نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

لب بستگان کو بھی گلہ کچھ نہ کچھ تو ہے

لب بستگان کو بھی گلہ کچھ نہ کچھ تو ہے
خاموشیوں میں رنگِ صدا کچھ نہ کچھ تو ہے

میں مانتا ہوں اُس نے مجھے کر دیا تباہ
اس میں مگر مری بھی رضا کچھ نہ کچھ تو ہے

فردوس تو ہے آخری ہچکی سے قبل بھی
یہ سلسلہء ارض و سماء کچھ نہ کچھ تو ہے

جو میرے دل کی رُت ہے کسی پر کھلی نہیں
چہرے کا رنگ اس سے جدا کچھ نہ کچھ تو ہے

احباب کی جدائی نے مارا نہیں تو کیا
گہرا نہیں ہے زخم دلا! کچھ نہ کچھ تو ہے

لاحاصلی کے کتنے زمانوں سے ساتھ ہے
یہ جستجو کہ بعد از خلا کچھ نہ کچھ تو ہے

میں مطمئن تھا نام مٹا کر ترا مگر
دیوارِ جان پہ پھر بھی لکھا کچھ نہ کچھ تو ہے

سورج نہیں، میں کرمکِ شب تاب ہی سہی
ظلمت میں اہتمامِ ضیا کچھ نہ کچھ تو ہے

منصف یونہی تو بارِ دگر سوچتے نہیں
اب کے ترے بیاں میں نیا کچھ نہ کچھ تو ہے

یوں تو ہیں شر پسند کڑی نظروں میں ظفر
پھر بھی ہوائے صدق و صفا کچھ نہ کچھ تو ہے

Advertisements

کینچلی سچ کی میں اب مار لوں، کیا کہتے ہو

کینچلی سچ کی میں اب مار لوں، کیا کہتے ہو
مول ہر شخص سے تکرار لوں، کیا کہتے ہو

مرگِ احساس کا ماتم نہیں ہوتا مجھ سے
رینٹ پر کوئی عزادار لوں؟ کیا کہتے ہو

حق سمجھتے ہیں اسے آج کے لکھنے والے
قیمتِ دیدۂ بیدار لوں کیا کہتے ہو

آج کل اِس پہ پکوڑے ہی دھرے جاتے ہیں
کس لئے پڑھنے کو اخبار لوں، کیا کہتے ہو

ایک بیوی سے تو ایماں میرا خطرے میں ہے
مردِ مومن بنوں اور چار لوں، کیا کہتے ہو

دیس میں تو میری قسمت نہیں کھلنے والی
چوکڑی جا کے کہیں پار لوں، کیا کہتے ہو

صرف دفترہی نہیں بیوی کی بیگار بھی ہے
اس سے بھی رخصتِ اتوارلوں، کیا کہتے ہو؟

حق ادا ہوتا نہیں ایسے گلوکاری کا
کسی کوّے سے بھی منقار لوں، کیا کہتے ہو؟

تیرے کھونٹے کا سہارا ہو تو بچھڑا کودے
ساری دنیا کو میں للکارلوں، کیا کہتے ہو؟

کیا خریدوں میں بھلا سالگرہ کا تحفہ
خان جی کے لئے نسوار لوں کیا کہتے ہو

بال بھی کھچڑی ہیں داڑھی بھی ہے بے ترتیبی
پیر کا روپ نہ میں دھار لوں کیا کہتے ہو

آج تک میں نے بھی بے فیض ہی سچ بولا ہے
اب ذرا خلعتِ سرکار لوں، کیا کہتے ہو

جن کے اک جرعہء نظارہ کو ترسا ہوں میں
اُن سے اب شربتِ دیدار لوں کیا کہتے ہو

اپنی زوجہ کا بہرحال دلارا ہوں میں
ساتھ پنکی کا بھی میں پیار لوں، کیا کہتے ہو؟

مستند ہو گی یونہی شاعری اگلی پچھلی
کیوں نہ تنقید میں منہ مار لوں، کیا کہتے ہو؟

ذکرِ شبانہ ، روز و شبانہ، کیا کہتے ہو

ذکرِ شبانہ ، روز و شبانہ، کیا کہتے ہو
کر دے نہ اک روز دیوانہ، کیا کہتے ہو

خالص اُردو میں جب پورا فقرہ بولا
بول اُٹھا ہے ہر فرزانہ "کیا کہتے ہو”

اُس کے جلوے کے حلوے پر رال کیوں ٹپکے
مہر شدہ ہے دانہ دانہ ، کیا کہتے ہو

موقع مل جائے تو ٹلتے کم کم دیکھا
ویسے بنتے ہیں مولانا، کیا کہتے ہو

وصل تو جیسے اور کہیں پر ناممکن ہو
یاد آ جائے روز کبانہ، کیا کہتے ہو

یہ ریٹائرڈ عاشق ہی بتلا سکتے ہیں
شادی تو ہے اک ہرجانہ، کیا کہتے ہو

پھر سے اُس کے گھر میں شور کی آوازیں ہیں
جھگڑا ہو گا یا دو گانا، کیا کہتے ہو

وہ نیناں منہ بولے بھائی ہیں ساقی کے
پھرلوں قسمت کا پیمانہ؟ کیا کہتے ہو؟؟

دل میں جاری رہے ہمیشہ آنا جانا
بن ویزے کے، آزادانہ ، کیا کہتے ہو

کبھی کبھی کوئی ایسی حرکت کر دیتے ہو
قبلہ لگتا ہے ننکانہ، کیا کہتے ہو

موجِ غزل میں کب سے میں اشعار کی صورت
بانٹ رہا ہوں کھنڈ مکھانہ، کیا کہتے ہو

آنکھیں بہر کوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

آنکھیں بہر کوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم
دل ہےاک سادھوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

