نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میرے مزاحیہ مضامین

کسی نے کبھی کہا ہے کہ بچوں میں سب سے بڑی خرابی یہی ہوتی ہے کہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں اور ماؤں کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں ۔جناب فیض احمد فیض اپنی ایک ترجمہ کردہ نظم ” داغستانی خاتون اور شاعر بیٹا” میں رقمطراز ہیں۔

اُس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا
اُس کی ہر بات میں سمجھتی تھی
اب وہ شاعر بنا ہے نامِ خدا
لیکن افسوس کوئی بات اس کی
میرے پلے ذرا نہیں پڑتی

بچے روزِ پیدائش سے ہی بین الاقوامیت کے پیروکار ہوتے ہیں۔ جب کوئی بچہ بولنے لگتا ہےتو اگر پاکستان میں ہو تو کہا جاتا ہے کہ فارسی بول رہا ہے۔ ایران والے کہتے ہیں کہ فرانسیسی بول رہا ہے۔ فرانسیسی اور انگریز کہتے ہیں کہ یونانی بول رہا ہے جبکہ یونانی کہتے ہیں کہ عبرانی بول رہا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔
بچوں کی بولی سب سے بہتر ان کی مائیں ہی سمجھتی ہیں۔ مثلاً میری بہن نے ایک بار بڑے پرجوش انداز میں مجھے بتایا کہ اُس کے نو مہینے کے بیٹے نے مجھے "ماموں” کہا ہے۔ مجھے یقین نہ آیا اور خود تصدیق کرنا چاہی۔ بچے سے پوچھا گیا کہ یہ کون؟ بچے نے بڑی سنجیدگی سے کچھ کہا۔ اُس کی ماں نے میری طرف بڑے فخر سے دیکھا۔ میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ میں نے پھر پوچھا ۔۔۔۔ بچے نے پھر وہی کچھ کہا ۔۔۔۔ اُس کی ماں بولی ” دیکھا ۔۔۔۔ ماموں کہا ہے ناں ۔۔۔۔ میں نے بیچارگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میری سمجھ میں تو یہی آیا تھا کہ بچہ مجھے "فٹے منہ” کہہ رہا ہے۔
بچے جب کوئی بات کہتے ہیں تو اُس میں منطق آپ کو خود ڈہونڈنی پڑتی ہے۔ ایک بار میں نے اپنی ننھی منی بچی کو دیکھا کہ وہ ایک موٹی سی کتاب(غالباً ٹیلیفون ڈائریکٹری تھی) اُٹھائے مطالعے میں غرق تھی۔ میں نے پوچھا "حفصی بیٹی کیا کر رہی ہے؟”
بولی ۔۔۔۔ تاب پل لئی اوں (حیرت ہے آپ کو نظر نہیں آتا ؟ اپنے چشمے کا نمبر درست کروائیں)
میں پھر بولا ۔۔۔۔ کتنی پڑھ لی ہے کتاب؟
جواب ملا ۔۔۔۔ اتی (اِتنی)
میں نے اُس کی طرف دیکھا کہ شائد اتنی کی نشاندھی بھی کی ہو لیکن وہ "تھوڑے لکھے کو بہت سمجھو” کی تفسیر بنی تھی۔
میں نے جتنی مرتبہ پوچھا، یہی جواب آیا۔
لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام بچوں کی لسانیات منطق سے عاری ہوتی ہے۔ بعض بچے بڑے منطقی انداز میں بات کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ماہرینِ لسانیات کو اُنہیں کے حوالے سے صحتِ لفظی پر از سرِ نو غور کر لینا چاہئے۔ مثلاً میرا بیٹا چڑیا کو چُوڑیا کہا کرتا ہے ۔ میں نے کئی مرتبہ اُس کی تصیح کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔صاحبزادے آگے سے نہایت معصومیت لیکن قطعیت سے فرماتے ہیں کہ ” پپا ! وہ چُوں چُوں کرتی ہے ۔۔۔چِی چِی نہیں !!
یہی نہیں ۔۔۔ موصوف کئی دوسرے جانوروں پر بھی اِسی منطق کا اطلاق فرماتے ہیں ۔۔۔۔چونکہ بکریاں میں میں کرتی ہیں اِسی لئے وہ بکریوں کو "میمی” کا لقب عنایت فرماتے ہیں ۔قران شریف پڑھتے ہوئے”سورۃ البقرہ” کو "سورۃ میمی” پڑھتے ہیں۔ڈانٹ کا بھی اُن پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔حق بات کرنے سے مطلق نہیں چوکتے۔
بعض اوقات بڑے بچوں سے زیادتی بھی کرجاتے ہیں اور اُن کی بولی کو جان بوجھ کرنہیں سمجھتے۔ ہمارے کرائےدار کی ایک بیٹی تھی جسے پیار سے "سونیا” کہا جاتا تھا۔ وہ جب ہمارے گھر آتی تھی تو ہم جان بوجھ کر پوچھتے تھے ۔۔۔ آپ کا نام کیا ہے؟
وہ کہتی ۔۔۔۔”چھونیا”
ہم کہتے ۔۔۔۔چھونیا؟
وہ سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہتی ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ چھونیا
ہم کہتے ۔۔۔۔ وہی تو کہہ رہا ہوں ۔۔۔ چھونیا
وہ پھر زور دے کر کہتی ۔۔۔۔چھونیا نہیں ۔۔۔ چھونیا !!
اور یہ سلسلہ جاری رہتا۔
بچوں سے ہمکلامی کے شوق میں ہم اکثر یوں تُتلا کر بولتے ہیں کہ کوئی سنے تو کسی ماہرِ نفسیات سے ملنے کی تلقین کرے۔ بچے ظاہر ہے کہ ہمیں سے سیکھتے ہیں چنانچہ وہ ہمارے کہے کو لسانی معیار سمجھ کر اُسی کی پیروی کرتے ہیں ۔ ہمارے ایک دوست کا بیٹا خاصا بڑا ہو گیا ہے لیکن اکثر الفاظ کو صیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ایک مرتبہ میں نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ بیٹا ! یُوں نہیں کہتے، یہ جو آپ نے پہنے ہوئے ہیں یہ” کپڑے” ہیں "پکڑے” نہیں۔
اُس نے میری بات بڑے غور سے سُنی اور پھر بولا ۔۔۔۔ لیکن انکل میرے پپا تو اِنہیں پکڑے ہی کہتے ہیں۔ میں نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ ہمارے دوست بات چیت کے معاملے میں بچوں کو اُسی کی سطح پر آکر ملتے ہیں، چونکہ اُن کا بیٹا پہلے کپڑوں کو پکڑے کہا کرتا تھا اس لئے وہ بھی یونہی بولتے تھے اب وہ اپنے بیٹے کی اصلاعِ لفظی کرنا چاہتے ہیں لیکن "پکڑے” کا لفظ اب اُس کی زبان سے چھوٹتا ہی نہیں۔
Advertisements

