نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: سلسلہ وار

ہم چاروں وہاں موجود تھے۔۔۔۔ جارج’ سیموئیل ہیرس اور میں اورمونٹمورینسی بھی۔۔۔ اِس دھما چوکڑی کا نشانہ میرا کمرہ تھا۔ کمرہ سگریٹ کے دہوئیں میں گم تھا اور ہم سب باتوں میں گم۔ پریشان اور پژمردہ ۔۔۔ ہماری باتوں کا ایک ہی موضوع تھا۔۔۔۔۔ ہم کتنے بُرے ہیں ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے طبی نقطہء نظر سے ۔۔۔۔۔ آپ کچھ اور نہ سمجھ لیجئے گا۔
ہم سب بہت مضمحل تھے اور اپنی اس حالت کے بارے میں فکر مند بھی ۔۔۔۔ہیرس نے بتایا کہ بسا اوقات اُس کے جسم میں ایسی کپکپی طاری ہو جاتی ہے کہ وہ کرتا کچھ ہےے اور اُس سے ہو کچھ جاتا ہے۔ جارج نے بھی کچھ ایسی ہی کپکپی کا تذکرہ کیا اور یونہی کچھ کرنے کا اور کچھ ہو جانے کی شکایت کی۔۔۔۔۔۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو یہ کمبخت میرا جگر تھا جو خرابی پر آمادہ تھا۔۔۔۔ میں نے خود تشخیصی کے طور پر یہ جانا تھا کہ میرا جگر خراب ہے۔ دراصل میں نے ایک دواخانے کا مراسلہ پڑھا تھا جس میں اُن تمام علامتوں کی نشاندھی کی گئی تھی جو جگر کی خرابی کی غمّاز ہوتی ہے اور لگ بھگ مجھ میں یہ تمام علامتیں موجود تھیں۔
یہ غیر معمولی صورتحال سہی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں نے کبھی بلاوجہ کسی دواساز کمپنی کا اشتہار نہیں پڑھا جب تک مجھے اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ مجھے اس قسم کا مرض لاحق ہے جس کے لئے یہ دوا اکسیر ہے۔ لیکن یہ بھی ایک امرِ دیگر ہے کہ میں نے جس اشتہار کو بھی ملاحظہ کیا ہے اُس میں بیان کردہ ہر بیماری کو علامت کو اپنے اندر موجود پایا ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ میں اُن معمولی امراضِ کے بارے میں مطالعہ کے لئے برٹش میوزیم گیا تھا جس کے بارے میں مجھے شبہ تھا کہ میں اُن میں مبتلاء ہوں مثلاً موسمی بخار وغیرہ۔۔۔۔میں نے کتاب کھولی اور جو سامنے آتا گیا’ پڑھتا گیا۔اس دوران میں نے یونہی بے خیالی میں صفحہ پلٹا اور بلا سوچے سمجھےامراضِ معروضہ کے مطالعہ میں غرق ہو گیا اور یہ بھول ہی گیا کہ میں وہاں کس مقصد کے لئے آیا تھا’ کچھ انتہائی دل دہلا دینے والے امراض پر نظر پڑی جن کی تباہ کاریوں سے میں واقف تھا ۔ اُن کی پیش بینی کے لئے دی گئی علامتوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ سب مجھ میں موجود ہیں۔
میں ایک لمحے کے لئے سُن ہو کر رہ گیا لیکن پھر کسی خوف کے زیرِ اثر میں نے اگلے اُس کتاب کی مزید ورق گردانی شروع کر دی۔ میں ٹائیفائڈ بخار ر پہنچا اور اُس کی علامتوں کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ میں تو ٹائیفائڈ بخار میں مبتلاء ہوں’ اور وہ بھی کئی برسوں سے ‘ بغیر اس کا ادراک کئے’ یا الہٰی یہ مجھے ہو کیا گیا ہے اور کیا کیا ہو سکتا ہے؟ میں نے قترب یا رقصہ کے لئے صفحہ الٹایا’ تو پایا پایا کیا پایا’ جی ہاں۔۔۔۔میں قترب میں بھی مبتلا تھا۔۔۔۔ اب میں نے اپنے طبی کیس پر مزید تحقیق کا ارادہ کیا اور حروفِ تہجی کے لحاظ سے امراض کا مطالعہ شروع کر دیا۔ سب سے پہلے "جاڑے کے بخار” کی علامات پڑھیں’ تمام تر علامات مجھ میں موجود تھیں اور یہ کہ بیماری کی نازک اسٹیج اگلے چند دنوں میں آیا ہی چاہتی ہے۔ "برائٹ ” یا ضعفِ گردہ کے بارے میں پڑھا تو پتہ چلا کہ میں اس کی ارتقائی نوع کا شکار ہوں اور ایک دو برس تک جی سکتا ہوں۔ ہیضہ کی بیماری مجھے چند ایک پیچیدگیوں سمیت لاحق تھی اور خناق تو میری پیدائش سے میرے ہمراہ تھی۔ مسلسل چھبیس حروفِ تہجی کی بیماریاں مجھ میں موجود تھیں ۔ محض نقصِ طبع (ورمِ درجک) کی بیماری تھی جس نے مجھے بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔
اوۤل اوۤل تو اس امر نے مجھے پریشان ہی کر دیا کہ آخر یہ ورمِ درجک کی بیماری نے میرے ساتھ رعایت کیوں کر رکھی ہے۔ میں نے اس کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔کچھ دیر یہی ملامت کی کیفیت رہی لیکن اس کے بعد جب ذہن کچھ مزید سوچ بچارکے قابل ہوا تو میں خود کو خاصا مراعات یافتہ تصور کرنے لگا۔۔۔۔ یعنی میرا دامن کی وسعت ہر قسم کی بیماریوں کو سمیٹنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرا احساسِ تفاخر اپنی انتہاء کو نہ پہنچ سکا۔ آخر مجھ میں ورمِ درجک میں تو مبتلا نہیں تھا۔
تاہم "زاموسس” یا جراثیمی چھوت کی بیماری جو میری آگہی کو چیلنج کئے بغیر مجھ میں جانے کب سے در آئی تھی’ کے بعد کوئی ایسی بیماری طبی دنیا میں نہیں بچی تھی جو مجھ میں ہو۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ میں ایسی بہت سے بیماریوں سے بچا ہوا تھا جو ابھی دریافت نہیں ہو پائی تھیں۔
