نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

بلو نانی گٹھ جوڑ

سب حریصانِ اقتدار و زر
ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں

قوم دھوکہ نہ کھائے گی ہرگز
یہ سیاست کے ریلو کٹے ہیں

Advertisements

ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے

ملیں گے روز مگر سلسلہ نہیں دیں گے
لہو میں گھل کے بھی وہ ذائقہ نہیں دیں گے

ہماری خبروں میں ہر روز آئیں گے ظالم
بنیں گے سرخی مگر حاشیہ نہیں دیں گے

تعلقات کو یکسر ہی توڑ ڈالیں گے
ہمیں تو شک کا بھی وہ فائدہ نہیں دیں گے

تمھاری خوشبو بھٹکنے نہ دے گی ہم کو کبھی
یہ راستے تو ہمیں کچھ پتہ نہیں دیں گے

لہو میں جیسے بھنور بن گئے ہوں ہجر کے غم
مفر کو اور کوئی مسئلہ نہیں دیں گے

گزرتے جاتے ہیں چپ چاپ ابر کے ٹکڑے
یہ میری پیاس کو کیا حوصلہ نہیں دیں گے؟

وہ مشکلات میں رکھیں گے مبتلا ہم کو
سفر تو دیں گے مگر راستہ نہیں دیں گے

ترے خیال کے منظر کا حصہ بن کے بھی
سکوتِ شب کو نیا زمزمہ نہیں دیں گے

ہم اپنی قبر میں کر دیں گے دفن خود کو ظفرؔ
کسی کے ہاتھ میں اب تعزیہ نہیں دیں گے

مجھ میں نیا دریچۂ امکان نعت ہے

مجھ میں نیا دریچۂ امکان نعت ہے
نابینا کوجو آنکھ ہوئی دان، نعت ہے

نیت تو باندھ لیجئے شہرِ خیال کی
بابِ سخن کی خیر ہے، دربان نعت ہے

ذکر نبی سے گویا دبستان کھل گیا
اک کہکشاں ہے، دیدۂ حیران نعت ہے

ہر سانس ہے معطر کہ میلاد برپا ہے
ہر لفظ کہ ہے صورتِ دیوان، نعت ہے

منظوم کر رہا ہوں حیاتِ رسول کو
وا ہے نظر کے سامنے قرآن، نعت ہے

رہرو بھی کارواں کی طرح ہے رواں دواں
بسکہ سخن سفر ہے تو سامان نعت ہے

دل میں جو تازگی ہے اسی کے طفیل ہے
سوئے مدینہ کھلتا ہوادان نعت ہے

الفاظ سے بنی ہوئی دنیا ہے عام سی
لیکن میں خاص ہوں مری پہچان نعت ہے

میری بساط کیا ہے کہ میں نعت لکھ سکوں
خود ہی جو بنتی جاتی ہے، ہر آن، نعت ہے

تجھ کو تو جیسے دولتِ کونین مل گئی
خوشا ظفرؔوراثتِ حسان نعت ہے

رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے

رفاقتوں کا مناسب صلہ نہیں دیں گے
اڑنگی دے کے اگر وہ گرا نہیں دیں گے

وہ دیتے پھرتے ہیں مس کال ہی فدائی کو
تو کیا مرض کے مطابق دوا نہیں دیں گے؟

پہاڑ کاٹنے ہوں گے کہ حسن والے اُنہیں
سکوں سے دستِ حنائی تھما نہیں دیں گے

نہیں ہیں بھونپو کہ کرتے پھریں وہ پوں پوں پوں
"تمھارے شہر میں کوئی صدا نہیں دیں گے”