“خوش کلامیاں“ کی ورق گردانی کرتے ہوئے پتہ چلا کہ جناب ڈاکٹر انعام الحق جاوید پنجابی ادب کی تحقیق کرنے کے باعث ڈاکٹر بنے ہیں، انہیں میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے میرٹ کی نورا کسشتی نہیں لڑنی پڑی۔ یہ افواہ ہم نے پہلے بھی سُن رکھی تھی لیکن نہ تب یقین آیا تھا نہ اب، جس شخص کا ہاتھ سیدھا بیمار معاشرے کی نبض پر جا کر رکے اور جو اُس کے لئے خوش کلامیاں جیسا نسخہ تجویز کرے، وہ بھلا اپنے آپ کو کھنڈرات کی کھدائی کے لئے کیسے مختص کر سکتا ہے۔

اگرچہ اطہر شاہ خان نے پاسِ ناموسِ وفا میں ڈاکٹر صاحب کے کلام کو خود انہیں کا پرتو قرار دیا ہے لیکن ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں اس لئے اُن کی بات سے قطعا” اتفاق نہیں کرتے۔ آج کا طنز نگار ہو یا مزاح نگار یا پھر دونوں کی لوٹ پوٹ سے چوں چوں کا مربہ، اُن کے قدم انہیں راستوں کی طرف اٹھتے ہیں جو اکبر الٰہ آبادی نے تراش رکھے ہیں۔ دراصل اکبر الٰہ آبادی ہی وہ خضرِ اعظم تھے جہنوں نے طنز و مزاح کی انگلی پکڑی اور اس کو راہ پر لگایا، ورنہ اس سے پہلے طنز کے حوالے سے “غنچے“ کو آواز دی جاتی تھی اور مزاح کے نام پر محبوب کی کمر کی تلاش میں کنوؤں میں ڈول ڈالے جاتے تھے۔آپ میری اس بات پر “میں نہ مانوں“ کے مصداق مرزا غالب کا حوالہ دے سکتے ہیں جنہیں حیوانِ ظریف کہا جاتا تھا لیکن میرے خیال میں غالب محض شگفتہ بیان ہے، طنز و مزاح سے سے انہیں دور کا بھی علاقہ نہیں۔ اکبر کو کریڈیٹ اس بات کا جاتا ہے کہ چُپ کی گپھا میں سب سے پہلے انہیں کا قہقہہ گونجا تھا۔ انہوں نے شاعری کو خانقاہوں اور میکدوں سے نکال کر پورے معاشرے میں پھیلا دیا۔ اپنے آپ پر بھی ہنسے اور یہ بھی برملا کہا کہ بادشاہ سلامت تو ننگے ہیں۔

