نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: دیا آن لائن

میں نظر وٹو سہی پیار ترا اور سہی
تیری سرکار میں اک چکنا گھڑا اور سہی

تیرے پیچھے مجھے پینجا ہے رقیبوں نے بہت
تیری نظروں میں مگر ایلِ وفا اور سہی

میاں مجنوں نے یوں پونی کہاں باندھی تھی کبھی
لیلٰی اک اور سہی لیلٰی نما اور سہی

عقد بھی کرنا پڑا ہے مجھے محبوبہ سے
عشق کے بعد مری ایک سزا اور سہی

کوئی ناراض ہے آئینہ دکھا دینے پر
خیر اس پر ہو بصد شوق خفا اور سہی

میری تنخواہ سے گر میچ کرے تو بے شک
عشوہ و غمزہ و نخرہ و ادا اور سہی

لیڈروں نے تو لگا رکھا ہے آگے کب سے
راستہ تو بھی کوئی مجھ کو دکھا اور سہی

بھوت لاتوں کا ہے باتوں سے کہاں مانتا ہے
سو ترے واسطے خوراک دوا اور سہی

میں ظفر ہوں مجھے تم لوگ ڈفر مت بولو
لینے والوں نے مرا نام لیا اور سہی

Advertisements

زن مریدی کا اُسے کچھ تجربہ اچھا لگا
پاؤں سب سسرالیوں کے دابنا اچھا لگا

جستجوئے یار کے کیڑے تھے اپنے پیٹ میں
کو بہ کو لٹو کی طرح گھومنا اچھا لگا

کچھ نہیں ملتا سیاست کے درِ بےفیض سے
قوم کو کیوں ہر دفعہ سر پھوڑنا اچھا لگا

دوسرے کہہ دیں تو پہنچاتا ہوں اُن کو گھر تلک
یار نے مجھ کو پکارا تو گدھا اچھا لگا

منہ اندھیرے اپنے شوہر کو ڈرا چکنے کے بعد
اُس نے جب میک اپ کیا تو آئینہ اچھا لگا

تیرے ہمسائے میں رہتا ہے رقیبِ روسیاہ
سو ترے کوچے میں کتا بھونکتا اچھا لگا

صرف ملاؤں پہ ہی طعنہ زنی زیبا نہیں
جس کو بھی حلوہ میسر آ گیا اچھا لگا

جیب کترا کوئی اپنے یار سے کہتا تھا کل
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا

ٹارگیٹ مجھ کو کرے تو زہر لگتا ہے مجھے
دوسروں پر پھبتیاں کستا ہوا اچھا لگا

ہر برس خوش فہمیاں دیتی ہیں مجھ کو لوریاں
میرے خوابوں کو بجٹ کا پالنا اچھا لگا

حُسنِ کافر عشق کو رکھتا ہے ٹھینگے پر ظفر
عاشقوں کا دل مگر بہرِ غذا اچھا لگا

 


فیس بُک پر انتیسویں دیا عالمی آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرہ بتاریخ ” 24 جنوری 2014 ” میں کہی گئی میری غزل کے چند اشعار

ہر شخص دیکھتا ہے مجھےگھور کر کہیں
ڈر ڈر کے کر رہا ہوں میں عرضِ ہنر کہیں

قائل ہے ڈارون کی تھیوری کا اِس قدر
بیٹھا ہوا ہے کوئی کسی شاخ پر کہیں

سی این جی کی خاطر کھڑا تھا قطار میں
"پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں”

