نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے

درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے
کوئی آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جاتا ہے

خامشی پہنی تھی اوروں سے زیادہ میں نے
دیکھنے والوں کا کیوں مجھ پہ ہی شک جاتا ہے

دل کے آوازے کو زنجیر بھی پہنا دیکھی
یہ مگر صورتِ پازیب چھنک جاتا ہے

کبھی رہنے نہیں دیتا ہے تہی دست مجھے
جو بھی آتا ہے کوئی دے کے کسک جاتا ہے

بددعا سی ہے مسافر کو کسی کی شائد
پاس آ جاتی ہے منزل تو بھٹک جاتا ہے

جب کبھی دل میں تری یاد کی لو جاگتی ہے
میرے اندر کوئی بچہ سا ہمک جاتا ہے

کالے کوسوں کے مسافر کو سکوں خاک ملے
اپنی جانب بھی تو چلتے ہوئے تھک جاتا ہے

تشنگی روح کی بجھتے نہیں دیکھی ہے کبھی
ویسے جانے کو تو لب جام تلک جاتا ہے

اِس کو پاتال میں گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ زمیں زاد جہاں تابہ فلک جاتا ہے

اگر ہے نعتِ نبی کی خواہش تو روشنائی یہ معتبر ہے

 

اگر ہے نعتِ نبی کی خواہش تو روشنائی یہ معتبر ہے
اِسی سے موزوں بنے گی کاوش یہ خونِ دل ہے یہ چشمِ تر ہے

وہ ساعتوں کے صدف کہ جن سے ملے ہیں اُن کی ثنا کے گوہر
یہ اِتنے برسوں کی زندگی بس اُنہیں کے صدقے میں بارور ہے

اُنہیں کے ذکرِ مزکّی سے ہو گئی ہے سرشارزندگانی
زمانے کی دھوپ میں ہمارے لئے یہی سایہء شجر ہے

مجھے یقیں ہے کہ خارزاروں میں بھی گلِ تر ہے میرا طالع
نبی کی ذاتِ حمید و طیب مطافِ فکر و نظر اگر ہے

یہ نعت گوئی کا کیف گویا اُڑا کے لے جائے مجھ کو بطحا
یہ میری کرسی، یہ میری لکھنے کی میز جیسے کہیں اُدھر ہے

کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا

کیسے قبضہ نہیں دیتی ہے شبانہ دل کا
کیوں اُڑنچھو ہے بھلا لے کے بیعانہ دل کا

مشورہ عقل کا مانا نہیں یہ جان کے بھی
احمقانہ ہے ہمیشہ سے قیانہ دل کا

دیکھتے دیکھتے ہو جاتی ہے ہر نیوز بریک
راز چھپتا ہے کہاں کوئی زنانہ دل کا

سب گرفتارِ وفا ہو کے یہیں آتے ہیں
حُسن والوں کو کھلا رہتا ہے تھانہ دل کا

اُن کو کانا تو کہا جا نہیں سکتا ہرگز
میچ کر آنکھ جو لیتے ہیں نشانہ دل کا

چاند چہرے پہ دوپٹے کا ہے ڈھاٹا، دیکھو
کوئی آیا ہے چرانے کو خزانہ دل کا

کیوں تری یاد دسمبر میں رلاتی ہے مجھے
اِتنا آساں نہیں جاڑے میں نہانا دل کا

سرجری صبر سے روزانہ میں کرواتا ہوں
لوگ فالودہ بنا تے ہیں روزانہ دل کا

ساتھ میں چاہیئے دولت کی بھی میٹھی چٹنی
ہے تو مرغوب اُنہیں کھنڈ مکھانہ دل کا

تیرے ہونٹوں پہ وہی ”دُور دفع“ کے فقرے
تیری آنکھوں پہ وہی شعر سُنانا دل کا

تمام عالم نے فیض پایا مدینہ وہ نور کا نگر ہے

تمام عالم نے فیض پایا مدینہ وہ نور کا نگر ہے
وہ جس نے دونوں جہاں اُجالے وہیں کا خورشید ہے قمر ہے

جو نعرہء لااِلہ گونجا، رہا نہ آسیب تیرگی کا
سبیلِ حق تا ابد وہی ہے جو صبحِ نوخیز کا گجر ہے

نبی کی الفت مرا اثاثہ، تہی نہ رکھے کسی کا کاسہ
یہی ہے زادِ حیات میرا، اِسی سے میری گزر بسر ہے

وہ لوحِ اول صداقتوں کی، وہ مہرِ آخر نبوتوں کی
میں کیا کہوں اُس کی رفعتوں کی مقامِ سدرہ کی تو خبر ہے