اگرچہ اکبر کی روایت نے ہر طنزیہ اور مزاحیہ شاعر کے افکار پر اپنا بزرگانہ سایہ برقرار رکھا ہے لیکن اس کے باوجود انعام الحق جاوید ایک ایسا شریر بچہ ہے جس نے اپنے پر پرزے بھی خوب نکالے۔ انہوں نے اکبر کی تحریک میں نئے اسلوب کا مسالہ بھی ڈالا ہے اور یوں خوش کلامیاں کی ہنڈیا کو کرارا ترین کر دیا ہے۔ مثلا” ذیل کی پھلجڑیوں میں اکبر کی لپک جھپک بھی موجود ہے اور خود اُن کے اپنے لہجے کی ٹھٹھا ماری بھی

حرص ظالم وہ کار ہے جس میں
ایکسیلیٹر تو ہے بریک نہیں

یا پھر

تیرنے کے واسطے کتنے سمندر ہیں مگر
چلو بھر پانی نہیں ہے ڈوب مرنے کے لئے

پیٹ باقی رہ گیا منقار باقی رہ گئی
آبرو جاتی رہی دستار باقی رہ گئی
دیکھتے ہی دیکھتے چھت اُڑ گئی اخلاق کی
اور چاروں سمت اک دیوار باقی رہ گئی

خوش کلامیاں ایسے نمونوں سے اٹی پڑی ہے۔

انعام الحق جاوید نئے موضوعات کی تلاش میں بھی اکبر الٰہ آبادی کے پیچھے قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ اُن کی ایلس ہمہ اوقات معاشرے کے ونڈرلینڈ سے نئے نئے مناظر کشید کرتی نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے خوش کلامیاں کے چندہ باکس میں اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے۔ ملاحظہ کیجئے

ان دنوں اُن کا نظامِ ہضم خاصا تیز ہے
دانت کچھ امریکی ہیں اور پیٹ کچھ انگریز ہے

مجھے نہیں مل رہا ہے میرٹ
تمہارا کوٹا بحال کیوں ہے

کار میں بیٹھ کے روزانہ وہ پیدل سیر کو جاتا ہے
مرغ مرغن کھاتا ہے اور ڈائٹنگ بھی فرماتا ہے

انعام الحق جاوید کے انداز میں شگفتگی کے ساتھ ساتھ ٹھٹھا آور بیساختگی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔اُن کا کلام پڑھ کر آنکھیں چمک اُٹھتی ہیں، دانت نکل پڑتے ہیں اور جسم جھٹکے کھانے لگتا ہے۔ گویا اچھا بھلا شریف آدمی خواہ مخواہ لاہوریا نظر آنے لگتا ہے۔ خصوصا” اُن کی نظمیں “ایک کچے گویے کا پکا راگ سن کر‘ کار۔۔۔نامہ‘ ہما خانم اور بابا ٹَل تو اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

اور ان اشعار کے بارے میں کیا خیال ہے؟

چور صاحب دو عدد ٹی وی اُڑا کر لے گئے
ایک اپنے واسطے اور ایک تھانے کے لئے

مجھے ڈر ہے کہ ہم دونوں کہیں سمدھی نہ بن جائیں
تری گلنار کالج میں‘ مرا گلزار کالج میں

دیکھ کر اَک نوجواں لڑکی کا تجریدی لباس
مولوی صاحب فقط لاحول پڑھ کر رہ گئے

نہ جانے اس قسم کے اشعار پڑھ کر یہ کیوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ اشعار نہیں ہے بلکہ وہ قہقہے ہیں جو بیساختہ انعام صاحب کے لبوں سے پھوٹ بہے اور آپ ہی آپ کتاب کے ان صفحات پر گر کر حنوط ہو گئے۔

انعام الحق جاوید پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی اسلام آبادے نہیں گئے۔ جب وہ کسی دوسرے پر انگلی اُٹھاتے ہیں تو انہیں اپنی وہ تین انگلیاں بھی نظر آ جاتی ہیں جو خود اُن پر اُٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔ اِس باب میں بھی وہ اکبر کی تقلید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اکبر نے بھی خاصی فراخدلی سے اعتراف کیا تھا کہ

ہماری باتیں ہی باتیں تھیں سید کام کرتا تھا

انعام الحق جاوید اپنی پروفیسرانہ‘ شاعرانہ اور کالم نویسانہ حیثیتوں کے بارے میں فرماتے ہیں۔

