نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: میری نظمیں


(یومِ مئی کے حوالے سے ایک نظم)

تھک گئے ہیں کچھ مسافرزندگی کرتے ہوئے
زندگی کے نام پر جیتے ہوئے، مرتے ہوئے
وقت کی چونگی پہ یوں محصولِ جاں بھرتے ہوئے

ہر طرف محنت کشوں کا غلغلہ تو ہے بہت
دن منانا ہے سو اِن کا تذکرہ تو ہے بہت
زندگی اِن کی ہنوز اِک مسئلہ تو ہے بہت

وقت کی تحریرہے اِن کے پسینے سے جلی
ارتقا کی فیکٹری اِن کی مشقت سے چلی
ان کی محنت تھی کہ حرفت اس قدر پھولی پھلی

اس قدر ہر دور کی صورت گری میں کھو گئے
اپنے خدو خال گردِ مفلسی میں کھو گئے
سرخوشی سب کی بنے ،خود بےکسی میں کھو گئے

بندہء مزدور کیوں دادِ وفا پاتا نہیں
جیسی محنت کرتا ہے ویسی جزا پاتا نہیں
آئینہ اِن سے نظر بھی اب ملا پاتا نہیں

وقت ہے کہ درد کے متوالوں کا پہیہ چلے
زندگی کے سارے خستہ حالوں کا پہیہ چلے
اب ذرا پہیہ چلانے والوں کا پہیہ چلے


چل دیا ہے منزلوں کو قافلہ کشمیر کا
رہرﺅں سے بھر گیا ہے راستہ کشمیر کا

یہ گزرتے پل نہیں تاریخ کے صفحات ہیں
خوں سے لکھا جا رہا ہے واقعہ کشمیر کا

ظلم کے لاوے سے جو بھرتے ہی جاتے ہیں اِسے
ایک دن جا لے گا اُن کو دائرہ کشمیر کا

بچہ بچہ ہے لہو کی موج میں آیا ہوا
ساری وادی میں بپا ہے معرکہ کشمیر کا

اب بساطِ دہر پر ہر چال خود اپنی چلیں
اپنے جذبوں سے بنالیں زائچہ کشمیر کا

کوئی بھی چشمہ کسی کہسار سے رکتا نہیں
اپنی سرمستی میں ہے ہر زمزمہ کشمیر کا

کور چشمی ہے زمانے کی وگرنہ دوستو!
مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے مسئلہ کشمیر کا