کہاں وہ آتش خمیر مخلوق اور کہاں خاک دان لیکن
بشر کی تعظیم کرتے ہیں کہ خدا کا محبوب بھی بشر ہے

اُسی کا دامن ملے گا ہم کو تو زخم صدیوں کے بھر سکیں گے
وہ آس ہے ہر مریضِ غم کی وہ ہر زمانے کا چارہ گر ہے

جو اُس کی حرمت پہ کٹ مرے ہیں وہ زندہء جاوداں ہوئے ہیں
جو زندگی اُس پہ ہے تصدق وہ چشمِ داتا میں معتبر ہے

بنی کے بتلائے راستے پر چلے تو پاﺅ گے خیر یارو!
کسی کو منزل کی فکر کیا ہو کہ کہکشاں کا اگر سفر ہے

کبھی کسی بے کنار منزل کی سمت جاتے نہیں مسافر
بھٹکنے پاتے نہیں مسافر، نبی کا اسوہ جو راہبر ہے

اُسی کے موجِ کرم نے سیراب کر دیا ہے زمانے بھر کو
وہ ایک رحمت کی آبجو ہے، وہ ایک دجلہء بے بھنور ہے

ہزار معجز بیاں ہو شاعر، مگر ہیں بیکار سب مظاہر
سلیقہء نعت گوئی نہ آ سکا تو سمجھو کہ بے ہنر ہے

وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی

وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی
اس چکر نے مجھ کو بھی چکرایا تھا
میں نے اپنی جانو کو
عجلت میں بلوایا تھا
اور وفا کی وہ دیوی
آناً فاناً آ پہنچی
کال کی ایمرجنسی میں
میک اپ کرنا بھول گئی
اور میں کب سے ہکا بکا سوچتا ہوں
پچھلے گھنٹے جن خاتون سے باتیں کی تھیں، کون تھی وہ؟
کچھ کچھ اُس میں میری جانو کی چھب تھی
لیکن میری جانو اُن جیسی کب تھی
وصل میں ایمرجنسی ٹھیک نہیں ہوتی

مار زیرِ آستیں ہے ہی نہیں

مار زیرِ آستیں ہے ہی نہیں
یار گویا دنیا بیں ہے ہی نہیں

ٹارچ کا ہی کام کوئی لے سکے
اِس قدر روشن جبیں ہے ہی نہیں

پارلر سے جب سے ہو کر آئی ہو
کوئی تم جیسا حسیں ہے ہی نہیں

دل میں گھستا آئے کیوں جوتوں سمیت
مہرباں اپنے تئیں ہے ہی نہیں

پونچھ لوں میں ہاتھ اُس کی شال سے
اِس قدر کوئی قریں ہے ہی نہیں

یہ رہا نچڑے ہوئے لیموں کا رس
آپ کہتے تھے نہیں، ہے ہی نہیں

اُس نے دھوکہ دے دیا تو کیا ہوا
جس پہ ہم تم کو یقیں ہے ہی نہیں

میں پئے بھونڈی گیا تو یہ کھلا
اُس مکاں میں تو مکیں ہے ہی نہیں

نغز گو رو میں اُسے بھی کہہ گئے
جو سرے سے نازنیں ہے ہی نہیں

پروردگارِ عالم

میں کچھ نہیں، تو سب کچھ
میں ادنیٰ تر، تو برتر
میں ایک قطرے جیسا
تو اک محیط ساگر
صناعی کے نمونے
نقش و نگارِ عالم
پروردگارِ عالم

ہر رنگ، رنگ تیرا
ہر خوشبو، خوشبو تیری
بکھری ہوئی ہے قدرت
دنیا میں ہر سو تیری
تیری جھلک دکھائے
ہر شاہکارِ عالم
پروردگارِ عالم

جو بھی زمیں کے اندر
تو اُس کا راز داں ہے
جو بھی زمیں کے اوپر
تیرا ہی نغمہ خواں ہے
کرتا ہے حمد تیری
ہرجاندارِ عالم
پروردگارِ عالم

یہ وقت کی مسافت
یہ زیست کا تبسم
یہ رحمتوں کی رم جھم
یہ دھوپ کا جہنم
تجھ سے فشارِ ہستی
تجھ سے قرارِ عالم
پروردگارِ عالم

یہ ارتقا ءکے دعوے
ہیں وہم کے مظاہر
تاریخِ ہر زماں نے
دیکھا یہی ہے ، آخر
تیری طرف ہی لوٹے
سینہ فگارِ عالم
پروردگارِ عالم

ٹوٹے بتِ زمانہ
اُتریں دلوں کے جالے
عنوانِ زندگی ہوں
پھر سے ترے حوالے
ہوجائیں تیرے تابع
سب دنیا دارِ عالم
پروردگارِ عالم