پروفیسر ہی جب آتے ہوں ہفتہ وار کالج میں
تو اونچا کیوں نہ ہو تعلیم کا معیار کالج میں

تب تک تُو بھری نزم میں لگتا ہے معزز
جب تک کہ غزل تُونے سنائی نہیں ہوتی

ہر فن کا پہلوان سخن کا رئیس ہے
دانشوروں کے شہر کا بے مثل پیس ہے

بات اس سے کر ادب کی نہایت ادب کے ساتھ
کیا جانتا نہیں کہ یہ کالم نویس ہے

انعام الحق جاوید نے اپنی کتاب میں دوسرے کئی مزاح نگاروں کی طرح تحریف نگاری کا اہتمام بھی کیا ہے لیکن انہوں نے سید محمد جعفری‘ ضمیر جعفری‘ راجہ مہدی علی خان اور حاجی لق لق کی طرح لمبے لمبے ہاتھ نہیں مارے ہیں۔ غالبا وہ محض اپنے افکار کے سانچے پر اکتفا کرنے کے عادی ہیں۔ “خوش کلامیاں“ میں دو یا تین پیروڈیاں ہی شامل ہیں۔ اُن کی “قید مانگی تھی“ علامہ اقبال کی نظم “پرندے کی فریاد“ کی پیروڈی ہے۔ اسی طرح “چوروں کی بارات“ میں اُن کا یہ شعر بھی لائقِ توجہ ہے۔

تدبیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ دیانت کی سزا مرگِ مفادات

انعام صاحب خالص پنجابی کے شاعر بھی ہیں اور اُردو کلام میں پنجابی کی قلقاریاں بھی بھرتے پائے جاتے ہیں۔

ہر محفل میں رپھڑ شپھڑ پائی جاتا ہے
نالے نظراں لاٹو وانگ گھمائی جاتا ہے

یہ اندازِ سخن یوں تو اور بھی بہت سے شاعروں کے ہاں ملتا ہے مگر خالد مسعود نے اس کو نقطہ عروج بخشا ہے۔انہوں نے پنجابی کی پیوند کاری سے اُردو مزاح کی ایسی نسل پیدا کی ہے کہ بس دیکھا چاہئے۔ تاہم میں اس قسم کے مذاق کے خلاف ہوں۔ اول تو ہم نے پنجابی زبان کو بھانڈوں کی زبان سمجھ رکھا ہے کہ جہاں کوئی مضحکہ خیز کردار تخلیق کرنا ہو یا نا ہموار صورتحال کا تمسخر اُڑانا ہو تو فورا پنجابی زبان کا سہارا لیتے ہیں۔ خصوصا ٹیلیویژن کے ڈراموں نے تو پنجابی زبان کی غلط تفہیم کو اپنی مستقل روایت بنا رکھا ہے۔ علاوہ ازیں پنجابی کی ترکیب و تضمین سے ہم اہلِ پنجاب تو خوب سواد لیتے ہیں بلکہ ٹھاہ ٹھاہ کرتے ہیں جبکہ ملک کے باقی حصے کے لوگ ان اشعار کی لذت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمیں فکاہی ادب کو کسی خاص علاقے تک محدود نہیں کر لینا چاہئے۔ پنجابی کی تراکیب سے قطع نظر انعام الحق جاوید نے بعض لفظوں کی مرغا پریڈ سے ازحد دلچسپ صورتحال پیدا کی ہے۔

سینٹ پر سینٹ لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
Cent Per Cent لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

آدمی کا تھا یا وہ جن کا بچہ تھا
لے گئے آخر آ کر جن کا بچہ تھا

تجھ سے چھپ کر میں نے ڈہونڈا آستانہ پیر کا
آستانے کی طرف مت آ‘ ستانے کے لئے

صبح کے وقت آٹھ سے دس تک
حسن کے در پہ خوب دی دستک

“خوش کلامیاں“ میں قطعات منوں کے حساب سے موجود ہیں۔ دراصل انعام الحق جاوید صاحب قطعات کی کاشتکاری کے ماہر ہیں۔تاہم بعض قطعات کے عنوانات موزوں نہیں لگتے ہیں۔ عنوان اور قطعہ میں وہی فرق ہے جو ایک اُردو محاورے میں گندم اور چنے میں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں نہایت ایمرجنسی میں تیار کیا گیا ہو۔ قطعات کے سُوپ میں ایک مکھی یہ بھی ہے کہ ان میں سے بعض قطعات اپنی تعریف کے آئینے میں قطعات نہیں لگتے ہیں۔ اِن میں معنوی وحدت کا خاصا فقدان ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے دو مختلف شعروں نے سیاسی قسم کا اتحاد کر لیا ہو۔ مثلا”

