نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: اُردو طنز و مزاح

اچھوں کا بھی بھلا کب بے دید سوچتے ہیں
یہ جب بھی سوچتے ہیں تنقید سوچتے ہیں

ہو نہ وصال کی شب گو وینٹ گون تب تک
ہم عرضِ دل کی جب تک تمہید سوچتے ہیں

یہ لیڈرانِ قومی کا بن چکا وتیرہ
دے کر بیاں پھر اُس کی تردید سوچتے ہیں

تفہیمِ عشقِ شیخاں، کچھ ہے تو بس یہی ہے
ظالم ہمیشہ بہرِ تولید سوچتے ہیں

وہ ہیں کہ ہر قدم پر دیتے پھریں اڑنگی
ہم ہیں کہ پھر وفا کی تجدید سوچتے ہیں

اس واسطے ہم اُن کو بجو سے لگ رہے ہیں
ہر شے کو ہی بہ رنگِ تجرید سوچتے ہیں

کہتا تھا کون کس کو جمہوریت کا دشمن
کرتا ہے کون کس کی تائید، سوچتے ہیں

کیا ہم میں اور رقیبوں میں فرق کچھ نہیں ہے
کیوں ٹاس کر رہی ہے ناہید، سوچتے ہیں

اُس کا تو کیس تھا کچھ تھانہ کچہری والا
کیوں قیس کی کریں ہم تقلید، سوچتے ہیں


رہ گیا ہوں پھنس کے یوں سسرال اِس تعطیل میں
جیسے ملزم آ گیا ہو نیب کی تحویل میں

تکتا تھا یوں جیسے نثری نظم منہ پر ماری ہو
مدعا اُس سے بیاں جب بھی کیا تفصیل میں

کچھ نہ کچھ تو ہو گیا ہے ربطِ باہم کو صنم!
آپ گرگٹ بن گئے یا ہو گیا تبدیل میں

ہر کرپٹ نسواربن کر داڑھ کے نیچے پھنسا
آرہے ہیں خان صاحب ڈیل میں نہ ڈھیل میں

لیڈرانِ قوم کی توندیں وسیع ہیں اس لئے
سارا پاکستان ڈالیں عمرو کی زنبیل میں

کیا کہیں یارو اب ایسے الو کے پٹھے کو ہم
’’الو‘‘ کو’’ ابو‘‘ پڑھا ہے جس نے کچھ تعجیل میں

عشق دنیا میں سدا خوار و زبوں رہتا ہے کیوں؟
کیدو کا کیا کام ہیر ورانجھا کی تمثیل میں

بات کر کے دیکھتے اپنے فدائی سے کبھی
خود کو دے دیتا اڑنگی حکم کی تعمیل میں

کرتا ہے پہلو تہی اس سے شریف انسان بھی
جب’’ شرافت‘‘ کا افادہ ہو ذرا تقلیل میں

لے اُڑے شاگرد اب کےمنصبِ استاد بھی
لیڈروں کا ہاتھ ہے شیطان کی تعزیل میں

آپ ہی اپنی اداؤں پر نظر ڈالیں ظفرؔ
یونہی منہا کب ہوئے ہیں زیست کی تعدیل میں


بنا دے بھیجے کی لسی، زنانی ہو تو ایسی ہو
ہماری کھوپڑی مثلِ مدھانی ہو تو ایسی ہو

دکھا کر ایک میزائل کہا ہے ہم نے زوجہ سے
زباں جیسی اگر تم میں روانی ہو تو ایسی ہو

بہ رُوئے حسن بے سہرہ، قبولا جائے سہ بارہ
بدن پرہر چھڑے کے شیروانی ہو تو ایسی ہو

وفا کی رہگزاروں میں اڑنگی باز ہیں سارے
کسی پر دوستوں کی مہربانی ہو تو ایسی ہو

سلوکِ زوجۂ اوّل سے بھی عبرت نہیں پکڑی
مسلسل آرزوئے عقدِ ثانی ہو تو ایسی ہو

لو اس ہفتے کو بھی سسرالیوں کے نام ہے سنڈے
مقدر میں بلائے ناگہانی ہو تو ایسی ہو

سگانِ خوباں دہلائیں، مگر ہم سر کے بل جائیں
سرِ کوئے نگاراں آنی جانی ہو تو ایسی ہو

جو بچہ دیکھے پکچر میں اُسی پر ریجھ کر بولے
ہمارے پیار کی کوئی نشانی ہو تو ایسی ہو

تری بیوٹی سے میک اپ کی تہیں کھرچے، تجھے سمجھے
ترے بھرے میں نہ آئے، جوانی ہو تو ایسی ہو

جھکی رہتی ہیں گھر میں مونچھیں ہیبت خان لالہ کی
کہ اونچا بولنے نہ دے پٹھانی ہو تو ایسی ہو

