نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: ادب اور ادیب

یادش بخیر،غالباً اُس وقت میری عمر یہی کوئی بارہ برس تھی، میرے ایک دوست ضیا معین نے مجھے ایک رسالہ تھمایا اور پڑھنے کی پُر زور سفارش کی۔ اُس رسالے کا نام ’’ماہنامہ قہقہہ‘‘ تھا۔یہ رسالہ اُردو طنز و مزاح کا عظیم مرقع تھا اور یہ پہلا موقع تھا جب مجھ پر منکشف ہوا کہ پاکستان میں اُردو طنز و مزاح کا ایک مکمل رسالہ بھی کہیں شائع ہوتا ہے۔  اُس دن کے بعد میں ہر ماہ اپنے جیب خرچ سے یہ رسالہ خریدا کرتا تھا۔ بعد میں یہ رسالہ مختلف ناموں کی پٹڑی پر چلتا ہوا ’’تیس روزہ چاند‘‘ کے نام سے طلوع ہوا اور اِسی نام کے ساتھ پھر غروب بھی ہوا۔

’’تیس روزہ  چاند‘‘ میں مجھے بہت سے ایسے اہلِ قلم نے متاثر کیا جو مسلسل کئی برسوں تک پوری تندہی سے لکھتے رہے اور اِن میں بعض لکھنے والوں نے اِتنا اچھا مزاح تخلیق کیا کہ آج بھی چاند کے گزشتہ شمارے کھولتا ہوں تو جیسے کھو سا جاتا ہوں۔اِنہیں میں ایک نام سید ارشاد العصر جعفری کا بھی ہے۔

ارشاد صاحب نے چاند میں خاصی چاند ماری کی۔کم از کم مجھے ہر ماہ جن اصحاب کی تحریروں کا انتظار ہوتا تھا اُن میں  اِن کا نام بھی شامل تھا۔ اِنہوں نے چاند میں خاصے معرکے کی چیزیں لکھی ہیں۔ قیس چلبلائی اس کی ایک جھلک ہے۔ جیسا کہ کتاب کے آخر میں ارشاد صاحب نے ایک نوٹ میں واضح طور پر اس امر کی نشاندھی کی ہے کہ:

’’ 1990سے 1994 تک ہم میٹرک اور ایف اے کے سٹوڈنٹ تھے اسی زمانے میں ہم پاکستان بھر کے دیگر رسائل کے ساتھ ساتھ مزاحیہ ماہنامے ’’ چاند‘‘ میں بھی ذوق و شوق سے لکھتے تھے۔یہ ناول انہی چھوٹی چھوٹی تحریروں کو ربط دے کر تیار کیا گیا ہے۔‘‘

  اگر چہ ارشاد صاحب نے ’’قیس چلبلائی ‘‘ کی تجسیم میں بہت سی ایسی تحریروں کا مسالا گوندھ گوندھ کر ملایا ہے جو مختلف اوقات میں لکھی گئی ہیں اور جن کا ماحول بھی ایک دوسرے سے قطعاً مختلف تھا لیکن اُنہوں نے اِس مہارت سے اِن تمام مختلف تحریروں کو ایک لڑی میں پرویا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس ہار کے پروئے جانے والے موتی مختلف رنگوں کے حامل ہیں۔ مختلف ادوار میں لکھے گئے واقعات پر کسی ایک کردار کا کمبل ڈالنا ارشاد صاحب کا ہی کام ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہلکھے جانے والے واقعات قیس چلبلائی کے کردار سے مبرا ہو کر لکھے گئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بھی ارشاد العصر جعفری کا ایک منفرد کارنامہ ہے جو اُن کی ہم جہتی شخصیت کا ایک اور دریافت کردہ رنگ ہے۔

اُردو ادب میں  ایک مکمل مزاحیہ ناول کا لکھا جانا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہت سے مزاحیہ ناول لکھے جا چکے ہیں۔ اُردو طنز و مزاح کے لئے ’’اودھ پنچ‘‘ کا دور ایک سنہرا دور ہے۔ اس دور میں ادوھ پنچ کے لکھنے والوں نے بہت سے ایسے طویل ناول لکھے ہیں جو اودھ پنچ میں قسط وار شائع ہوئے ہیں اور پھر بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ منشی سجاد حسین کا ناول ’’تمیز الذین‘‘ تو ریختہ ڈاٹ کام پر بھی موجود ہے۔بعدازاں بھی بہت سے ایسے شگفتہ بیان ناول نگار گزرے ہیں جنہیں بلا مبالغہ طنز و مزاح پر مبنی ناول نگار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں شوکت تھانوی کا ذکر نہ کیا جائے تو موضوع کے ساتھ سراسر ناانصافی ہو گی۔ شوکت تھانوی نے اسی (۸۰) کے قریب ناول تخلیق کئے ہیں جو بظاہر رومانوی تھے لیکن شوکت تھانوی کے شگفتہ اور برجستہ اندازِ بیان نے اِن ناولوں کو طنز و مزاح کی ایک  ایسی طرز تغویض کی تھی جو اسے بلامبالغہفکاہیہ ناول کے درجے پر فائز کرتا ہے۔شوکت تھانوی کا یہی شگفتہ اندازِ بیان اور برجستگی ہے جس کی بناء پر اُنہیں اُردو ادب کا ’’پی جی ووڈ ہاؤس‘‘ کہیں تو بیجا نہ ہو گا۔اسی طرح ابنِ صفی (اسرار احمد، طغرل بوغا) کا ناول ’’تزک دو پیازی‘‘ بھی ایک خاصے کی چیز ہے۔ابنِ صفی کے سری ادبی رجحانات کے برعکس یہ ناول مکمل طور پر فکاہیہ ہے ۔ اس ناول میں ابنِ صفی صاحب کے فکاہی جوہر کھل کر سامنے آئے ہیں ۔

موجودہ دور میں گلِ نوخیز اختر کے ناول’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ کو فخریہ طور پرفکاہی ناول کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ارشاد العصر جعفری کا ناول ’’قیس چلبلائی‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اِن دونوں ناولوں کے مصنفین میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق مرحوم ’’چاند‘‘ سے رہا ہے۔

