نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: انٹرنیٹ

مرے خلوص کو ظالم کہاں سمجھتے ہیں
ہر اک سخن کو سیاسی بیاں سمجھتے ہیں

اِک ایسی بیوی کے شوہر بنے ہیں کہ توبہ!
تمام گونگے ہمیں ہم زباں سمجھتے ہیں

وہ فیس بُک میں تو مس نازنین بنتے ہیں
جو جانتے ہیں وہ گل شیر خاں سمجھتے ہیں

فنِ روباہی میں اں کو کمال حاصل ہے
کسی کو تیر کسی کو کماں سمجھتے ہیں

کسی کے جلوؤں نے میک اپ کا وہ سماں باندھا
جو دیکھتے ہیں وہ اس کو دکاں سمجھتے ہیں

کچھ ایسے بھی ہیں سمجھدار اس زمانے میں
کبوتروں کو بھی اکثر جو کاں سمجھتے ہیں

کبھی جو مجنوں میاں دیکھیں قبل از میک اپ
تو لیلٰی کو بھی وہ لیلٰی کی ماں سمجھتے ہیں

ہزار خود کو میں بقراط کر کے لے آؤں
وہ بیوقوف مجھے جاوداں سمجھتے ہیں

مرے مزاج میں کچھ اس قدر ہے عجز ظفر
سسر میاں مجھے اللہ کی گاں سمجھتے ہیں

Advertisements

چلو اِک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

تو انٹرنیٹ کھولے اور چیٹنگ روم جا پہنچے
کسی رومانوی چینل پہ ہوں میں منتظر تیرا
بڑے ہی مان سے تجھ سے میں پوچھوں تیرا اے ایس ایل
تو لکھے سترہ برسوں کی ، وطن انگلینڈ ہے میرا

میں لکھوں بیس کا سن ہے ، میں ٹورانٹو میں بیٹھا ہوں
یہیں اِک اشتہاری کمپنی میں جاب ہے میری
تو لکھے میں نمانی ہوں ، ادب سے شغل رکھتی ہوں
میں لکھوں ہائے اُف اللہ ، تہی تو خواب ہے میری

تو لکھے کیٹس اور ٹیگور پر میں جان دیتی ہوں
میں لکھوں کون ہیں یہ جو رقابت پر ہیں آمادہ
تو لکھے آنجہانی ہیں ، بڑے معروف شاعر تھے
میں لکھوں پارڈن می ، کیا سمجھ بیٹھا تھا میں سادہ

بہت سی ہم میں باتیں ہوں ، بہت سی فقرہ بازی ہو
بہت سے جھوٹے افسانے کہیں اِک دوسرے سے ہم
یوں اِک دوجے میں کھو جائیں ، بھلا دیں ساری دنیا کو
بھلا دیں وقت کی ظالم حقیقت کو سرے سے ہم

بھلا دیں وقت کو ایسے ، خبر نہ ہو سکے یکسر
یونیورسٹی سے بیٹا اور بیٹی لوٹ آئے ہیں
تو اُن کی کھلکھلاہٹ سن کے سی پی یو کو شٹ کر دے
اُنہیں معلوم ہے ماں باپ نے جو گل کھلائے ہیں

ہمیں وہ لیلیٰ مجنوں کہہ کے چھیڑیں اور ہم بوڑھے
بہت جھینپیں ، جوانوں سے بہت شرمائیں ہم دونوں
مگر جب اگلا دن آئے ، یہی تم سے ہو فرمائش
چلو اِک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں