نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

معرکۂ حیات ہے درپیش

معرکۂ حیات ہے درپیش
دمبدم کوئی گھات ہے درپیش

میرے آنسو تو خشک ہو بھی چکے
اب غمِ شاملات ہے درپیش

سانس کی آنچ آ رہی تھی مگر
دوریٔ شش جہات ہے درپیش

بجھنے دیتا نہیں ہے یہ احساس
ہر نفی کو ثبات ہے درپیش

ساری دنیا سے میں نمٹ لوں گا
پر جو یہ اپنی ذات ہے درپیش

چاند اس ڈر سے کیا نہیں نکلے
اُس کو اک لمبی رات ہے درپیش

خود کو پانے کا مرحلہ ہے یہی
وسعتِ کائنات ہے درپیش

اعتبار اب کسی قدم کا نہیں
عالمِ ممکنات ہے درپیش

مضمحل ہو گیا سرورِ فتح
اپنے دشمن کی مات ہے درپیش

Advertisements

رحمتِ عالم

تجھ جیسا کوئی تھا نہ کوئی ہے، نہ ہی ہو گا
تو خالقِ یکتا کی ہے اِک کاوشِ یکتا
تو رب کا ہے اِک خاص کرم رحمتِ عالم

سب جزو سمٹ جاتے ہیں جس میں ،تو وہ کل ہے
تو ختمِ رُسل، ختمِ رُسل، ختمِ رُسل ہے
دائم ہے تری ذات کا نم، رحمتِ عالم

تو مکہ مدینہ میں مقید تو نہیں ہے
دریائے محبت پئے سرحد تو نہیں ہے
یہ ساراہی عالم ہے حرم رحمتِ عالم

ہر لمحہ فروزاں تیرے افکارِ جلی سے
ہر دور ہے گلزار اِسی ایک کلی سے
صدیوں پہ ترے نقشِ قدم، رحمتِ عالم

اِک فلسفۂ جذب و وفا ہے یہ ہمارا
جو رب کا ہے پیارا تو وہ پھر سب کا ہے پیارا
تیرے لئے سب لوح و قلم، رحمتِ عالم

ہر ایک مسلمان ترا نعرہ ہے آقا
ایمان ترے نام کا نقارہ ہے آقا
ہم لوگ سبھی تیرے علم، رحمتِ عالم

بے مثل ہے اُمت کے لئے تیری محبت
اِک حشر کے دن تجھ سے ہے امیدِ شفاعت
ہم جیسوں کا رکھے گا بھرم رحمتِ عالم

حسرتِ سایہ میں جنگل کو تکے جاتا ہوں

حسرتِ سایہ میں جنگل کو تکے جاتا ہوں
دھوپ ہے اورمیں آنچل کو تکے جاتا ہوں

ایسی شکنیں میرے ایقان میں کب آئیں گی
تیری پیشانی کے گنجل کو تکے جاتا ہوں

دور جاتی ہوتی گاڑی کا دھواں ہے اور میں
سرخ ہوتے ہوئے سگنل کو تکے جاتا ہوں

اپنے پہلو میں چبھی جاتی ہیں پتھر کی سلیں
اور ترے پہلو کے مخمل کو تکے جاتا ہوں

جب کسی ریت کی صورت ہے مری مٹھی میں
کیوں گزرتے ہوئے ہر پل کو تکے جاتا ہوں

یہ زمانہ بھی یونہی دیکھتا ہو گا مجھ کو
جس طرح میں کسی پاگل کو تکے جاتا ہوں

رونقِ شہر کا اِک میں ہی تماشائی ہوں
اپنے اطراف کے دلدل کو تکے جاتا ہوں

پھر مقدر میں لکھی ہے کوئی نا اُمیدی
پھر کسی آس میں گوگل کو تکے جاتا ہوں

بھری برسات کی بوچھاڑ ہے اور میں پیاسا
اِس چھلکتی ہوئی چھاگل کو تکے جاتا ہوں

وقت گو بادل سا ہے

وقت گو بادل سا ہے
دل سلگتے تھل سا ہے

اِس پہ بھی پیاسا ہوں میں
آسماں چھاگل سا ہے

موت ہے رُوئے حیات
درمیاں ململ سا ہے

رونقِ دنیا بجا!
دل مگر بوجھل سا ہے

ذیست ہے شب کا سفر
ہر سمے جنگل سا ہے

وہ تو صدیوں بعد بھی
ایک گزرے پل سا ہے

کس کو سمجھاتا ہے تو
عشق تو پاگل سا ہے

دیکھ کربھی نہ رُکا
راستہ دلدل سا ہے

داغِ رسوائی ظفر
عشق کاطغرل سا ہے

تو مرے سانول سا ہے

تو مرے سانول سا ہے
عقل سے پیدل سا ہے

کس قدر اسمارٹ ہے
ہوبہو بوتل سا ہے

جانور ہے یار بھی
اک ذرا سوشل سا ہے

تو اگر ہے سرپھرا
اگلا بھی پاگل سا ہے

منہ چڑاتا ہے مرا
آئینہ چنچل سا ہے

ناک بہتی ہے تری
اور سخن چرچل سا ہے

جب تلاشِ حسن ہو
دیدہء گوگل سا ہے

کیسے بچ پائے کوئی
حسن تو چنگل سا ہے

کچھ ہدایت نہ ملی
آج بھی وہ کل سا ہے

اب بھی شامت ہے وہی
بدھ بھی کچھ منگل سا ہے

تربیت فارن کی ہے
جاب میں لوکل سا ہے

پھنس گئی مکھی کوئی
میک اپ دلدل سا ہے

اِس دوا کا ذائقہ
زوجۂ اول سا ہے

ازدواجیقصہ بھی
ٹاک شو دنگل سا ہے

اب تو ہر لیڈر ظفر
سربسر کھٹمل سا ہے

گردھند (سموگ)

تجھ سے ملنے کو آیا تھا میں
پر دکھائی دیا ہی نہیں
ایسی گردھند تھی ہر طرف
کچھ سجھائی دیا ہی نہیں

اب تو زیرو ہے حدِ نظر
تاکنا جھانکنا ہے عبث
چھوڑئیے ذعمِ دیدہ وری
خود کو بھی دیکھنا ہے عبث

دیکھ لو! ہر سڑک بن گئی
غافلوں کے لئے سیخ بھی
چرچراہٹ بریکوں کی ہے
اور گونجی ہے اک چیخ بھی

کس کی گردن ہے کس کی چھری
تجھ کو تھوڑا سا اندازہ ہے؟
علتیں ہیں بھرے پیٹوں کی
اور غریبوں پہ خمیازہ ہے

مجھ سے کیا پوچھتی ہے ارے!
دین کس کی ہے گردھند بھی
تیرے آباء کے کھلیان ہیں
تیرے ابے کی ہے فیکٹری

یہی مخزن خرابی کے ہیں
قہر میں زندگی جن سے ہے
زہر سارا ہے اِن کا دیا
ساری آلودگی اِن سے ہے

مقتدر لمبی تانے ہیں کیوں؟
ذمہ داری اُٹھائے کوئی
کوئی تو کھینچے حدِ جنوں!
ان سے بھی جا کے پوچھے کوئی

تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے

تو جھوٹے زمانے کا امیں ہے کہ نہیں ہے
جیسے ہیں سبھی ویسا لعیں ہے کہ نہیں ہے

بولے جو خواتین سے تو شہد بہادے
ہم تم سے کوئی خندہ جبیں ہے کہ نہیں ہے

چہرے سے تو لگتا ہے گزارے کے وہ لائق
ہر نخرہ مگر عرش نشیں ہے کہ نہیں ہے

گھوڑی ہے جو بوڑھی تو ہوکیوں سرخ لگامی
لیکن تیری بڑبھس بھی چنیں ہے کہ نہیں ہے

آیا جو کبھی شامتِ اعمال کی زد میں
بتلانا کوئی تیرے قریں ہے کہ نہیں ہے

آخر کو وہی ہڈی بنا تیرے گلے کی
کہتے تھے جسے ”کچھ بھی نہیں“،ہے کہ نہیں ہے

اچھا نہیں ایڑھی کو بہت اونچا اُٹھانا
کھسکی ہوئی قدموں کی زمیں ہے کہ نہیں ہے

آلینے دو بھتنی کو ذرا بیوٹی کلینک
پھر پوچھوں گا وہ تم سے حسیں ہے کہ نہیں ہے

ہر چند کہ ٹھینگے پہ ہی رکھا گیا اب تک
درخواست مری تم سے سوویں ہے کہ نہیں ہے؟

کہلاتا ہے لیڈر تو بہت خادمِ ملت
ملت ہی مگر ”کمی کمیں“ ہے کہ نہیں ہے

کیوں عشق کی شہ پا کے خدا بنتا ہے ہر بُت
وہ دشمنِ جاں، دشمنِ دیں ہے کہ نہیں ہے؟