نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

چہچہے جس سے تھے وہ بھی بے زباں بنتا گیا

چہچہے جس سے تھے وہ بھی بے زباں بنتا گیا
بیگمانہ آمریت میں میاں بنتا گیا

کالے دھندے والوں کے اونچے محل بنتے گئے
تیرا میرا گھر سمٹ کر پانداں بنتا گیا

ارتقائے حُسن کا عالم نہ ہم سے پوچھئے
ریشمی بننا تھا موٹو ریشماں بنتا گیا

عشق ہم نے جب کیا ہر بی جمالو سے کیا
ہر اڑنگی بازاپنا رازداں بنتا گیا

بال رنگوانے لگا نائی کے آگے بیٹھ کر
دیکھتے ہی دیکھتے بڈھا جواں بنتا گیا

اولاً تم کو شریف انساں کہا تھا اور پھر
گالیوں والا ہی اندازِ بیاں بنتا گیا

غیر پہنچا تیری انگنائی میں تو کچھ نہ ہوا
میں گیا تو چار سو شورِ سگاں بنتا گیا

آج ہر خوردوکلاں ہونے لگا درپے مرے
میرا سچ میرے لئے اک امتحان بنتا گیا

ہم کو بتلاتا رہا وہ سادگی کی برکتیں
اور خود وہ کاسمیٹکس کی دکاں بنتا گیا

رفتہ رفتہ اُس کو بھی دنیا شناسی آ گئی
جو سراپا گل تھا وہ گل شیر خان بنتا گیا

عمر تو ہم دونوں کی یکساں تھی لیکن دن بدن
تیر وہ بنتا گیا اور میں کماں بنتا گیا

ہو گیا معلوم آٹے دال کا بھاؤ اُنہیں
درد میرا جب سے دردِ ناصحاں بنتا گیا

جس کے جی میں جو بھی آئی ہے وہی کرنے لگا
کارواں گویا جلوسِ رہرواں بنتا گیا

Advertisements

گھورتا ہے اُس کا بھائی فیل تن علیٰحدہ

گھورتا ہے اُس کا بھائی فیل تن علیٰحدہ
اور رقیب بھی بنا ہے ٹارزن علیٰحدہ

پولیٹکس میں نہیں تو چانس ہی گنوا دیا
جن کے بینک میں بھرا ہے کالا دھن علیٰحدہ

کالی پیلی سی صحافتوں کے طور دیکھئے
سُرخیاں علیٰحدہ ہیں اور متن علیٰحدہ

بیویوں کے پاتھ میں بھی بیلنوں کے ہیں تبر
اور دور بھی ہے خاصا پُر فتن علیٰحدہ

اُس کی سازشوں سے ہی پٹا ہوں میں مبینہ
دے رہے تھے جو وفاؤں کے وچن علیٰحدہ

بیویوں کا شک میاؤں پر بھی پہلے کم نہیں
حشر ڈھا رہا ہے پنکی کا چلن علیٰحدہ

تین تین مرلوں کے گھروں میں ہم کرائے دار
لے کے بیٹھے ہیں وہ گلشنِ عدن علیٰحدہ

دال بھات سے میاں کے یار کی مدارتیں
کر لیا ہے اپنے واسطے چکن علیٰحدہ

لیڈروں کی پود بھی سیاستوں میں آ گھسی
تن گئی ہے قوم پر یہ اور گن علیٰحدہ

لُوٹتے نہیں زنانہ وار ہی مشاعرے
بزم میں وہ کر رہے ہیں چھن چھنن علیٰحدہ

پڑا ہے ایک یاد اوڑھ کر بدن علیٰحدہ

پڑا ہے ایک یاد اوڑھ کر بدن علیٰحدہ
بدل رہی ہے زندگانی پیرہن علیٰحدہ

کہیں کہیں پہ خون میں جنون کیسا آ گیا؟
پیامِ یزداں ہے الگ یا اہرمن علیٰحدہ؟؟

ہر ایک شاخِ آرزو پہ زخم بھی کھلے رہے
بہار بھی مگن رہی چمن چمن علیٰحدہ

میں دفن ہو چکا ہوں عمرِ رائیگاں کی قبر میں
مرے لئے ہے زندگانی کا کفن علیٰحدہ

بجا غموں کی یورشوں میں خُوئے صبر خوب ہے
مگر ہے مسکرائے جانے کا بھی فن علیٰحدہ

کسی بھی مصلحت سے ماندہ پا نہیں ہوا کبھی
مجھے لئے پھرا جنوں کا بانکپن علیٰحدہ

بھٹک بھٹک کے راستوں پہ مل ہی جائیں گے کہیں