اب میں سوچنے لگا کہ اگر میں طبیبوں کے ہاتھ لگ جاؤں تو کتنا دلچسپ کیس ثابت ہوں گا۔میں ایک چلتا پھرتا ہسپتال ٹھہرا’ طب کے طالبعلموں کو ذیادہ تردد کرنے کی حاجت ہی نہیں ہو گی’ بس وہ میرا معائنہ کریں گے اور بیماریوں کے ایک عالم سے روشناس ہو جائیں گے۔ ڈگریاں وہیں کی وہیں انہیں تھما دی جائیں گی۔
اب یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ میری زندگی رہ کتنی گئی ہے میں نے اپنا جائزہ لینے کی ٹھا نی ۔ میں نے اپنی نبض پر ہاتھ دھرااوّل اول تو مجھے اپنی نبض میں حرکت عنقا ملی ۔ پھر اچانک وہ ہڑ بڑا کر چلنے لگی ۔ میں نے اپنی گھڑی اتاری اور نبض کی رفتار نوٹ کرنے لگا ۔ پتہ چلا کہ میری نبض ایک سو چالیس فی منٹ کے حساب سے دوڑ رہی تھی ۔ اب میں دل کی دھڑکن کی طرف آیا ، مجھے تو دل کی دھڑکن بھی سنائی نہ دی ۔
ارے ! دل نے تو دھڑکنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ مجھے تو یہ بتایا گیا تھا کہ دل کا کام دھڑکنا ہے اور میرا دل بھی اسی معمول پر گامزن ہے یہ اور بات ہے کہ مجھے اس کی دھڑکن سننے کا شعور نہیں ۔ میں نے اپنے بالائی جسم کا سارا حصہ ٹٹول ڈالا کمر سے لے کر اس جگہ تک جہاں دل کی موجودگی کا گمان کیا جا سکتا تھا ، یہاں تک کہ احتیاط کے طور پر کمر کو بھی تھپتھپا ڈالالیکن نہ تو دل کا سراغ ملا اور نہ ہی اسی دھڑکن کا ۔ اب میں نے اپنی توجہ اپنی زبان پر مرکوز کی میں نے اسے ممکنہ حد تک باہر نکالا اور ایک آنکھ میچ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔ مجھے محض زبان کا کوکونا ہی نظر آسکا اور اس منظر سے میرے جس نظرئیےکو تقویت ملی وہ یہ تھا کہ مجھے خسرہ بخار کا عارضہ لاحق ہے۔کیسی ستم ظریفی تھی کی میں جب دارالمطا لعہ میں آیا تھا تو ایک خوش باش صحتمند شخص تھا لیکن جب وہاں سے رخصت ہوا تو ایک خوف اور مایوسی کی تصویر تھا۔
میں نے اپنے معالج سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا وہ میرا بہت پرانا واقف کار ہے اس کا یہ معمول ر ہا ہے کہ وہ میری نبض پہ انگلی دھر دیتا ہےاور مجھے اپنی زبان دکھانے کا کہتا ہے۔ زبان دیکھتے ہوئے وہ موسم کے بارے میں گپ شپ کرتا رہتا ہے، یعنی یوں ہی لا یعنیاں مارتا رہتا ہے باوجود یہ کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں بیمار ہوں ، یہی وجہ ہے کہ اب مجھے موقع ملا تھا کہ میں اُس کے پاس جاؤں اور اگلے پچھلے تمام حساب چکتا کروں۔ بھلا ایک ڈاکٹر کو اور کیا چاہئے ہوتا ہے۔۔۔۔ میں نے سوچا۔۔۔ پریکٹس ہی ناں ۔۔۔۔ تو مجھ میں کیا کمی ہے؟ وہ مجھ جیسے نادر الوجود مریض سے اتنے تجربات حاصل کر سکتا ہے جتنے سترہ ہزار مریضوں سے بھی حاصل نہیں کئے جا سکتے’ کیونکہ دوسرےمریض محض ایک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ میں ۔۔۔۔۔
یہی سوچ کر میں نے اُس کے کلینک کی راہ لی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی حسبِ عادت بولا۔۔۔کیوں میاں ؟ کیا ہو گیا ہےتمہیں ؟؟
میں نے کہا ۔۔۔۔پیارے ڈاکٹر ! میں آپ کو یہ بتانے میں وقت ضائع نہیں کروں گا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ‘ زندگی بہت مختصر ہے ۔۔۔ اتنی کہ جب تک میں آپ کو اپنے امراض کے بارے میں بتاؤں گا’ تو ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کی رخصتی کا نقارہ بج جائے۔۔۔ ہاںالبتہ میں آپ کو یہ ضرور بتاؤں گا کہ مجھے کیا نہیں ہے ۔۔۔ تو پیارے’ مجھے صرف ورمِ درچک نہیں ہے جس میں عموماً صرف خواتین مبتلا ہوتی ہیں۔میں اگر آپ کو نہ بھی بتاتا تب بھی یہ حقیقت ہے کہ محض یہی ایک مرض ہے جس سے میں بال بال بچا ہوا ہوں۔ باقی تو جتنے بھی امراض ہیں وہ مجھ میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں”۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ مجھے ان باتوں کا کیسے پتہ چلا؟
ڈاکٹر نے بغیر وقت ضائع کئے مجھے اسٹیچر پر لٹایا اور میری کلائی دبوچ لی۔ پھر اُس نے اچانک غیر متوقع طور پر میرے سینے پر میری چھاتی کو ٹھونکنا شروع کر دیا۔انتہائی بزدلانہ حرکت تھی یہ۔۔۔پھر اس کے بعد اُس نے اپنے سر کے پہلو سے مجھےبجانا شروع کر دیا۔ اس کام سے فارغ ہوا تو دوبارہ اپنی کرسی پر جا بیٹھا اور نسخہ تجویز کرنے لگا ۔ نسخہ لکھ کر اُس نے کاغذ کو تہ کیا اورمجھے تھما دیا۔ میں نے وہ نسخہ لے کر اپنی پتلو ن کی جیب میں ٹھونسا اور کلینک سے باہر نکل آیا۔
کسی انجانے خدشے کے تحت میں نے اُس نسخے کو پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی بلکہ قریبی کیمسٹ کی دکان کا رُخ کیااور نسخہ اُسے تھما دیا۔ کیمسٹ نے ایک طائرانہ نظر اُس پر ڈالی اور مجھے واپس لوٹا دیا۔
اُس نے کہا کہ یہ چیزیں اُس کی دکان میں موجود نہیں ۔۔۔!!
میں نے طنزاً کہا ۔۔۔۔ کیا آپ کیمسٹ ہیں؟

