نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: دفتر

یہ دفتر ہے
یہاں ہر شخص افسر ہے
مگر وہ جو مہا افسر ہے وہ ہے نوٹ گلگوں سا
اُسی کا راج ہے ہر جا
جو اِس کا کرتا دھرتا ہے ، مقدر کا سکندر ہے
یہ دفتر ہے

یہ کالج ہے
یہ پیلس آف نالج ہے
یہاں پر طالبان ِ علم کو سکھلایا جاتا ہے
کہ آخر اِن کتابوں کے خلاصوں کو برتنے کا ہنر کیا ہے
پروفیسر یہاں لیکچر بھی دیتے ہیں
مگر اِس اہتمام ِ خاص سے کہ کوئی کچھ بھی نہ سمجھ پائے
جو اسٹوڈینٹ ہیں وہ کاپیوں پر شعر لکھتے ہیں
مریض ِ جاں بلب ہے آپ کہنے کو معالج ہے
یہ کالج ہے

یہ سینما ہے
یہاں ہم جیسے بے فکروں کا میلہ ہے
یہاں پر بالغوں کی فلمیں نابالغ ہی تکتے ہیں
قلوب ِ درد منداں ہے ، پریشانی ہے ، سکتے ہیں
یہ دیسی اور بدیسی تاجران ِ فن کا دھندہ ہے
یہ سینما ہے

یہ تھانہ ہے
یہ لمبی لمبی مونچھوں والے لوگوں کا گھرانہ ہے
ارے کیا پوچھ بیٹھے ہو
یہاں پر کام کیا چوروں اُچکوں کا
وہ رشوت دیتے ہیں اور چھوٹ جاتے ہیں
یہاں پر تیرے میرے ابو مرغا بننے آتے ہیں
یہاں اپروچ والوں کا زمانہ ہے
یہ تھانہ ہے

Advertisements