یا مجھے گاؤں کا پٹواری بنایا ہوتا
یا ابوظہبی کا ویزہ بھی دلایا ہوتا
نوکری کے لئے ابا نے پڑھایا تھا اگر
کاش پولیس میں بھرتی بھی کرایا ہوتا

اس قطعے میں بہت سے مضمون تیر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔

چکلالہ تو آیا ہے سہالہ نہیں آیا
کیوں گائے کے ہمراء گوالا نہیں آیا
جلسے کی خبر آئی ہے اخبار میں لیکن
پولیس کے ڈنڈے کا حوالہ نہیں آیا

لمرک (LYMRICS) ایک انگریزی صنفِ سخن ہے جس پر انعام الحق جاوید نے بھی سواری کرنے کی کوشش کی ہے۔ “خوش کلامیاں“ میں ایسی چار عدد نظمیں موجود ہیں جنہیں انعام الحق جاوید صاحب نے لمرک قرار دیا ہے۔ اِن کی کیمیائی ترکیب یقینی طور پر لمرک کی شرائط پر پوری اترتی ہے لیکن لمرک کی طبعیات ذرا وکھرے ٹائپ کی ہے۔ لمرک کی حقیقی شکل دیکھنی ہو تو نذیر احمد شیخ کی لمرک دیکھی جا سکتی ہیں۔

شاعر لکھنوی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ میں ہر شعر کو اپنے مجوزہ معیار پر ضرور تول لیتا ہوں‘ اگر پلڑا ہلکا رہ جائے تو اُس شعر کو گچی سے پکڑ کر نکال باہر کرتا ہوں‘ کیونکہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔ انعام الحق جاوید کی “خوش کلامیاں“ کشت زعفران ہے۔ اس کی سطر سطر سے شہد ٹپکتا ہے تاہم فردیات میں چند ایک اشعار ایسے بھی ہیں جنہیں پڑھ کر کوٹا پورا کرنے کے لئے پولیس کی پکڑ دھکڑ یاد آ جاتی ہے۔ درج ذیل اشعار پڑھئے اور بتائے کہ کیا انہیں اس قدر اعلٰی پائے کی کتاب کا حصہ ہونا چاہئے تھا؟

پینٹ ہے یا کچھا ہے
جو کچھ بھی ہے اچھا ہے

آپ کہتے ہیں کہیں دیکھا ہے
میں سمجھتا ہوں یہیں دیکھا ہے

غالبا” انہوں نے اس باب میں انور مسعود صاحب سے مشورہ نہیں کیا ورنہ وہ اس شعر کی شمولیت پر ضرور زور دیتے۔

اکاسی‘ بیاسی‘ تراسی‘ چوراسی
پچاسی‘ چھیاسی‘ ستاسی‘ اٹھاسی

ہمارے ہم وطن ہنسنے ہنسانے کے معاملے میں دنیا کے کسی دوسرے خطے کے لوگوں سے پیچھے نہیں ہیں لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں اُردو کے قد آور ادباء و شعراء نے فکاہی ادب کو خاطر خواہ لفٹ نہیں دی ہے۔ بعضوں نے اگر کمال کی ٹانگ توڑی بھی تو محض پارٹ ٹائم کے طور پر تھوڑا بہت لکھ لیا اور بس۔ حتٰی کہ قتیل شفائی جیسی باغ و بہار شخصیت نے بھی ایک طویل عرصے کے بعد پانی میں سیڑھی لگائی۔ فکاہی ادب کے اس قدر ترقی پذیر دور میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب کا دم غنیمت ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ان کرتوتوں پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا ہے بلکہ نہایت دبنگ آواز میں آئندہ کے لئے بھی ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ خدا کرے اُن کا سفر ہمیشہ جاری رہے۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا ایک شعر ہے۔

جانِ من سنجیدگی اچھی نہیں ہر کام میں
کچھ طبیعت میں محمد خانیاں پیدا کرو

بھلا محمد خانیوں کی سپلائی میں “خوش کلامیاں“ سے بڑھ کر کون سا ڈیلر آپ کو مل سکتا ہے۔


بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم جس شخص سے عقیدت رکھتے ہیں‘ فرطِ عقیدت میں اس سے بہت سی ایسی باتیں بھی منسوب کر دیتے ہیں جن کی ہوا بھی اُن کے قریب سے نہیں گزری ہوتی ہے۔ یہی حال ادبی مریدوں کا بھی ہے۔ کلاسیکی شاعروں سے ایسے ایسے شعر بھی منسوب کر دئے گئے ہیں جو خود پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ

میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

مثلاً عموماً سمجھا جاتا ہے کہ درج ذیل شعر حضرت میر تقی میر کے کمالِ فن کی کارستائی ہے۔

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹُک روتے روتے سو گیا ہے

اگر عقیدت کا کالا چشمہ اتار دیا جائے تو صورتِحال روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ یہ شعر میر صاحب کے دیوان میں محض اس لئے دھر دیا گیا ہے کیونکہ اس میں ان کا تخلص آ گیا ہے حالانکہ اگر کھوپڑی کو کھجایا جائے تو بات کھُل کھُلا جاتی ہے۔ آخر کوئی میر صاحب کو مخاطب کر کے بھی تو شعر کہہ سکتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ شعر میر صاحب کی والدہ ماجدہ کا ہے۔ بچپن میں ایک مرتبہ ضد میں آ کر خدائے سخن دیر تک روں روں کرتے رہے اور اَسی حالت میں بستر پر ٹک گئے۔ اتنے میں اُن کے دوسرے بہن بھائی کھیلتے ہوئے اُس کمرے کی طرف آن ٹپکے جس پر اُن کی والدہ نے از رہِ تنبیہہ یہ شعر فرمایا تھا۔ ممکن ہے کہ بعد ازاں جب میر صاحب نے شاعری کا ارادہ کیا ہو تو انہوں نے اپنے چکنے پات کو یہ شعر “ابتدائی سرمائے“ کے طور پر عنایت کر دیا ہو۔

اِسی طرح حضرت سودا سے ایک شعر منسوب کیا جاتا ہے۔

یہ جو سودا بکے ہے لایعنی
آپ کرتا ہے درزیء معنی

آپ ہی خدا لگتی کہئے کہ کیا سودا جیسا خود ستائش شخص اپنے آپ کو اس قدر بُرے انداز میں مخاطب کر سکتا ہے؟ یہ طرزِ تخاطب اُن کے کسی ایسے ہمعصر کا ہو سکتا ہے جن سے اُن کی چشمک چلی آ رہی تھی۔ خصوصا سودا اور رسواء کے رقیبوں کا کوئی شمار نہ تھا۔

الطاف حسین حالی کا ایک شعر ہے

حالی نشاطِ نغمہ و مئے ڈہونڈتے ہو اب
آئے ہو وقتِ صبح رہے رات بھر کہاں؟

چونکہ تخاطب کی وجہ سے حالی صاحب کا تخلص اس شعر میں آ گیا تھا اسی باعث عقیدت مندوں نے اسے اُچک لیا ورنہ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ یہ شعر حالی کا نہیں ہے بلکہ اُن کی زوجہ محترمہ کا ہے۔ عنفوانِ شباب میں جب ایک مرتبہ حالی رات گئے دیوار پھلانگ کر اپنے گھر میں داخل ہو رہے تھے تو صحن میں اُن کی بیگم بیلنا سنبھالے ہوئے کھڑی تھی۔ انہوں نے حقوقِ زوجیت کو بروئے کار لاتے ہوئے از راہِ پرسش یہ شعر کہا تھا جسے یار لوگوں نے حالی کے اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کرا دیا۔

میر درد صاحب سے بھی ایک شعر منسوب کیا جاتا ہے۔

ہم کہتے نہ تھے درد میاں چھوڑ یہ باتیں
پائی ناں سزا اور وفا کیجئے اُن سے

کہا جاتا ہے کہ یہ شعر اُن کے ایک ملازم کا تھا جن کو انہوں نے ناصحائی کے منصب پر جزوقتی طور پر رکھا ہوا تھا۔ ۔اکثر جب درد صاحب کو درد اُٹھتا تھا تو یہ صاحب اِسی شعر کی مدد سے ان کی اشک شوئی فرمایا کرتے تھے۔ درد صاحب شعر کی ہئتِ ترکیبی میں کھو جاتے تھے اور یُوں سب کچھ بھول بھال جایا کرتے تھے۔اسی قسم کے اور بھی بے شمار اشعار ہیں جنہیں مغالطے میں مارا گیا ہے۔ کلاسیکی بزرگ شعراء کی عظمت تسلیم لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تیرے میرے شعر بھی اُن کے نام کر دئے جائیں۔ نقاد حضرات کو چاہئے کہ ایسے تمام اشعار کو گدی دے پکڑ کر اُن کے کھاتوں سے نکال باہر کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں فدوی کی خدمات حاضر ہیں۔ یہ عاجز خدا ترسی کے طور پر یہ تمام اشعار گود لینے کے لئے تیار ہے۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

نوٹ:- اس مضمون سے مضمون نگار کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


