نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

بنا دے بھیجے کی لسی، زنانی ہو تو ایسی ہو

بنا دے بھیجے کی لسی، زنانی ہو تو ایسی ہو
ہماری کھوپڑی مثلِ مدھانی ہو تو ایسی ہو

دکھا کر ایک میزائل کہا ہے ہم نے زوجہ سے
زباں جیسی اگر تم میں روانی ہو تو ایسی ہو

بہ رُوئے حسن بے سہرہ، قبولا جائے سہ بارہ
بدن پرہر چھڑے کے شیروانی ہو تو ایسی ہو

وفا کی رہگزاروں میں اڑنگی باز ہیں سارے
کسی پر دوستوں کی مہربانی ہو تو ایسی ہو

سلوکِ زوجۂ اوّل سے بھی عبرت نہیں پکڑی
مسلسل آرزوئے عقدِ ثانی ہو تو ایسی ہو

لو اس ہفتے کو بھی سسرالیوں کے نام ہے سنڈے
مقدر میں بلائے ناگہانی ہو تو ایسی ہو

سگانِ خوباں دہلائیں، مگر ہم سر کے بل جائیں
سرِ کوئے نگاراں آنی جانی ہو تو ایسی ہو

جو بچہ دیکھے پکچر میں اُسی پر ریجھ کر بولے
ہمارے پیار کی کوئی نشانی ہو تو ایسی ہو

تری بیوٹی سے میک اپ کی تہیں کھرچے، تجھے سمجھے
ترے بھرے میں نہ آئے، جوانی ہو تو ایسی ہو

جھکی رہتی ہیں گھر میں مونچھیں ہیبت خان لالہ کی
کہ اونچا بولنے نہ دے پٹھانی ہو تو ایسی ہو

پئے آتش نشانی فائٹرز کو کال جا پہنچے
سرِ بزمِ سخن شعلہ بیانی ہو تو ایسی ہو

میرا جیون ہے خود میری کہانی سے بھی آگے کا

میرا جیون ہے خود میری کہانی سے بھی آگے کا
فسانہ ہوں حیاتِ جاودانی سے بھی آگے کا

زمیں کی قید سے اب تک رہائی مل نہیں پائی
سفر رکھا ہے سقفِ آسمانی سے بھی آگے کا

نہ جانے کیا ہوا کہ پھرکوئی بسنے نہیں پایا
یہ دل ہے اک مکاں تیری نشانی سے بھی آگے کا

کسی کی موت بھی متروک کر سکتی نہیں اِس کو
محبت سلسلہ ہے زندگانی سے بھی آگے کا

خموشی کی زباں کا ترجمہ بھی ہو رہا ہوتا
اگر ابلاغ ہوتا ترجمانی سے بھی آگے کا

بہت سے قرض ہیں اندوہِ انسانی کے بھی تم پر
کبھی سوچا کرو سوزِ نہانی سے بھی آگے کا

تمھاری کال آ تی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں
نشہ رہتا ہے شامِ ارغوانی سے بھی آگے کا

پروں میں باندھ رکھی ہے مسافت خود کو پانے کی
ارادہ ہے فلک کی میہمانی سے بھی آگے کا

ظفرؔ حدِ نظر تک کی بصارت کا فسوں توڑو
تمھیں تو سوچنا ہے لامکانی سے بھی آگے کا

فاروقِ اعظمؒ

اسلامیوں کا اک نقشِ اسلم
ہونے نہیں دی لو حق کی مدھم
کعبہ میں سربسجدہ تھا ضیغم
فاروقِ اعظمؒ

ایمان دے کر تجھ سے ولی کو
تحفہ دیا تھا رب نے نبی کو
تحریک کر دی کچھ اور محکم
فاروقِ اعظمؒ

بہرِ وفا تھی جاں بر ہتھیلی
ہر جنگ میں تھا آقا کا ساتھی
تیغِ فساں تھی بے چین ہر دم
فاروقِ اعظمؒ