وہ بولا ۔۔۔۔ جی ہاں! لیکن میں محض کیمسٹ ہوں’ اگر میری دکان دواؤں کے ساتھ ساتھ پرچون کا کام بھی کر رہی ہوتی ‘ بلکہ ہوٹلنگ کا فریضہ بھی سرانجام دے رہی ہوتی تو شائد میں آپ کی خدمت کرنے کے قابل ہوتا ۔۔۔ محض کیمسٹ ہونے کی وجہ سے میں اس سعادت سے محروم رہ گیا ہوں!!
اب میں نے نسخہ نکالا اور اُس پر ایک نظر ڈالی۔ اُس میں درج تھا:
چھوٹا گوشت ۔ ایک کلو بمع ایک پیگ بئر کے ‘

ہر چھ گھنٹے کے بعد ایک میل کی چہل قدمی ۔ ہر صبح

نیند کا آغاز ۔ ہر شب ٹھیک گیارہ بجے

نوٹ:- ایسے معاملات میں پنگا لینے سے حتی المقدور گریز جس کے بارے میں آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔

میں نے اپنے معالج کی اِن باتوں پر عمل کیا اور نتیجہ خاصا خوشگوار رہا۔۔۔ اور برسبیلِ تذکرہ’ میری زندگی بھی محفوظ ہو گئی ہے اور ابھی تک جاری و ساری ہے۔
میں دوبارہ اُسی جگر کی دوا والے مراسلے کی طرف چلتا ہوں جس کے بارے میں میں نے عرض کی تھی کہ اِس میں جن علامتوں نے مجھے دہلا کر رکھ دیا تھا اُس میں نمایاں علامت ” ہر قسم کے کام سے کترانے کا عمومی رجحان”۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ مجھے اس ضمن میں کتنا کچھ بھگتنا پڑا تھا۔ جب میں بچہ تھا تو اس ظالم نے ایک لمحے کے لئے بھی مجھے نہیں بخشا تھا۔اُس وقت میرے بڑوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ میرے جگر میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ تب سائنس نے بھی اتنی ترقی نہیں کی تھی جتنی اب ہے؛ چنانچہ اسے میرے ازلی ماٹھے پن سے تعبیر کیا گیا۔
تم بستر پر پڑے کیوں اینٹھتے رہتے ہو۔۔۔ وہ کہا کرتے تھے۔۔۔ کچھ کام وام کیوں نہیں کرتے؟
اب یہ اُن سادہ روحوں کی بلا جانے کہ مجھے کسی قسم کا کوئی مرض لاحق ہے۔ وہ مجھے گولیاں نہیں دیتے تھے بلکہ سمجھتے تھے کہ میں اُنہیں گولیاں دے رہا ہوں۔ چنانچہ میری گدی پر ایک کرارا سا ہاتھ جما دیتے تھے لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ یہ اور مزید حیران کر دینے والا ہوتا تھا کہ اُن کی حیرت کام دکھا جاتی تھی۔ میری بیماری فوراً رفو چکر ہو جایا کرتی تھی۔ اس بات پر میرا بھی ایمان ہوتا تھا کہ میرے بڑوں کی چپت نے میرے جگر کی بیماری پر نہایت مثبت اثرات چھوڑے ہیں اور میں اپنے آپ کو تیر کی طرح سیدھا محسوس کروں گا اور ہر وہ کام بغیر وقت ضائع کئے کرگزروں گا جس کا مجھے کہا جائے گا۔ آجکل ایسے علاج کی توقع تو گولیوں کے ایک پورے پیکٹ سے بھی کی جا سکتی ہے۔
بس ایسے ہی سادہ اور رجعت پسند ہوتے تھے وہ دن۔۔۔۔لیکن اُن دنوں کے ٹوٹکے اتنے موثر ہوتے تھے کہ آج کل کے دواخانوں کے طویل معائنے اور علاج بھی اُن کی برابری نہیں کر پاتے۔
ہم تینوں آدھے گھنٹے تک وہاں بیٹھے رہے اور ایک دوسرے کو اپنی اپنی امکانی بیماریوں کے بارے میں بتاتے رہے۔ میں ولیم ہیرس کو اُس ہیجانی کیفیت کے بارے میں بتا رہا تھا جو مجھے صبح بیدار ہونے پر حاوی ہوتی تھی اور ہیرس ہمیں بتا رہا تھا کہ جب وہ بستر پر سونے جاتا ہے تو اُس کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یہ بات ہیرس نے نہ صرف زبانی کلامی بتائی بلکہ کمال کی اداکاری کرتے ہوئے اُن تمام تاثرات کی تصویر کشی بھی کی جس کا شکار وہ قبل از خوابیدگی ہوا کرتا تھا۔ جارج کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ بیمار ہے لیکن یہ محض اُن کی خام خیالی تھی۔ یہ بات ہم سبھی جانتے تھے۔
عین اُسی وقت مسز پپٹ نے دروازے پر دستک دی۔ وہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ ہم رات کے کھانے کے لئے تیار ہیں یا نہیں؟ ہم نے ایک دوسرے کی طرف مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں فیصلہ کیا کہ بہتر ہے پہلے کچھ زہر مار کر لیا جائے۔ ہیرس نے نہایت دانشمندانہ انداز میں یہ قولِ زریں فرمایا تھا کہ پیٹ میں کچھ ہوتا ہے تو جراثیموں کے ہوش بھی ٹھکانے رہتے ہیں۔ مسز پپٹ کھانے کی ٹرے اٹھا لائی۔ ہم سب کھانے کی میز پر سٹک گئے اور سب مل کر اسنیک ،روٹی اور سالن کے ساتھ کھیلنے لگے ۔
اس وقت مجھ پر یقیناََ خاصی نقاہت طاری ہو گی ،کیونکہ کم از کم آدھ پون گھنٹےتک تو ایسا لگتا ہے کہ مجھے کھانے سے قطعاََ کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔کتنی عجیب بات ہے ناں! کہ مجھے پنیر تک کی طلب محسوس نہیں ہو رہی ۔
کھانے کے بعدحسب معمول ہم تینوں نے اپنے اپنے جام از سرِ نو لبا لب بھر لئے پائپ جلا لئےاور دوبارہ اپنی اپنی صحت کا رونا شروع کر دیا۔ہم میں سے کسی کو بھی واضح طور پر علم نہیں تھا کہ ہماری صحت کو آخر ہو کیا گیا ہے، تاہم ہماری متفقہ رائے یہی تھی کہ یہ سب کام کی زیادتی کا کیا دھرا ہے۔
ہمیں صرف اور صرف آرام چاہیئے ۔۔۔۔۔۔ ہیرس بولا

