نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: جیروم کے جیروم

ہم میں سے بہت سوں کی زندگی کا واحد مقصد محض کلرکی کرنا‘ ڈبل روٹی کھانا اور خوشی سے پُھول جانا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زندگی کے جن معمولات میں پرو لیا ہے وہ انہیں کو ایک بہت بڑی عیاشی گردانتے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو عیاشی تو ایک طرف رہی معمولی معمولی خوشیاں بھی اُنہیں جھکائی دے جاتی ہیں۔ جنسِ مسرت کثافتوں کے جمعہ بازار میں فروخت نہیں ہوتی بلکہ یہ نعمت تو اُن منظروں کا توشہء خاص ہے جہاں ابھی تک فطرت کی خطاطی مسکراہٹیں بکھیر رہی ہو۔ اس ضمن میں یہ استدلال تسلیم کہ معاشرے کا ہر فرد گردشِ احساس کا اسیر ہے۔ وہ زندگی کے تانگے میں جُتے ایسے خچر کی مانند ہوتا ہے جس پر کچھ دوسرے لوگ بھی سوار ہو جاتے ہیں چنانچہ اُس کی زندگی کے سفر میں اُس کی منشا کا موج میلہ ذرا کم ہی ہوتا ہے لیکن یہ بات بھی غلط ہو گی کہ انسان مادیت کا اسیر ہو کر رہ جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے آہنی ہیلمٹ کو ہی اپنا چہرہ تصور کر لے۔ اُسے سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور بھی ڈہونڈنی چاہئے۔ فطرت کے میلے سے بھی خوشیوں کی جلیبیاں خرید لینی چاہئیں تاکہ زندگی کا توازن برقرار رہے۔ کم از کم ہم تینوں کا یہی خیال تھا۔ ہم تینوں سے مراد میں یعنی جیروم‘ جارج اور ہیرس ہیں۔ اگر اپنے کتے منٹکمری کو بھی شامل کر لیں تو ہماری مثلث پر مبنی جمعیت اِس رائے پر سو جان سے متفق تھی۔ یہ ہم چاروں سیلانی دوستوں کا معمول تھا کہ سال میں حسبِ درک ایک یا دو بار کچھ عرصے کے لئے کسی طرف نکل پڑتے تھے اور یوں اِن آزاد لمحوں میں اپنی نسوں میں اِتنی تازہ ہوا بھر لیتے تھے سال کے باقی دورانئے میں کام چل جایا کرتا تھا۔ اِس بار ہم نے چیٹرسی تک جانے کی ٹھانی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ قیام کی کیا صورت ہو۔ سینگ سیدھے کر کے کسی سرائے میں جا گھُسا جائے یا خیمہ زنی کے مزے لُوٹے جائیں۔ جارج اور میں خیمہ زنی کے حق میں تھے۔ ہماری منچلی طبعیت خیمہ زنی کی صورت میں ایک انتہائی آزاد اور رومان پرور زندگی کی رنگا رنگی دیکھ رہی تھی۔ خیمہ زنی کے ذکر پر ہی میرے تصور میں گویا دھنک اُتر آئی۔ ہم کسی ایسے گوشہء عافیت کو جا نکلتے ہیں جہاں بندہ نہ بندے کی ذات ہو۔خیمے گاڑ دئے جاتے ہیں اور تیل کے چولہے پر پکنے والا چھڑے چھانٹ کنواروں والا کھانا یوں کھایا جاتا ہے جیسے من و سلویٰ حلق میں اُتار رہے ہوں۔ پائپوں کے جہنم تمباکو سے بھر کر جلا لئے جاتے ہیں۔ خوشگوار بات چیت ہلکے ہلکے سُر بکھیرنے لگتی ہے۔ قریب دریا سے کوئی کشتی گزرتی ہے تو اُس کے چپووں کی چپ چپ بھی اس موسیقی میں تان ملانے لگتی ہے۔ ہماری توجہ اُس طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ ہماری دیکھا دیکھی چاند بھی اپنے چہرے پر سے بادل کی ایک ٹکڑی کو ہٹاتا ہے اور رقص کرتی ہوئی لہروں پر اپنے ہونٹ ثبت کر دیتا ہے۔ ایسے میں ہیرس کو جانے کیا سُوجھتی ہے کہ وہ لپک کر اُٹھتا ہے‘ اپنا وائلن اُٹھاتا ہے اور دھیمے دھیمے سُروں میں آئر لینڈ کے ایک لوک گیت کی دُھن چھیڑ دیتا ہے۔ اَس لوک گیت کا قصہ بھی عجیب ہے۔ یہ آئرلینڈ کی ایک رومانوی داستان پر مشتعمل ہے لیکن جس طرح بعض شریر بچوں کو اکثر و پیشتر گنتی تو بھول جاتی ہے لیکن اُس کی طرز یاد رہ جاتی ہے بالکل اُسی طرح اِس لوک گیت کے اصل بول تو فراموش کئے جا چکے ہیں البتہ دوسرے کئی گیت گڑ لئے گئے ہیں۔ آئر لینڈ کے حریت پسند اس لوک گیت کی دُھن پر برطانوی بادشاہ کو بے نطق کی سناتے ہیں جبکہ اس کے عین برعکس شاہ پسند اسی لوک گیت کی دُھن پر بادشاہ کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نظر آتے ہیں۔ بہرحال ہیرس نہ تو شاہ پرست ہے اور نہ ہی علیحدگی پسند‘ چنانچہ اُس نے ایک رومانوی گیت کی دُھن چھیڑی ہے جس کا پتہ ایک سُر کے مخصوص جھکاؤ سے بخوبی چل جاتا ہے۔
پھر جب فضا میں خمار گھُل جاتا ہے‘ موسیقی دم توڑ دیتی ہے‘ پائپوں میں تمباکو جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور ہم ایک دوسرے کو الوداع کہہ کر خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنے لگتے ہیں تو یہ طلسماتی ماحول خواب میں بھی ڈاکہ زنی کرنے لگتا ہے۔ دنیا گاؤں کی اُس الہڑ مٹیار کی مانند دکھائی دیتی ہے جس کا لونگ ابھی نہیں گواچا ۔۔۔۔ اُس کی پلکوں پر آنسو نہیں بلکہ رتجگوں کے ستارے جھلملا رہے ہوتے ہیں۔ اُس کے عارض پر کسی کارخانے کی تیار کردہ لالی نہیں بلکہ زندگی کی حمرت جھلک رہی ہوتی ہے۔ اُس کے لبوں کی مسکراہٹ کسی ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار کی خاطر نہیں بلکہ حقیقی انبساط میں گُندھی ہوئی ہوتی ہے۔
عین اِسی لمحے جارج نے مجھے خیالات کے کوہِ قاف سے نکالتے ہوئے استہفامیہ انداز میں کہا “خیمہ زنی کا شوق بجا لیکن یہ تو بتاؤ کہ اگر اسی دوران بارش نے آ لیا تو پھر کیا ہو گا؟“
دودھ میں مینگنیاں ڈالنا جارج کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جمالیاتی حس تو ظالم کو چھُو کر بھی نہیں گزری۔ اِس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ اُس کا نام جارج ہے کوئی جمال الدین جمالی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اُس کا نام جمال الدین جمالی بھی ہوتا تب بھی وہ رنگ میں بھنگ ڈالنے سے باز نہ آتا۔ ضرورت سے ذیادہ حقیقت پسندی نے اُس کے تمام نازک جذبات کو سُن کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ ہمیشہ اشیا کے اُس رخ کو دیکھتا ہے جسے کوئی بھی شخص دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ اگر آپ لبِ دریا بیٹھے ہوں۔ پانی کی لہریں ٹھہری ہوئی ہوں۔ فضا میں ایک عجیب سُرور آمیز کیفیت مسلط ہو اور آپ مسحور ہو کر کہیں ۔۔۔۔۔ کیوں جارج؟ کیا تمھیں دریا کی اِس پرسکون لہروں کے نیچے دور کہیں سے جل پریوں کی آوازیں آتی نہیں سنائی دے رہی ہیں۔۔۔۔۔ یا پھر یہ کہ کیا یہ محسوس نہیں ہو رہا کہ کوئی بھٹکی ہوئی اداس روح سسکیاں بھر رہی ہے؟ ۔۔۔۔ جوابا جارج پہلے تو آپ کو بارو سے پکڑ کر بڑے غور سے دیکھے گا اور آپ کی بات دھرائے گا ۔۔۔۔ بھٹکی ہوئی روح ؟۔۔۔۔۔ پھر قدرے مسکرا کر کہے گا ۔۔۔۔ کوئی پری وری نہیں ہے میاں! بات صرف اِتنی سی ہے کہ تمہیں ٹھنڈ لگ گئی ہے اسی لئے یوں بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔۔اب اچھے بچوں کی طرح میرے ساتھ آؤ ۔۔۔۔ یہیں قریب ہی ایک کافی ہاؤس موجود ہے ۔۔۔۔ ایک کپ گرم گرم کافی حلق میں انڈیلو گے تو منٹوں میں دماغ ٹھکانے آ جائے گا۔
