نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

ایک شعر

چہروں پر وہ لفظ پڑھے
کسی لغت میں ملے نہیں

Advertisements

جمہوریتِ موہوم

سب لیڈرانِ قوم نے سمجھا ہوا ہے آج
بزنس پلان ، قوم کی خدمت کا عزم کیا

سب اپنے انڈے بچے سیاست میں لائے ہیں
جمہوریت ہے گود بھرائی کی رسم کیا

ایک شعر

کسی بکرے کو ہے درکار تری قربانی
بر دکھوے کے لئے جاؤ ناں بکرا منڈی

گھر سے کیا نکلوں کہ آلے مجھے فوراً ساون

گھر سے کیا نکلوں کہ آلے مجھے فوراًساون
میرے سر پر ہی بنا لے نہ نشیمن ساون

رات مجھ کو بھی کسی یاد نے بیکل رکھا
دیکھ سکتا ہے مری آنکھوں کی سوجن ساون

روتی رہتی ہے ٹپکتی ہوئی احساس کی چھت
بھرتا جاتا ہے مری روح کا برتن ساون

بڑی مشکل سے سمیٹا تھا بدن میں خود کو
آ گیا پھر سے مجھے لوٹنے رہزن ساون

مدتوں بعد بھی توفیقِ شکیبائی نہیں
وہی میں ہوں وہی بھیگا ہوا دامن ساون

بات بن سکتی نہیں گریۂ پیہم سے کبھی
یوں سلجھتی نہیں دل کی کوئی الجھن ساون

چشمِ گریاں کوئی بازیچۂ اطفال ہے کیا
کھیلتی پھرتی ہیں یادیں یہاں ساون ساون

جنسِ آسودگی کے نام پہ کیا لے آیا
بیچ کر عمر کے ہاتھوں میرا بچپن ساون

برق نے جھانک کے دیکھا ہے ابھی کھڑکی سے
روک لے گا میرا رستہ میرا دشمن ساون

ساری دنیا ہے کسی دیدۂ تر کی صورت
موسمِ ہجر کے ہاتھوں کا ہے درپن ساون

تیرے رونے سے کوئی فرق نہیں پڑنے کا
پتھروں میں نہیں پڑتی ہے یوں دھڑکن ساون

رمضان

موجِ بخشش و عطا رمضان ہے
ہر طرف رحمت بپا رمضان ہے

ہم کو ہر کشکولِ نیکی میں ملا
اب صلہ ستر گنا؟ رمضان ہے!

۔۔۔ق۔۔۔

رحمتِ حق جوش میں ہے دوستا!
تو بھی چکھ اس کا مزا، رمضان ہے

دیکھنا چاہتی ہے کہ تو ہے بھلا
کس قدرچکنا گھڑا، رمضان ہے

۔۔۔۔۔۔۔

تزکیہء نفس کی روٹی پکا!
فیض کا اُلٹا توا رمضان ہے

لوڈ شیڈنگ جس کی ہو سکتی نہیں
رحمتوں کی وہ ضیا رمضان ہے

پائیے بیماریء روح سے نجات
بہرِ امراضِ ریا رمضان ہے

توند کی تجسیمِ موزوں کے لئے
نسخہء صبر و رضا رمضان ہے

اک ذرا ابلیس سے گچی چھڑا
نفس سے زور آزما رمضان ہے

عاصیوں کی گردنیں بچنی نہ تھیں
شکر ہے کہ اے خدا ،رمضان ہے

میرے پلے نہ پڑی تیری ادا عید کے دن

میرے پلے نہ پڑی تیری ادا عید کے دن
تو نے مس کال میں کیا مجھ کو کہا عید کے دن

تیرے گھر سے بھی میں ہو آیا میانِ شیخاں
گھوریاں ڈالے رہا تیرا پپا عید کے دن

حُسن جلوؤں کے کئی رنگ لئے آیا تھا
دلِ ٹھرکی میرے ہاتھوں سے گیا عید کے دن

تنگ کتنوں کو کیا، جب بھی پہن کر آیا
جامہء تنگ کوئی جانِ حیا عید کے دن

کتنے شبہات سرِ دیدہء زوجہ دیکھے
جب بصد شوق میں تیار ہوا عید کے دن

تیرے شاعر کی وہیں چیخ نکلتے دیکھی
روزہ خوروں سے جہاں عید ملا عید کے دن

لوٹ لیتے تیرے بچے بھی بنامِ عیدی
میں نہ بن جاتا اگر چکنا گھڑاعید کے دن

وہ غرارے میں تھی سو میں نے بھی تہمد پہنا
یونیفارم ایک محبت کا رہاعید کے دن

نفسِ امارہ کا روزہ سرِ رمضان رہا
سب نے دل کھول کے افطار کیاعید کے دن

لے اُڑا جوتی مری کوئی بطورِ عیدی
برہنہ پاؤں میں مسجد سے چلاعید کے دن

دورِ پیزا کی ہے یہ پود، بھلا کیا جانے
کیسا لگتا ہے سویوں کا مزاعید کے دن

بات جو حق پر آن پڑی ہے

بات جو حق پر آن پڑی ہے
سرِ ہتھیلی جان پڑی ہے

دل نگری آباد تھی تجھ سے
اب تو یہ سنسان پڑی ہے

ہونی تھی الفت اب اس میں
انہونی کیا آن پڑی ہے

خاروں خار ہیں لوگ جہاں پر
پھولوں کی مسکان پڑی ہے

راہی چلتے ہی جاتے ہیں
منزل بے امکان پڑی ہے

خلقِ خدا کیا صوتِ سگاں ہے
پیچھے کیوں ہر آن پڑی ہے

چاروں اور ہیں خون کے دھبے
اور کٹیا ویران پڑی ہے

ہر گھمبیر سکوت کے پیچھے
رودادِ طوفان پڑی ہے

ترکِ وفا کیا خاک کرو گے
جب فکرِ تاوان پڑی ہے

سوختہ ساماں یاد ہے کس کی
صورتِ لوبان پڑی ہے

جب سے کافر ہوا ہے یہ دل
بنیادِ ایمان پڑی ہے

اُس کی باتیں توبہ توبہ
لگتا ہے کرپان پڑی ہے

دل کا خون کیا ہے شامل
تب لفظوں میں جان پڑی ہے