بالکل ۔۔۔۔۔۔۔ آرام اور کچھ تھوڑی بہت تبدیلی ۔۔۔۔۔۔۔ جارج نے کہا

کام کے دباؤ نے ہمارے اعصابی نظام میں ڈپریشن کا وائرس چھوڑ دیا ہے۔ اب ذہنی سکون اور توازن اسی صورت واپس لایا جا سکتا ہے جب معمولات سے ہٹ کر کچھ کیا جائے ۔۔۔ زندگی کے منظر کو تبدیل کیا جائے۔
جارج کا ایک عم زاد ہے جو ہر چیز کو طبی اصطلاحا ت کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہے۔ ہر چیز کو اسی نقطہء نظر سے دیکھنے کی بیماری جارج نے بھی اسی سے وراثت میں پائی ہے ۔ میں اس کی اس بات سے متفق تھا اور خود بھی یہی چاہتا تھا کہ ہمیں اس ہتھیائے ہوئے ہجوم سے پرے کسی پرانے اور غیر ترقی یافتہ دنیا کو تلاش کرنا چاہئے اور وہاں کے خمار آلود سبزے پر خوابو ں کے خیمے گاڑ لینے چاہئے ایسے گوشے میں جسے دنیا فراموش کر چکی ہو ، جنہیں پریوں کے تلووں نے نہ چھوا ہو اور جو اس شورش زدہ دنیا سے دور ہو کسی ایسے کنوارے ساحل پر جسے گذشتہ دو صدیوں کی لہریں چھو نہ سکی ہوں ( کیا میں کچھ زیادہ ہی رومانوی نہیں ہو گیا ہوں)
ہیرس نے کہاکہ میں نے جس مقام کی تصویر کشی کی ہے وہ اسے جانتا ہے کہ جہاں لوگ سرِ شام سو جاتے ہیں ، جہاں محبت کے لئے حوالہ جات یا روکڑوں کے پاپڑ نہیں بیلنا پڑتے اور جہاں گھروں کو پہنچنے کے لئے ٹراموں کے در پر سجدوںکی ضرورت نہیں پڑتی۔
بحری سفر کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔ جارج نے پوچھا۔
نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔۔ہیرس بولا۔۔۔۔اگر سکون اور تبدیلی کے متلاشی ہیں تو بحری پکنک اس کے لئے قطعی موزوں نہیں’ مجھے بحری سفر پر شدید تحفظات ہیں۔۔۔ بحری سفر اُس وقت تک کارآمد نہیں ہوتا جب تک آپ نے اس کے لئے دو تین مہینے مختص نہ کر رکھے ہوں۔۔۔۔ہفتے بھر کے لئے بحری سفر تو مزید تھکا دینے والا ثابت ہو گا۔
ذرا سوچیں کہ آپ بحری سفر کا آغاز پیر کے روز کرتے ہیں’ یہ سوچ کر کہ آپ اس سفر سے حتی المقدور لطف نچوڑیں گے’ ساحل پر کھڑے ہوئے ساتھیوں کو ہاتھ لہرا کر الوداع کہتے ہیں’ اپنے سگار جلاتے ہیں اور عرشے پر یوں آن کھڑے ہوتے ہیں جیسے آپ کیپٹن "کوک” ہوں یا سر فرانسس ڈریک ہوں یا پھر کرسٹو کولمبس ‘ بلکہ تھری اِن ون ہوں ۔۔۔ منگل کے دن آپ ناکوں ناک ہو کر کہتے ہیں کہ کاش میں نے اِس سفر کا سوچ بھی نہ ہوتا ۔۔۔ پھر بدھ’ جمعرات اور جمعہ کے دنوں میں آپ سوچتے ہیں کہ کاش یہا ں آنے سے قبل ہی آپ گزر گئے ہوتے’ ہفتے کو آپ کچھ خوراک نگلنے کے قابل ہو پاتے ہیں’ اس دن آپ عرشے تک آتے ہیں اور اُن رحمدل مسافروں کو مسکرا کر جواب دیتے ہیں جو آپ سے آپ کی خیریت پوچھتے ہیں’ اتوار کو آپ دوبارہ روزِ اوّل کیطرح چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں بلکہ وہ سب کچھ کھانے کے لائق ہو جاتے ہیں جو اس سفر سے قبل کھایا کرتے تھے اور پیر کی صبح جب آپ جہاز کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ آپ کے ایک ہاتھ میں سفری بیگ اور دوسرے میں ایک چھتری ہے اور آپ کے قدم ساحل کی طرف اُٹھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کو بحری سفر سے کچھ کچھ اُنسیت محسوس ہو چکی ہوتی ہے لیکن اب کیا ہوت ‘ کوئی بتلاوت۔