پئے آتش نشانی فائٹرز کو کال جا پہنچے
سرِ بزمِ سخن شعلہ بیانی ہو تو ایسی ہو


دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف
جس طرح کرتے ہیں سنڈیوں کو تلف

عدل کا چھڑکاؤ اِتنا بھی نہیں
ملک سے کر دے جو چوروں کو تلف

سر کا فالودہ بنا سکتے ہیں آپ
کر نہیں سکتے ہیں سوچوں کو تلف

لو مرا بھی رول نمبرآ گیا
عشق نے کرنا ہے کتنوں کو تلف

بھر دیا ہے توند کے تنور کو
کر دیا ملا نے مرغوں کو تلف

مرحبا خاصی صفائی ہو گئی
کر دیا اندھوں نے کانوں کو تلف

سرفروشی میں ہیں یکتا زن مرید
کر دیا ہے گھر سے چوہوں کو تلف

قیس کو کرنے کا ٹھیکہ مل گیا
کوچۂ لیلیٰ سے کتوں کو تلف

کیوں بجنگ آمد کوئی کرنے لگا
توپ کے گولوں سے مکھیوں کو تلف

گیسوئوں کو گہری سوچوں سے بچا
ٹڈی دل کر دے گا فصلوں کو تلف

کاش ووٹر آپ ہی کرنے لگیں
لیڈروں کے سبز باغوں کو تلف

تو ظفر کیا چیز ہے کہ وقت نے
کر دیا ہے اچھے اچھوں کو تلف


سب حریصانِ اقتدار و زر
ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں

قوم دھوکہ نہ کھائے گی ہرگز
یہ سیاست کے ریلو کٹے ہیں


رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے
اڑنگی دے کے اگر وہ گرا نہیں دیں گے

وہ دیتے پھرتے ہیں مس کال ہی فدائی کو
تو کیا مرض کے مطابق دوا نہیں دیں گے؟

پہاڑ کاٹنے ہوں گے کہ حسن والے اُنہیں
سکوں سے دستِ حنائی تھما نہیں دیں گے

نہیں ہیں بھونپو کہ کرتے پھریں وہ پوں پوں پوں
"تمھارے شہر میں کوئی صدا نہیں دیں گے”

اُنہیں خبر ہے کہ ضد کر کے لے گی کچا گھڑا
سو سوہنی کو وہ مناسب گھڑا نہیں دیں گے

یہ ڈاکٹر ہیں جو امراضِ جنس کے ماہر
کسی کی لیلیٰ کو مجنوں بنا نہیں دیں گے؟

یوں بے دھیانی میں ٹپکا کریں نہ منہ دھو کر
دکھا کے چہرہ میاں کو ڈرا نہیں دیں گے

ابالِ خون نہ جائے گا بھائی لوگوں کا
دو ہاتھ گچی پہ جب تک ٹکا نہیں دیں گے

اگر اداؤں کی گگلی یونہی کراتے رہے
تو پھر وہ کیا میری وکٹیں گرا نہیں دیں گے

یہ خود سے عہد ہے شادی شدوں کا بعد از عقد
اب اپنا ہاتھ بہ دستِ قضا نہیں دیں گے

ترا حبیب تری قدر کیوں نہیں کرتا
ترے رقیب تو دادِ وفا نہیں دیں گے


تمھارا پیار نہ کرے گا مجھ کو سوٹ شکریہ
افورڈ کرنہ پاﺅں گا میں ٹوٹ پھوٹ شکریہ

اُسے خبر نہیں کہ مجنوں کا ہوں میں جماعتیا
رقیب مجھ کو کہہ رہا ہے رنگروٹ، شکریہ

ملے یا نہ ملے کچھ اس سے فرق پڑنے کا نہیں
ٹومیٹو سے بھلے ہیں صبر کے فروٹ، شکریہ

ہم اہلِ دل کو بھی تو ملنی چاہئیں سہولتیں
تری گلی کو جائے میٹرو کا روٹ، شکریہ

میں صادق و امین ہوں تو بھیدی معترض ہے کیوں؟
جو پکڑا نہ گیا، وہ کاہے کا ہے جھوٹ، شکریہ

غزل مشاعرے میں تو سنائی تھی کمال کی
کیا ہے شوقِ گائیکی نے اُن کو ہوٹ شکریہ

محاذِ جنگ سے تو خیریت سے لوٹ آیا تھا
تمھاری نظروں نے کیا ہے مجھ کو شوٹ، شکریہ

جو نیب چکنی مچھلیوں کو "ویک کیس” کر کے دے
مجھے بھی دیجئے گا اس قسم کی چھوٹ، شکریہ

غریب کب سے گھات میں ہے کہ بدل ہی لےظفر
نماز پڑھنے آئیے پہن کےبوٹ، شکریہ