نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: انحراف

مرے خلوص کو ظالم کہاں سمجھتے ہیں
ہر اک سخن کو سیاسی بیاں سمجھتے ہیں

اِک ایسی بیوی کے شوہر بنے ہیں کہ توبہ!
تمام گونگے ہمیں ہم زباں سمجھتے ہیں

وہ فیس بُک میں تو مس نازنین بنتے ہیں
جو جانتے ہیں وہ گل شیر خاں سمجھتے ہیں

فنِ روباہی میں اں کو کمال حاصل ہے
کسی کو تیر کسی کو کماں سمجھتے ہیں

کسی کے جلوؤں نے میک اپ کا وہ سماں باندھا
جو دیکھتے ہیں وہ اس کو دکاں سمجھتے ہیں

کچھ ایسے بھی ہیں سمجھدار اس زمانے میں
کبوتروں کو بھی اکثر جو کاں سمجھتے ہیں

کبھی جو مجنوں میاں دیکھیں قبل از میک اپ
تو لیلٰی کو بھی وہ لیلٰی کی ماں سمجھتے ہیں

ہزار خود کو میں بقراط کر کے لے آؤں
وہ بیوقوف مجھے جاوداں سمجھتے ہیں

مرے مزاج میں کچھ اس قدر ہے عجز ظفر
سسر میاں مجھے اللہ کی گاں سمجھتے ہیں

Advertisements

جس سے جھاڑی ہے میں نے الفت تک
اُس نے کی ہے مری حجامت تک

اپنا اُلو جو سیدھا کرتا تھا
کر گیا ہے وہ میری عزت تک

اب تو مس نے مسسز نہیں بننا
میم پہنچی نہیں محبت تک

اُس سے دنیا میں کچھ نہیں ہونا
جس سے ہوتی نہیں حماقت تک

خُوگرِ قیدِ ازدواجی ہوں
اور آتی نہیں بغاوت تک

پھوڑ دے گا میاں پڑوسی تجھے
بی پڑوسن کو اس قدر مت تک

چل دیا لُوٹ کر اُسے آخر
جس نے کی چور کی وکالت تک

جس کو اُکّا نظر نہیں آتا
اُس کے ہاتھوں میں ہے قیادت تک

وہ لُٹیرا تو ہے مگر کچا
حیطہء فن نہیں سیاست تک

ٹھونس رکھی تھی رُوئی کانوں میں
جس نے دی تھی سخن کی دعوت تک

اِس زمانے میں بددعا ہے ظفر
زندگی کی دعا قیامت تک


انحراف ادبی فورم پر ہونے والا ہفتہ وار فی البدیہہ مشاعرہ ( 8 مارچ 2013) میں کہی گئی میری  فی البدیہہ غزل

سخت لیچڑ تھا وہ توہینِ وفا کرتا تھا
جب گلا اُس کا دباتے تھے گلہ کرتا تھا

حسرتِ تاڑ میں ہم آنکھ جھپکتے نہ تھے
تیرا کتا بھی جہاں اونگھ لیا کرتا تھا

کیسے اسمارٹ نہ ہوتا تیرا موٹا بھائی
ڈائٹنگ کرتا تھا’ اخبار پڑھا کرتا تھا

اب وہاں اُپلے سجاتی ہے تمہاری ماسی
"جن منڈیروں پہ کبھی چاند اُگا کرتا تھا”

اب کہیں اور لگاتا ہے "بٹر” کی ہٹی
جو ترے چاند سے چہرے پہ مرا کرتا تھا

اُس کے کرتوتوں پہ نکلے ہیں ضمیمے کتنے
جو ہر اک بات پہ لاحول پڑھا کرتا تھا

کتنا تبدیلی کا حامی تھا کہ اپنے بدلے
اپنے بیٹے کو الیکشن میں کھڑا کرتا تھا

جس میں برجستگئ حق کے جراثیم رہے
وہی ہر شخص کی آنکھوں میں چُبھا کرتا تھا

بھانڈ ایسا تھا کہ پھبتی سے نہ ٹلنے پاتا
عکس اپنا بھی اگر دیکھ لیا کرتا تھا

اب تو شائد ہی اُسے یاد رہا ہو کہ ظفر
کوئی دُم چھلا مرے ساتھ رہا کرتا تھا


انحراف ادبی فورم کے فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۴ دسمبر ۲۰۱۲ بیادِ عرفان صدیقی کے لئے میری کاوش

عمر بھر کیسے چلے سلسلہ نادانی کا
عشق ہے کوئی مقدمہ نہیں دیوانی کا

تیری تجرید کے مفہوم سمیٹے جائے
حوصلہ اتنا نہیں میری سمجھدانی کا

کاش آ جائے ذرا خوف خدا بھی ظالم
جس قدر شوق رہا تجھ کو حکمرانی کا

میں بھی ووٹر ہوں مری جان ترے حلقے میں
"حکم ہے مجھ کو خرابوں کی نگہبانی کا”

شرم سے جس نے جھکایا ہے ہمارے سر کو
کیسے میڈل نہیں ملتا اُسے عریانی کا

تیری استادی بھی ہے لائقِ تحسین مگر
میں تو قائل ہوں سدا سے تری اُستانی کا

سانڈ کا فرسٹ کزن ٹھہرا رقیبِ موذی
اور  فدوی کوئی بکرا نہیں قربانی کا

عقد وہ بُور کا لڈو ہے جو سب کھاتے ہیں
ذائقہ شوق سے چکھتے ہیں پشیمانی کا

تیل جلتی پہ گرانا تھا اُسی کا شیوہ
آج شکوہ ہے جسے سوختہ سامانی کا

سامنے قوم کے آ جائے گا اڑیل ٹٹو
جب بھی نقشہ کوئی کھینچے گا تری "خانی” کا

سب سیاست کے نشے میں ہیں گرفتار ظفر
مفت میں خواب نہ دیکھا کرو ارزانی کا


انحراف ادبی فورم کے فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۷ دسمبر ۲۰۱۲ کے لئے میری غزل کے چند اشعار