اِس موقع پر مجھے اپنا برادرِ نسبتی یاد آ رہا ہے جو ایک بار بحالی صحت کی خاطر بحری سفر پر روانہ ہوا تھا۔ اُس نے لندن سے لیورپول کے لئے برتھ کا دوطرفہ ٹکٹ بھی لے رکھا تھا اور جب وہ لیور پول پہنچا تو پہلا کام اُس نے یہ کیا کہ اپنے اُس ریٹرن ٹکٹ کو فروخت کرنے کی ٹھانی۔ اس سلسلے میں اُس نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹکٹ پر سیل لگا دی تھی چنانچہ ایک نوجوان نے ہاتھوں ہاتھ وہ ٹکٹ خرید لیا کیونکہ کسی ڈاکٹر نے اُس کی صحت کی بحالی کے لئے ورزش اور بحری سفر تجویز کیا تھا۔
آخر بحری سفر ہی کیوں ۔۔۔میرا برادرِ نسبتی ٹکٹ کو اپنے ہاتھوں میں بھینجتا ہوا بولا۔۔۔ کیا تمہاری زندگی ایسی ہی فالتو ہے کہ تم اسے بحری سفر میں رولتے پھرو۔۔۔ اور ورزش’ تم اس کے لئے خشکی پر رہتے ہوئے بھی کوئی کلب جوائن کر سکتے ہو۔
واپسی پر میرے سالے نے ریل گاڑی پکڑی ۔۔۔ اُس کا کہنا تھا کہ نارتھ ویسٹ ریلوےتو اِس کام کے لئے سب سے زیادہ صحت بخش ہے۔
میرا ایک اور دوست ایک ہفتے کے لئے بحری سفر کے لئے نکلااور اس سے پہلے کہ وہ اپنا سفر آغاز کرتا’ جہاز کا منتظمِ رسد (سٹیورڈ) اُس کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا وہ دورانِ سفر اپنے کھانے کی ادائیگی ساتھ ساتھ کرتا رہے گا یا ہفتے بھر کی ادائیگی یکمشت کر دے گا؟ منتظمِ رسد دوسرے آپشن کے حق میں تھا کیونکہ یہ میرے دوست کے لئے بہت سستا پڑنا تھا۔اُس نے اس حیرت انگیز رعایت کے بارے میں اُسے بتایا تھا کہ اُسے پورے ہفتے کے صرف ڈھائی پونڈ دینے ہوں گے’ زور کس پر ہوا "صرف” پر۔ کھانے کے لوازمات کے بارے میں اُس نے بتایا کہ کھانے پر بُھنی ہوئی مچھلی ملے گی’ لنچ ٹھیک ایک بجے سرو کیا جائے گا’ جس میں چار مختلف انواع کے کھانے شامل ہوں گے’ شام کا کھانا چھ بجے ہو گا جس میں سُوپ ‘ مچھلی’مرغی’ سلاد’ میٹھا’پنیر اور الحلوی(ڈیزٹ) پیش کیا جائے گا’ جبکہ رات دس بجے بھی ہلکا پھلکا کھانا سرو کیا جائے گا۔
اِتنے بہت سے لوازمات کا سُن کر ہی میرے دوست کی رال ٹپکنے لگی چنانچہ اُس نے فوری طور پر منتظمِ رسد کی تجویزتسلیم کر لی۔
جہاز پر جس وقت لنچ کا قت آیا تو اُس وقت بمشکل جہاز کی روانگی کا عمل ہوا تھا’ بھوک لگ بھگ عنقا تھی چنانچہ اُس نے ایک عدد گوشت کے اُبلے ہوئے ٹکڑے’ سڑا بری اور کچھ بالائی پر قناعت کی۔ دراصل گھر سے وہ قبل از وقت لنچ کر کے نکلا تھا اور یہ سوچ کر نکلا تھا کہ اُسے اونٹ کی طرح سارے ہفتے کا کھانا اپنے معدے میں بھر نا ہے اوراب معدے کا فیوز اُڑ چکا تھا۔
چھ بجے اُسے بتایا گیا کہ ڈنر تیار ہے۔ یہ اطلاع اُس کے لئے کوئی مژدہء جانفزا ثابت نہیں ہوئی’ اُس کے اندر کسی قسم کی بھوک نہ جاگی لیکن اس آواز سے اُسے اس بات کا اطمینان ہوا کہ اب اُس کے ادا کئے گئے ڈھائی پونڈ کی خطیر رقم کا حق ادا ہو سکے گا۔ وہ سیڑھیوں کی رسیوں کو پکڑتاہوا نیچے اُترا۔ تڑکا لگی’ بھُنی ہوئی مچھلی اور سلاد کی مسحورکن خوشبُو نے آخری سیڑھی سے ہی اُس کو خوش آمدید کہا۔سٹیورڈ خوشامدانہ مسکراہٹ کے ساتھ اُس کی طرف بڑھا۔