جلوسِ رہرواں سے ناخدائے من علیٰحدہ

ہم ایک سمت بہتی موجِ صوت ہیں تو ایسا کیوں
تری پکار اور ہے مرا سخن علیٰحدہ

مرے نصیب میں ہے اُس دیار میں بھی دارِ شب
ستیزہ کار ہے جہاں کرن کرن علیٰحدہ

یہ کیسے فاصلوں کی ہے خلیج درمیان میں
غمِ زمانہ ہے جدا، تری پھبن علیٰحدہ

حوادثِ زمانہ کے عذاب اک طرف ظفرؔ
تمام عمر اک سمے کی ہے چبھن علیٰحدہ

جو گھر میں چپقلش کا پھر مقام آیا تو کیا ہو گا

جو گھر میں چپقلش کا پھر مقام آیا تو کیا ہو گا
تمھارے ہاں سے بھی شورِ دھڑام آیا تو کیا ہو گا

جہاں سے ہم پہ ٹھنڈا ٹھار پانی کل بھی آیا تھا
اُسی غرفے سے پھر کوئی سلام آیا تو کیا ہو گا

تحفظات ایسے ہی ترے میرے ملن پر ہیں
اگر نہ میم کے پہلو میں لام آیا تو کیا ہو گا

ابھی مہمان ہے اور آپ ناکوں ناک آئے ہیں
یہی سالا اگر بہرِ قیام آیا تو کیا ہو گا

عدالت پر بہت چیں بہ جبیں ہونا نہیں اچھا
اگر اِن فیصلوں کو اژدھا آیا تو کیا ہو گا

بڑی لش پش دکھاتا جا رہا ہے عاشقِ بے غم
ترے کوچے میں بے نیل و مرام آیا تو کیا ہو گا

پلاننگ وصل کی کر لی ہے لیکن اس کا بھی ڈر ہے
مجھے نزلہ رہا اُس کو زکام آیا تو کیا ہو گا

جہاں پر تم دئے جاتے ہو بھاشن نوجوانوں کو
وہاں پر تذکرہء ڈیڈ و مام آیا تو کیا ہو گا

وطن کا نوجواں اقبال کا شاہین ہے لیکن
یہ جنگِ ازدواجی میں ہی کام آیا تو کیا ہو گا

سبھی کے منہ کھلے رہ جائیں گے فرطِ تحیر سے
"سرِ محفل محبت کا پیام کا آیا تو کیا ہو گا”

جو سچی بات کرتا ہے وہ کیسے بات کرتا ہے
اُسے بھی ڈالنے کوئی لگام آیا تو کیا ہو گا

غمِ ہستی نے اب جن چہروں پر بارہ بجائے ہیں
میں اُن پر ٹانکنے کو ابتسام آیا تو کیا ہو گا

سُنا ہے جام ہوتا ہے تو شاعر شعر کہتا ہے
ہمارے تو پر مکھن نہ جام آیا تو کیا ہو گا

کوئی تو سننے والا ہو رضاکارانہ عرضِ دل
ظفر کو سخت زوروں کا کلام آیا تو کیا ہو گا

بھرے جب سے دو تین ٹبر کھچا کھچ

بھرے جب سے دو تین ٹبر کھچا کھچ
ہوا ہے سیاست کا خچر کھچا کھچ

ہمارے ہی ٹیکسوں کا پیسہ اُڑا کر
بنے ہیں وہ لیڈر مخیر کھچا کھچ

اگر تم کسی اور کی ہوگئی ہو
ہمارے بھی دل میں ہیں دلبر کھچا کھچ

بھلا ہیروئن کی سمگلنگ میں کیا ہے؟
بھرو بوریوں میں ٹماٹر کھچا کھچ

کوئی کام کا بندہ ملتا نہیں ہے
اسمبلی میں دیکھے مچھندرکھچا کھچ

اگرچہ بہت مفلسی کا ہے رونا
بہر سو ہے جنسِ دِساور کھچا کھچ

بھرو ہاسٹل بے گھروں سے دبا دب
بچھائے چلے جائو بسترکھچا کھچ

سمجھتے تھے ہم جس کو دیوارِ گریہ
وہاں تھاپے جاتے ہیں گوبرکھچا کھچ

.کہاں نغمگی پاپولر سنگروں میں
گروپوں میں ہیں سارے جھینگر کھچا کھچ

پلاننگ اِدھر بھی کہ اب ہیں ظفر ؔجی
ہمارے وطن میں سخنورکھچا کھچ

اگرچہ کہنے کو اُس سے بڑھ کر کہاں کوئی جانثار ہوگا

اگرچہ کہنے کو اُس سے بڑھ کر کہاں کوئی جانثار ہوگا
نثار ہونے کا وقت آیا تو سب سے پہلے فرار ہو گا

