نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: اُردو طنز و مزاح فورم


شب محلے والوں نے جس پر ہاؤ ہو کی تھی
واردات وہ شائد ایک خوش گلو کی تھی

آج بیٹے کو کیسے زن مرید کہتی ہیں
آرزو بھلا کس کو چاند سی بہو کی تھی

کھائے جاتی تھی بیگم یوں دماغ میرا کیوں؟
کس قدر میں چارہ تھا، کس قدر وہ بھوکی تھی

اپنی اپنی کینونس پرجائے وصل جانا تھا
میری یہ دوٹانگیں تھیں، آپ کی سوزوکی تھی

شعر جب سنایا تھا رام ہو گئی تھی وہ
کام میرا نکلا تھا شاعری کسو کی تھی

"میم شین” والوں کا سروے ہی بتلائے گا
جس قدر بھی آبادی شہرِ آرزو کی ہے

کارپٹ بھی میرا تھا پاندان بھی میرا
پان مانگ کر کھایا تھا ور پیک تھوکی تھی

میں نے فقرہ مارا تھا اُس نے چانٹا مارا تھا
فیصلہ نہ ہو پایا کس کی بدسلوکی تھی

آرزو چنبیلی کی تھی اور پائی ہے گوبھی
کون ہے نصیبوں میں کس کی جستجو کی تھی

جس سے بچے ڈرتے تھے بہرِ عقد ماں اُس کو
پارلر میں لائی تھی اور خوبرو کی تھی

Advertisements

جو لیلیٰ قیس کی ہمشیر ہوتی
تو کس کے عشق کی تشہیر ہوتی؟

اگر میں ووٹ بھی دیتا نہ ان کو
اِنہیں کی لیڈری تقدیر ہوتی

سمجھتے مجھ کو افسر اہلِ دفتر
پہنچنے میں اگر تاخیر ہوتی

یوں دعوت خوب کرتے مل ملا کے
ہماری دال اُن کی کھیر ہوتی

گرانی کے طمانچے پڑتے رہتے
تو خلقت باقیاتِ میر ہوتی

رقیبوں کا میں دامن چاک کرتا
مری دھوتی بھی لیروں لیر ہوتی

جو انجامِ محبت عقد ہوتا
وفا منت کشِ تفسیر ہوتی

اگر باہر مچھندر بن کے پھرتا
مری بیوی بھی داداگیر ہوتی

محبت رنگ جو لاتی کسی کی
"یقیناً پاؤں میں زنجیر ہوتی”

کٹاریں ہوتے جو ابرو تمھارے
ہماری مونچھ بھی شمشیر ہوتی

بناتا شوق سے رانجھا بھی سیلفی
جو پس منظر میں کوئی ہیر ہوتی

جہاں جاتیں ترے میک اپ پہ نظریں
وہیں پر حسرتِ تعمیر ہوتی

ظفر بنتا جوازِ زن مریدی
اگر بیوی کسی کی پیر ہوتی


دیکھو ساری دنیا گرکٹ
ہر کوئی رنگ بدلتا گرگٹ

گرگٹ ہے چوپایہ لیکن
انساں ہے دوپایہ گرکٹ

وقت پڑا تو کُھلی حقیقت
سب نے سب کو پایا گرکٹ

ہر ناطہ مشکوک ہوا ہے
ہر رشتہ ہے گویا گرکٹ

یار سے جب بھی یار کا پوچھا
بولا وہ ہے "سالا” گرگٹ

ہر خِطّے کے ہر عاشق نے
محبوبہ کو پایا گرکٹ

مجنوں ہے بے پیندا لوٹا
اور ہے اُس کی لیلٰی گرکٹ

پل میں تولہ پل میں ماشہ
یوں ہر بنتِ حّوا گرکٹ

بیوی "خصماں کھاندی” ڈائن
شوہر ایک سراپا گرکٹ

جب سے بھابھی گھر آئی ہے
بہنوں کو ہے بھیّا گرکٹ

رنگ بدلتا سنگ بدلتا
لیڈر ہے دیرینہ گرکٹ

جانا آٹےدال کا بھاؤ
گرکٹ سے جب ٹکرا گرکٹ

ووٹر تو ہیں کم جلسے میں
ڈال رہا ہے بھنگڑا گرکٹ

اب پہچان نہیں ہے باقی
کوئی صحافی ہے یا گرکٹ

چینل چینل بول رہا ہے
تاڑ رہا ہے مرغا گرکٹ

رنگِ سخن تو دیکھ ظفر کا
شاعر کم ہے چوکھا گرکٹ


فیس بُک میں اردو طنز و مزاح فورم کے زیرِ اہتمام منعقد کردہ ماہانہ طرحی مشاعرہ نمبر 3 برائے ستمبر 2013 میں کہے گئے چند اشعار