’’قیس چلبلائی‘‘کا نام ہی  اپنے آپ پر ایک طنز ہے۔ قیس چلبلائی کا کردار نام کا تو قیس ہے اور آپ کو قیس کا احوال معلوم ہے کہ بی بی لیلیٰ کے عشق میں دیوانہ ہو گیا تھا، اور کوئی اور حُسن اُسے متاثر نہیں کر سکا تھا، جبکہ قیس چلبلائی صاحب ایک مکمل فلرٹ کردار ہے جس کا نظریۂ عشق اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے کہ:

تُو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ظالم کا بچہ تمام ناول کے دوران محبوباؤں کو یوں بدلتا رہا ہے جیسے شیر خوار بچہ سارا دن پوتڑے بدلتا رہتا ہے۔یہ آج کل کے عشاق پر ایک بھرپور طنزبھی ہے۔ آجکل کے عاشق اگرچہ  دعویٰ تو اس امر کا کر رہے ہوتے ہیں کہ اُنہیں’’لوریا (LOVERIA)‘‘ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، لیکن اُن کی نظریں ہمہ اوقات اس چکر میں کلی کلی منڈلاتی پھرتی ہیں کہ:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہیہ ناول بہت سی خودمختار کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ناول کی ساری کہانیاں قیس چلبلائی  کے کردار کے گرد بھنگڑا ڈالتی نظر آتی ہیں۔قیس صاحب ہمہ اوقات راجہ ِاندربنے بیٹھے نظر آتے ہیں اور لڑکیاں موصوف کے گرد یوں امڈی پڑتی ہیں جیسے پتنگیں بجلی کی تاروں میں پھنسی نظر آتی ہیں لیکن انجامِ کار قیس صاحب کی محبت کا ہما ’’آفرین ‘‘ کے سر پر ہی بیٹھتا ہے۔ باقی سب لڑکیاں تو جیسے منزل نہیں بلکہ ’’راہگذر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مصنف نے مختلف النوع کہانیوں کو اس خوبی سے ناول کی وحدت دی ہے کہ وہ ایک مکمل ناول لگتا ہے۔

’’قیس چلبلائی‘‘ کا آغاز ہی اس انداز سے کیا گیا ہے کہ ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ در آتی ہے:

’’آج دل نے ایک نئی فرمائش کر دی۔

 ’’قیس صاحب۔ گالیاں تو سنیں‘‘

دل کی اس فرمائش پر ہم نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں کہ کوئی ایسی ہستی نظر آئے تو دل کی فرمائش پوری کی جائے لیکن ابھی اردگرد کوئی بھی ایسی ہستی موجود نہیں تھی۔

ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارے دل کی اس فرمائش پر آپ کے ماتھے پر سلوٹیں ابھر آئی ہیں اور شاید آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ دل کی یہ کیسی فرمائش ہے۔ تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ ہمارا دل ہے۔ یعنی قیس چلبلائی ۔ ایم ایس سی۔ سڑکیات۔ ڈی ایس سی۔ آواریات۔ یونیورسٹی آف عشقیات۔ یہ دل کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کی فرمائش کر سکتا ہے۔‘‘

بقول شاعر:

چاول کا ایک دانہ دیگوں کی مخبری ہی

ارشاد العصرجعفری کا یہی چُلبلاپن پورے ناول میں پھلجڑیاں چھوڑتا نظر آتا ہے۔

یہ ناول خالصاً تفریحی نقطہ نظر سے لکھا گیا ہے اور اسے اسی انداز میں لیا جانا چاہیئے، یہ میرا نقطۂ نظر ہے تاہم وہ اصحابِ دور اندیش و علم و فن جن کیآنکھوں میں قدرت نے ایکسٹرا لینز کی بصیرت فٹ کی ہوئی ہے اور جو بوسے میں بھی فلسفہ تلاش کر لیتے ہیں، انہیں اس ناول میں نصیحت و سبق حاصل ہو تو فدوی کچھ کہنے سے عاجز ہے۔

اِس ناول کا ماحول بھی ہمارے معاشرے کے عمومی رویے کے برعکس ہے۔ مصنف نے اس ناول میں تذکرہ کرنے کے لئے معاشرے کی اُن چیدہ چیدہ خصوصیات کا احاطہ کیا ہے جو مزاح نگاروں کا پسندیدہ موضوع رہی ہیں تاہم حقیقی معاشرے کی مکمل تصویر کا احاطہ نہیں کرتی۔ ناول کی تمام بیویاں شہ زور، تمام شوہر فرمانبردار اور مظلوم، تمام لڑکیاں مکار اور دھوکے باز اور تمام لڑکے دل پھینک اورٹھرکی ہیں۔ اس رویے کو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر ایسا ہوتا تو پنجاب اسمبلی سے ہمارے ملک کی مراعات یافتہ مخصوص کلاس کی نمائندہ خواتین ’’حقوقِ نسواں ایکٹ‘‘ کے نام پر ایسا قانون منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو جاتیں اور وہ بھی اس انداز سے کہ سیاست کے شیر بھی اُن کے پیچھے اپنی اپنی دُمیں ہلاتے پھریں۔اس ایکٹ کا انجام تا دمِ تحریر دو تین طلاقوں پر منتج ہوا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس ناول کو تفریحی نقطۂ نظر سے پڑھا جانا چاہیئے اور اسی انداز میں لیا جانا چاہیئے۔

ارشاد العصر جعفری نے اس ناول کی اُٹھان اس خوبصورتی سے رکھی ہے کہ دیکھا چاہیئے۔ واقعات کی رنگین بیانی کے ساتھ ساتھ مکالمات میں برجستگی اور بیساختہ پن اسے نہایت دلچسپ بنائے رکھتا ہے اور یہ اندازِ تحریر اول تا آخر برقراررکھا گیا ہے۔ذرا ناول کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

’’اچھا جناب۔ اب مجھے اجازت دیں‘‘…… ہمارا نام رجسٹر پر درج ہونے کے بعد ابا نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں۔ قیس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی۔ جس قدر چاہیں اس کی پھٹنی لگائیں‘‘…… انہوں نے کہا۔