قیصر نہ کسریٰ ٹھہرا مقابل
ہر رن میں تجھ سے ہارا تھا باطل
اسلام کا اک لہراتا پرچم
فاروقِ اعظمؒ

الفاظ بخشے تونے اذاں کو
گویا بڑھا دی قندیل کی لو
تاحشر گونجے گا جس سے عالم
فاروقِ اعظمؒ

انصاف تیرا بے مثل ٹھہرا
تاریخ پر تھا اِک نقش گہرا
گفتار بے لاگ، کردار مبرم
فاروقِ اعظمؒ

کیوں ظلمتوں میں کھویا ہوا ہو
روشن ہمارا بھی راستہ ہو
کچھ لو تمھاری پالیں اگر ہم
فاروقِ اعظمؒ

دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف

دِل سے یوں کرنا ہے جذبوں کو تلف
جس طرح کرتے ہیں سنڈیوں کو تلف

عدل کا چھڑکاؤ اِتنا بھی نہیں
ملک سے کر دے جو چوروں کو تلف

سر کا فالودہ بنا سکتے ہیں آپ
کر نہیں سکتے ہیں سوچوں کو تلف

لو مرا بھی رول نمبرآ گیا
عشق نے کرنا ہے کتنوں کو تلف

بھر دیا ہے توند کے تنور کو
کر دیا ملا نے مرغوں کو تلف

مرحبا خاصی صفائی ہو گئی
کر دیا اندھوں نے کانوں کو تلف

سرفروشی میں ہیں یکتا زن مرید
کر دیا ہے گھر سے چوہوں کو تلف

قیس کو کرنے کا ٹھیکہ مل گیا
کوچۂ لیلیٰ سے کتوں کو تلف

کیوں بجنگ آمد کوئی کرنے لگا
توپ کے گولوں سے مکھیوں کو تلف

گیسوئوں کو گہری سوچوں سے بچا
ٹڈی دل کر دے گا فصلوں کو تلف

کاش ووٹر آپ ہی کرنے لگیں
لیڈروں کے سبز باغوں کو تلف

تو ظفر کیا چیز ہے کہ وقت نے
کر دیا ہے اچھے اچھوں کو تلف

بلو نانی گٹھ جوڑ

سب حریصانِ اقتدار و زر
ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں

قوم دھوکہ نہ کھائے گی ہرگز
یہ سیاست کے ریلو کٹے ہیں

ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے

ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے

مجھ میں نیا دریچۂ امکان نعت ہے

مجھ میں نیا دریچۂ امکان نعت ہے
نابینا کوجو آنکھ ہوئی دان، نعت ہے

نیت تو باندھ لیجئے شہرِ خیال کی
بابِ سخن کی خیر ہے، دربان نعت ہے

ذکر نبی سے گویا دبستان کھل گیا
اک کہکشاں ہے، دیدۂ حیران نعت ہے

ہر سانس ہے معطر کہ میلاد برپا ہے
ہر لفظ کہ ہے صورتِ دیوان، نعت ہے

منظوم کر رہا ہوں حیاتِ رسول کو
وا ہے نظر کے سامنے قرآن، نعت ہے

رہرو بھی کارواں کی طرح ہے رواں دواں
بسکہ سخن سفر ہے تو سامان نعت ہے

دل میں جو تازگی ہے اسی کے طفیل ہے
سوئے مدینہ کھلتا ہوادان نعت ہے

الفاظ سے بنی ہوئی دنیا ہے عام سی
لیکن میں خاص ہوں مری پہچان نعت ہے

میری بساط کیا ہے کہ میں نعت لکھ سکوں
خود ہی جو بنتی جاتی ہے، ہر آن، نعت ہے

تجھ کو تو جیسے دولتِ کونین مل گئی
خوشا ظفرؔوراثتِ حسان نعت ہے