جارج کو ہمیشہ قریب ہی ایک ایسی دکان کا پتہ ہوتا ہے جہاں آبِ معقر ہمیشہ دستیاب رہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اتفاق سے آپ کا سامنا جنت میں بھی جارج سے ہو گیا (آپ کے گناہ و ثواب آپ کے ذمے لیکن جارج کے اعمال کو دیکھتے ہوئے تو اُس کے جنت میں جانے کے امکانات صفر فیصد سے بھی کم دکھائی دیتے ہیں) تو وہ چھوٹتے ہی آپ سے کہے گا ۔۔۔۔ شکر ہے تمہاری صورت تو نظر آئی چلو میاں میرے ساتھ ۔۔۔۔ میں نے یہیں قریب ہی ایک دودھ کی نہر دیکھ رکھی ہے ۔۔۔۔ چلو چل کر دودھ کا ایک ایک کپ پی لیتے ہیں ۔۔۔۔۔!
ہمیشہ کی طرح ہم نے اُس کی بات کو ایک کان سے سُنا اور دوسرے کان سے نکال دیا۔ دوسرا کان شائد خدا نے ہمیں اسی لئے دے رکھا ہے کہ ہم اُس سے جارج کی باتیں خارج کر سکیں۔ حتمی طور پر طے ہو گیا کہ دریا کے کنارے کسی خوبصورت اور پُرسکون سے گوشے میں خیمے گاڑ کر آس میں قیام کیا جائے۔ اب سفر کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ رختِ سفر باندھا جانے لگا۔ خیر رختِ سفر کی بھی خوب کہی۔ ہم فقیروں کے مال منال کا کیا پوچھنا۔ میرا کُل سرمایہ چند نوٹ بُکس اور کتابیں تھیں۔ جارج نے اپنے کتے منٹکمری کی زنجیر سنبھالی جبکہ ہیرس نے اپنے وائلن کو سینے سے لگایا۔ باقی چیزوں میں چند کپڑے‘ خیمے اور روزانہ استعمال کی دوسری چیزیں تھیں۔ تمام سامان کشتی میں لاد لیا گیا اور سفر آغاز ہوا۔ جانے جارج کی کالی زبان رنگ لائی تھی یا ہماری قسمت ہی خراب تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے فضا کی نیت بدل گئی۔ آسمان کی شفاف پیشانی پر کالے کالے بادلوں کی جھریاں پڑنے لگیں۔ موسم پر لندن کا بڑھاپا غالب آ گیا اور پھر وہی ہوا جا کا دھڑکا تھا۔ بوندوں کے راگ رنگ کے ساتھ ہی بارش کی دھمال شروع ہو گئی۔ ہمارے رومان پر گویا جارج کی کالی زبان پھر گئی۔ کہاں تو ہم شام کی سرمئی سانواہٹ میں مشرق کی کسی دوشیزہ کا پرتو ڈہونڈ رہے تھے اور کہاں یہ حالت ہو گئی کہ یہی حُسن ہمیں ظلمتِ بسیط نظر آنے لگا۔ ہم تینوں بُری طرح بھیگ گئے۔ کشتی میں خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی دو دو انچ پانی بھر گیا تھا۔ تمام چیزیں شرابُور ہو کر رہ گئیں تھیں۔ ایسے میں کسی حسین جگہ کے انتخاب میں وقت ضائع کرنا اپنی شامت کو آواز دینے کے مترادف تھا۔ موسم کے ساتھ ساتھ دریا کا رویہ بھی کسی بھی لمحے بدل سکتا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کی موجیں گستاخی کی حد تک سرکشی اختیار کر لیتیں‘ ہمیں خود ہی شرافت کا ثبوت دینا تھا چنانچہ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ کشتی کو کنارے کی طرف دہکیلنے لگے۔ کنارے پر پہنچ کر خیموں کو کشتی سے گھسیٹ کر اُتارا اور کچھ دُور جا کر نصب کرنے لگے۔ یہ جگہ اُن جگہوں میں سے نہیں تھی جہاں ہم نے خیمہ زنی کرنے کی ٹھہرائی تھی لیکن وہ جو ولیم فاکنر نے کہا ہے کہ دریا کی موجیں اُس وقت تک خوبصورت لگتی ہیں جب تک سر پر سے نہ گزریں۔ اگر ہم کسی رومان پرور جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے تو نمونیا نہیں تو کم از کم نزلہ یا زکام تو ضرور ہمارے مزاج پوچھتا۔