’’ابا جی۔ گوشت کس کے حصے میں جائے گا‘‘…… ہم نے  نہایت معصومیت سے پوچھا، انہوں نے ہمیں گھور کر دیکھا۔

’’خاموش۔ نالائق گدھا‘‘…… ابا نے ہمیں ڈانٹ دیا۔ دراصل ابھی چند دن پہلے گھر میں بکرا ذبح ہوا تھا تو ابا جی نے ہڈیاں محلے میں تقسیم کر دی تھیں۔ گوشت گھر میں رکھ لیا تھا اور کھال ایک ہزار میں بیچ دی تھی۔

’’ابا جی۔ استاد صاحب سے ہماری کھال کے پیسے تو لیتے جائیں‘‘…… ابا جانے لگے تو ہم نے پیچھے سے انہیں آواز دی۔ ابا رکے، انہوں نے مڑ کر ہمیں ایسی نظروں سے دیکھا کہ ہم فوراً ہی سہم گئے اور ہم نے گردن جھکا لی۔‘‘

’’قیس چلبلائی‘‘طنز و ظرافت کا حسین مرقع ہے۔ اس میں بیساختہ مسکراہٹ بکھرنے والی سچوئیشن بھی ہے اور مکالمات کی بیساختگی اور لطافت بھی۔ قیس چلبلائی کا یہ اقتباس اسی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔

’’قیس۔ تم کتنے بہادر ہو؟‘‘…… نائلہ نے پوچھا۔

’’بہت‘‘…… ہم نے اکڑ کر کہا۔

’’ویری گڈ۔ پھر کام بن گیا۔ میں نے جن قابو کرنے کا ایک آسان طریقہ حاصل کیا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ انسان بہادر اور ذہین ہو۔ مجھے یقین ہے کہ تم جن قابو کر لو گے‘‘…… نائلہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

’’معاف کرنا۔ اگر جن قابو کرنا ہے تو پھر میں بہادر نہیں ہوں بلکہ مجھ جیسا بزدل پورے ملک میں نہیں ہو گا‘‘…… ہم نے منہ بنا کر کہا۔

’’قیس ڈئیر۔ تم بزدل نہیں ہو۔ ایک دم بہادر ہو۔ بھلا ایک بہادر بیوی کا شوہر بزدل کیسے ہو سکتا ہے‘‘۔۔۔ نائلہ نے کہا۔

’’میں آج تک تمہیں قابو نہیں کر سکا جن کیسے قابو کر سکتا ہوں‘‘…… ہم نے بدستور منہ بناتے

ہوئے کہا۔

’’بیوی کو قابو کرنا مشکل ہے۔ لیکن جن قابو کرنا بہت آسان ہے۔ تم جن قابو کرلوگے۔ ہاں‘‘…… اس نے کہا۔‘‘

یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک فکاہی تخلیق کار ہو اور طنز کی چٹکیاں نہ بھرے۔ معاشرے کی غیر ہمواری کی نشاندھی کرنا ہر فکاہی ادیب و شاعر کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ہنسی ہنسی میں کوئی ایسی بات کہہ جانا جس سے معاشرے کی ناہموار کی طرف اشارہ بھی ہو جائے اور تلخ بیانی کا ارتکاب بھی نہ ہو، ایک اچھے مزاح نگار کی امتیازی خصوصیت ہوتی ہے۔ ارشاد العصر میں یہ وصف بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ باتوں ہی باتوں میں طنز کی ایسے ایسے نشتر چھبو جاتے ہیں کہ دیکھا چاہیئے۔


خادم حسین مجاہدؔ نے اور بہت سوں کی طرح اپنی کتاب ’’قلم آرائیاں‘‘ کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے ’’مزاحیہ مضامین‘‘، میں اس طرح کی پیشانیوں کو قارئین کیلئے پریشانیاں سمجھتا ہوں۔ ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ہاتھ ہو چکا ہے۔ کنگلے زمانے یعنی زمانۂ طالب علمی میں،میں ایک ایسی ہی کتاب خریدکر لایا تھا جس کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا ’’انشائیوں کا مجموعہ‘‘۔ بہت سے شاداب اور خوش باش انشائیہ نگاروں کے انشائیے پڑھ کر میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ بھی کوئی ویسی ہی کتاب ہو گی جسے پڑھ کر میں دل پشوری کر سکوں گا لیکن باپ رے باپ، صفحۂ اوّل تا آخر، فلسفے اور ثقیل نگاری کے ایسے طوفانِ بدتمیزی سے سابقہ پڑا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اب کسی کتاب کے سرِ ورق پر کوئی اس قسم کا اعلان دیکھتا ہوں تو دوکاندار کی گھوریوں کی پرواہ کئے بغیر یہ اطمینان ضرور کر لیتا ہوں کہ واقعی درست لکھا گیا ہے یا سیاست بھگاری گئی ہے۔ خادم حسین مجاہدکو اپنی کتاب کے سرِ ورق پر ’’مزاحیہ مضامین‘‘ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی، سرِ ورق پر اُن کا نام ہی کافی تھا۔خادم کے پہلو بہ پہلو مجاہد کا لفظ دیکھ کر پڑھنے والوں کو پتہ چل جاتا کہ واقعی یہ مزاحیہ مضامین کی کتاب ہے۔

