نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں کلام کا مرکز

Category Archives: چھوٹی مگر بالغ نظمیں

پھر اُس نے پوچھا اپنی غزل کے بارے میں مجھ سے
پھر تبصرے پراک ناگواری چہرے پہ آئی
پھر سمجھو ہم میں پڑنے کو ہے اک لمبی جدائی

Advertisements

کیا بتاؤں کس قدر تیزی مری بیوی میں ہے
دیکھ کر حیران ہوتا ہوں (میں شوہر) یاد سے

جب کہیں جانا پڑے تو دیدنی ہیں پھرتیاں
وقت پر کر لیتی ہے ہر کام اکثر یاد سے

سارے دروازے وہ کرتی ہے مقفل، ہاں مگر
چابیاں بھی بھول کر آتی ہے اندر یاد سے


کیا بتاؤں وقت کتنا اس میں ہو جاتا ہے کھیت
جب کہیں پر میں بلایا جاتا ہوں کنبے سمیت
میری تیاری میں ہو جاتےہیں چٹ ۔۔۔۔پندرہ منٹ
اور بچے
بیس منٹوں میں ہی ہو جاتے ہیں او کے، خیر سے
ہاں مگر بیوی مری!
تین گھنٹوں میں بھی ہو جائے اگر تیار تو خوش قسمتی!!


آدھی رات کو جب دشمن نے شبخوں مارا
رہ گئے سارے دنگ

لشکر کا ہر ایک سپاہی جیت چکا تھا
خوابوں میں یہ جنگ


بیگم ! اُس وقت کیا مزا آئے
شیر تم مجھ پہ ہو رہی ہو کبھی
اور چوہا دکھائی دے جائے


جی کیا کہا یہ آپ کی ہے فرسٹ کزن؟
نیرنگئی دوراں ہے ورنہ اجنبی !
کل تک یہ میری بھی رہی ہے فرسٹ کزن !!


باپ بلوچی
ماں پنجابی
لیکن دیکھ شرارت اُس کی
آ کر میرے صوبے میں وہ پیدا ہوا ہے