گانے وانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بِلبِلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

یوں محلے میں بہت چن ہیں مگر اے لڑکو !
چن چڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

خودکشی کرنے کے کچھ اور طریقے بھی ہیں
شامیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

ہم کو غصہ بھی دلائے گا زمانہ اور پھر
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

غیر سے بزم میں کیوں آپ فری ہوتے پھریں
کھلکھلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

دندناتا رہے کیوں کوچہء جاناں میں کوئی
آنے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

نوش کرنے کے لئے اور بہت کچھ ہو گا
کان کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

بابِ تولید میں مولانا پہ واضح کر دو
کارخانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

مرد و زن کافی ہیں غرقابیء عالم کے لئے
درمیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

مشتبہ ہو کے نہ رہ جائیں تمہارے گیسو
سر کھجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

یہی اعلان مناسب ہے غریبوں کے لئے
آب و دانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

کچھ حسینائیں تو ممنوعہ علاقہ بھی ہیں
ہر نشانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

پالتے رہئے دماغوں میں اگر کیڑا ہے
کلبلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

اب سیاست میں فقط عقل کے اندھے ہوں گے
اس میں کانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

تم کو سادہ کوئی سمجھا ہے تو بیچارے کو
بیچ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

لیٹ ہو جاؤ تو شب پیڑ پہ کر لینا بسر
گھر میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

تشنگی ہے تو چلو جوس پئو لیمن کا
مئے چڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

آسمانوں پہ چڑھے ریٹ پراپرٹی کے
آشیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

وہ ستمگار اڑنگی مجھے دے سکتا ہے
پاس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

جس پہ بھونکے ہو بہت اُس کو غضب میں پا کر
دُم دبانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

کرفیو کوئے حسیناں میں ہے دل والوں پر
بھنبھنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

عصرِ حاضر کی خواتین کے اطوار نہیں
شرم کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

آدمی بھی کوئی تانگے میں جُتا گھوڑا ہے؟
تازیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

جھوٹ بھی سچ کی طرح پورے یقیں سے بولو
گڑبڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

بزمِ شعری میں غزل گا کے سناؤ نہ ظفر
شو جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی


ٹوٹتا رہتا ہے ہر دم کیا کریں
دل’ اسمبلی کا ہے کورم کیا کریں

دل تو قسطوں میں دیا جاتا نہیں
دے دیا ہے اُن کو لم سم کیا کریں

پھر کوئی اُلو بنا کر چل دیا
ہم شعورِ ذات کا غم کیا کریں

ڈھائی ڈھائی من کے آنسو آ گئے
جب ہوئی وہ آنکھ پُر نم کیا کریں

تیرے ابے نے کرایا چُپ جہنیں
تیری انگنائی میں اُودھم کیا کریں

میرے سُر سے سُر ملانا سیکھ لے
ورنہ ظالم تیرے سرگم کیا کریں

پیٹنا تھا اور پٹ کر آ گیا
خود کو جو کہتا تھا رُستم کیا کریں

وقت پڑنے پر وہ بھاگے بے طرح
جو بہت بنتے تھے طرم کیا کریں

عشق کا دشمن ہوا سارا جہاں
بنتِ حوا ابنِ آدم کیا کریں

وہ نہیں ہے ایسا ویسادوستو
اورایسا ہے تو پھر ہم کیا کریں

آنے والی نعمتوں کی تاڑ ہے
جانے والی چیز کا غم کیا کریں

پھر بنام ِ "نصف بہتر” پڑ گئی
پلے اک ”مادام چیخم” کیا کریں

دم نکالے جو ہمارا دمبدم
ہم اُسے کہتے ہیں ہمدم کیا کریں

اُس کی پرموشن ہمیں درکار تھی
پر نہیں بنتی وہ بیگم کیا کریں

کس نے منوانا ہے کس سے کیا ظفر
ابر برسا ہے چھما چھم کیا کریں