اُنہیں خبر ہے کہ ضد کر کے لے گی کچا گھڑا
سو سوہنی کو وہ مناسب گھڑا نہیں دیں گے

یہ ڈاکٹر ہیں جو امراضِ جنس کے ماہر
کسی کی لیلیٰ کو مجنوں بنا نہیں دیں گے؟

یوں بے دھیانی میں ٹپکا کریں نہ منہ دھو کر
دکھا کے چہرہ میاں کو ڈرا نہیں دیں گے

ابالِ خون نہ جائے گا بھائی لوگوں کا
دو ہاتھ گچی پہ جب تک ٹکا نہیں دیں گے

اگر اداؤں کی گگلی یونہی کراتے رہے
تو پھر وہ کیا میری وکٹیں گرا نہیں دیں گے

یہ خود سے عہد ہے شادی شدوں کا بعد از عقد
اب اپنا ہاتھ بہ دستِ قضا نہیں دیں گے

ترا حبیب تری قدر کیوں نہیں کرتا
ترے رقیب تو دادِ وفا نہیں دیں گے

تمھارا پیار نہ کرے گا مجھ کو سوٹ شکریہ

تمھارا پیار نہ کرے گا مجھ کو سوٹ شکریہ
افورڈ کرنہ پاﺅں گا میں ٹوٹ پھوٹ شکریہ

اُسے خبر نہیں کہ مجنوں کا ہوں میں جماعتیا
رقیب مجھ کو کہہ رہا ہے رنگروٹ، شکریہ

ملے یا نہ ملے کچھ اس سے فرق پڑنے کا نہیں
ٹومیٹو سے بھلے ہیں صبر کے فروٹ، شکریہ

ہم اہلِ دل کو بھی تو ملنی چاہئیں سہولتیں
تری گلی کو جائے میٹرو کا روٹ، شکریہ

میں صادق و امین ہوں تو بھیدی معترض ہے کیوں؟
جو پکڑا نہ گیا، وہ کاہے کا ہے جھوٹ، شکریہ

غزل مشاعرے میں تو سنائی تھی کمال کی
کیا ہے شوقِ گائیکی نے اُن کو ہوٹ شکریہ

محاذِ جنگ سے تو خیریت سے لوٹ آیا تھا
تمھاری نظروں نے کیا ہے مجھ کو شوٹ، شکریہ

جو نیب چکنی مچھلیوں کو "ویک کیس” کر کے دے
مجھے بھی دیجئے گا اس قسم کی چھوٹ، شکریہ

غریب کب سے گھات میں ہے کہ بدل ہی لےظفر
نماز پڑھنے آئیے پہن کےبوٹ، شکریہ

نظروں میں نہ آئے دل کی ٹوٹ پھوٹ، شکریہ

نظروں میں نہ آئے دل کی ٹوٹ پھوٹ، شکریہ
مسکراتے چہرے کے سفید جھوٹ، شکریہ

راستوں سے اپنے سب نقوشِ پا سمیٹ لو
میں بنا رہا ہوں آپ اپنا روٹ شکریہ

کیا خبر وہ ڈال آیا کس کے گھر میں کتنی چُپ
کہہ رہے ہیں جس کو دیکھ کر سلوٹ، شکریہ

میرے ہی بدن کو چکنا چور کر دیا، ارے!
مجھ کو ہی سمجھ رہے تھے تم اٹُوٹ، شکریہ

مدتوں سے مجھ پہ غفلتوں کی خاک ہے مگر
میرے بارے میں ہی ہو رہی ہے مُوٹ، شکریہ

بارہا دلیلیں لاجواب ہو کے رہ گئیں
میری خامشی نے کر دیا ہے ہوٹ، شکریہ

پھر مری نگاہیں چل پڑی ہیں تیرے ساتھ ساتھ
پھر پہن کے آ گئی ہو کالا سوٹ، شکریہ

۔۔۔۔۔ ق ۔۔۔۔۔
تیری مقناطیسیت نے کھینچ ہی لیا اے دل
آن پہنچا عشق کا وہ رنگروٹ، شکریہ

عمرِ بد لحاظ! تونے کر ہی ڈالی آخرش
زندگی کے ساتھ میری سیلفی شوٹ، شکریہ!
………..

بستیاں ہیں بھوک کے خمیر میں ڈھلی ہوئی
شاخچوں کے طشت پر دھرے فروٹ، شکریہ

آج بھی مرے خیالوں میں حنوط ہے ظفر
دور جاتے قدموں کی نوائے بوٹ، شکریہ

تیری الفت کو گر حیا آتی

تیری الفت کو گر حیا آتی
کیوں مری ساری عمر کھا جاتی

ساری تعزیرِ عشق کاٹوں گا
یونہی چھٹتا نہیں حوالاتی

نیب سڑیل ہے، خوش نہیں ہوتا
دیکھ کر اورں کی خوش اوقاتی

میں تو پڑھ ہی نہیں سکا ہوں کبھی
ڈاکٹر کی عجب ہے خطاطی

مل گیا ہے کوئی غلط نمبر
غیر معلوم ہے ملاقاتی

تیرے کوچے میں ہوں یوں منہ پھاڑے
شہر آیا ہو جیسے دیہاتی

حسن شرما کے رہ گیا تجھ سے
تیرا میک اپ ہے کیا کرشماتی

قوم کا مال کھائے ہے لیڈر
شان و شوکت ہے ساری خیراتی

جوتیاں لے گیا ہے مسجد سے
کون پنڈی میں ہے یہ گجراتی

چیختا ہوں ظفرؔ جو بہروں میں
ہو گیا ہوں میں یونہی جذباتی