نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: اُردو طنز و مزاح

قربانی کے مفہوم میں الجھا ہوا بکرا
کب سے ہے فریزر میں جمایا ہوا بکرا

کیوں سینگوں پہ رکھا ہے مجھے بیچ سڑک پر
کیا جانئیے کس بات پہ ’’اوکھا‘‘ ہوا بکرا

آجائے گا قربانی کے بھی کام یقیناً
سیلفی کے لئے خاص خریدا ہوا بکرا

دیدار کو آیا ہے یا دیدار کرانے
پنکی کے لئے پنک سا رنگاہوا بکرا

لیڈر بھی مقلد نہیں یوں ’’میں میں ازم‘‘ کا
قربانی کے دن بھی کہاں چُپکا ہوا بکرا

کیا جانئیے کس کس کے مقدر میں لکھا ہے
تکوں میں کبابوں میں بکھیرا ہوا بکرا

قربانی محلے میں تو دی ہوتی ہے سب نے
مل سکتا ہے واپس بھی یوں بانٹا ہوا بکرا

اب مالی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہے کہ اس سے
لے سکتے ہیں کاغذ پہ بنایا ہوا بکرا

ڈھو پائے گا مجھ کو، میرے اعمال کو کیسے
واقف نہیں جنت کو سدھارا ہوا بکرا

Advertisements

سیاستدانوں کو بھگتا رہی ہے
ہماری قوم چچڑ باز ٹھہری
یہ کانگو وائرس کیا بیچتا ہے


شاعری کہہ رہی تھی مجھ سے ظفر
شعر میں کچھ نیا ہی فرمائیں

اور بیوی کی آ رہی تھی صدا
جا کے دودھ اور دہی تو لے آئیں


ہو پنامہ کا فیصلہ جیسے
اُس نے مکھڑے کو یوں چھپایا تھا


سب لیڈرانِ قوم نے سمجھا ہوا ہے آج
بزنس پلان ، قوم کی خدمت کا عزم کیا

سب اپنے انڈے بچے سیاست میں لائے ہیں
جمہوریت ہے گود بھرائی کی رسم کیا


کسی بکرے کو ہے درکار تری قربانی
بر دکھوے کے لئے جاؤ ناں بکرا منڈی


موجِ بخشش و عطا رمضان ہے
ہر طرف رحمت بپا رمضان ہے

ہم کو ہر کشکولِ نیکی میں ملا
اب صلہ ستر گنا؟ رمضان ہے!

۔۔۔ق۔۔۔

رحمتِ حق جوش میں ہے دوستا!
تو بھی چکھ اس کا مزا، رمضان ہے

دیکھنا چاہتی ہے کہ تو ہے بھلا
کس قدرچکنا گھڑا، رمضان ہے

۔۔۔۔۔۔۔

تزکیہء نفس کی روٹی پکا!
فیض کا اُلٹا توا رمضان ہے

لوڈ شیڈنگ جس کی ہو سکتی نہیں
رحمتوں کی وہ ضیا رمضان ہے

پائیے بیماریء روح سے نجات
بہرِ امراضِ ریا رمضان ہے

توند کی تجسیمِ موزوں کے لئے
نسخہء صبر و رضا رمضان ہے

اک ذرا ابلیس سے گچی چھڑا
نفس سے زور آزما رمضان ہے

عاصیوں کی گردنیں بچنی نہ تھیں
شکر ہے کہ اے خدا ،رمضان ہے