ہزار روکو ، نہیں رُکیں گے، ہزار ٹوکو، نہیں ٹلیں گے
جہاں جہاں شرپسند ہوں گے، وہاں وہاں شر شرار ہو گا

یہ دورِ حاضر کی عاشقی ہے، تضیحِ اوقات ہے سنورنا
نہ ہم نے ہی شیو کی ہوئی ہے نہ اُن کا سولہ سنگھار ہو گا

یہ دیکھنا ہے نئے ڈیزائن کا کیسا شاہین آ رہا ہے
شکار کر پائے گا کسی کو یا خود کسی کا شکار ہو گا

جنابِ ناصح سے فیض کیا ہو جو درد سے آشنا نہیں ہے
نہ کیلکولیٹر ہے پاس اس کے ، نہ کچھ غموں کا شمار ہو گا

جو ٹھرکیوں میں گھُسے ہوئے ہیں، وہ چار ہی لتروں کے جن ہیں
نہ دل سے اُٹھے گی ہُوک کوئی، نہ عاشقی کا بخار ہو گا

الیکشنوں میں کبھی اِن ایکشن، عوام ہوں گے نہ پولیٹیشن
بنامِ ووٹر، بنامِ لیڈر، حمار ہوں گے، کمہار ہو گا

جو قوم کا مال کھا رہے ہیں وہ کس بُری طرح کھا رہے ہیں
نہ ہو گا کوئی حیا کا قصہ، نہ حادثہء ڈکار ہو گا

جو ٹی وی چینل کے واسطے لکھ رہا ہے محنت کشوں کے نوحے
گداز صوفے میں وہ دھنسا ہو گا اور منہ میں سگار ہو گا

کسی بھی لیڈر نے سچا وعدہ کیا تو ہو گا فضول یکسر
ہمیں یقیں آ سکے گا کیسے، تمھیں کہاں اعتبار ہو گا

پولیس والے پکڑ پکڑ کر جو آج لٹکا رہے ہیں اُلٹا
میں مقتدر بن گیا تو اک اک یمین ہو گا یسار ہو گا

ہزار کاما سہی مگر افسروں کی نظروں میں کچھ نہیں ہوں
کروں گا میں چاپلوسی سب کی تو میرا بیڑہ بھی پار ہو گا

یہ کارِ بیکاری کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یہ کارِ بیکاری کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں
آؤ سیاست ہی چریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

آنکھوں کا پردہ تو رہا عشاق میں نہ حُسن میں
’’پرنے‘‘ ہیں اور نہ چادریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کچھ حُسن والے مطلقاً حُسنِ بیاں رکھتے نہیں
لہجے ہیں یا ہیں ٹھوکریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کیسا ہے یہ طرزِ سخن، ہم پاس آئے تو کہا
’’ہٹ کے کھلو پچھاں مریں‘‘، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یہ دورِ’’ آئی ٹی ‘‘ہے سو آپس میں ہی دکھ سُکھ کہو
نہ گوریاں نہ گاگریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

جب ایک گھر میں برتنوں کی شکل میں موجود ہیں
تو کیوں نہ ٹکرایا کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

شغلِ چغل خوری سے ہو جاتا ہے ہلکا پیٹ کچھ
اوروں پہ ڈپریشن دھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اہلِ نظر بننا ہے تو ضعفِ بصارت کس لئے؟
کھاتے رہو سب گاجریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اب بیٹھ کر باقاعدہ میرٹ پہ کر لیں فیصلہ
کن کن حسینوں پہ مریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کس عمر میں وعدہ کسی سے کر رہے ہیں ہم نفس!
بادام کی ہیں آفریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

ہم عمر ہو کر’’میڈمیں‘‘ہیں اس قدرشاداب کیوں؟
واں کاکلیں، یاں جھالریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

بیکار، اہلِ کار ہیں، کیوں اپنے طالع میں نہیں؟
چم چم چمکتی موٹریں ، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

لب بستہ ہو جاتے ہیںکیوں جب بولنے پر آتی ہیں
یہ بیویاں،یہ ٹیچریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

جیسے بہ وقتِ گفتگو، تگڑوں سے دب جاتے ہیں سب
ویسے خدا سے بھی ڈریں ، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یوں خاک ہوں ہم تم رواں، پائیں لفافوں کے نشاں
تو لطق میں چابی بھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اہلِ صحافت سے کوئی متھا لگا سکتا نہیں
دے دیں گے منہ میںفیڈریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

پھر گرم گفتاری کا چو لہاآن کر دو آن کر
کیوں سرد مہری سے ٹھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

غوطے لگانا سیکھ لیں بے فیض باتوں کے ظفرؔ
ہر نیوز چینل میں تریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں