نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میرے قطعات

اوروں سے تو رشتے ناتے گنجلا جاتے ہیں
جیون خوب گزر جاتا ہے اپنے ساتھ یقیناً

اوروں کو سمجھانا خاصا مشکل ہوتا ہے
بندہ آپ سمجھ لیتا ہے اپنی بات یقیناً

Advertisements

وہ تھا محبوبِ تواُس میں اندازِ محبوبیت تھے بہت
اُس کی ہر اک ادا حسبِ منشائے ربِ قوی ہو گئی


کام جو بھی کیا سربسر حکمِ ربی کی تفسیر تھا
بات جو بھی کہی، معتبر ہو گئی، سرمدی ہو گئی


خدا جانے کہ سارے مالکوں کو
دکھائی دیتے ہیں کیوں شُوم مزدور

لگا دیتے ہیں اس مد میں کروڑوں
کہ لاکھوں سے رہیں محروم مزدور


جن کی خونخواری ازل سے مثل ہے
امنِ عالم کے اُنہیں کو درد ہیں
اور ہے اُن بھیڑیوں کا فیصلہ
جس قدر بھیڑیں ہیں دہشت گرد ہیں


خود آگاہی کے جس دور میں جیتے ہیں
اُس کی کیا سچائی ہے معلوم نہیں

کس دلدل سے نکلے تھے اب یاد کہاں؟
آگے کون سی کھائی ہے  معلوم نہیں


غیر معلوم ہوتا جاتا ہوں
یعنی معدوم ہوتا جاتا ہوں

مٹتا جاتا ہوں اپنی ہستی سے
کہاں مرقوم ہوتا جاتا ہوں


‎رہا ہے قوم کے غم میں جو مضطر
سکوں کس بات پر اُس کو ملا ہے
پئے اسلام جو دھڑکا ہے ہر دم
وہ دل خاموش کیسے ہو گیا ہے