ایسے بپھرے ہوئے موسم میں خیمہ نصب کرنے جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔۔۔۔ دوسرا خیمہ بھی بھیگ کر کسی غصیلی ساس کی صورت بے قابو ہوا جا رہا تھا۔ کبھی ہاتھوں سے پھسل پڑتا تو کبھی سر پر آن گرتا۔ اِن تمام باتوں نے مجھے عجیب طرح کی جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ اُدھر موسم بھی مسلسل جلتی پر تیل چھڑکے جا رہا تھا۔ جارج خیمہ نصب کرنے میں میری مدد کر رہا تھا۔ مدد کیا کر رہا تھا مجھے تو لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے اُلو بنا رہا ہو۔ جب کبھی میں خیمے کے اپنی طرف کا حصہ درست طور پر کھڑا کر دیتا‘ وہ دوسری طرف سے جھٹکا دیتا اور میری تمام محنت پر پانی پھیر دیتا۔
آخر تم کر کیا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے چلا کر کہا
میں پوچھتا ہوں تم کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ جوابا چلایا ۔۔۔۔۔ کیا تمہیں خیمہ لگانا بھی نہیں آتا؟
ارے الُو کی دم تم اسے اپنی طرف کیوں کھینچ رہے ہو ۔۔۔۔ میں نے دوبارہ دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہم خیمہ لگا رہے ہیں کوئی دسترخوان نہیں بچھا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔!
کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہم رسہ کشی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ وہ جھنجھلا کر بولا ۔۔۔۔۔۔ خیمے کو مسلسل گھسیٹے جا رہے ہو۔ آرام سے کیوں نہیں لگاتے۔۔۔۔۔ اسے ڈھیلا چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں کہتا ہوں تم بالکل غلط کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ میں نے دہاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دل میں ایک وحشیانہ خواہش چٹکیاں لے رہی تھی کہ کاش جارج اس وقت میرے سامنے ہوتا تو مزا چکھا دیتا بچو جی کو ۔۔۔۔۔ ایسا جھانپڑ رسید کرتا کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ۔۔۔۔۔ جھلا کر میں نے خیمے کو ایک جھٹکے سے اپنی طرف گھسیٹا جس سے تمام معاملہ گڑبڑا کر رہ گیا۔ کلے ایک جھٹکے سے اکھڑ پڑے۔
ہُوں ۔۔۔۔ گاؤدی نہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔ جارج کی جھنجھلائی ہوئی بڑبڑاہٹ کسی پگھلے ہوئے سیسے کی طرح میرے کانوں میں پڑی۔ دماغ بھک سے اُڑ گیا۔ لہو لاوے کی مانند کھولنے لگا۔ انتہائی طیش کے عالم میں ہتھوڑے کو زمین پر پٹخا اور جارج کی طرف لپکا تاکہ اُس پر اُس کی پیدائش کے بارے میں نئے نئے انکشاف کر سکوں۔ جارج وہاں موجود نہیں تھا تاہم اُس کی اشتعال انگیز بڑبڑاہٹیں صاف سُنائی دے رہیں تھیں۔ غالبا وہ میرا انتظار نہ کر سکا تھا اور مجھے صلواتیں سنانے میری طرف بڑھا تھا۔ گڑ بڑ بس یہ ہوئی کہ وہ خیمے کی دوسری طرف سے روانہ ہوا تھا چنانچہ میری طرح تشنہ کام رہا۔ میں دوبارہ اُس کے پیچھے لپکا اور وہ میرے پیچھے نتیجتا ہم کافی دیر تک ایک دوسرے کے پیچھے خیمے کے گرد چکر لگاتے رہے لیکن ایک دوسرے کو پکڑائی نہ دئے۔ غالبا خیمے سے یہ خالی خولی کی آنکھ مچولی برداشت نہ ہو سکی وہ بڑے اطمعنان سے گرا اور زمین پر لملیٹ ہو رہا۔ اب درمیان میں کوئی سماج کی دیوار حائل نہ تھی۔ میں اور جارج آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ہم دونوں نے یک بیک خیمے کی طرف دیکھا اور یک آواز ہو کر دہاڑے ۔۔۔۔۔۔ دیکھا ! میں نے کہا نہیں تھا !!!