تہذیبِ نو کے حملہء خودکش میں اُڑ گیا
سو اب بشر کا "ب” ہے کہیں اور "شر” کہیں

اِک اینٹ کی بھی پسلی نہیں ہے خدا مری
اب لاٹری میں میرا نکل آئےگھر کہیں

جس کو اڑنگیوں کا بہت اِشتیاق ہے
وہ شخص بن نہ جائے مرا ہمسفر کہیں

مدت سے اُن کا چھکڑا دکھائی نہیں دیا
لے نہ لیا ہو کوچہء جاناں میں گھر کہیں

ہم آپ جن کے واسطے لڑ لڑ کے مر گئے
دعوت اُڑا رہے ہیں وہ شیر و شکر کہیں

کل بیلنا خریدتا پایا گیا ہے وہ
شوہر کی ٹانٹ پر نہ ہو اُس کی نظر کہیں


وہ کیا زنبیلِ کوئی بھر رہا ہے
اُسے جب دیکھئے وہ چر رہا ہے

نہیں ہیں اک وہی آپے سے باہر
ہماری تاڑ کا بھی شر رہا ہے

مری رفتار سے چلتا نہیں ہے
تو پھر پیچھا مرا کیوں کر رہا ہے

عجب بجو سا بن کر رہ گیا ہے
جو پیش از عقد شیرِ نر رہا ہے

جسے انسان بننا بھی نہ آیا
وہی تو قوم کا رہبر رہا ہے

سرِ عارض کوئی مکھی ہے چپساں
تُو جس کو تِل سمجھ کر مر رہا ہے

سفارش کا مجھے میرٹ تھا حاصل
اگرچہ مجھ سے وہ بہتر رہا ہے

اُسے قانون ہی گچی سے پکڑے
کہاں اُس کو خدا کا ڈر رہا ہے

نہیں اس جیسا بونگی باز کوئی
تری نظروں میں جو سوبر رہا ہے

ظفر تھاپوں کہاں میں اپنا گریہ
سرِ دیوار تو گوبر رہا ہے


دیا ادبی فورم کے تحت اٹھارہویں آن لائن ادبی طرحی مشاعرہ بروز جمعہ 8 نومبر 2013 کی شب کو کہی گئی میری غزل

گُر مجھ کو ترقی کا سکھانے کے لئے آ
لنگوٹ کو دستار بنانے کے لئے آ

پھر ووٹ الیکشن میں تمہیں ہم نے دئے ہیں
اس بار ہمیں کچا چبانے کے لئے آ

یہ دیکھ کہاں تجھ کو بلایا پئے ڈیٹنگ
میرے لئے نہ آ تُو کبانے کے لئے آ

مانا کہ تجھے باس سے کچھ کام نہیں ہے
آفس میں مگر دُم ہی ہلانے کے لئے آ

لے آنا عطا اللہ کے گانے میری خاطر
اے راحتِ جاں مجھ کو رُلانے کے لئے آ

ارمانوں کا بے انت سفر سونپ دے مجھ کو
دیوانے کو سند باد بنانے کے لئے آ

سگرٹ ہوں تو پی جا مجھے تُو ایک ہی کش میں
اور پان اگر ہوں تو چبانے کے لئے آ

اوقات میں رہنا نہیں آتا ہے تو پیارے
بچھڑوں میں کبھی سینگ کٹانے کے لئے آ

مجھ سے مرا سہ غزلہ بھی سنتے ہوئے جانا
جب مجھ کو غزل اپنی سنانے کے لئے آ


دیا ادبی فورم کے تحت سولہویں آن لائن ادبی طرحی مشاعرہ بروز جمعہ 25 اکتوبر 2013 کی شب کو کہی گئی میری غزل

اپنی مونچھوں کو دے کے تاؤ کبھی
تاؤ ہم کو نہ یوں دلاؤ کبھی

یوں وفا کا یقین خاک آئے
ساتھ میں دُم بھی تو ہلاؤ کبھی

لے اڑے گی بہو ترا بیٹا
پورے کر دے گی تیرے چاؤ کبھی

بھاگ جائیں گے چھیڑنے والے
اپنے کتے کو ساتھ لاؤ کبھی

ناخدا ! یُوں نہ ہم سے پنگا لے
ڈوب سکتی ہے تیری ناؤ کبھی

تم بھی گا سکتے ہو ‘ حیا کیسی
سرِ بازار ہنہناؤ کبھی

شاک بجلی سے بڑھ کے ہے اس میں
بل جو دیکھو تو بلبلاؤ کبھی

ہم کنہگار کس سبب سے ہوئے
یہ بھی سوچا ہے پارساؤ کبھی؟

نہیں سنتے تو نوکِ خنجر پر
اپنی غزلیں انہیں سناؤ کبھی

نوید ظفرکیانی


تیس اگست 2013 ء ___ فیس بک "دیا انٹرنیشنل فورم” کے فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 8 میں کہی گئی میری غزل

کہتا ہےگداگر کہ مرا حق تو ادا کر
رکھتے نہیں بٹوؤں میں یونہی نوٹ دبا کر

ہیلمٹ کا لگا لینا بھی ہے کارِضروری
جب کوچہء جاناں میں مٹر گشت کیا کر

یہ عمر یہ بیباک نگاہی کے مشاغل
شامل ہوا بچھڑوں میں کوئی سینگ کٹا کر

تعزیر یہی جرمِ وفا کی ہے جہاں میں
پھینٹا ہے رقیبوں نے سدا خاک چٹا کر

یہ عشق کے کرتوت مناسب نہیں لگتے
افسانے کے ہیرو کو بنا دیتا ہے چاکر

محبوبِ گزشتہ کی نشانی ہے یہ بچہ
"سورج” کو ہتھیلی پہ اٹُھا اور ضیا کر

ہو جاتا ہے کونڈا تو پتہ چلتا ہے ہم کو
شامت نہیں آتی ہے کسی کو بھی بتا کر

یہ تیری مروت تجھے برباد نہ کر دے
کٹا ہو برابر تو اُسے چو بھی لیا کر

مجھ سے بھی سُنے میری حکایاتِ محبت
جاتا ہےکہاں کوئی غزل اپنی سُنا کر