 ’’قلم آرائیاں اور ’’دست و گریباں‘‘ زندہ دلی کے مکمل نسخے ہیں جنہیں معاشرے کا کوئی بھی حکیم یا ڈاکٹر پورے تیقّن سے امراضِ قلب میں مبتلا اور قنوطیت کے شکار مریضوں پر آزما سکتا ہے، انشاللہ اُسے کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ شوخ بیانی، طنز و استہزا،بشاشت ، ظرافت، رمز، ایجاز، مخول، ٹھٹھا، سخن چینی، نقطہ چینی، تفنّن کیا نہیں ہے اِن کتاب میں ، لیکن یہ بات بھی دل پر ہاتھ رکھ کر تسلیم کرنی پڑے گی کہ اِن سب گھوڑوں کی لگامیں ہمیشہ اور ہر جگہ خادم حسین مجاہدؔ کے نہایت مضبوط ہاتھوں میں محسوس ہوتی رہی ہیں،اُن کی جانب سے ذراسی بھی ڈھیل کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اُن کی ظرافت میں بے سمتی بھی نہیں ہے۔ ہر تحریر ایک واضع پیغام دیتی نظر آتی ہے۔ واشگاف اور صحافت کی زبان میں ’’مبینہ طور پر‘‘، ہرتحریر میں فلیش لائٹ براہِ راست اور مکمل طور پر موضوع پرمرتکز ملتی ہے لیکن اس قدر سادگی میں بھی پُرکاری دیکھی جا سکتی ہے، ٹو دی پوائنٹ ہو کر بھی تحریر کے ہزارہا پہلو دانت نکالے نظر آتے ہیں، ضیا ء الحق قاسمی مرحوم نے اُن کے بارے میں کیا خوب فرمایا ہے :

’’وہ ایک خیال پر ایک تحریر نہیں لکھتے بلکہ ایک تحریر میں کئی خیال پیش کرتے ہیں۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ مزاح لکھنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اِس کے لئے ایک توخود لکھنے والی کی فطری خوش طبیعی کا عمل دخل ہوتا ہے اور دوسرا یہ بھی لازم ہے کہ اُس میں معاشرتی، معاشی، سیاسی، عمرانیاتی  غرض یہ کہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں موجودناہمواریوں اور بے اعتدالیوں سے مفاہمت کا جذبہ نہ ہو اور وہ اُس کو اُسی نظر سے دیکھتا ہے جیسے بیوی سوتن کو دیکھتی ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ  کامیاب مزاح نگاری کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ کسی وقوعے پر اپنی  شدیدذاتی ناپسندیدگی کے باوجود اپنے شدید ردِعمل کو قابو میں رکھ کرنہایت نفاست سے چٹکیاں لے کر موضوع سے انصاف کرے۔ ہمارے مجاہد کے لئے  تو لگتا ہے کہ مزاح لکھنا خالہ جی کا گھر ہے۔کسی بھی موضوع پر خامہ فرسائی کر رہا ہو، اس قدربیساختگی اور روانی سے چٹکلے چھوڑتا ہوا بہتا جاتا ہے کہ راوی کے بہاؤ کا سماں بندھ جاتا ہے۔اُن کے نشتروں کی کاٹ اور تیزی کسی بھی موڑ پرکند نہیں لگتی ۔

 ہمارے دفتر میں تین افراد پر مشتمل ایک بھانڈ گروپ ہے جس کا کام بقول شخصے بلا انصاف تمام لوگوں کی لباس دری کرنا ہے۔ اِن تینوں بھانڈوں کو نقالی پر اس قدر عبور حاصل ہے کہ دیکھا چاہیئے۔اہلِ مجلس کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتے ہیں، اُن کی اِس قدر پُرلطف محفل سے کوئی بھی اُٹھ کر جانا نہیں چاہتا۔محفل سے اُٹھ کرجانے کا مطلب ہے کہ محفل کا موضوع بننا یا ’’جگتوں کا نشانہ‘‘ بننا، جس کے لئے کسی کا بھی ظرف راضی نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس طرح وہ کچھ دیر قبل دوسروں کی ’’لباس دری‘‘ پر ہنستا رہا ہے، دوسرے بھی اُس کا ٹھٹھا اُڑانے میں اِسی خشوع و خصوع کا مظاہرہ کریں گے۔یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں پر تو خوب لطف اندوز ہوتا ہے لیکن جب خود اُس کی کمزوریوں کا مذاق اُڑایا جائے تو اُس کا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ خادم حسین مجاہد اِس کا قطعاًقائل نہیں۔ وہ دوسروں کی طرح خود اپنے آپ پر بھی ہنسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ خود اپنی برادری ’’ادیبوں‘‘ پر قلم آرائیاں میں ایک پورا مضمون ملتا ہے جو اُنہوں نے غالباً آئینے کے سامنے بیٹھ کر لکھا ہے۔ اپنی قلمکاریوں پر اس قدر نفاست سے خنجر آزمائی کی ہے جیسے اکبر الٰہ آبادی نے اپنے ایک شعر میں اپنے آپ کو لہولہان کیا ہے:

بھیا رنگ یہی ہے اچھا

ہم بھی کالے یار بھی کالا

’’قلم آرئیاں‘‘ میں ایک مضمون قلم قبیلہ میں ’’ادیب‘‘ کی تعریف میں خادم حسین مجاہد لکھتا ہے:

’’خود کو جینئس سمجھنے والا ایک کھسکا ہوا انسان جو اس خوش فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ معاشرے کو بذریعہٗ قلم سدھار لے گالیکن یہ بیچارہ خود کو بھی ساری عمر سدھار نہیں سکتا۔‘‘

بہت سے مزاح نگاروں کا طریقۂ واردات ہی الفاظ سے کھیلنا ہے۔ وہ کسی بھی بات سے یوں بات نکالتے ہیں جیسے سیاستدان خیر کے کاموں سے بھی اپنی آف شور کمپنیوں کے لئے سرمایہ۔محض اِسی ہتھیار کو استعمال کرکے بہت سے مزاح نگاروں نے خود کو مشفق خواجہ،یونس بٹ، انور مقصود ،گلِ نوخیز اختر وغیرہ بنا ڈالا ہے۔ خادم کا ترکش بھی رعایت لفظی کے اِن تیروں سے خالی نہیں۔ وہ باتوں ہی باتوں میں انتہائی معصومیت سے ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ بندہ بیساختہ ہنس دیتا ہے۔ مثلاً اپنے ایک مضمون ’’انگریزی اور ہم دیسی‘‘ میں وہ یوں چٹکیاں بھرتے ہیں۔

مجھے ایک دفعہ ان کا انگریزی اردو مکس میسج ملا تو میں نے سر پیٹ لیا۔ لکھا تھا’’ کل میری میرجmarriage کی برتھ ڈے birthday ہے آپ کی دعاؤں کا ویٹweight کروں گا۔‘‘ شادی کی سالگرہ کا ترجمہ جو انہوں نے اینی ورسری کی بجائے برتھ ڈے (یوم ِپیدائش ) سے کیاا س کی صحیح دادتو کوئی انگریز ہی دے سکتا ہے۔ہم تو حیران تھے کہ شادی کی پیدائش کا دن بھی ہوتا ہے اور پھر انتظار کرنے کے لئے weight  واہ۔

الفاظ کے اُلٹ پھیر سے نئے مضحک و ظریفانہ مفہوم نکالنے کو پیروڈی یا تحریف کہا جاتا ہے۔اُردو ادب میں مزاحیہ شاعروں نے کثرت سے تحریفیں لکھی ہیں لیکن ہماری نثر کا دامن بھی تحریف سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، عطا الحق قاسمی، یونس بٹ وغیرہ نے تحریف نگاری کے کامیاب تجربے کئے ہیں۔خادم حسین مجاہدؔ بھی اس میدان کا مجاہد ہے۔اُن کی کتابوں قلم آرائیاں اور دست و گریبان میں جابجا اس کی مثالیں ملتی ہیں۔’’قلم آرائیاں‘‘ کی تحریر ’’ادبی اجلاس‘‘ اس سلسلے کا ایک عمدہ نمونہ ہے، جس کا ایک ابتدائی قاشہ پیشِ خدمت ہے۔

’’خواتین و حضرات! بزمِ ادب کے زیرِ انہدام اس یتیم الشان ادبی محفل میں بادل صحرائی بجلی پوری پورے زور سے کڑکتے ہوئے آپ کو خوش آمدید کہنے کی جسارتِ عالیہ کی جسارت کر رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی کانوں میں روئی دے کر پُر امن طریقے سے تشریف فرما رہیں گے اور ہمیں ہماری حماقت کا احساس نہیں دلائیں گے۔‘‘

عموماً طنز و ظرافت کا استعمال ایک ساتھ ہوتا ہے اور اِن دونوں میں امتیاز نہیں برتا جاتا حالانکہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ظرافت خالص مزاح ہوتا ہے جس سے پڑھنے والوں کو ہنسانا مقصود ہوتا ہے، اس میں کسی پر چوٹ نہیں کی جاتی جبکہ اس کے برخلاف طنز تیز اورچبھتے ہوئے خفتہ معنی رکھتا ہے لیکن اس میں ہجو کی طرح کثافت اور زہر بھرا ہوا نہیں ہوتا۔ اسے تنقید کی جڑواں بہن بھی کہا جا سکتا ہے، تاہم یہ اُس کی خاصی لڑاکا بہن ہوتی ہے اس لئے اس میں کاٹ اور بے اعتدالی بھی زیادہ ہوتی ہے۔خادم حسین مجاہد کے ہاں طنزیہ اندازِ فکر جا بجا ملتا ہے۔اُن کی ایک تحریر’’از نوابی تا قصابی‘‘ کی اختتامی سطوراس اسلوب کی ایک  عمدہ مثال ہے۔

’’ آج ہمارا ایک عالیشان گھرہے۔ایک قصاب مارکیٹ ہے اور اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ بیسیویں گریڈ کے افسر ہم سے قرض لینے آتے ہیں ۔ہماری بیٹی کسٹم میں آفیسر ہے،ایک بیٹا پولیس میڈ ہے اور دوسرا ڈاکٹر ہے۔یوں ہماری اولاد جدید بنیادوں پر ہمارے پیشے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔‘‘

خادم کے مزاح میں ’’تفنّن‘‘ کے اسلوب کی بہت اعلیٰ شکل موجود ہے۔ اُنہوں نے بہت سے بزرگانِ سخن کے ساتھ چہلیں کی ہیں۔اس سلسلے میں اُن کا مضمون ’’مرزا غالب‘‘ بھی خاصے کی چیز ہے۔اس میں وہ رقم طراز ہے۔

جب اُنہوں نے دیوان مرتب کیا تو اپنی رنگین جوانی کی سنگین شاعری کا بیشتر حصہ حذف کردیا۔ اس کے باوجود ان کا چھوٹا سا دیوان دوسرے شاعروں کے بڑے بڑے دیووئں کو ناک آؤٹ کردیتا ہے، کیونکہ غالب کے معیار پر پرکھا جائے تو کئی لوگوں کے دیوان کے دیوان حذف کرنا پڑیں گے، مگر مرزا کا انکسار ملاحظہ فرمائیں کہ پورا اردو دیوان مومنؔ کے ایک شعر کے بدلے دینے کو تیار ہوگئے، وہ تو شکر ہے مومنؔ صاحب اس تبادلے پر راضی نہیں ہوئے ورنہ آج ہمیں غالبؔ کے بجائے مومنؔ کو چھیڑنا پڑتا اور پھر نجانے ہمارا کیا انجام ہوتا۔

خادم حسین مجاہد پیشے کے لحاظ سے ہی اُستاد نہیں، ادیب بھی  بڑا اُستادقسم کا ہے۔ اپنی نصابی اوزار کو مزاح نگاری میں بھی کھینچ لانا اُنہیں کا بودا ہے۔ اپنے بالغ شاگردوں کے لئے نمونے کی عرضی نویسی، خطوط نویسی،معاشرے کے مختلف طبقات کے لئے امتحانی پرچے وضع کرنا اُنہیں کا کمال ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ اگر آپ بیک وقت قہقہہ،زیرِ لب تبسم، بدیہہ گوئی، موشگافیوں ، ٹھٹھا بازیوں، چکلس، خندہِ استہزا اور اسی طرح کی دوسری ظرافت نگاریوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں خادم حسین مجاہدؔ کی کسی بھی تحریر کا مطالعہ آپ کی صحت کے لئے ازحد مفید ہو گا۔


