نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Tag Archives: ادبیکا

"ست بھرائی” سے جس کو الفت ہو
ڈھول اُس کے گلے کا شامت ہو

عشق کو عقد کی سزا جو ملے
تو یہ پھر قیدِ با مشقت ہو

کون سچائیوں کو چاٹا کرے
جھوٹ کا نام جب سیاست ہو

عشق میں ہار بھی قبول اُسے
جو گلے کا ہو، بیش قیمت ہو

کیوں لگا لائیں سب کو پیچھے ہم
کس لئے عشق کی حماقت ہو

ڈھیٹ پن کے بھی فائدے ہوں گے
کچھ تو رسوائیوں پہ خفت ہو

دوسروں پر وہی ہنسے جس میں
خو پہ ہنسنے کی استطاعت ہو

جب بھی میرا رقیب پکڑا جائے
جرم ناقابلِ ضمانت ہو

ایک سو بیسویں سے بھی یہ کہا
"تم مری آخری محبت ہو”

کیوں مجھے یاد آ رہے ہو بہت
میرے امراض کی وضاحت ہو

مسخرا سا دکھا رہا ہے مجھے
آئینہ قابلِ مذمت ہو

ووٹ تو شیر کو دیا تھا ظفر
کیوں گدھوں کی یہاں حکومت ہو


متھے لگا تو اب کے مع پنگا تمام شد
ہم بھی گئے تو ساتھ ہی انڈیا تمام شد

اِس بار بھی پکارتے پھرتے ہیں حکمراں
پھر کوئی حادثہ اور پنامہ تمام شد

مہمان کی ہے توند یا گودام ہے کوئی
ٹبر کو دیر کیا ہوئی کھانا تمام شد

کیا ہو گیا ہے عقد کے ہوتے ہی آپ کو
یوں چرمرا گئے ہیں کہ گویا تمام شد

کیدو چچا کےغیض سے لگتا تو ہے مجھے
رانجھے میاں کا گوڈا و گٹا تمام شد

پھر سے وہی روٹین، وہی دال بھات ہے
عیدِ بقر گزر گئی، بکرا تمام شد

منظر کے انتخاب نے چھت سے گرا دیا
سیلفی کے اشتیاق میں بندہ تمام شد

تجھ سے غریب خانہء لیڈر کی کیا کہوں
دو چار ہی کنال میں بنگلا تمام شد

مٹیار کا جو ویر ہے، اِک داند ہے ظفر
ہتھے چڑھا تو جانئے پھجا تمام شد


ثمر آور نہیں ہے دوستی کیا
اسے بھی وقت کی دیمک لگی کیا

دلیلِ زندگی کیوں دے رہے ہو!
مقدمے سے بھی ہونا ہے بری کیا

کچل کر خود کو آگے بڑھ رہے ہو
یہی رستہ بچا ہے آخری کیا

یہ سمجھایا نہیں جا سکتا تم کو
کنارِ آبجو ہے تشنگی کیا

سرِ راہے کوئی غرفہ نہیں تھا
صبا کا ہاتھ خوشبو تھامتی کیا

مسافت کے جنوں میں سُن نہ پایا
بتاتی رہ گئی تھی آگہی کیا

سخن میں بھی تھے سناٹے بلا کے
ہماری خامشی پھر بولتی کیا

بھنور سے بچ کے ساحل پر جو آتا
تو پھر کشتی مری نہ ڈوبتی کیا؟

رہن میں رکھ لیا ہے بادلوں نے
سحر ہے تعزیہ ء روشنی کیا

کسی کی اپنی مقناطیسیت تھی
بھلا ہم کیا ہماری عاشقی کیا

ظفر نظریں چراتا ہوں میں خود سے
دکھائے گی تماشہ بے بسی کیا


اپنے عمل سے وقت کو ایسا جواب دے
جس پر زمانہ انگلیاں دانتوں میں داب دے

شادابیوں کو زندگی کے کینوس میں لا
جھلساتے موسموں کو بھی رنگِ سحاب دے

اوروں کی سمت انگلی اٹھانا تو سہل ہے
اہلِ نظر کو اہلیتِ احتساب دے

کیوں ظلمتِ بسیط ہے ہر سمت ، کچھ تو کہہ!
کس خاک میں تھے کتنے ستارے حساب دے

آنکھوں میں ابتسام کی شمع جلا کے رکھ
مجھ کو بھی ایک میٹھی نظر کا ثواب دے

میرے تمام خواب بنے ہیں عذاب کیوں
زنبیلِ دل الٹ دے وفا کا حساب دے

کب تک رہے گی اس مین خزاؤں کی بیکلی
میرے لہو کے رنگ سے گلشن کو آب دے

پھر سے ہو مجھ کو جرمِ محبت کا حوصلہ
پھر سے مری کتاب کو تو انتساب دے