نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: حمد

میں کچھ نہیں، تو سب کچھ
میں ادنیٰ تر، تو برتر
میں ایک قطرے جیسا
تو اک محیط ساگر
صناعی کے نمونے
نقش و نگارِ عالم
پروردگارِ عالم

ہر رنگ، رنگ تیرا
ہر خوشبو، خوشبو تیری
بکھری ہوئی ہے قدرت
دنیا میں ہر سو تیری
تیری جھلک دکھائے
ہر شاہکارِ عالم
پروردگارِ عالم

جو بھی زمیں کے اندر
تو اُس کا راز داں ہے
جو بھی زمیں کے اوپر
تیرا ہی نغمہ خواں ہے
کرتا ہے حمد تیری
ہرجاندارِ عالم
پروردگارِ عالم

یہ وقت کی مسافت
یہ زیست کا تبسم
یہ رحمتوں کی رم جھم
یہ دھوپ کا جہنم
تجھ سے فشارِ ہستی
تجھ سے قرارِ عالم
پروردگارِ عالم

یہ ارتقا ءکے دعوے
ہیں وہم کے مظاہر
تاریخِ ہر زماں نے
دیکھا یہی ہے ، آخر
تیری طرف ہی لوٹے
سینہ فگارِ عالم
پروردگارِ عالم

ٹوٹے بتِ زمانہ
اُتریں دلوں کے جالے
عنوانِ زندگی ہوں
پھر سے ترے حوالے
ہوجائیں تیرے تابع
سب دنیا دارِ عالم
پروردگارِ عالم



تو مزل تو صمد خداوندا
تو قوی تو احد خداوندا

ذات تیری ہے لم یلد،بے شک
بالیقیں لم یولد خداوندا

تو ہی پیش از ازل مرے آقا
تو ہی بعد از ابد خداوندا

خام میں اتنے ارتقاء پر بھی
تو مکمل خرد خداوندا

تو ہی میری حقیقتوں کا شناس
خود سے میں نابلد خداوندا

سب کو کشکول بھر کے دیتا ہے
از مہد تا لحد خداوندا

بھر دے اپنی رضا کے پھولوں سے
زندگی کی سبد خداوندا

بڑھ گئے دشمنانِ دیں کے بہت
آج قد و عدد خداوندا

لشکرِ ابرہہ ہوا درپے
ابابیلِ مدد خداوندا


ظاہر ہے جس کسی پر حُسنِ خیال تیرا
کرتا ہے تذکرہ کیا ہو کرنہال تیرا

ارض و سماء میں چمکے عکسِ وصال تیرا
ہرسو دھنک بکھیرے رنگِ جمال تیرا

دنیا کا کوئی گوشہ تجھ سے کہاں مبرا
دھرتی بھی تیرے تابع، جل میں بھی جال تیرا

تیری ثنا سے یارب خاموشیاں بھی گونجیں
مصروفِ حمد ہے ہر شیریں مقال تیرا

ادراک عظمتوں کا کب ہو سکا کسی پر
کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا

جو بھی کرم ہے تیرا سو ہے عدیم یارب
جو بھی ہے فیض ہم پر سو بے مثال تیرا

کیسا زمانہ آیا ہم نے جہاں میں پایا
ہر ایک نام لیوا غم سے نڈھال تیرا

کشمیر و حلب پھر سے خوں میں نہا رہے ہیں
گلگوں سا ہو چکا ہے نجم و ہلال تیرا

ہم آزمائشوں کے قابل نہیں ہیں ہرگز
اب رحم چاہتے ہیں اے ذوالجلال تیرا


اپنی خوشبو میں بسایا ، میں تو اس قابل نہ تھا
بے جہت ہونے نہ پایا ، میں تو اس قابل نہ تھا

عقل کے رستے میں دوراہوں کے گُنجل تھے بہت
اپنے رستے پر چلایا ، میں تو اس قابل نہ تھا

زندگی کی دُہوپ میں جل جاتے خوابوں کے نگر
مجھ پہ رکھا اپنا سایہ ، میں تو اس قابل نہ تھا

ڈال کر سچائیاں ادراک کی زنبیل میں
آئینہ خانے میں لایا ، میں تو اس قابل نہ تھا

سُرخرُو رہنے کی مجھ کو استطاعت کی عطا
وقت نے جب آزمایا ، میں تو اس قابل نہ تھا

وقت کی پہنائی کا ہرہر مکان و لا مکاں
دل کے کوزے میں سمایا ، میں تو اس قابل نہ تھا

نعمتیں دی ہیں مری اوقات سے بڑھ کر مجھے
شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا


زندگی ہے کہکشاں در کہکشاں
داستاں ہے اور وہ معجز بیاں

ایک تابانی سے رخشندہ ہوئے
دامنِ افلاک پر کتنے نشاں

نظم ایسا رخنہء جنبش نہیں
اک طلسم اندر مکان و لامکاں

دل کی دھڑکن کی طرح حرکت میں ہیں
دور تک پھیلے ہوئے سیّارگاں

ایستادہ ہیں صفیں چاروں طرف
اور سجدہ ریز ہیں کردوبیاں

اُس کے ذکرِ پاک سے ہے رقص میں
ابتسامِ وقت کی موجِ رواں

چشمہء ادراک پر بہتے دئے
اُس کی عظمت کے نقوشِ جاوداں

اُس کی صنّاعی کی دستاویز ہے
ہر نشانی از کراں تا بہ کراں

اُس کی تخلیقات کی پہنائی میں
کچھ نہیں ہے یہ زمیں’ یہ آسماں

ذرّے ذرّے سے مخاطب ہے مجھے
کس قدر مستُور ہے کتنا عیاں