احمدؔ علوی کے نام پر ذہن میں ازخود ایک ایسے بچے کا تصور ابھرتا ہے جس کی شربتی آنکھوں میں شوخی اور الہڑ پن لشکارے مار رہا ہے۔اُس کے ہاتھوں میں بہت سی پھلجڑیاں ہیں جسے وہ زمانے کی بسیط ظلمت میں لے کر نکلا ہے۔ اُس کی پھلجڑیوں سے رنگ برنگے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔وہ زمانے کے ملگجے اندھیروں میں طرارے بھرتا پھر رہا ہے۔ جہاں جہاں جاتا ہے، گونا گوں قسم کی روشنیوں کے ننھے ننھے ستارے بکھیرتا چلا جاتا ہے۔بہت سے لوگ قلانچیں بھرتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔ وہ سب لوگ اُن رنگ برنگی روشنیوں کے ستارے چُن رہے ہیں اور خوشی سے قلقاریاں مار رہے ہیں۔ ہر طرف موج میلہ ہے اور اس موج میلے کا مرکزی کردار ہے احمد علوی۔
احمد علوی نام کا شوخ و شنگ بچہ محض سرمستی اور الہڑ پن سے دوڑتا نہیں پھرتا بلکہ بسا اوقات اُس کے انداز میں شوخی اور شرارت بھی عود کر آتی ہے۔جب کبھی بھی زمانے کے بدصورت اور تاریک چہروں والے بھوتوں پر اُس کی نظر پڑتی ہے تو وہ اپنی رنگ برنگی روشنیوں والی پھلجڑی سونت کر اُن پر جھپٹ پڑتا ہے۔ بھوت روشنیوں کی یلغار سے خوفزدہ ہو کر اُلٹے قدموں پیچھے پلٹتے ہیں اور دوڑ لگا دیتے ہیں۔بچہ تاریکی کے بھوتوں کو بھاگتا ہوا دیکھتا ہے تو خوشی سے کھلکھلا اُٹھتا ہے ۔ اُس کی مترنم کھلکھلاہٹوں کی لے پر پھلجڑیوں کے رنگ برنگی روشنیوں والے ستارے رقص کرنے لگتے ہیں اور ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ چاند بھی بادلوں کا لحاف ہٹا کر بڑی دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھنے لگتا ہے۔
آپ میری اس خیال آرائی کو محض میری fantasy سمجھ سکتے ہیں لیکن یقین کیجئے کہ میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ وہ ظرافت نگار جو مستقل اپنے چلبلے فن کی شمع جلائے ہوئے ہیں،مستقل اسی طلسمِ ہوشربا کا حصہ ہیں اور احمد علوی اُنہیں میں سے ایک ہے۔
احمد علوی ایک ایسا خوش فکر شاعر ہے جو اپنے اندازِ فکر کی لطافت سے ایسی انبساط آگیں کیفیت پیدا کر دیا ہے جو پڑھنے والوں کی توجہ کو مقناطیس کی مانند کھینچتی ہے۔اُن کے ہاں زبان و بیان کے ساتھ ساتھ اندزِ بیان میں بھی ندرت موجود ہے۔ وہ جس موضوعِ سخن کا انتخاب کرتے ہیں، اُس سے پورا پورا انصاف کرتے ہیں۔ وہ بڑی سنجیدگی اور تواتر کے ساتھ ادبِ لطیفہ کی تخلیق میں مشغول ہے۔
اس کی نظموں اور غزلوں کے موضوعات میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مزاح گو شاعر اور سنجیدگی، یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ کسی متین بلکہ سنگین موضوع پر خامہ فرسائی کرنا اور اپنے اندزِ بیان سے اُسے رنگین بنادینا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کا بودا نہیں ؂
یہ اُس کی دین ہے جسے پروردگار دے
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کے اندازِ بیان کی شعوری و غیر شعوری شرارتوں سے کاوشوں میں موجود فکاہی عنصر پڑھنے والوں پر چھاتہ بردار فوج کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور اُسے مطالعہ کے بعد بھی ہینڈز اپ کئے رکھتا ہے۔ذرا اس قطعہ میں دیکھئے کہ وہ کس معصومیت،سادگی اور روانی سے کیسی کیسی پھلجڑیاں چھوڑے جاتے ہیں۔
لندن کو اُڑ گئے وہ ہنی مون کے لئے
میں لڑکیوں کو شعر سنانے میں رہ گیا
وہ خوش نصیب نسل بڑھانے میں لگ گیا
میں بد نصیب بچے کھلانے میں رہ گیا
الفاظ میں سلاست اور روانی ایسی ہے کہ پڑھنے والا بہے چلا جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اندازِ بیان کی سادگی اس کی ریڈر شپ کے اسکوپ کو خاصی متنوع بنا دیتی ہے، جیسے بعض کتابوں پر لکھا ہوتا ہے ’’چھ سے ساٹھ سال کے بچوں کے لئے۔‘‘
ان کے ہاں مزاح خالصاً آمد کا شاخسانہ ہے ۔ ان کی باغ و بہار شخصیت کی برجستگی اورشستگی اس کے فنی محاسن کی ازخود آبیاری کرتی ہے۔تاہم یہ آمد بھی دردمندی اور آگہی کے مسلسل ریاض کا پیشِ خیمہ ہوتی ہے۔موجودہ دور کی علاقائی سیاست اور سماجی پس ِ منظرمزاح گو شاعر کو ہجو اور استہزا کی جانب راغب کرتا ہے لیکن احمد علوی اس باب میں بھی فکری توازن کو برقرار رکھتا ہے ۔ اگرچہ بسا اوقات اُن کا لہجہ خاصا تلخ اور کھردرا بھی ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی اُن کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہے کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں۔ بادشاہ کی طرف ترت انگشت نمائی کر دیتا ہے کہ ’’بادشاہ سلامت، آپ ننگے ہیں۔‘‘
وہ بڑی بہادری اور جانفروشی سے معاشرے کے اُن منفی عناصر کو للکارتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔اِس موقع پر احمدؔ علوی اپنے قلم کو آتش فشاں کے بہتے ہوئے لاوے میں ڈبو لیتا ہے۔
سُرخ گجرات میں کیسر کی ہے رنگت یارو
کتنی مکروہ ہے ووٹوں کی سیاست یارو
یہ ہنر سیکھئے جاکر نریندر مودی سے
کس طرح ہوتی ہے لاشوں پہ حکومت یارو
(حکومت)
چھوڑ دے چھوڑ دے بڑ بولا پن
کچھ رکھا کر زبان پر قابو
کیا مصلّہ بچھاؤں تیرے لئے
ایک رکعت کا بھی نہیں ہے تو
(راج ٹھاکرے)
کچھ سمجھ ہے تو دھو کے میں مت آئے
یہ نہ ہندو کے ہیں نے مسلماں کے ہیں
باپ کو اپنے یہ باپ کہتے نہیں
یہ وفادار بس کرسی امّاں کے ہیں
(لیڈر)
یہ تو وہ احمد علوی ہے جو سماجی بھوتوں پر باآوازِ بلند’’لاحول‘‘ پڑھتا ہے لیکن ’’پن ڈرائیو‘‘میں ایک ایسا احمد علوی بھی دکھائی دیتا ہے جو بذلہ سنجی اور شوخ بیانی میں بھی فرد ہے۔باتوں باتوں میں ایسی دلچسپ بات کہہ جانے والا احمد علوی کہ سننے والا پھڑک اُٹھے۔
جب پڑوسن سے لڑ گئیں آنکھیں
کالا ایک اِک بال کر بیٹھے
پڑھے لکھے تو راکٹوں کے تجربے کیاکیئے
پہونچ گئے ہیں چاند پر لڈّن میاں جگاڑ سے
سو کوششوں سے آئے تھے چندیا پہ چار بال
’’دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں‘‘
بوب کٹ زلفیں کٹا لی ہیں مرے محبوب نے
کیسے شانوں پر لکھوں زلفیں پریشاں ہو گئیں
دوسرے طنز و مزاح نگاروں کی طرح طنزیہ اندازِ بیان بھی احمد علوی کا ایک امتیازی وصف ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جس مزاح نگار میں بلٹ اِن (builtin)طنز کے ڈنک نہ ہوں، وہ یا توبے مقصدمزاح نگارہے یا پھر وہ اپنے شعری وجدان میں درست سمت پر سفر نہیں کر رہا ہے۔ایک شاعر اپنے زمانے کے تمام مسائل اوردکھوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اُس کی شاعری ہر قسم کی تلخانہ شیرینی سے ناکوں ناک ہوتی ہے، تاہم ایک اچھا طنز نگار رہی ہے جو کسی معاشرے کی ناہمواری پر اس نیت سے نشتر آزمائی کرتا ہے کہ اُس کے ناسوروں کا علاج کر سکے۔
احمد علوی کا شعری اسلوب بھی طنز کے’’ اندازِ احتجاج‘‘ سے مزیّن ہے۔ پن ڈرائیو میں وہ جا بجا ناوک فگن نظر آتا ہے۔

ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیکر اردو سر ہیں کالج میں
غالب گاف سے پڑھنے والے لیکچرر ہیں کالج میں

اس کی قسمت بدل نہیں سکتی
ہاتھ میں ٹھیکرا ہی رہتا ہے
چاہے بن جائے وہ کروڑی مل
بھک منگا بھک منگا ہی رہتا ہے

وہ کانوینٹ گرل ہے کافی پڑھی لکھی
روداد حسب و نسب کی اب انسٹینٹ بھیج
رشتہ بنے گا بینک کا بیلینس دیکھ کر
تصویر نہیں بینک کا اسٹیٹمینٹ بھیج

اور اب ذراامریکی صدر براک اوبامہ کو امن کا نوبل انعام ملنے پر اُن کا یہ قطعہ ملاحظہ ہو:
سوچتا ہوں امن کا کیسے فرشتہ بن گیا
جس کا کلچر ہی ہمیشہ سے رہا بندوق کا
اَمن کا نوبل پرائیز مل گیا کیسے اُسے
قتل گردن پر ہے جس کی اَن گنت مخلوق کا
پن ڈرائیو میں جس صنفِ سخن کی مقدار سب سے زیادہ ہے وہ ہیں ان کے قطعات۔ اِس فن میں اِنہیں خصوصی تخصیص حاصل ہے۔قطعہ نگاری کا سب سے بڑا حُسن اس کی حقیقت نگاری ہے۔ شاعر کسی بھی واقعے کو بنیاد بنا کر چار مصرعوں پر مشتمل ایک خیال کو یکجا کرتا ہے۔ احمد علوی کے قطعات میں شْگفتگی،دلکشی اور تازگی پائی جاتی ہے۔اُن کے بعض قطعات ایسے بھی ہیں جس میں اُن کے اندازِ بیان نے آفاقیت بھرکر رکھ دی ہے۔
’’پرانا شعر ‘‘کے عنوان سے ان کا ایک قطعہ ملاحظہ کیجئے:
جتنے آل انڈیے ہیں ڈائس پر
سیڑھیاں شہرتوں کی چڑھتے ہیں
اِن کا استاد ہی نہیں کوئی
شعر سارے چرا کے پڑھتے ہیں
اِن کے قطعات طنز کی کاٹ سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ شگفتگی کی ایک دبیز تہہ بھی اس پر پڑی ہوئی ملتی ہے جس سے پڑھنے والے بہت حظ لیتے ہیں:
فرشتے بھی کلرکوں کی طرح ہوتے ہیں لا پروا
جو تخلیقِ خداوندی بھی سرکاری نکلتی ہے
یہاں پہچان ہو کیسے مونث اور مذکر کی
جسے نورا سمجھتے ہیں وہی ناری نکلتی ہی
پیروڈی لفظ پیروڈیا سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں جوابی نغمہ۔اس سے مراد ایسی ادبی طرز تخلیق ہے ،جس میں کسی نظم یا نثر کی اس طرح نقل کرکے مزاح کا رنگ پیدا کیا جاتا ہے کہ پیروڈی کا لفظی و بحری اہتمام جوں کا توں رہے، تھوڑے سے الفاظ کے رد و بدل یا تبدیلی سے مضمون میں ایسی مضحکہ خیزی پیدا کرنا ہے جس سے نفسِ مضمون کی ایسی کی تیسی ہو کر رہ جائے۔احمد علوی کو پیروڈی میں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔احمدؔ علوی کی پیروڈی میں یہی خاص بات ہے کہ وہ کسی فن پارے کی پیروڈی کرتے وقت پیروڈی کے جملہ لوازمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں جس سے اُن کی پیروڈی پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔پن ڈرائیو میں آپ کو بہت سی پیروڈیاں پڑھنے کو ملیں گی۔بھارت کا ایک مشہور فلمی گاناجب اِن کی فکرِ رساکے ہتھے چڑھا تو اس کا کیا حشر ہوا، ملاحظہ فرمائیے:
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
اچھّی طرح سکا ہوا شامی کباب ہو
۔۔۔
آنکھیں ہیں جیسے چہرے پہ قبریں کھدی ہوئی
زلفیں ہیں جیسے راہوں میں جھاڑی اگی ہوئی
جانِ بہار تم تو کباڑی کا خواب ہو
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
۔۔۔
ایسا نہیں کہ مرتے ہیں بس تم پہ نوجواں
آہیں تمہارے عشق میں بھرتے بڑے میاں
بدبو ہے جس میں شوز کی تم وہ جراب ہو
تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
ایک اور فلمی گانے کی پیروڈی ملاحظہ ہو:
آپ کی نظروں نے سمجھا ووٹ کے قابل مجھے
ڈاکوؤں اور رہزنوں میں کردیا شامل مجھے
ماشاء اللہ آج تو تعلیم کا میں ہوں وزیر
کم سے کم اب تو نہ کہیئے اَن پڑھ و جاہل مجھے
توڑ دی ہیں میری ٹانگیں اس کے اباّ جان نے
اب بھی محبوبہ سمجھتی ہے مری کامل مجھے
دل بدلنے کے لیئے مجھ کو ملے ہیں دو کروڑ
دل کی اے دھڑکن ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے
کل میں ڈرتا تھاپلس سے اب ڈرے مجھ سے پلس
زندگی کی ساری خوشیاں ہو گئیں حاصل مجھے
پھر تو کر سکتا ہوں میں بھی چار سے چھے شادیاں
ساتھ میں بیوی کے مل جائیں اگر دو مِل مجھے