اسی اثنا میں ہمارا تیسرا ساتھی ہیرس جس کے ہاتھوں میں ہم نے کشتی کی زمام تھمائی تھی‘ آن موجود ہوا۔ اُس کی حالت ہم دونوں سے ذیادہ وگرگوں اور غصہ ہم دونوں سے کہیں ذیادہ تھا جس کا ثبوت اُس کی موسم کے نام وہ صلواتیں تھیں جو وہ بآوازِ بلند دئے جا رہا تھا۔
تم دونوں کیا کرتے پھر رہے ہو۔۔۔۔۔؟ وہ لال پیلا ہو کر بولا ۔۔۔۔۔۔ ابھی تک ایک خیمہ بھی لگا نہیں پائے ۔۔۔۔۔۔ !!
جارج اور میں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بیک وقت اُس پر پل پڑے۔ ہیرس غریب کو اس کی بالکل بھی توقع نہیں تھی چنانچہ وہ ہم دونوں کو لیتا ہوا زمین بوس ہو گیا۔ اُس کا منہ کیچڑ سے لت پت ہو کر رہ گیا۔ کیچڑ سے مفر تو خیر ہم دونوں کو بھی نصیب نہ ہوا۔ ہیرس کی جوابی کاروائی نے ہمیں بھی وہ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا جو اب کیچڑ بن چکی تھی۔ ہم تینوں کافی دیر تک گتھم گتھا رہے۔ اُدھر منٹکمری بھی اس تماشے کو نوراکشتی سمجھتے ہوئے اس میں شامل ہو گیا اور زورآزمائی کرنے لگا۔ پھر جب ہماری طبیعتیں صاف ہوئیں اور حواس ٹھکانے لگے تو تینوں بلکہ چاروں اُن افریقی قبائل کے باشندے دکھائی دئے جو دورانِ جنگ اپنے جسم پر کیچڑ تھوپ لیتے ہیں۔
جارج نے اپنے کیچڑ سے لتھڑے ہوئے ہاتھوں سے چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ دیکھا ! میں نہ کہتا تھا کہ خیمہ زنی ٹھیک نہیں ۔۔۔۔۔ !!
آخر کسی نہ کسی طرح خیموں کو نصب کرنے کا مرحلہ پایہء تکمیل کو پہنچا۔ اِس بار خیموں نے کوئی نخرہ بازی نہیں کی تھی۔ اب چیزوں کو ترتیب سے رکھنے کا سوال تھا۔ تمام اشیاء بُری طرح بھیگی ہوئیں تھیں۔ اُنہیں کیسے خشک کیا جاتا؟ گیلے تولیوں سے؟؟؟ بہرحال جوچیز جیسی ہے اپنی جگہ ٹھیک ہے کے مصداق سب چیزیں سلیقے سے رکھ دی گئیں۔ دریا کے کنارے جا کر غسلِ طہارت فرمانے اور پھر گیلے کپڑے زیبِ تن کر چکنے کے بعد قدرے قرار نصیب ہوا۔ کمبل اگرچہ گیلے تھے لیکن آخر کمبل تھے کچھ نہ کچھ کام دے گئے۔ جنگل کی لکڑیوں سے آگ جلانا تو خیر ناممکن تھا‘ بھلا گیلی لکڑیاں آگ کو کیا لفٹ دیتیں۔ مجبورا تیل کے چولہے پر قناعت کرنی پڑی۔ چولہا جلا کر رات کا کھانا تیار کیا جانے لگا۔
رات کے کھانے میں بارش کا پانی ہماری غذا کا جزوِ لانفینک نکلا۔ کھانے کی پر چیز تر بتر تھی۔ ڈبل روٹی کا تین چوتھائی حصہ اس کی دریا دلی کا اسیر تھا۔ اِسی طرح مکھن میں بھی بارش کا پانی اس کثرت سے تھا کہ لگتا تھا کہ جیسے اس میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کا متمنی ہو۔ جام‘ پنیر‘ کافی‘ نمک سب کا اس نے اچار مربہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ یہ سب چیزیں کھائیں تو نئی نویلی دلہن کے ہاتھوں پکائے گئے کھانے کا لطف مل گیا۔
کھانے کے بعد حسبِ معمول تمباکو کی طلب دامن گیر ہوئی۔ تمباکو کا ڈبہ کھول کر دیکھا تو سر پیٹ لینے کو جی چاہا۔ سارا ہی تمباکو گیلا ہو چکا تھا۔ میں نے تو مایوس ہو کر سر ڈال دیا لیکن ہیرس گیلے تمباکو کو ہی پائپ میں بھر کر سلگانے کی کوشش کرنے لگا لیکن بھلا ہتھیلی پر بھی کبھی سرسوں جمی ہے‘ غریب اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اتنے میں جارج‘ جو بڑی سرگرمی سے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا‘ چلایا ۔۔۔۔۔ وہ مارا ۔۔۔۔۔!
