر ملتے ہیں حلوے کیا کیا

شارٹ کٹ عشق میں کوئی بھی ملا نہ ہرگز
ورنہ یاروں کو میسر ہیں خُلاصے کیا کیا

شکر ہے کہ سرِ راہے کہیں بارش نہ ہوئی
ورنہ میک اپ جو اُترتا تو ڈراتے کیا کیا

یہ مرا عشق تو ماٹھا ہے کلرکوں کی طرح
حُسنِ کافر میں منیلا کے ہیں شعلے کیا کیا

چُوری مل جائے تو پھر شور مچاتے ہیں ظفر
میڈیا والوں کے پالے ہوئے طوطے کیا کیا

Advertisements

عشق بھی جز جوششِ حرص و ہوا کچھ بھی نہیں
حُسن بھی میک اپ کے دہوکے کے سوا کچھ بھی نہیں

ہر کسی کو اینکرانِ نیوز چینل کی طرح
بولنے کا شوق ہے اور مدعا کچھ بھی نہیں

ازدواجی زندگی کی پیشیاں بھگتے رہو
اس سے بہتر نسخہء بالِ صفا کچھ بھی نہیں

بیویاں ہوں ساتھ تو سمجھو میاں مارے گئے
بہرِ شاپنگ جس قدر ہو روکڑا کچھ بھی نہیں

یہ ستمگر اُس سے ہر شعبے میں سبقت لے گیا
آج کے انسان کے آگے گدھا کچھ بھی نہیں

اُس کا چشمہ گم نہ ہوتا تو وہ کہہ سکتا نہ تھا
"میں نے اُس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں”

ہیر کو رانجھے بہت مجنوں کو لیلائیں بہت
با شمولِ عشق تو اب دیر پا کچھ بھی نہیں

آئینے کو بھی وہ جھٹلا سکتے ہیں اک آن میں
جب گمانِ حُسن ہو تو آئینہ کچھ بھی نہیں

اُس پہ بھی داد و دہش کے ڈونگرے برسے ظفر
جس غزل میں جز ردیف و قافیہ کچھ بھی نہیں