جی ہاں میں ببانگ ِدہل اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی کیانی ہوں۔ کیانی اس لئے ہوں کہ جس گھر میں پیدا ہوا ہوں وہاں جتنے افراد تھے وہ سب کے سب کیانی تھے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اس لئے میں نے بھی کیانی بننے میں عافیت جانی۔ غالبا‘ کہیں سے سُن لیا ہو گا کہ رُوم میں رہو تو رومن بن کر رہو۔

بظاہر میرے کیانی ہونے میں سارا قصور میرا نہیں ہے۔۔۔۔قصور تو یوں بھی میرا نہیں ہے‘ نُور جہاں اور انہی جیسے دیگر قصورواروں کا ہے تاہم اگر میں کیانی ہو ہی گیا ہوں تو میں نے کیانی ہوئے رہنے میں اتنی دیر لگا دی ہے کہ ایکسپائری مدت بھی گزر چکی ہے۔ اب میرا کیانی پن واپس نہیں موڑا جا سکتا۔

میرا کیانی ہونا میری پیدائش کی وجہ سے ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ ہم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہےچنانچہ یہ فدوی کسی بھی طور اقبال کی طرح شکوہ و جواب شکوہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خدا کا شکر ہی ادا کر سکتا ہوں کہ اُس نے مجھے کیانی پیدا کیا ہے۔ وہ اگر زرداریوں کے گھر بھی پیدا کر دیتا تو پھر بھی میں کیا کر سکتا تھا۔ویسے کیانی ہوتا زرداری ہونے سے تو خاصا بہتر ہے۔ اس وقت کیانی اور زرداری دونوں اقتدار کی غلام گردش میں موجود ہیں اور ہر اکھاڑ پچھاڑ کا محور جانے جاتے ہیں لیکن کبھی کیانی کا لطیفہ نہیں سُنا گیالیکن زرداری پر اس قدر لطیفے گھڑے جا چکے ہیں کہ کیا ہی سکھوں اور پٹھانوں پر گھڑے گئے ہوں گے۔ اگر اس قدر لطیفے سکھوں یا پٹھانوں پر تراشے جاتے تو دونوں مارے غیرت کے بالترتیب جمنا دل اور دریائے کابل میں چھلانگ لگا چکے ہوتے۔ تاہم سکھوں اور پٹھانوں کو ذاتی طور پر آصف زرداری کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ اُس کی وجہ سے طنز کے تیروں کا رخ اُن سے ہٹ گیا ہے بلکہ اب تو اُن کے کھاتوں سے بھی کئی لطیفے نکال کر زرداری کے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کر دئے گئے ہیں۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

جیسے میں اپنے کیانی ہونے پر شرماتا ہوں ویسے ہی دوسرے کیانی بھی اس بات پر شرمسار ہیں کہ میں بھی کیانی ہوں۔ اُن کی شرمساری بالکل بجا ہے کیونکہ مجھ میں ایسی کوئی خوبی نہیں پائی جاتی جو کسی کے کیانی ہونے کی بین نشانی سمجھی جاتی ہے۔

کیانیوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ بندے کے پُتر نہیں ہیں اور جو انہیں ایسا سمجھتے ہیں انہیں وہ پُتر بنا دیتے ہیں۔ پُتر بنانا ایک پوٹھوہاری روز مرہ ہے جس کا مطلب ہے مزہ چکھانا۔ کیانیوں کو اس کام میں ملکہ حاصل ہے۔ بسا اوقات تو میرے جیسے کیانی میں بھی خون جوش مارنے لگتا ہے کہ کسی کو مزا چکھا دوں لیکن اکثر میں یہ مزا خود ہی چکھ کر نچلا بیٹھ جاتا ہوں۔

کیانی فطرا‘ جھگڑالُو ہے یہی وجہ ہے کہ پاک فوج میں ان کی اکثریت نظر آتی ہے۔ یہ لڑائی کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ میرے دوست مرزا طاہر شریف بیگ ولد مرزا شریف بیگ کا کہنا ہے کہ جس طرح چرند پرند صبح سویرے روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اسی طرح کیانی بھی نہار منہ گھر سے کسی ایسے بندے کی تلاش میں نکلتے ہیں جو اُن سے لڑائی پر آمادہ ہو سکے۔ گرمیوں کے موسم میں تو اُن کی یہ جستجو ثمرآور ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں تو ہر بندہ کیانی بنا ہوا ہوتا ہے تاہم سردیوں کے موسم میں ایسے بندوں کا خاصا کال ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت شیخ بنی ہوئی ہوتی ہے اس لئے اُسے مطلوبہ بندوں کی سپلائی نہیں ہو پاتی چنانچہ اپنی عادت پوری کرمے کے لئے وہ اپنے ہی منہ پر طمانچہ جھاڑ دیتا ہے اور پھر اپنے آپ سے ہی نبرد آزما ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ آخری حد ہوتی ہے۔ گھر میں اُن کی بیگم تو ہوتی ہی ہے اور یہ خاتون خود بھی اچھی خاصی کیانی ہوتی ہے اس لئے کیانیوں کو خود سے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