ہم نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھوں میں شمپئن کی بوتل تھی۔ ہم دونوں کے چہرے بھی کھل اٹھے۔ ایک ایک جام چڑھایا تو زندگی میں اتنی دلچسپی نظر آئی کہ بستر پر دراز ہوا جائے اور خوشی خوشی ایک دوسرے کو ‘‘شب بخیر‘‘ کہہ کر لمبی تان لی جائے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات کا عکس خوابوں میں بھی جھلکنے لگتا ہے۔ اگر آپ کو عالمِ بیداری میں کسی پریشانی نے مرغا بنائے رکھا ہے تو خواب میں بھی آپ اپنے آپ کو کان پکڑے ہوئے دیکھیں گے۔ یہی کچھ میرے ساتھ بھی اُس رات خیمے میں ہوا۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ یکلخت ایک ہاتھی میرے سینے پر آ کر براجمان ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک زوردار دہماکہ ہوا۔ کوئی آتش فشاں پھٹا تھا جس نے مجھے اُٹھا کر سمندر کی گہرائیوں میں پھینک دیا تھا۔ ہاتھی بدستور میرے سینے پر استراحت فرما رہا تھا۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی؟ اگر کوئی ہاتھی میرے سینے پر بیٹھا ہوا تھا تو آتش فشاں مجھے سمندر میں کیسے پھینک سکتا تھا۔ اور اگر ایسا ہو بھی گیا تھا تو ہاتھی میرے سینے پر کیسے بیٹھا رہ سکتا تھا؟؟ یعنی اگر یہ تھا تو وہ کیسے تھا اور اگر وہ تھا تو یہ کیسے تھا؟؟؟
اِسی الجھن میں میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ آتش فشاں اور ہاتھی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ اور مسائل بھی وقوع پذیر ہو چکے تھے۔ اول اول تو یوں محسوس ہوا جیسے قیامت آ چکی ہے‘ صور پھونکا جا چکا ہے اور آسمان زمین پر گر پڑا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے خود ہی اپنے خدشے کی تردید کر دی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ غالبا ڈاکوؤں اور لٹیروں نے حملہ کر دیا تھا یا کوئی آگ وغیرہ لگ گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہی کچھ ہو سکات تھا۔ قیامت بھلا کیسے آ سکتی تھی۔ ابھی تو میں نے اتوار کی اتوار چرچ جانا موقوف نہیں کیا تھا۔ مجھے یُوں لگتا تھا جیسے سیکڑوں لوگوں کے مجمع نے مجھ پر چڑھائی کر دی ہو اور اب اُن کے درمیان میرا دم گھٹا جا رہا ہے۔ کویی اللہ کا بندہ ایسا نہیں تھا جو میری مدد کو آتا اور مجھے اُن کے پنجوں سے رہائی دلاتا۔
مجھے یُوں لگا کہ جیسے آس پاس کوئی اور ذی روح بھی موجود ہے جو میری طرح کسی انجانی مصیبت میں مبتلا ہے۔ اُس کی خوف میں ڈوبی ہوئی آواز خود میری چارپائی کے نیچے سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اِس تاثر کے ساتھ ساتھ میرے اندر یہ احساس بھی مجھے اندر ہی اندر ڈنگ مارنے لگا کہ میری اپنی زندگی خطرے میں ہے۔ کوئی جناتی عفریت میرے جسم کو نگلتا جا رہا ہے۔ اپنی قیمتی زندگی کو بچانے کے لئے میں نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئے۔ ساتھ میں چیخوں اور فریادوں کا تڑکا بھی لگائے جا رہا تھا۔ مجھے اپنی ریاضت رنگ لاتی نظر آئی۔ چند ہی لمحوں میں میں نے اپنے آپ کو گردن تک کھلی فضا میں پایا۔مجھ سے تقریبا دو فٹ کے فاصلے پر کوئی کفن بردوش آسیب نظر آیا۔ تو یہی وہ عفریت تھا جو میری زندگی کے درپے تھا؟ میں نے سوچا اور پھر اپنی زندگی کی جدوجہد کے لئے سینہ سپر ہو گیا۔ ٹھیک آسی وقت میرے شعر میں اُس عفریت کی شناخت ابھری۔۔۔۔۔ وہ جارج تھا۔
عین اُسی وقت جارج نے بھی مجھے پہچان لیا اور پورا منہ کھول کر چلایا ۔۔۔۔۔۔ ارے ! یہ تو تم ہو !! تمہیں ہو ناں جے ؟؟؟
ہاں ! میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔ میں آنکھیں ملتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔ لیکن آخر ہوا کیا تھا ؟؟
ہونا کیا تھا ۔۔۔۔ کم بخت خیمہ اکھڑ کر گر پڑا ہے ۔۔۔۔۔ اُس نے سر کھجا کر کہا ۔۔۔۔ ہیرس کہاں ہے ؟
اب ہم دونوں کو ہیرس کی فکر پڑ گئی۔ جارج نے اپنی دونوں ہتھیلیوں سے بھونپو بنایا اور پکار کر کہا ۔۔۔۔ ہیرس ! ہیرس !!
عین اُسی لمحے اتفاقا میری نظر جارج کے عقب میں پڑی ۔۔۔۔۔ وہاں زنین پر پڑے ہوئے خیمے کے نیچے کوئی شے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک گھٹی گٹھی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ ارے ! کیا تم لوگ اندھے ہو‘ میں یہاں ہوں خیمے کے نیچے !!
اِس سے پہلے کہ ہم اُس کی مدد کو پہنچتے‘ وہ خود ہی خیمے کو اٹھاتا ہوا اس کے نیچے سے نکل آیا۔ یہ ہیرس کی ایک انتہائی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ شدید غصے اور کیچڑ نے اُس کے چہرے کو ناقابلِ شناخت بنا دیا تھا۔ یُوں لگتا تھا جیسے ہنری ہشتم کو کسی گستاخ درباری نے چھیڑ دیا ہو۔
یہ کس نامعقول کی حرکت تھی؟ ۔۔۔۔۔ وہ دہاڑتے ہوئے بولا
اگر یہ کسی کی حرکت ہوتی تو وہ شخص یقینا نامعقول ہوتا لیکن میرا خیال تھا کہ یہ ساری کارستائی خود خیمے کی تھی جسے انتہائی غلط وقت پر قیلولے کی سُوجھی تھی۔ بہرحال ہیرس کو قائل کرنا بہت مشکل کام تھا۔ وہ بدستور بضد تھا کہ یہ اُس کے خلاف کسی بدطینت کی سازش تھی۔ کبھی کبھار تو وہ ہماری طرف بھی شکوک بھری نظروں سے دیکھ لیا کرتا تھا۔
اُدھر جارج کی یہ روں روں بھی مسلسل جاری تھی کہ ‘‘ دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ خیمہ زنی ٹھیک نہیں !!“
اِس وقت ہم لوگ ایک سرائے کے انتہائی آرام دہ کمرے میں آرام کر رہے ہیں۔ میں آتشدان کے قریب بیٹھا ہوا اِس تحریر کی اختتامیہ سطور رقم کر رہا ہوں۔ میری کرسی کے پہلو میں جارج کا بستر ہے جس پر وہ خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا ہے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو وہ غنودگی کے عالم میں پچاسوں مرتبہ یہ فقرہ دہرا چکا ہے ۔۔۔۔ دیکھا! میں نہ کہتا تھا کہ خیمہ زنی ٹھیک نہیں !!

(جیروم کے جیروم کی معرکتہ آرا کتاب Three Men in a Boat کے ایک باب سے ماخوذ)