آپ کی خدمت میں کیا پیش کیا جائے جناب ۔۔۔۔۔ اُس نے دریافت کیا

مجھے یہاں سے فوراً واپس لے چلو ۔۔۔۔ اُسے اپنی نقاہت بھری آواز سنائی دی۔

فوری طور پر کچھ ہٹے کٹے مددگار آگے بڑھے ‘ اُسے سہارا دیا اور اُسے اُس کے کیبن تک چھوڑ آئے۔

اگلے چار دِنوں تک اُس نے نہایت سادہ اور پرہیزگاروں جیسی زندگی گزاری اور دُبلے پتلے کیپٹن کے بسکٹوں (دُلے پتلے بسکٹ تھے’ کیپٹن نہیں۔۔۔وہ تو بسکٹوں کا برانڈ نام تھا) اور سوڈا واٹر پر گزارہ کیا تاہم اتوار کو اُس کی طبیعت خاصی بحال ہو گئی اور اُس نے کیفے میں جا کر چائے اور خشک ڈبل روٹی پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ پیر کے روز وہ اپنے رنگوں میں آ چکا تھا اور اُس نے خود کو بھُنے ہوئے مرغ کے روبرولا کھڑا کیا۔منگل کا دن اُس کی جہاز سے رخصتی کا دن تھا اور جب جہاز کنارے پر لنگر انداز ہو رہا تھا تو اُسے یک گونا پشیمانی نے آن گھیرا تھا۔

یہ میں چلا ۔۔۔۔یہ میں چلا۔۔۔اُس نے حسرت زدہ لہجے میں کہا ۔۔۔دو پونڈ کے کھانے کو چھوڑ کر ۔۔۔وہ کھانا جو میرے لئے تھا لیکن میں کھا نہیں سکا تھا۔

کاش اُس کے پاس محض ایک دن اور ہوتا۔۔۔یقیناً وہ اس دن اپنے تمام کے تمام ڈھائی پونڈ کے ساتھ نہ صرف انصاف کر سکتا تھا بلکہ بطور منافع کچھ اضافی خوراک بھی ڈکار سکتا تھا۔