اپنی ہر شامتِ اعمال سے الفت  کی ہے
بات کچھ اور نہیں بات بس عادت کی ہے

میری لایعنیاں بھی لوگ سمجھ جاتے تھے
بات بگڑی ہے جہاں اُس نے وضاحت کی ہے

ڈاکٹر جی نے مجھے آج لکھی ہے چٹھی
ان کے پاؤں نے مرے واسطے زحمت کی ہے

میں نے دیکھے ہیں بہت سارے گھروں کے منظر
بادشاہی تو مری جان بس عورت کی ہے

کچھ کہا تو ہے الیکش کی ایمرجنسی میں
ہاں مگر یاد نہیں کس کی مذمت کی ہے

عمرو عیار کی زنبیل سہی توند مری
مجھ کو دعوت پہ بلایا ہے تو شرکت کی ہے

لیڈروں نے جو کہا ہے وہ دکھایا کر کے
جب بھی خدمت کے لئے آئے حجامت کی ہے

ہر میاں لگتا ہے مظلوم سی بیوہ کی طرح
زندگی کی ہے یا پوری کوئی عدت کی ہے

آٹھ بچوں کی کوئی فوج لئے پھرتے ہیں
عشق فرمایا ہے حضرت یا  مشقت کی ہے

لکھ پتی تھا پہ مقدمے میں الجھ بیٹھا تھا
اور اب وہ ہے مری جس نے وکالت کی ہے

یوں اڑنگی کوئی دے کر مجھے خوش بیٹھا ہے
یہ سمجھتا ہے کہ ظالم نے عبادت کی ہے

ٹنڈ کروا کے مری چارہ گری کی اُس نے
دور یوں ہاتھ کی کھجلی کی شکایت کی ہے

میں نے تو اُن کو بلایا تھا سرِ عقد ظفر
جانے کیا سوچ کے یاروں نے عیادت کی ہے


(انحراف کے ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ 26 اکتوبر 2012 بروز جمعہ کی شب کے لئے کہی گئی نعت)

عجب عشقِ نبی کی روشنی ہے
مری جاں میں اترتی روشنی ہے

اُنہیں کی یاد کی لو ہر طرف ہے
"ہر اک سو روشنی ہی روشنی ہے”

کسی سورج کی ہے ذرہ نوازی
مرے ادراک میں بھی روشنی ہے

اُنہیں کے ذکرِ انور کا ہے افسوں
فلک سے تا بہ دھرتی روشنی ہے

مرے سینے میں اُن کا نام دھڑکے
مرے چہرے سے چھنتی روشنی ہے

اے دنیا تیری چکاچوند جھوٹی
وہی بس ایک سچی روشنی ہے

زمانے کی سیاہ بختی ہے ورنہ
سبھی کے نام اُن کی روشنی ہے

شبِ گستاخ کو تاراج کر دے
ابھی دنیا میں اتنی روشنی ہے


(انحراف کے فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ 19 اکتوبر 2012 بروز جمعہ کی شب کے لئے کہی گئی غزل کے چند اشعار)

چھوڑ دے بیگم جو ہے عزمِ غدر رکھا ہوا
"ورنہ وہ ہے باندھ کر رختِ سفر رکھا ہوا”

بِل نہیں ہاتھوں میں ہے ریوالور رکھا ہوا
ڈاکٹر کاہے کو ہم نے ہے کِلر رکھا ہوا

جو بھی گھر والی کی منشا ہے وہی مرقوم ہے
یہ کوئی شوہر ہے یا ہے پوسٹر رکھا ہوا

ساس نے ہم کو کبھی سمجھا نہیں بیٹا تو پھر
کس طرح لاء میں ہے رشتہء مدر رکھا ہوا

ہنس رہا ہے وقت کے منصوبہ سازوں پر بہت
پالنے میں اک نیا لخت جگر رکھا ہوا

ہم بھی اُڑ سکتے تھے پریوں کے فسانوں میں کہیں
تیرے ٹسوؤں نے ہمیں ہے باندھ کر رکھا ہوا

کس طرح تقدیر نے ہم کو ملانا ہے بھلا
میں اِدھر رکھا ہوا ہوں تُو اُدھر رکھا ہوا

دیکھتا ہے راستہ میرے عزائم کا ابھی
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں سفر رکھا ہوا

طیش کے عالم میں ہم بھی ہوش میں رہتے نہیں
ہاتھ اُس نے بھی ہے طبلِ جنگ پر رکھا ہوا

کون ہے جس نے بٹیرانِ سیاست کو ہنوز
کھانے پینے کے لئے شیر و شکر رکھا ہوا

میسنا لگتا ہوں خاصا شکل سے تو کیا ہوا
ہر قدم تو ہے میانِ اہل شر رکھا ہوا

اس طرح کیسے کٹے گا زندگانی کا سفر
ہر اگر کے بعد اُس نے اک مگر رکھا ہوا

وہ بھی "کُولم کُول” ہے میک اپ کے صدقے میں جہاں
میں نے بھی اپنے لئے پولی کلر رکھا ہوا

ٹیچری کو چھوڑ کر ہم بھی بچر بن جائیں گے
ٹارگٹ ہم نے بھی ہے عید بقر رکھا ہوا

حلقہء احباب میں اُن کی بھی جگتیں ہیں بہت
نام جس جس نے ظفر کا ہے ڈفر رکھا ہوا