میں نے مندرجہ بالا پیرے میں اپنے دوست طاہر کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا پورا نام بمع ولدیت لکھ دیا ہے جو کہ اچھی خاصی خلاف ضابطہ حرکت ہے۔ میدان ظرافت کے موجودہ سرخیل ڈاکٹر محمد یونس بٹ اپنے دوست کے لئے ف۔م۔ کا نام استعمال کرتے رہے ہیں اُن کی دیکھا دیکھی دوسرے لال بجھکڑوں نے بھی حروف تہجی پر چھاپے مارنے شروع کر دئے ہیں۔ اب راقم الحروف کے پاس کوئی حرف نہیں بچا ہے چنانچہ وہ اپنے دوست کے ضمن میں پورا نام استعمال کر رہا ہے۔ بلکہ فدوی چونکہ کیانی بھی ہے اس لئے کسی کی پردہ داری کا بھی قائل نہیں چنانچہ اگر کسی کو متذکرہ دوست کے مزید کوئف درکار ہوئے تو وہ بھی اضافی مندرجات کے ساتھ بخوشی فراہم کر دئے جائیں گے۔

کیانی جس طرح خود ٹیڑھی کھیر ہیں اسی طرح اُن کے گھر میں جو چھوٹی چھوٹی ٹیڑھی کھیر کی رکابیاں ہیں وہ بھی کچھ کم کیانی نہیں ہیں۔ اگر کبھی آپ کا جانا اپنے برخوردار کے اسکول میں ہو اور کسی جگہ اسکول کے بچوں کا جمگھٹا دیکھیں تو پریشان مت ہوئیے گا۔ سمجھ جائیے گا کہ وہاں ضرورکوئی کیانی زادہ کسی دوسرے ہم منصب کیانی زادے سے یا غیر کیانی سے گتھم گتھا ہو گا۔

ویسے کیانیوں کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی بہت فکر ہوتی ہے چنانچہ تمام کیانیوں کے گھروں میں کیبل کی تار دندناتی پھر رہی ہے۔ گھروں میں کیانی اپنی نودمیدہ آفتوں کو ریسلنگ کے چینل دکھاتے پھر رہے ہوتے ہیں تاکہ اُن کے جنگجُو سپوت ابتدائے آفرینش سے ہی ٹریننگ حاصل کر سکیں۔

میرے دوست کا کہنا ہے کہ کیانی بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔ مجھے ثبوت کے طور پر وہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک گھر کے سامنے لے گیا اور گیٹ پر لگی ہوئی نیم پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ اسے دیکھ رہے ہو؟
دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ میں نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔ کیا ہے اس میں؟
نیم پلیٹ پر لکھا ہوا ہے واحد کیانی ۔۔۔۔۔ دُو یُو بیلیو اٹ کہ اس گھر میں چار بھائی رہتے ہیں اور چاروں کے چاروں کیانی ہیں۔ ان کے والد نے جھوٹی نیم پلیٹ لگوا رکھی ہے کہ وہ واحد کیانی ہے۔

علامہ اقبال نے کہیں کہا تھا کہ؛

وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ہمارے اور آپ کے بڑے کیانی صاحب نے اس شعر کی ماہیت کو جانچا اور درِیار پر ایسے ایسے سجدے کھڑکائے ہیں کہ زرداریوں اور گیلانیوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی اُن کی مدت ملازمت میں تین برسوں کی توسیع کرنی پڑی۔ سب لوگ اُس درِ جاناں سے آشنا ہیں جہاں سے اُن کے سیلوٹوں کی آوازیں آیا کرتی ہیں۔ اور یہ امر بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس نوٹیفیکیشن کے اجرا میں اُن کی لیاقت اور قابلیت کا کتنا عمل دخل ہے۔ یہی وہ قابلیت ہے جو ہر جگہ کیانیوں کو مرکزِ نگاہ بنائے رکھتی ہیں اور یہی وہ لیاقت ہے جس سے یہ عاجز بےبہرہ ہے اسی لئے حالات کی سیخوں پر پڑا سڑ رہا ہے۔

تو صاحبو مندرجہ بالا باتوں کے باوجود میں ببانگِ دہل اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی کیانی ہوں۔

آخر کو میں کیانی ہی ہوں۔