یہ تو تھا میرے دوست کی روداد ۔۔۔اب میں دوبارہ اپنی طرف آتا ہوں’ میں نے بحری سفر کا رخ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔ جی نہیں’ یہ میں نے کوئی اپنی وجہ سے نہیں کیا تھا ‘ آپ مجھ سے اس قسم کے حماقت آمیز فیصلے کی توقع نہ رکھیں ۔۔۔ یہ جارج تھا جس کے استدلالی دھرنے نے ہم سب کو مجبور کر دیا تھا۔اُس نے پُرزور انداز میں کہا تھا کہ اُس کی صحت صرف اور صرف بحری سفر کی مرہونِ منت ہے’ بلکہ وہ تو بحری سفر سے بھرپور لطف اندوز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ہاں البتہ اُس نے ہیرس اور مجھے مشورہ دیا تھا کہ بحری سفر ہمارے بس کی بات نہیں ہے اس لئے ہمیں تو اس سے اجتناب ہی کرنا چاہئیے۔ ہم لوگ تو بحری سفر کے دوران یوں بیمار پڑ جاتے ہیں جیسے بجو بھادوں کی تاب نہ لا کر بیمار ہو جاتا ہے۔ ہیرسں نے کہا کہ اُسے بھی اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ بحری سفر کے دوران بیمار ہو کیسے جاتے ہیں۔ پھر اُس نے اس امر کا تجزیہ کرتے ہوئے قیاس کیا کہ یقیناً وہ لوگ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہوں گے۔۔۔اُس نے کہا کہ وہ خود کبھی کبھار سوچتا ہے کہ دورانِ سفر بیمار ہونے کا مزا چکھ لیا جائے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ اُس میں ایسے میں بیمار ہونے کی صلاحیت ہی مفقود ہے۔ اُس نے اس سلسلے میں ایک واقعہ بھی سُنایا کہ ایک مرتبہ بحری سفر کے دوران اُس کا جہاز طوفان میں پھنس گیا اور اس قدر ہچکولے کھائے کہ دوسرے مسافر اپنی اپنی برتھوں پر ہی انٹا غفیل ہو گئے لیکن سارے جہاز میں ایک وہ تھا اور ایک جہاز کا کپتان جس کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔۔۔۔ہیرس اس ضمن میں جتنی کہانیاں سُنا چکا ہے اس میں اُس کے علاوہ ایک دوسرے شخص کا تذکرہ ہمیشہ ملتا ہے۔ اگر اتفاق سے دوسرا شخص نہ ہو تو کم از کم وہ خود ایسی مافوق الفطرت شخصیت کا مالک ضرور ہوتا ہے جو بحری سفر کے دوران بیمار نہ ہونے کا عظیم الشان کارنامہ تنِ تنہا سرانجام دیتا ہے۔

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بحری بیماریوں کے سزاوار کہیں کسی قطعہء خشک میں نہیں پائے جاتے۔ بحری سفر میں آپ کو بھانت بھانت کی مخلوق ملے گی’ بلکہ پورا کا پورا جہاز "سی سک” ہو گا لیکن آپ کو خشکی پر کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ بتا سکے کہ آخر یہ "سی سکنگ” ہے کیا بلا!آخر یہ ہزاروں لاکھوں لوگ جو آئے دن بحری سفر کرتے رہتے ہیں وہ خشکی پر نہیں جاتے تو کہاں کھپتے ہیں کہ اُنہیں اس بیماری کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔

اگر زیادہ تو لوگ اُس شخص کی طرح ہیں جو ایک بار مجھے یارماؤتھ کی کشتی میں ملا تھا تو یقیناً اوپر بیان کردہ اسرار سے پردہ ہٹ جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ جاتے کہاں ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابھی ہم ساؤتھ پینڈپئر سے کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ میری نظر اُس شخص پر پڑی جو نہایت خطرناک حد تک سمندر کی طرف جھکا ہوا تھا۔ میں اُس کو بچانے کے لئےلپکا۔

ارے ۔۔۔ پیچھے ہٹو ۔۔۔ میں نے اُس کے کاندھے کو ہلاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ تم نیچے سمندر میں گر جاؤ گے!

کاش میں سمندر میں گر سکتا ۔۔۔۔ اُس کی آواز میں حسرت تھی۔ میں نے بس اتنا سُنا تھا اور دوسرے ہی لمحے واپس پلٹ آیا تھا۔

اس واقعہ کے تین ہفتوں بعد میرا اُسی شخص سے ایک کافی ہاؤس میں سامنا ہوا۔ وہ اُس وقت اپنی مسافتوں کی رام کہانی سُنا رہا تھا کہ اُسےسمندر سے عشق ہے۔

محترم ۔۔۔۔ میری یاد دہانی کرانے پر اُس نے ملائم انداز میں کہا تھا ۔۔۔جی ہاں۔۔۔ ایک بار میرے ساتھ اسی قسم کا واقعہ ہوا تھا۔ ہمارا جہاز کیپ ہارن سے کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ جہاز اُلٹ گیا تھا۔

کیا تمہیں یاد ہے کہ تم ساؤتھ پینڈپئر کے قریب بھی ایسے ہی اضطراب کا شکار رہے تھے اور سمندر میں کود جانا چاہتے تھے!

ساؤتھ پینڈپئر ۔۔۔۔ وہ تذبذب کا شکار ہو گیا۔

جی ہاں ۔۔۔ یار ماؤتھ کی طرف جاتے ہوئے! غالباً وہ جمعہ کا دن تھا ۔۔۔ تین ہفتے قبل !!