اِسی طرح ساحر لدھیانوی کی ایک معروف نظم کی پیروڈی بھی خاصے کی چیز ہے۔ اِس پیروڈی میں اُن کا جارحانہ رنگ ، بقول ایک پنجابی محاورے کے ’’بلیاں دے دے کر‘‘ جھلکیاں مار رہا ہے۔
یہ کھٹمل یہ مکھّی یہ مچھر کی دنیا
یہ لنگور بھالو یہ بندر کی دنیا
یہ کتّوں گدھوں اور خچر کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ عورت یہ مردوں یہ چھکّوں کی دنیا
نہتوں کی ہتھیار بندوں کی دنیا
یہ ڈاکو پولس اور غنڈوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ چوروں یہ لچّوں لفنگوں کی دنیا
یہ کمزوروں کی اور دبنگوں کی دنیا
تپِ دق کے بیمار چنگوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ بش جونیئر اور اوباموں کی دنیا
یہ امریکیوں کے غلاموں کی دنیا
یہ ملاّ عمر اور اساموں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جنابوں کی عزت مآبوں کی دنیا
یہ اچھوں کی دنیا خرابوں کی دنیا
یہ چمچوں کو ملتے خطابوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ بندوق کٹّوں طمنچوں کی دنیا
یہ فٹ بال کی اور کنچوں کی دنیا
خوشامد میں مشغول چمچوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہوائی جہازوں کی ریلوں کی دنیا
حوالات کی اور جیلوں کی دنیا
یہ ٹرکوں کی دنیا یہ ٹھیلوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
رئیسوں کی دنیا یہ کڑکوں کی دنیا
یہ بے کار آوارہ لڑکوں کی دنیا
ٹریفک سے بد حال سڑکوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
لطیفہ ایک چھوٹی سی حکایت کا نام ہے جس کے اثرات بہت مثبت ہوتے ہیں۔ بقول خواجہ عبدالغفور:
’’لطیفے کا یہ اعجاز ہے کہ روتوں کو ہنسا دے، مردہ دلوں کو زندہ دلی عطا کرے، قنوطیت اور یاسیت کو نابود کر دے، اعصابی تناؤ اور اضمحلال کو دور کر دے، یہ ایک شگوفہ ہوتا ہے لیکن عام فہم اور زود فہم۔ذرا سے میں موڈ بدل دے مزاج کو شگفتگی بخش دے۔‘‘
لطیفوں پر منظوم چھاپے مارنے کا بھی احمد علوی کا اپنا ہی انداز ہے۔ نہایت نپے تلے انداز میں لطیفوں کو یوں دبوچ لیتے ہیں کہ دیکھا کیجئے۔ذرا دیگ کی مخبری کے لئے چاول کا یہ دانہ تو ملاحظہ کیجئے:
یہ کہا میں نے پڑوسی سے مدد کر دیجئے
چند مہماں آگئے ہیں چارپائی چاہئے
چارپائی کے لئے قبلہ نے کر لی معذرت
اپنے گھر کی محترم نے یوں بیاں کی کیفیت
صرف دو ہی چار پائی ہیں مرے گھر میں جناب
رات بھر جن پر رہا کرتے ہیں چاروں محوخواب
ایک پر سوتا ہوں میں اور میرے ابّا محترم
دوسری پر میری بیوی اور مری امّی بہم
سن کے ان کی بات کو میں رہ گیا حیرت زدہ
بیش قیمت زندگی کیوں کر رہے ہو بے مزا
اس طرح ضائع جوانی کا نہ تم حصہ کرو
چارپائی دونہ دو پر ڈھنگ سے سویا کرو
آخر میں احمد علوی کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو جس میں قریب قریب ہر مزاح نگار کا الیہ بیان کیا گیا ہے۔
مذاق خود کا ہی خود کو اڑانا ہوتا ہے
اُداس چہروں کو مشکل ہنسانا ہوتا ہے
ہے پل صراط سے باریک راہِ طنزو مزاح
دیا ہواؤں کے رُخ پر جلانا ہوتا ہے