کاش کھل جائیں سبھی رستے دلوں کے درمیاں
سبز نقشے میں ڈھلے جغرافیہ کشمیر کا

یہ جہاں کے چوہدری تو اندھے بہرے ہیں ظفر
اہلیانِ دل اُٹھا لیں تعزیہ کشمیر کا


نالہء شبگیر کی تاثیر پاکستان ہے
کتنی صدیوں بعد اِک تنویر پاکستان ہے

پیار کرنے والوں کا اِک دیس ہے میرا وطن
مہرباں ہاتھوں کی اِک زنجیر پاکستان ہے

میری ہر اُمید کی تمہید اس کے نام سے
میرے ہر اِک خواب کی تعبیر پاکستان ہے

میرا ماضی، حال، مستقبل، سبھی کچھ ہے یہی
میری ساری عمر کی جاگیر پاکستان ہے

کوئی بھی خطہ کہاں آغوشِ مادر کی طرح
میں جہاں جاﺅں مری تقدیر پاکستان ہے

دل ہے پاکستان میں تو تم ہو پاکستان میں
نقشہء عالم کی ہر تصویر پاکستان ہے

تم اگر دنیا میں اس کی آبرو بن کر رہو
تو جہاں میں باعثِ توقیر پاکستان ہے

نظرئیے کا نام ہے یہ، قطعہء ارضی نہیں
جس جگہ ہو نعرہء تکبیر پاکستان ہے

کلمہ گو لوگوں کو مل جائے کوئی جائے اماں
بس یہی اِک حسرتِ تعمیر پاکستان ہے

دیوِ استبداد کے پنجے میں ہے یوں تو پری
دِل سے دیکھا جائے تو کشمیر پاکستان ہے

خندقِ اوّل ہے دہشت گردیوں کے سامنے
امنِ عالم کی نئی تفسیر پاکستان ہے

اِس لئے بھی رُک گئی ہیں ظالموں کی یورشیں
ایک لہراتی ہوئی شمشیر پاکستان ہے

صفحہء عالم سے اس کو کیا مٹائے گا عدو
خون سے لکھی ہوئی تحریر پاکستان ہے


جب تک رہا ہے زندہ ہمہ زندگی تھا وہ
اِک پیکرِ درخشاں سرِ تیرگی تھا وہ

شائد اِسی لئے بس وہی وہ دکھائی دے
چھوٹے سے ملک میں اِک بڑا آدمی تھا وہ

تا عمر وقفِ خدمتِ انسانیت رہا
مصروفِ خیر تا بہ دمِ آخری تھا وہ

اُس کی نظیر اپنے زمانے میں تھی کہاں
اَس عہدِ بے چراغ میں نقشِ جلی تھا وہ

اُس نے کبھی کسی کو بھی مایوس نہ کیا
تا عمر ہم نے دیکھا اُسے کہ وہی تھا وہ

اِس سنتِ رسول پہ قائم رہا سدا
سب بے سہاروں کے لئے چھاؤں گھنی تھا وہ

کشکول اک صدی کا لبالب بھرا گیا
خدمات کی خیرات میں کتنا سخی تھا وہ

تاحشر اُس کے ذکر کا پرچم کشا رہے
دستِ قضا نے جس کو چھوا سرمدی تھا وہ


ہوا چلی ہے تو اس کا چلنا سبھی نے دیکھا
سبھی پہ خمیازہ ڈالتی ہے
کسی کے روزن پہ دی ہے دستک
تو خواب جاگے ہیں کیسے کیسے
اِسی ہوا کا یہ رنگ بھی ہے
کہیں پہ ریگِ رواں اُڑا دی
تو اس کے نیچے دبے ہوئے راستے عیاں ہو گئے ہیں سارے
مسافروں نے نوید پائی ہے آگہی کی
کہیں پہ قحطِ نفس پڑا تھا
وہاں سے گزری
حیات کی اِک سبیل بن کر
کہیں پہ شمع جلی ہوئی تھی
وہاں پہ شبخون ماردی ہے
یہ ڈوبتی زندگی نے دیکھا
سبھی پہ خمیازہ ڈالتی ہے
ہوا چلی ہے تو اس کا چلنا سبھی نے دیکھا


چلو اچھا ہوا تم نے
سرِ دشتِ تمنا آگہی کا راستہ تو کھینچ ڈالا ہے
عذابِ بے یقینی سے نکالا ہے
چلو پھر از سرِ نو میں سفر آغاز کرتا ہوں
مگر اے خضرِ راہ میرے
بہت احسان ہوتا جو مجھے یہ بھی بتا دیتے
کہ یہ جو عمر بھر چلتا رہا ہوں میں
اِسے بھی میں سفر کے باب میں لکھوں کہ نہ لکھوں؟


اب تو میں دور …… بہت دور نکل آیا ہوں

میں نے جس جادہ ء ہستی پہ قدم رکھا تھا
جانے کس موڑ پہ وہ ساتھ مرا چھوڑ گیا
خواب جو لے کے چلا تھا مجھے سوئے منزل
کسی بچے کی طرح ہاتھ مرا چھوڑ گیا

جانے کس وقت دھندلکے نے چرایا ہے مجھے
جانے کس ساعتِ اژدر نے مجھے نگلا ہے
خود کو میں اپنے ارادوں میں بہت ڈہونڈتا ہوں
اپنے کھو جانے کا احساس بہت رہتا ہے

وقت گرداب کی صورت ہے مرے پاؤں میں
کسی تنکے کی طرح بہتا چلا جاتا ہوں
میرے قدموں کو ٹھہرنے کی اجازت ہی نہیں
کس کو معلوم میں کس سمت اڑا جاتا ہوں

نہ کوئی چاند ‘ نہ جگنو نہ تمہارا چہرہ
ظلمتِ شب مرا مقدور نظر آتی ہے
جب بھی دیکھا ہے پلٹ کر یونہی چلتے چلتے
روشنی دُور …… بہت دُور نظر آتی ہے

اب تو میں دُور …… بہت دور نکل آیا ہوں