نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: روزہ

خطہء پاک کے جو شہری ہیں
زندگی ایک رزم ہے اُن پر

فاقہ مستی تو بخت ہے اُن کا
روزہ رکھنا تو ختم ہے اُن پر

Advertisements

دوستو تم آج کے دن مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو ذرا اپنی ہی ذمہ داری پر آؤ کہ میں روزے سے ہوں
میرے گھر والوں کا کہنا ہے کہ آتا ہے کڑک مرغی سے بھی بڑھ کر مجھے ہر شخص پر تاؤ کہ میں روزے سے ہوں

حسن اب بھی سرسراتے آنچلوں کی اوٹ میں سے جھانک کر اکثر مجھے دیتا ہے نظارہ گناہِ دید کا
اس ستمگر سے کوئی کہہ دے خدارا آج تو میری نگاہوں کو کن انکھیوں پر نہ اکساؤ کہ میں روزے سے ہوں

جب بھی ان کو شغلِ چاٹا چوٹی میں مصروف پاتا ہوں تو سگریٹ کی طلب کر دیتی ہے پاگل مرے احساس کو
اپنے ان معصوم لولی پاپ کھاتے بچوں کو میری نظر کے سامنے سے دور لے جاؤ کہ میں روزے سے ہوں

مہربانو ! تم کو کس کالی زباں والے نے دی جھوٹی خبر کہ میں دیانت داری کی بیماری میں ہوں مبتلاء
میں یہ چاہتا ہوں کہ رشوت میں سے جو حصہ ہے میرا وہ مجھے تم بعد میں ارسال فرماؤ کہ میں روزے سے ہوں

توند یہ میری دلاری توند جس کو اس گرانی کے زمانے میں بھی پالا پوسا ہے میں نے نہایت مان سے
عرصہٗ افطار تک اس کو جمالِ زردہ و بریانی کی روح افرا باتوں سے نہ تڑپاؤ کہ میں روزے سے ہوں

جاؤں تو دفتر میں میری روز کی چائے سموسے کھانے کی عادت کو پڑ جاتی ہے میری پرسشِ احوال کی
خیریت میری مسلمانی کی تم کو چاہئے تو مجھ کو بستر سے زبردستی نہ اٹھواؤ کہ میں روزے سے ہوں

تم کو تو معلوم ہے کہ گرمیوں میں سولہ گھنٹے روزے کو بہلائے رکھنا کوئی خالہ جی کا گھر ہوتا نہیں
وقت کٹنا ہو گیا مشکل تو آ جاؤ مرے گھر اور ہاں اک تاش کی گڈی بھی لے آؤ کہ میں روزے سے ہوں


جا کے اسٹیشن پہ ہم نے پی لئے سگریٹ ظفر
خالی پیٹوں روزہ داری کے مزے بھی چکھ لئے

چار دن میں چار روزے آپ نے رکھے تو کیا
ہم کو دیکھیں ایک دن میں چار روزے رکھ لئے


روزہ رکھنے کی ہمت میسر سہی
دیدۂ شوق رہنے نہ دے گا کبھی
روز بن ٹھن کے آتی ہے مس نازلی


چھیڑتے ہیں ہمیں سب کہہ کے "دُخانی انجن”
بسکہ جاں دادہء تمباکو ہے یہ دل خاصا

ہم کو گچی سے پکڑ لیتی ہے "سگریٹ نوشی”
پہلا روزہ ہے ہمارے لئے مشکل خاصا