اوہ ۔۔۔ اچھا۔۔۔ وہ ۔۔۔ یک بیک اُسے یاد آ گیا۔۔۔ ہاں مجھے یاد ہے۔۔۔ اُس وقت دوپہر تھی اور میرے سر میں شدید درد تھا ۔۔۔ شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ میرے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ۔۔۔ آپ کیساتھ کبھی ایسا ہوا؟

جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے سمندر زدگی سے بچنے کے لئے ایک نہایت موثر طریقہ دریافت کر لیا تھا۔ سمندر زدگی کا مرض جہاز یا کشتی کے ہچکولوں کے باعث وقوع پذیر ہوتا ہے۔ آپ عرشے کے وسط میں کھڑے ہیں اور جہاز تیزی سے آگے پیچھے ہچکولے کھا رہا ہے تو آپ کو چاہئیے کہ آپ اپنے جسم کو سیدھا اور اکڑا کر رکھیں۔ جب جہاز کا اگلا حصہ اوپر اُٹھے تو آپ بھی اپنے جسم کو آگے کی طرف جھکا لیں’ چاہے آپ کی ناک عرشے کے فرش کو چھو لے۔ اِسی طرح جب جہاز کا بیرونی حصہ بلند ہو تو آپ بھی پیچھے کی طرف جھک جائیں۔ لیکن یہ مشق ایک دو گھنٹوں کے لئے تو ٹھیک ہے لیکن اگر معاملہ ہفتے کا ہو تو اللہ اللہ خیر صلا۔

جارج بولا ۔۔۔اِس بار بحری سفر ہی سہی ! کیوں یارو ؟

اُس کا کہنا تھا کہ ہمیں اور کیا چاہئیے’ تازہ ہوا ‘ ورزش’ سکون اور ہر روز ایک ہی منظر میں جیتے رہنے سے نجات۔۔۔ اس باسی معمولات نے تو ذہنوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بحری سفر کے دوران ہماری ورزش ہو گی ‘ بھوک بھی لگے گی نیند بھی خوب آئے گی۔۔۔ اور کیا چاہئیے ہمیں ؟؟؟

ہیرس کا خیال تھا کہ جارج کو ایسا کچھ نہیں کرنا چاہئیے جس سے اُسے پہلے سے بھی ذیادہ نیند آنے لگے کیونکہ یہ خود اُس کے لئے خطرناک ہو گا۔ وہ حیران تھا کہ آکر جارج کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ مزید سونے کا معجزہ دکھا سکتا ہے’ جبکہ گرمی ہو یا سردی’ ہر دن محض چوبیس گھنٹوں پر مشتعمل ہوتا ہے تاہم اگر وہ مزید سونے میں کامیاب ہو گیا تو یہ تبھی ممکن ہو سکے گا جب اس زمان و مکان سے ماورا ہو کر سوئے اوراسے زندگی کی ضرورت نہ رہے’ ویسے کیا اس سے وہ زندگی کے مصارف کے اخراجات بچانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا ۔۔۔سوچنے کی بات ہے۔

ہیرس کا کہنا تھا کہ بحری جہاز اُسے بہت سُوٹ کرتا ہے کیونکہ بحری سفر سے نہ صرف اُس کی تونائی بحال ہو جاتی ہے بلکہ جب وہ گھر لوٹتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ کسی نئے گھر میں منتقل ہو گیا ہو اور وہ بھی بغیر کوئی پونڈ لگائے۔

میں بھی بحری سفر کے حق میں تھا اور اس سلسلے میں میں اور ہیرس جارج سے متفق تھے اور شائد جارج کے خیالات ہم پہلی مرتبہ اس قدر متاثر ہوئے تھے۔ اصل میں جارج نے اس سے پہلے عقلمندی کی کوئی خاص بات کی ہی نہیں تھی۔

ہم میں سے ایک ہی فرد تھا جو اس تمام قضئے میں شدید تحفظات رکھتا تھا اور وہ تھا مونٹمورینسی۔۔۔ اُسے بحری سفر کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا۔

آپ لوگوں کے ساتھ تو بحری سفر میں سب کچھ اچھا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اُس نے یقیناً کہا ہو گا ۔۔۔ آپ لوگوں کو پسند ہو گا لیکن مجھے تو ہرگز ہرگز پسند نہیں۔۔۔نہ تو خوبصورت نظارے میرے لائن کی چیز ہیں اور نہ ہی مجھے جگہ جگہ سگار کی چمنی بننے میں مزا آتا ہے’ ہاں کسی بلی کو میرے آگے چھوڑیں پھر دیکھئے گا میری پھرتیاں۔۔۔اور اگر میں سونے پر آ جاؤں تو پھر کیا جہاز اور کیا لندن کی کوئی کٹیا۔۔۔مجھ سے اگر پوچھتے ہیں تو میں آپ لوگوں کے اس سارے تانے بانے کو ہی احمقانہ سمجھتا ہوں۔۔۔!

مونٹمورینسی کے مقابلے میں ہم تین تھے چنانچہ بحری سفر کے حق میں تحریک کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔

جیروم کے جیروم کی کتاب "Three Men in a Boat” کا پہلا باب۔