ایماں کی ہر فصلِ بہاراں، ایک اُنہیں کی منتِ احساں
عالم عالم بوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جن نظروں نے دیکھا اُن کو، پایا نور کا چشمہ اُن کو
روشن ہر پہلوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کی دعاؤں کا اِک محور، امت امت اور بس امت
اِس کے لئے آنسوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کا نور مسلح کر دے، تو ٹکراؤں ہر ظلمت سے
بن جاؤں جگنوئے محمد صلی اللہ علیہ و سلم

اُن کی محبت سب کے لئے ہے، لطف و عنائت سب کے لئے ہے
سب کی خاطر جوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جو راہوں میں خار بچھاتے اُن پر بھی شفقت فرماتے
اللہ اللہ خوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

شعر و سخن کا سارا ورثہ، صدقہ ہے حسان کے در کا
ایک سفر ہے سوئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

جب بھی نعت میں لکھنے بیٹھوں تو لگتا ہے ظفرؔ مجھے یوں
جیسے ہوں میں روئے محمد، صلی اللہ علیہ و سلم

صورتِ قرآں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

صورتِ قرآں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)
ذیست کا عنواں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس ماہتاب جبیں کے آگے، جان و مال نہیں ہے کچھ بھی
خوب از خوباں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

رب تک اُس نے پہنچایاہے، حق کا رستہ دکھلایا ہے
حق کی پہچاں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کے رستے کاہکشاں سے، نقشِ قدم ہیں چاند ستارے
منزلِ عرفاں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

ماضی اُس کے فکر سے سینچا، مستقبل کا وہی دریچہ
محورِ دوراں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

رشد و ہدایت کی خاطر لاکھوں ہی پیغمبر آئے ہیں
سب میں نمایاں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اسوۂ حسنہ کے پھولوں کو ہر دم تازہ تردیکھا ہے
مشک بداماں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

کس نے سدرہ کی منزل کو پار کیا ہے خنداں خنداں
رب کے مہماں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

ہر لمحہ ضوبار اُسی سے، نور کی اِک یلغار اُسی سے
خاکی انساں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کے رنگ و بو کا کرم ہے، گلشنِ ہستی رشکِ ارم ہے
عکسِ بہاراں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کا نام لبوں پر آئے، تو جیسے دل کھل کھل جائے
درد کا درماں کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

اُس کا دامن ہاتھ میں ہو تو عصیاں کے گرداب سے نکلے
بہرِ پشیماں، کون؟ محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم)

پروردگار

مجھ کو خوش آئے نہ ایسی روشنی پروردگار
جس سے چندھیائی ہوئی ہو آگہی پروردگار

تیرے رستے پر اگر چلنا نہیں آیا مجھے
پھر بھلا کس کام کی دیدہ وری پروردگار

کہکشائوں کائناتوں کی حقیقت کچھ نہیں
ایک تیری ذات نقشِ سرمدی پروردگار

سر تو پانچوں وقت جھکتا ہے نمازوں میں مگر
کاش پانچوں وقت ہی ہو حاضری پروردگار

عمر کے نقشے میں تیرے رنگ ہی بھرتا رہوں
بخش دے اِتنا شعورِ زندگی پروردگار

جیسی بندہ پروری تجھ میں ہے بندوں کے لئے
کاش ہو ہم میں بھی ویسی بندگی پروردگار

رابطہ جن سے نہیں ہوتا ہے تیرا استوار
اُن کی خود سے بھی نہیں ہے دوستی پروردگار

جو دعائیں مانگتا آیا ہوں سُن لی ہیں سبھی
اور وہ بھی جو رہی ہیں ان کہی پروردگار

میرے لفظوں پر رہے بس لاالہٰ کا نشہ
زائرِ کعبہ ہو میری شاعری پروردگار

نبی کے نطق کی خوشبوابو بکر صدیق ؓ

نبی کے نطق کی خوشبوابو بکر صدیق ؓ
رہے ہیں ساتھ بہرسو، ابو بکر صدیق ؓ

ملا تھا ثانیِ اثنین کا لقب اُن کو
رسولِ پاک ﷺکے بازو، ابو بکر صدیق ؓ

کوئی نہ اُن کی طرح یارِ غار کہلایا
خلوصِ عشق سے مملو، ابو بکر صدیق ؓ

ہر ایک رُخ سے منقش رہا ہے رنگِ ثبات
وہ ہیرے تھے ہمہ پہلو ، ابو بکر صدیق ؓ

تھے سب کے واسطے اک سایۂ شجر جیسے
وہ نرم رو ،وہ شکر خو، ابو بکر صدیق ؓ

وہ روشنی کا نشاں ظلم کے اندھیروں میں
ہمیشہ صورتِ جگنو، ابو بکر صدیق ؓ

کئی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا
کئی ضعیفوں کا دل جو، ابو بکر صدیق ؓ

وہ بت شکن تھے مسلمان ہونے سے پہلے
دبنگ نعرۂ یاہو، ابو بکر صدیق ؓ

تمام جھوٹ کا بازار ہو گیا پتھر
بنے یوں صدق کا جادو ، ابو بکر صدیق ؓ