نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: شرگوشیاں

ہمارے ایک دوست ہیں جواکثر اپنے بھانجوں کو پڑھاتے ہیں۔ اُنہوں نے ہی اس واقعہ کا ذکر مجھ سے کیا ہے۔ پچھلے ہفتے اُن کے ایک بھانجا شریف جن کی عمر شریف۱۴ یا ۱۵ برس ہو گی،نے پڑھائی کے دوران اُن سے پوچھا  ’’ماموں! کیا آپ شاعری کو ٹھیک کر سکتے ہیں؟‘‘

’’شاعری کو تودنیا بھر کے نقاد مل کر بھی ٹھیک نہیں کر سکے، میں کس کھیت کی مولی ہوں لیکن تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘

’’وہ ماموں، دراصل میں نے ایک اُردو میں پوئم بنائی ہے، آپ اُسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟‘‘

’’ریت بجری کہاں سے لائے تھے تم اس کے لئے؟‘‘

’’ریت بجری؟ ماموں میں نے پوئم بنائی ہے!‘‘

’’بیٹے، اوّل تو اُردو میں جو شاعری کی جائے وہ پوئم نہیں نظم کہلاتی ہے، اور دوم یہ کہ وہ بنائی نہیں جاتی بلکہ رقم کی جاتی ہے یعنی لکھی جاتی ہے۔‘‘

’’وہی ماموں، میں نے نظم لکھی ہے، آپ اس کو ٹھیک کر دیں گے؟ میں نے فیس بک سٹیٹس اپڈیٹ کرنا ہے‘‘

’’اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ نظم ٹھیک نہیں کی جاتی بلکہ اُس کی تصیح کی جاتی ہے، بہرحال دکھاؤ، کہاں ہے وہ نظم؟‘‘

برخودار نے شرماتے ہوئے فزکس کی کتاب میں سے ایک کاغذ نکالا اور اُنہیں تھما دیا۔

ہمارے دوست نے نظم پر ایک نظر ڈالی، یہ نظم کسی طالبِ علم سے منسلک کسی موضوع پر نہیں تھی، میرا مطلب ہے کہ وہ نظم علم، سکول، کمرۂ جماعت، کسی جانور، مظاہرِ قدرت یا اسی جیسے کسی موضوع پر نہیں تھی بلکہ اپنی کسی خاتون ہم جماعت کی تعریف میں لکھی گئی تھی، جسے برخوردار اپنے فیس بُک کے سٹیٹس میں اپڈیٹ کرنا چاہتے تھے۔ نظم کسی بحر کے تکلف میں پڑے بغیر لکھی گئی تھی، بس قافیہ پیمائی کی گئی تھی اور وہ بھی نثرمیں ہاں البتہ خیالات خاصے بالغانہ نوعیت کے تھے۔

’’برخوردار، پہلے مطالعہ کرو، پھرنظمیں بھی جوڑتے پھرنا!‘‘ اِس پرہمارے دوست نے اُس کی خاصی سرزنش کی تھی۔

’’مطالعہ؟ پر کتھوں؟؟‘‘ ہم نے اپنے دوست سے کہا  ’’حرفتِ جانکاری کے اس دور میں بھلا کون مطالعہ کاکشٹ اُٹھائے اور کیوں اُٹھائے؟قابلیت جن باٹوں پرتولی جاتی ہے اُن کی طبعی ترکیب میں علمی استعداد نام کی کوئی شے شامل نہیں بلکہ یہ ترازو کسی اور ہی دھات سے بنے ہوئے ہیں۔ جب عملی زندگی میں ایسی آپا دھاپی ہو تو مطالعے کا شوق کسے رہے گا اور کیوں رہے گا؟‘‘

یہ بات ہے بھی درست، اورسچ پوچھیں تو ہمارے ذمہ داران کو اس سے کوئی غرض ہے بھی نہیں کہ ہماری نئی نسل کیا کرتی پھر رہی ہے اور اُن کی صلاحیتوں کو قومی سطح پر منظم کرنے کے لئے کیا چارہ سازی کی جائے۔ خصوصاً اُن میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لئے تو کسی قسم کی قطعاً کوئی منصوبہ بندی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔

پاکستان نیشل بک کونسل کی مساعی اس ضمن میں قابلِ ستائش ہیں کہ وہ اپنے قیام سے ہی مطالعہ کے فروغ کے لئے احسن اقدامات اُٹھاتی رہی ہے۔ ایک زمانہ تھاکہ جب اس ادارے نے نوجوانانِ پاکستان میں مطالعہ کے فروغ کاذمہ اُٹھایا اور غیر نصابی کتب قابلِ ذکررعایتی نرخوں پر مہیاکرنے کے لئے’’ممبر شب کارڈ‘‘ کا اہتمام کیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی بار جی ایٹ میں تعلیمی چوک پر ممبر شپ کارڈ لینے گیا تو وہاں طالبانِ علم کا اِتنا بڑا جلوس موجود تھا جو آج کل اوسط درجے کی سیاسی جماعت کا ہوتا ہے۔ تعلیمی چوک کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن گزشتہ برس جب میں ممبر شپ کارڈ کے حصول کے لئے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دفتر گیا تو وہاں ہُو کا عالم تھا۔ میرا ممبر شپ کارڈ پانچ منٹوں کے اندر اندر بن گیاتھا۔ شائد ایسا اس لئے تھا کہ آئی ٹی کا سیلاب  نوجوانوں میں سے مطالعے کا شوق بہا لے گیا تھا اور ادارۂ ہذاکے سامنے’’ فروغِ مطالعہ‘‘ کے بجائے ’’احیائے مطالعہ‘‘ کا مسئلہ درپیش تھا، تاہم پھر بھی اس ادارے کا دم غنیمت تھا کہ جو بچا کھچا مطالعہ کا شوق باقی رہ گیا تھا اُس سے نئی کونپلیں پھوٹ سکتی تھیں۔بدقسمتی سے گزشتہ برس سے ادارۂ ہذا اس کام سے بھی گیا، وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ’’بجٹ‘‘ نہیں ہے۔

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہماری حکومت کے پاس اللوں تللوں کے لئے وافر پیسہ موجود ہے لیکن فروغِ تعلیم کے لئے بجٹ نہیں؟کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں؟؟

Advertisements